Baseerat Online News Portal

چھ سو سالہ عظیم علمی وروحانی قدروں کا سنگم : خانقاہ بخاریہ شطاریہ بڑی بلیا بیگوسرائے

 

 

بہ قلم :مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی

 

بہار کی سرزمین ہر زمانے میں بزرگان دین، اولیاء اللہ اور عظیم روحانی وعلمی شخصیات کا مرکز رہی ہے ، جن عالی مرتبت اولیاء اللہ نے اس سرزمین کو عشق الہی اور عشق رسول اور اتباع کتاب وسنت کی روشنی سے جگمگانے اور یہاں کے مردہ دلوں کو آباد کرنے کا کام کیا، ان میں ایک ممتاز نام حضرت سیدشاہ علاء الدین بخاری ابن سید شاہ شمس الدین بخاری کا ہے.

حضرت شاہ علاء الدین بخاری کی ولادت سنہ858 ہجری مطابق (1454) چودہ سو چون میں ہوئی، آپ نے غیبی اشارے اور اولیاء اللہ کی ہدایت کے مطابق موضع بڑی بلیا ضلع بیگوسرائے بہار کو اپنا جائے عمل اور وطن بنا یا اور اس دور افتادہ سرزمین پر رہائش اختیار کر کے پورے علاقے کو بقعہ نور بنادیا.

یہ کس ساقی کا فیضان نظر ہے

چمن میں پھول پیمانے بنے ہیں

سید شاہ علاء الدین بخاری ایام طفلی میں والد ماجدکے سایہء عاطفت سے محروم ہوگئے پردادا سید شاہ فرید الدین بخاری نے آپ کی پرورش وپرداخت کی.. علوم ظاہری و باطنی سے فراغت کے بعد سن 900 ہجری، مطابق چودہ سو چوراسی(1484) میں اپنے وطن اصلی بخارا کو خیرباد کہہ کر ہندوستان وارد ہوئے،اشارہ غیبی کے مطابق مختلف خطوں کی سیروسیاحت فرماتے ہوئے موضع بڑی بلیا، ضلع بیگوسرائے پہنچے اور اسی بستی کو اپنا جائے عمل اور وطن ثانی بنالیا. یہ قصبہ قدیم لکھمنیاں ریلوے اسٹیشن سے کچھ فاصلے پر قومی شاہراہ 31 کے بالکل کنارے آباد ہے… یہاں حضرت شاہ علاء الدین بخاری کی قائم کردہ خانقاہ ہے اور اسی سے متصل

سلطان علاء الدین خلجی کے تعمیر کردہ ایک مسجد کے آثار ہیں، جستجو سے اندازہ ہوتا ہے کہ سنہ (690)چھ سو نوے مطابق (1291) بار ہ سو اکانوے میں اس مسجد کی تعمیر ہوئی تھی اس کے کھنڈرات اب تک دیکھنے میں آتے ہیں، جلی حروف میں کندہ کیا ہوا سنگ سیاہ پر اس مسجد کا کتبہ وہاں محفوظ ہے. اس لحاظ سے اس مسجد کو ضلع بیگوسرائے کی معلوم تاریخ کی سب سے پہلی مسجد قرار دیا جاسکتا ہے. علاء الدین خلجی نے ایک بڑا قطعہ اراضی مسجد اور خانقاہ کے لیے وقف کیا تھا، یہ جائیداد نسلاً بعد نسل خاندان میں منتقل ہوتی رہی،، کچھ اراضی اب بھی موجود ہیں..

شاہ علاء الدین بخاری ، حضرت نوراللہ شطاری سے بیعت تھے اور انھیں سے حضرت کو اجازت و خلافت بھی حاصل تھی.. حضرت نور اللہ شطاری رح حضرت عبداللہ شطاری رح کے مرید و خلیفہ تھے. شطاریہ سلسلے کا اجراء ہندوستان میں انہیں کے ذریعے ہوا.

