Baseerat Online News Portal

سری لنکا کے وزیر اعظم مہندرا راجا پاکسے استعفیٰ دے سکتے ہیں، صدر سے ملاقات میں اتفاق

آن لائن نیوزڈیسک
معاشی بحران کےشکار سری لنکا میں نافذ ایمرجنسی کے درمیان وزیراعظم مہندرا راجا پاکسے استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ اگر ذرائع کی مانیں تو وزیراعظم نے صدر گوتابایا راجا پاکسے کی درخواست پر مثبت موقف اختیار کیا ہے، جس میں ملک میں گہرے ہوتے معاشی بحران کے درمیان مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کو بھی تسلیم کر لیا ہے۔
کولمبو پیج میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق مہندا راجا پاکسے نے صدر کی صدارت میں راج بھون میں ہونے والی کابینہ کی میٹنگ میں اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ وہ ملک کے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہیں۔ اگر خبروں پر یقین کیا جائے تو سری لنکا کی کابینہ کو بتایا گیا ہے کہ مہندرا نے ان سے استعفیٰ طلب کیا ہے، کیونکہ وہ ملک کے موجودہ معاشی بحران سے نمٹنے میں ناکام رہے ہیں۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ مہندرا کے بطور وزیر اعظم استعفیٰ کے ساتھ ہی موجودہ کابینہ بھی تحلیل ہو جائے گی۔ پی ایم نے کہا ہے کہ اگر ریاست کی موجودہ صورتحال کو بہتر کرنے کا واحد راستہ استعفیٰ دینا ہے تو وہ ایسا کرنے کو تیار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صدر گوتابایا راجا پاکسے نے اعتراف کیا ہے کہ عوام کے مسلسل احتجاج کے بعد ملک میں سیاسی اور اقتصادی بحران پر قابو پانا مشکل ہو گیا ہے۔ صدر کا کہنا ہے کہ اس بحران کا ملک کی سیاحت پر برا اثر پڑا ہے۔ سیاحوں کی تعداد میں زبردست کمی آئی ہے۔ کارخانے بند ہونے سے پہلے ہی ملک پر معاشی بوجھ بڑھ گیا تھا۔
اگر سیاسی ذرائع پر یقین کیا جائے تو سری لنکا کے کابینہ کے وزراء پرسنا راناٹنگ، نالکا گوداہیوا اور رمیش پاتھیرانا نے وزیر اعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے کے مہندا راجا پاکسے کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔ تاہم ساتھی وزراء کے علاوہ وزیر ویمل پورہ ڈسانائیکے نے کہا تھا کہ مہندرا کا استعفیٰ ملک کے بحران سے نمٹنے میں بے سود ثابت ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم پیر کو اپنے استعفے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ ایک ہفتے کے بعد کابینہ کی دوبارہ تشکیل ہو سکتی ہے۔

You might also like