Baseerat Online News Portal

یوکرین:روسی حملہ جاری،شہری ہجرت کرنے پرمجبور،جنگ کی تازہ صورت حال

آن لائن نیوزڈیسک
ماریوپول ميں اسٹيل پلانٹ سے شہريوں کا انخلاء مکمل ہو گيا ہے جبکہ لوہانسک کے خطے میں ایک اسکول کی عمارت پر بمباری کے نتيجے ميں کئی ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ اتوار کو ’جی سيون‘ کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں مرکزی موضوع یوکرین ہی ہے۔
یوکرین کے مشرقی لوہانسک کے خطے ميں خدشہ ظاہر کيا جا رہا ہے کہ ايک اسکول کی عمارت پر روسی بمباری کے نتيجے ميں ہلاکتوں کی تعداد ساٹھ تک پہنچ سکتی ہے۔ روسی فورسز نے ہفتے کی سہ پہر مذکورہ عمارت کو نشانہ بنايا، جس ميں نوے افراد پناہ ليے ہوئے تھے۔ بمباری کے نتيجے ميں عمارت میں آگ لگ گئی اور بعد ازاں وہ منہدم ہو گئی۔ اب تک دو افراد کی ہلاکت کی تصديق ہو چکی ہے مگر علاقائی گورنر نے خدشہ ظاہر کيا ہے کہ ملبے تلے دبے تقريباً ساٹھ افراد کے بچنے کا امکان نہیں ہے۔
ايمرجنسی سروسز نے تيس افراد کی جان بچا لی، جن ميں سے سات زخمی بتائے جا رہے ہيں۔ يہ بمباری بلوگوروکا کے گاؤں ميں کی گئی۔ لوہانسک اور ڈونيٹسک ڈونباس کے خطے ميں آتے ہيں۔ کييف اور يوکرين کے ديگر حصوں ميں پيش قدمی سست رہنے کے سبب روس نے اپنی توجہ مشرق ميں اس خطے کی جانب کر رکھی ہے اور وہاں حاليہ دنوں ميں بھاری بمباری جاری ہے۔
اتوار آٹھ مئی کو ترقی يافتہ ممالک کے گروپ جی سيون کا ايک اجلاس منعقد ہو رہا ہے، جس ميں مرکزی موضوع يوکرين پر روسی حملہ ہے۔ ويڈيو کانفرنس کی شکل ميں ہونے والے اس اجلاس ميں امريکا، برطانيہ، کينيڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور جاپان کے سربراہان شرکت کر رہے ہيں اور امکان ہے کہ يوکرينی صدر وولوديمیر زیلنسکی بھی خطاب کريں۔ ايسی اطلاعات ہيں کہ امريکی صدر جو بائيڈن اس اجلاس ميں روس کے خلاف تازہ پابنديوں کی تجويز سامنے رکھنے والے ہيں۔
جی سيون کا يہ اجلاس آٹھ مئی کو ہو رہا ہے۔ روايتی طور پر اس دن کو دوسری عالمی جنگ کے خاتمے اور سابق جرمن نازی فورسز کی شکست کے ليے ياد رکھا جاتا ہے۔ روس ميں بھی اس سلسلے ميں تقريبات منعقد ہوتی ہيں۔ فوری طور پر يہ واضح نہيں کہ آيا روسی صدر ولاديمير پوٹن اس موقع کو کيسے استعمال کريں گے۔ انہوں نے 24 فروری کو يوکرين پر حملہ يہی کہہ کر کيا تھا کہ وہ اس ملک کو ’نازيوں سے پاک‘ بنانا چاہتے ہيں۔ البتہ يوکرين نے ابھی تک سخت مزاحمت کا مظاہرہ کيا ہے۔
دريں اثناء ماريوپول سے اطلاعات موصول ہو رہی ہيں کہ آزوفسٹال اسٹيل پلانٹ ميں پناہ لينے والے تقريباً تمام سویلین افراد کا انخلاء مکمل ہو چکا ہے۔ يوکرينی نائب وزير اعظم ارینا ویرشچک کا کہنا تھا کہ اس طرح انسانی بنیادوں پر کیا جانے والا یہ آپریشن مکمل ہو گیا ہے۔ ان کے بقول خواتين، بچے اور بزرگوں کو نکال ليا گيا ہے تاہم يہ واضح نہیں کہ مرد وہاں ہيں یا نہیں ۔ يہ ريسکيو آپريشن تعطل کا شکار بھی رہا مگر بين الاقوامی امدادی تنظيموں، روس اور يوکرين کے اشتراک سے انخلاء کا عمل اب مکمل ہو چکا ہے۔
يوکرینی صدر وولودومیر زیلنسکی نے بھی گزشتہ شب اپنے خطاب میں تصدیق کی کہ آزوفسٹال اسٹیل پلانٹ سے 300 سویلین افراد کو نکالا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں پھنسے زخمیوں اور طبی عملے کو نکالنے اور روسی فورسز کے گھیرے میں آئے ہوئے ماریوپول کے شہریوں کے انخلاء کے لیے محفوظ راستے مہیا کرنے کی کوشش جاری ہے۔
مذکورہ اسٹيل پلانٹ میں پناہ لينے والے گزشتہ چند دنوں سے ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ ان کی کئی ويڈيو سماجی رابطوں کی ويب سائٹس پر آتی رہيں۔ ماريوپول چار لاکھ کی آبادی والا شہر تھا مگر روس حملوں سے اب يہ شہر برباد ہو چکا ہے۔
اسٹيل پلانٹ سے يوکرينی شہريوں کے انخلاء کے ساتھ ماريوپول پر روس کا قبضہ مکمل ہو گيا ہے۔ روس کی کوشش تھی کہ آٹھ مئی کو’وکٹری ڈے‘ تک يہ مکمل ہو جائے۔

You might also like