 

سلسلہ شطاریہ کے بانی حضرت شاہ عبد اللہ شطاریؒ ہیں، اس سلسلے کو ایران میں سلسلہ عشقیہ ، روم میں سلسلہ بسطامیہ اور پاک وہند میں سلسلہ شطاریہ کہا جاتا ہے ۔

اصطلاح ِتصوف میں شطاراس صوفی کوکہا جاتا ہے جو فنا فی اللہ اور بقا باللہ کے مرتبہ کا حامل ہوجائے۔جب حضرت شیخ عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ ریاضات اور مجاہدات میں مرتبہ کمال حاصل کرچکے تو آپ کو شطاری کہا جانے لگا اور یوں یہ سلسلہ شطاریہ کے نام سے شہرت پایا۔اس سلسلے کے لوگ خود کو اس لیے بھی شطاری کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ سلوک اور طریقت میں دوسروں سلاسل کے صوفیوں کے مقابلےمیں زیادہ سرگرم ہوا کرتے تھے اور جنگلوں، پہاڑوں میں رہ کرسخت ریاضتیں کرکےغیرمعمولی افعال وتصرفات کےحامل ہوجا تے تھے

بانیِ سلسلہ حضرت شاہ عبد اللہ شطاریؒ کا سلسلہ نسب پانچ واسطوں سے ہوتا ہوا حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی ؒ سے جا ملتا ہے اور آپ کا سلسلہ طریقت سات واسطوں سے ہوتا ہوا حضرت بایزید بسطامی ؒ تک پہنچتا ہے۔آپ اپنے وقت کے بہت بڑے صوفی بزرگ تھے اورپندرہویں صدی میں ایران سے فیضان شطاری لے کر ہندوستان ہجرت فرمائی تھی۔ آپ کی طرف سے یہ منادی تھی کہ ہے کوئی خدا کا چاہنے والا،تو آئے تاکہ اسے میں خدا تک پہنچنے کی راہ دکھلاوں۔ آپ لوگوں کونقارہ بجاکر بلایا کرتے تھے کہ جو طلب گار ہے وہ آجائے تا کہ اسے اللہ کی راہ بتادوں ۔ ۔ حضرت شیخ عبدا للہ شطاری ؒ کا وصال 832ھ سن 1572 میں ہوا تھا۔ آپ کا مزار مالوہ کے سابق دارلخلافہ قلعہ مندو کے اندر ہے۔

سلسلہ شطاریہ کی ہندوستان میں ترویج میں دو اور بزرگ یعنی حضرت شیخ بہاوالدین شطاریؒ اور حضرت شیخ بدھن شطاری جون پوری ؒ کا بھی بڑا رول رہا ہے.

ان صوفی بزرگوں نے حضرت شاہ عبداللہ شطاری رحمۃ اللہ علیہ کے ایک خلیفہ مجازسے ظاہری وباطنی تعلیم حاصل کی تھی۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ کے چچا حضرت شیخ رزاق اللہ مشتاقی ؒنے حضرت شیخ بدھن شطاری ؒ سے ہی شطاری اعمال ووظائف سیکھے۔ اس کے علاوہ حضرت خواجہ فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ ،کی نسل سے حضرت امیر سید علی قوام رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت شیخ زکریا رحمۃ اللہ علیہ ،کے برادر زادہ حضرت شیخ حاجی ابن شیخ علم الدین رحمۃ اللہ علیہ ،نے بھی ہندوستان میں شطاری سلسلے کو کافی ترقی دی۔

تاریخ سے اندازہ ہوتا ہے کہ سولہویں صدی میں ہندوستان بالخصوص بنگال بہار مالوہ، دکن اور گجرات میں سلسلہ شطاریہ کی اہمیت باقی مشہور تصوف کے قدیمی سلسلوں سے کسی طور بھی کم نہیں تھی۔ اس سلسلے کی مقبولبت کے ثبوت میں یہ کہنا کافی ہے کہ امام الہند شاہ ولی اللہ اور ان کے استاد مکرم حضرت شیخ ابو طاہر مدنی نے بھی شطاریہ اعمال و اشغال سیکھے۔ ہندوستان کے صوفیاء نقش بند اور حضرت شیخ عبد الحق جیسے بزرگوں نے جو شرح نے شرح کی پابندی پر زور دیا کرتے تھے انہون نے بھی شطاریہ اعمال و اشغال کا اثر قبول کیا۔

