Baseerat Online News Portal

میلہ پنڈال میں شاندار آل انڈیا مشاعرہ کاانعقاد

شبینہ ادیب اور جوہر کانپوری سمیت ملک کے نامور شعراء نے پیش کیا کلام
دیوبند،13؍ مئی(سمیر چودھری؍بی این ایس)
دیوبند کے بالا سندری دیوی کے میلہ پنڈال میں گزشتہ شب ثقافتی پروگرام کے تحت آل انڈیا مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا، جس میں پورے ملک سے نامور شعراء وشاعرات نے شرکت کی ۔سحر تک چلنے والے آل انڈیا مشاعرے میں سامعین آخیر تک پنڈال میں موجود رہے اور انہوں نے شعراء کے کلام سے محظوظ ہوتے ہوئے زبردست داد تحسین دی ۔مشاعرہ کا افتتاح مشہور ومعروف سماجی شخصیت محمد عاقل نے شمع روشن کرکے کیا ۔مشاعرہ کی صدارت مشہور ومعروف شاعر جوہر کانپوری نے کی اور ندیم فرخ نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعرہ شبینہ ادیب کے گیت’’اے وطن میرے وطن ‘‘کو سامعین کی جانب سے زبردست داد تحسین حاصل ہوئی۔اس کے علاوہ انہوں نے ’’اندھیروں کی ہر ایک سازش یہاں ناکام ہوجائے۔۔اجالے ہرطرف ہوں روشنی کا نام ہوجائے‘‘ کو بھی سامعین نے بے حد پسند کیا ۔اسی طرح ہندوستان کے مشہور شاعر جوہر کانپوری نے اپنے مخصوص انداز میں کلام پیش کرتے ہوئے کہا ’’حویلی سب کا مقدرپھوٹ جائے گا۔۔اگر یہ ساتھ ہندو مسلم کا چھوٹ جائے گا‘‘’’دعاء کیجئے کہ ہم میں پیار کے رشتے رہیں قائم ۔یہ رشتے ٹوٹ جائیں گے تو بھارت ٹوٹ جائے گا۔اس کلام کو بھی سامعین نے بے حد پسند کیا ۔بعد ازاں طنز ومزح کے مشہور شاعر سکندر حیات گڑ بڑ نے اپنا کلام پیش کرکے پورے پنڈال کو قہقہ زار بنادیا ۔انہوں نے اپنے کلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ابا کو تو دنیا سے اٹھا لے یا رب۔۔اب یہ آتی ہے دعاء بن کے تمنا میری۔ان کے بعد طنز ومزح کے ایک اور شاعر سجاد جھنجھٹ نے مزاحیہ کلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہوتے رہیں مشاعرے لوگ کرواتے رہیں۔۔میں تو اپنا مشاعرہ گھر میں رکھ لوں گا۔’’جھنجھٹ اگر دنگائیوں نے کیا جھنجھٹ ۔۔نام بدل کر بلڈوزر رکھ لوں گا۔ان شعراء حضرات کے علاوہ ندیم فرخ ،انجم دہلوی،منصور رانا،ارشد دیا،وارث وارثی،ندیم انور،وسیم آزادارسلان اور اقراء نور وغیرہ نے بھی اپنے شاندار کلام پیش کئے ۔اس موقع پر ایس ڈی ایم دیپک کمار سی او درگار پرساد تیواری دیوبند کے کوتوالی انچارج پربھاکر کینتورا ،رضوان انصاری،گلزار دیوبندی،میونسپل رکن شرافت ملک،ماسٹر ممتاز،آنند پرکاش ورما،سلیم خواجہ،دھیرج پنڈیر،ڈاکٹر شمیم دیوبندی،ذیشان نجمی اور سونو قریشی سمیت بڑی تعداد میں ادبی شخصیات موجود رہیں۔مشاعرہ کے اختتام پر کنوینر ماہر حسن اور معاون کنوینر چاند دیوبندی نے تمام شعراء واشاعرات نیز سامعین کا شکریہ ادا کیا ۔

You might also like