Baseerat Online News Portal

بی جے پی لوگوں کوخوف کے سائے میں زندگی گذارنے پرمجبورکررہی ہے:سونیاگاندھی

ادے پور (ایجنسی)
کانگریس صدر سونیا گاندھی نے ادے پور کے چنتن شیویر میں مودی حکومت پر سخت حملہ بولا ۔ سونیا نے کہا ہے کہ مرکز میں بیٹھی مودی حکومت پورے ملک میں خوف اور پولرائزیشن کا ماحول بنا رہی ہے۔
اس چنتن شیویر میں قومی اور ریاستی کانگریس کمیٹیوں کے 430 قائدین حصہ لے رہے ہیں۔
سونیا نے کہا کہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے اتحادیوں کا ‘میکسمم گورننس گورمنٹ ‘ سے کیا مطلب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں مسلسل پولرائزیشن کی صورتحال برقرار رہے، لوگوں کو خوف کے ماحول میں رہنے پر مجبور کیا جائے اور اقلیتوں کو نشانہ بنایا جائے اور ان پر ظلم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتیں ہمارے معاشرے اور اس جمہوریت میں برابر کی شہری ہیں۔
اپنے خطاب میں سونیا گاندھی نے بی جے پی حکومت کی پالیسیوں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی اور آر ایس ایس کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک جن چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، اس پر غور کرنے کے لیے یہ کیمپ ایک بہت اچھا موقع ہے۔ یہ ملک کے ایشوز پر غور و فکر اور پارٹی کے سامنے مسائل پر خود احتسابی دونوں کے لیے ہی ایک بہترین اسٹیج ہے۔‘‘
ہندوستان میں اقلیتی طبقہ کے خلاف ہو رہی کارروائیوں کی طرف بھی سونیا گاندھی نے اپنے خطاب میں اشارہ کیا۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’ایسا ماحول پیدا کیا گیا ہے کہ لوگ لگاتار خوف اور عدم تحفظ کے احساس میں جی رہے ہیں۔ اقلیتی طبقہ کو شاطرانہ انداز میں ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اقلیتی طبقہ ہمارے سماج کا ضروری حصہ ہیں اور ہمارے ملک میں انھیں بھی سب کے برابر حقوق حاصل ہیں۔‘‘ کانگریس صدر نے دلتوں اور قبائلیوں پر ہو رہے حملے ا بھی تذکرہ کیا اور ملک میں لگاتار بڑھ رہی مہنگائی کے لیے مرکزی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انھوں نے کہا کہ رسوئی گیس اور پٹرول و ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے ملک کے کروڑوں کنبے بے حال ہو گئے ہیں۔ ملک میں بڑھتی بے روزگاری کی طرف بھی سونیا گاندھی نے اپنے خطاب میں توجہ دلائی۔
اپنے خطاب میں سونیا گاندھی نے کمزور ہوتی کانگریس کو مضبوط بنانے کے پختہ عزائم کا بھی تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’مضبوط تنظیم سے وقت وقت پر اپنے لچیلے پن کو ظاہر کرنے کی امید کی جاتی رہی ہے، اور ہر بار ہماری تنظیم نے اثردار طریقے سے اپنا کام کیا ہے اور اپنی نمائندگی کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔ ایک بار پھر ہم سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ ہم اپنی بہادری، حوصلہ اور خود سپردگی کے جذبہ کا مظاہرہ کریں۔ لیکن آج ہماری تنظیم کے سامنے جو حالات پیدا ہوئے ہیں، وہ غیر معمولی ہیں۔ اس بات کو میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ ان غیر معمولی حالات کا مقابلہ ہم غیر معمولی طریقے سے ہی کر سکتے ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’ہر تنظیم کو نہ صرف زندہ رہنے کے لیے بلکہ آگے بڑھنے کے لیے بھی وقت وقت پر اپنے اندر تبدیلی لانی ہوتی ہے، اور ہمیں بھی تنظیم میں اصلاح کی سخت ضرورت ہے۔ پالیسی میں تبدیلی، اور روزانہ کام کرنے کے طریقے میں تبدیلی، یہ سب سے بنیادی ایشو ہے جس کی طرف توجہ دی جائے گی۔ لیکن میں یہ بھی زور دے کر کہنا چاہتی ہوں کہ ہماری باز آبادکاری صرف اجتماعی کوشش سے ہی ہو پائے گی، اور وہ عظیم اجتماعی کوشش نہ ٹالے جا سکتے ہیں اور نہ ہی ٹالے جائیں گے۔ یہ کیمپ اس طویل سفر میں ایک اثردار قدم ہوگا۔‘‘
اپنے خطاب کو آگے بڑھاتے ہوئے سونیا گاندھی کہتی ہیں کہ ’’ہمارے طویل اور سنہری تاریخ میں آج ایک ایسا وقت آیا ہے جب ہمیں اپنے ذاتی خواہشات کو تنظیم کے پیچھے رکھنا ہوگا۔ پارٹی نے ہم سبھی کو بہت کچھ دیا ہے، اب وقت ہے قرض اتارنے کا۔ میں سمجھتی ہوں کہ اس سے الگ کسی اور لفظ کا استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ساتھیو میں آپ سب سے گزارش کرتی ہوں کہ اپنے نظریات کھل کر رکھیں، لیکن باہر صرف ایک ہی پیغام جانا چاہیے، تنظیم کی مضبوطی، عزائم اور اتحاد۔ ہم سب کو یہ یقینی بنانا ہوگا۔‘‘ ساتھ ہی کانگریس صدر کہتی ہیں ’’حال میں ملی ناکامیوں سے ہم بے خبر نہیں ہیں، نہ ہی ہم بے خبر ہیں اس جدوجہد یا جدوجہد کی پریشانیوں سے جسے ہمیں کرنا ہے اور کامیابی حاصل کرنی ہے۔ ہم سے لوگوں کی جو امیدیں ہیں ان سے ہم ناواقف نہیں ہیں۔‘‘
خطاب کے آخر میں سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’ہم یہاں اجتماعی طور سے یہ عزم لینے کے لیے جمع ہوئے ہیں کہ ہم ملک کی سیاست میں اپنی پارٹی کو پھر سے اسی کردار میں لائیں گے جو کردار پارٹی نے ہمیشہ نبھایا ہے، اور جس کردار کی امید ان بگڑتے ہوئے حالات میں ملک کے عوام ہم سے کرتی ہے۔ ہم یہاں پوری انکساری کے ساتھ خود احتسابی تو کر رہے ہیں، لیکن آج ہم طے کریں کہ جب ہم یہاں سے نکلیں گے تو ہم ایک نئے حوصلے، ایک نئی توانائی کے ساتھ اور ایک نئے عزائم کے ساتھ نکلیں گے۔ آپ سب کو بہت بہت مبارکباد۔ جئے ہند۔‘‘

You might also like