Baseerat Online News Portal

کھرگون میں سرکاری مشنری اور پولس انتظامیہ کا متعصبانہ رویہ شرمناک

 

مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ کے وفد کا کھرگون دورہ، متاثرہ خاندانوں سے ملاقات

نئی دہلی۔۱۰؍مئی: جمعیۃ علماء ہند کے ایک وفد نے مولانا حکیم الدین قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علمائے ہند کی سربراہی میں کھرگون کے فساد زدہ علاقوں کا دورہ کیا، اس وفد میں ریاستی صدر جمعیۃ علما مدھیہ پردیش حاجی محمد ہارون اورمقامی جمعیۃ علما ء کے کئی ذمہ داران شامل تھے۔وفد نے فساد متاثرین کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور وہاں امدادی کاموں کا جائزہ لیا ا ور ان کو یقین دلایا کہ جمعیۃ بلا تفریق مذہب وملت ضرورت مندوں کی ہرممکن مدد کرے گی۔ وفد نے خاص طور سے موہن ٹاکیز، تالاب چوک، چھوٹی موہن ٹاکیز، قاضی پورہ، سنجے نگر، آنند نگر، کھس کھس واری فساد زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر وفد نے فساد میں شہید ہوئے ابریش خاں کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی۔وفد نے ضلع کلکٹر شریمتی انوراگ پی اور ا یس پی سدھارتھ چودھری سے ملاقات کی اور معصوم و بے گناہوں کی گرفتاری پر روک لگانے کا مطالبہ کیا۔ نیز پولس انتظامیہ کی طرف سے تعصب پر مبنی کارروائی پر تشویش ظاہر کی گئی۔جمعیۃ علماء ہند کے وفد نے شکایت کی کہ بلڈوزر چلائے جانے کے دوران ہندو اورمسلم دکانداروں کے درمیان تفریق برتی گئی، انھوں نے اس سلسلے میں وہ تصویر بھی شیئر کی جس میں دائیں اور بائیں تو اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے شخص کے ہوٹل ہیں اور درمیان میں علیم بھائی مسلم شخص کا ہوٹل ہے، بلڈوزر حملہ میں صرف مسلم شخص کا ہوٹل توڑا گیا جو انتہائی افسوسناک اور ایک طبقے میں بدا عتمادی پیدا کرنے والا عمل ہے۔اسی طرح پولس نے اپنی کارروائی میں مسلمانوں کے گھروں پر حملہ کیا اور وہاں موجود خواتین کے ساتھ زیادتیاں کیں، نیز پولس کی موجودگی میں شرپسندوں نے آگ زنی کی، مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا اور پولس تماشہ بیں بنی رہی، اس کی مثال تھانہ منڈی کے پاس مسجد میں فسادیوں نے آگ زنی کی، ویڈیوں میں صاف ہے کہ پولس نے ان پر کوئی کارروئی نہیں کی۔جمعیۃ علماء ہند نے پولس انتظامیہ کے سامنے ساری شکایتیں مضبوطی سے رکھیں، نیز ہوٹل والے علیم بھائی سے مل کر ان کا غم بانٹا اور کہا کہ جمعیۃ علماء ہند ان کو انصاف دلانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔ دریں اثنا جمعیۃ علماء ہند کے وفد نے اس کی تحقیق کی کہ کیا یہاں فساد کے بعد مسلمانوں کے علاوہ کسی اور طبقے کی پراپرٹی کو بھی بلڈوزر سے نشانہ بنایا گیا،تو یہ نتیجہ سامنے آیا کہ صرف مسلمانوں کی جائیداد کو ہی نشانہ بنایا گیا ہے۔ حالاں کہ 21/اپریل2022ء کو سپریم کورٹ میں سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا نے حلفیہ بیان دیا کہ کھرگون انہدام میں، 88 متاثرہ فریق ہندو تھے اور 26 مسلمان تھے۔ جناب تشار مہتا کا یہ بیان گمراہ کن اور حقائق کے خلاف ہے، وہاں جن 26 لوگوں کے مکانات بلڈوزر حملہ کی زدر میں آئے ہیں، سب کے سب مسلمان ہیں۔جمعیۃ کے پاس ان مسلمانوں کی فہرست مع رابطہ نمبر موجود ہے جن کے مکانوں ودکانوں پر فرقہ پرستوں نے حملہ کیااور اسے جلادیا یا لوٹ پاٹ کی، ان میں بیواؤں اورمعذورین کے بھی مکانات شامل ہیں۔ علاقہ کھس کھس واری کے ان لوگوں کی فہرست جن کے مکانات کو ضلع انتظامیہ نے بلڈوزر حملے میں منہدم کردیا(۱) حسینہ بی بیوہ فاروق (۲)محمد عبدالحکیم (۳) سلطان بن گلشیر (۴) عارف صادق (۵) امین سید نظیر (۶) رشید بن جمعہ (۷) صادق بن کلو (۸) سلیم بن نواب محمد (۹) عاشق بن عزیز (۱۰) عابد بن عزیز (۱۱) سلیم بن رستم (۱۲) نفیس بن پپو (۱۳) رشیدہ زوجہ ماجد (۱۴) نسیم ماجد (۱۵) رفیق عالم (۱۶) سیجو بن عزیز (۱۷) مظہر بن نثار (۱۸) یونس بن اسحق (۱۹) اقبال بن حبیب (۲۰) زبیر بن عبدالغنی (۲۱) سمیر بن زبیر (۲۲) سلطان بن عبداللہ (۲۳) فاروق بن عبداللہ ستار (۲۴) ایوب بن معصوم (۲۵) فراز خاں (۲۶) قمرو بن شریفاسی طرح ایسے 53خاندان ہیں جن کے گھروں کو فرقہ پرستوں نے فساد کے دوران تباہ کردیا یا اس میں لوٹ پاٹ کی، لیکن پولس انتظامیہ یا مقامی انتظامیہ کی طرف سے ایسا کرنے والوں کے گھروں پر بلڈوزر نہیں چلایا گیا جو سراسر تفریق کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ فہرست ا ن لوگوں کی ہے جن کے مقدمات تھانے میں درج ہوئے، باقی بہت سارے لوگ ہیں جو اب تک سامنے نہیں آئے ہیں، اس سلسلے میں سروے کا عمل جاری ہے۔ایسی تصاویر موجود ہیں جن کے ذریعہ سے فسادیوں کی شناخت کی جاسکتی ہے، لیکن پولس نے ان پر کوئی کارروائی نہیں کی، جب کہ اس کے برعکس دوسو سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا جن میں تقریبا سب کے سب مسلمان ہیں۔میڈیا سے گفتگو میں جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی اور ریاستی صدر حاجی محمد ہارون نے کہا کہ جمعیۃ علما ملک میں امن و ہم آہنگی کے لیے کام کرتی ہے۔انھوں نے کہا کہ انتظامیہ نے تجاوزات کے نام پر مساجد اور اقلیت کے دکانوں اور ہوٹلوں کو تباہ کیا، یہ غلط ہے۔ انتظامیہ کو فسادات کو روکنے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان امن و اہم آہنگی برقرار رکھنے پر کام کرنا چاہیے لیکن جو لوگ فسادات میں ملوث نہیں تھے ان کی دکانیں توڑ دی گئیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ مجرم کو سزا دے اور تجاوزات کے نام پر اس کے خاندان کو بے گھر نہ کرے۔ جمعیۃ کے وفد میں مذکورہ بالا شخصیات کے علاوہ ریاستی نائب صدر ریاض الدین شیخ، ریاستی نائب صدر حاجی،ضلعی صدر حافظ طیب، نائب صدر حافظ ادریس، سکریٹری سید قمر علی، حبیب آزاد، قاری مبارک، حافظ ذاکر، علیم شیخ، توسیب منصوری، شاہ رخ مرزا، سلمان،خان، گڈو شیخ ڈاکٹر عمران شامل تھے۔

You might also like