مخدوم علاؤ الدین بخاری بڑی بلیا میں مدفون ہیں احاطہ خانقاہ میں ان کی قبر ہے. ان کے حالات زندگی حضرت محمد ہاشم شطاری نے اپنی کتاب میں درج کیا ہے

اس کتاب کا نام؛ حالات زندگی حضرت سید شاہ علاء الدین بخاری. ہے یہ کتاب ہ آرٹ پریس سلطان گنج پٹنہ سے مطبوع ہے، اسی طرح بزم شمال تذکرہ شعراء شمالی بہار، از شاداں فاروقی مطبوعہ 1967 ء میں بھی ان کا تذکرہ موجود ہے.

شاہ علاء الدین بخاری کے خانوادے میں ایک مشہور شخصیت سید شاہ مسیح الدین حسن بخاری شطاری کی ہے، ان کی ولادت باسعادت(1112) گیارہ سوبارہ ہجری مطابق (700 1) عیسوی میں ہوئی، جائے پیدائش اور جائے مدفن دونوں موضع بڑی بلیا بیگوسرائے ہے.. حضرت حسن بخاری بڑے ہی محترم اور باوقار روحانی شخصیت کے مالک تھے. مخدوم علاؤالدین کے ساتویں پشت میں تولد ہوئے .. اپنے وقت کے راسخ العقیدہ حنفی عالم دین تھے تھے، سلسلہ رشدوہدایت ہمیشہ جاری رکھا، خانقاہ کے مصارف کے لئے شاہانِ دہلی کی جانب سے بڑی بڑی جائیدادیں ان کے اجداد کو ملی ہوئی تھیں ان کی طرح انہیں بھی جائیدادیں حاصل تھیں.. سجادگی کا سلسلہ نسلاً بعد نسل اب بھی اسی خاندان میں جاری وساری ہے، آپ اردو اور فارسی دونوں زبانوں کے قادر الکلام شاعر تھے دونوں زبانوں میں اشعار لکھا کرتے تھے.. فارسی غزلوں کا ایک مجموعہ اور اردو اشعار کا ایک گلدستہ بشکل مخطوطہ حضرت حسن کی خانقاہ میں ابھی بھی محفوظ ہے…

آپ 81 سال کی عمر میں (1193)گیارہ سو ترانوے مطابق (1789)سترہ سو اناسی میں وصال فرما گئے،ان کا مزار بھی بڑی بلیا میں واقع ہے. ماضی قریب میں خانقاہ کے سجادہ نشین شاہ ضیاء الحق مکی بخاری تھے.. موجودہ سجادہ نشیں سید شاہ افتخارالحق بخاری شطاری ابن سید شاہ ضیاالحق ہیں… اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کے فیوض کو عام وتام فرمائے، ،،،میرے دوست سید شاہ امان اللہ بخاری علیہ الرحمہ اور محترم عصمت اللہ بخاری کا تعلق بھی اسی روحانی خانوادے سے ہے.. اور متعدد شخصیات ہیں جن سے روحانیت کے چراغ روشن ہیں.. اور جو زبان حال سے یوں گویا ہیں

خدا شناس بزرگوں کی یادگار ہیں ہم

خزاں نے لوٹ لیا جس کو وہ بہار ہیں ہم

اب بھی روشن ہیں بزرگوں کی حویلی کے چراغ

ہم کسی نقش کو دھندلا نہیں ہونے دیتے..

حضرت حسن بخاری اعلی پایہ کے شاعر تھے،، اور اردو کے بالکل ابتدائی زمانے کے شاعروں میں آپ اونچا مقام رکھتے ہیں، ان کے کلام کا نمونہ مندرجہ ذیل ہے :

وطن صوری ہے بلیاں بیچ میرا

کہ واں شہہ علاؤالدین کا ڈیرہ

جلال الدین حیدر کے ہیں فرزند

بخاری ابن بخاری سلسلہ بند

علاؤالدین کے ہیں ہم پشت ستویں

علاءالدین، علیم الدین سے دسویں

بندہ خالد نیموی قاسمی

*صدر جمعیت علماء بیگوسرائے ورکن انٹرنیشنل یونین فار مسلم اسکالرز دوحہ قطر

9905387547 رابطہ

You might also like