Baseerat Online News Portal

ڈاکٹرافروز عالم فن اور شخصیت ،،کے عنوان سے ویبینار

 

رپورٹ : منصور قاسمی ، ریاض سعودی عرب

گزشتہ دنوں معروف ادبی تنظیم بزم ادب برلن ،جرمنی کے زیر اہتمام معتبر شاعر و ادیب ڈاکٹر افروز عالم کے فن و شخصیت پر ایک ویبینار منعقد کیا گیا ،جس کی صدارت پاکستان سے ڈاکٹر اشرف کمال نے کی ؛جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے لندن سے صفدر ہمدانی جلوہ افروز رہے ۔ نظامت کے فرائض معرو ف شاعر سرور غزالی نے انجام دیئے ،انہوں نے ویبینار کے اغراض و مقاصدکو بیان کرتے ہوئے کہا : آج ہم ڈاکٹر افروزعالم کی شعری ، تنقیدی اور تحقیقی ادب کے حوالے سے بات کریں گے، ان کی ادبی کاوشوں کا جائزہ لیں گے تاکہ ہم ان کو اچھی طرح سمجھ سکیں، اس مختصر گفتگو کے بعد ناظم محفل نے صاحب اعزاز ڈاکٹر افروز عالم سے کلام سنانے کی درخواست کی ، موصوف اپنے مخصوص لب ولہجے میں یوں غزل سرا ہوئے

عکس رخسار کو دھوتا تو سخن ور ہوتا میں سلیقے سے جو روتا تو سخن ور ہوتا

چشم حیرت میں بھی رقصاں تھی جھڑی حیرت کی اپنے دامن کو بھگوتا تو سخن ور ہوتا

اس کے بعدمشہور و معروف ناقد ڈاکٹر مشتاق صدف (تاجکستان)نے افروز عالم کے فن و شخصیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا:کورونا کے دور میں افروز عالم صاحب نے بہت سی ادبی محفلوں اور مختلف شخصیات پرویبینار کا انعقاد کیا، میں ان کو اچھی طرح جانتا ہوں ، وہ ایک اچھے انسان تو ہیں ہی عمدہ شاعر بھی ہیں ،ان کی شاعری میں اپنی زمین ہے اپنا آسمان ہے اور وہ دشت و صحرا بھی ہیں جہاں خاک پر دریا اپنی جبین کو گھستا ہے ، ان کی شاعری میں بو قلمونی اور وسعت ہے ۔

مشاعروں کی آبرو ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی ( بھوپال )نے کہا :ڈاکٹر افروز عالم نے کویت میں اردو ادب کے حوالے سے بہت کام کیا ہے ، ذمہ دار لوگوں کو بلا کر شعر و ادب کی محفل برپا کرتے تھے ، ان کی خصوصیت یہ ہے کہ دنیا بھر کے لوگوں سے روابط رکھتے ہیں اور کہاں کیا ادبی کام ہو رہا ہے اس بارے میں معلومات رکھتے ہیں ،وہ دوسروں کے کلام پر بات کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں ۔

عاطر عثمانی (کوالالمپور)نے اپنی گفتگو میں فرمایا:ڈاکٹر افروزعالم غزل اور نظم دونوں اصناف کے باکمال شاعر ہیں،ان کی فکر میں قدرت نے جمال و ذوق بھر دیا ہے ،ان کے یہاں قلبی واردات اور سوز و گداز ایک مخصوص دل آویز انداز میں موجود ہے ،جو سوچتے ہیں غزل کے انداز میں ڈھلتا رہتا ہے ،ان کے اشعار میں داخلی کرب اور مزاحمتی رویے پائے جاتے ہیں ۔

ساکت رنجن پروین نے کہا :بطور ادیب میں ڈاکٹر افروز عالم کو جانتا ہوں ، وہ ایک اچھے شاعر ، اچھے نثر نگار اور اچھے ناقد ہیں ،ان کے مختلف رنگ ہیں ، وہ ایک عمدہ صحافی بھی ہیںاور باکمال منتظم بھی ،ان کی خصوصیت یہ ہے کہ جو لوگ شہرت یافتہ ہیں ان پر کام نہیں کرتے ہیں بلکہ جو غیر معروف ہیں ان کو منصہ شہود پر لاتے ہیں، جو گمنام چہرے ہیں ان کو متعارف کراتے ہیں ۔

ڈاکٹر حنا آفرین (جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی)نے افروزعالم کی نظم نگاری پر بات کرتے ہوئے کہا :ان کی نظمیں انفرادیت کے ساتھ ساتھ عصر حاضرکی بھی ترجمانی کرتی ہیں ،ان کی نظموں میں معاشرے میں بے غیرتی ، عورت کے حوالے سے بے حسی،بد اخلاقی اور جذبوں کے خرید و فروخت کا ذکر ملتا ہے ۔ موصوفہ نے افروز عالم کی ایک نظم ”لاک ڈاؤن،،کے حوالے سے کہا:اس میں انسانیت کو پاؤں تلے روندنے کی اچھی عکاسی کی گئی ہے ۔

نصر ملک(ڈنمارک) نے کہا :میں افروز عالم کی تخلیقات پڑھتا رہتا ہوں ، انہوں نے اپنی شاعری میں ہر صنف پر طبع آزمائی کی ہے ، زندگی کے نشیب و فراز کا بڑی خوبصورتی سے احاطہ کیا ہے ، تارکین وطن کے مسائل اور دکھ درد کو بھی بیان کیا ہے ،وہ اپنی شاعری میں کسی کی پیروی نہیں کرتے اور نہ ہی وہ کسی سے متاثر ہوتے ہیں؛ بلکہ ان کا اپنا اسلوب ہے ، اپنالہجہ ہے اور یہی خوبی انہیںممتاز کرتی ہے ۔

باقی احمد پوری ( پاکستان) نے سب سے پہلے اس خوبصورت محفل کے انعقاد کے لئے بزم ادب برلن کاشکریہ ادا کیا پھر گویا ہوئے : افروز عالم سے کویت میں ہماری ملاقاتیں رہی ہیں اور جب پردیس میں لوگ ملتے ہیں تو ان کا احساس کچھ اور ہی ہوتا ہے ،افروز عالم انجمن آرائی کے ہنر میں بہت آگے ہیں ، انہوں نے کویت کی جو تاریخ رقم کی ہے وہ بہت اہم ہے ، ان کی کئی جہات ہیں ، ان کی غزلوں کے بارے میں یہی کہوں گا کہ وہ روایت سے جڑ کر بھی اپنی غزلوںمیں جدید خیالات پیش کرتے ہیں ۔

مہمان خصوصی صفدر ہمدانی نے اپنی گفتگو میں فرمایا :شاعری اب تجارت بن گئی ہے ہمارے یہاں سارے فنون لطیفہ میںفن ختم ہو گیا ہے اب صرف لطیفہ رہ گیا ہے ،جتنا بے ادب آج ہمارا ادیب ہے ، جتنا بے عمل آج ہمارا شاعر ہے اس سے پہلے نہیں تھا، سب مافیا بن چکے ہیںلیکن یہ چیزیں افروز عالم میں نہیں ہیں ،میری ان سے دو ملاقاتیں کویت میں رہی ہیں اور میں نے یہی دیکھا اور سمجھا ہے ۔ صفدر ہمدانی نے ڈاکٹر افروز عالم کی شان میں چند اشعار بھی پڑھے۔

صدر محفل ڈاکٹر کمال اشرف نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا:ڈاکٹر افروز عالم کے زیادہ تر مضامین طویل اور خوش نہیں ہوتے ہیں اس لئے پڑھنے والے اکتاہٹ محسوس نہیں کرتے ،ان کے مضامین کے عنوانات میں بھی جدت ہوتی ہے ، وہ بہت سوچ سمجھ کر عنوان بناتے ہیں بالکل ایک ماہر صحافی کی طرح ، عنوان دیتے وقت جاذبیت اور دلچسپی کا خیال رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قاری سرسری طور پر گزر نہیں سکتے ، افروز عالم نے جس طرح موضوعات اور فکری تموج کو اپنی تنقیدی بصیرت کے ساتھ پیش کیاہے اس میں وہ بڑی حد تک ایک کامیاب نقاد نظر آ رہے ہیں، حالات حاضرہ پر بھی وہ گہری بصیرت رکھتے ہیں ۔

اخیر میںکلمات تشکر پیش کرتے ہوئے ریاض ساغر نے کہا : اس شاندار ویبینار کے انعقاد کے لئے بزم ادب برلن اور اس کے روح رواں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ، انہوں نے علمی، ادبی اور تحقیقی کارناموں کی گونج رکھنے والے افروز عالم کی شخصیت اور فن پر گفتگو کے لئے اہل علم و نظر کو جمع کیا جنہیں سن کر دل د ماغ معطر ہو گئے ، یہ ایک خوبصورت اور یادگار ویبینار تھا۔

اس ویبینار میں بطور مقالہ نگار ،تجزیہ نگار اور مبصر شریک ہو نے والوں کے اسماء گرامی ہیں :ڈاکٹر اشرف کمال پاکستان ، صفدر ہمدانی لندن، ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی بھوپال، ڈاکٹر مشتاق صدف تاجکستان ،عاطر عثمانی ملیشیا ،احمد باقی پوری پاکستان ،ڈاکٹر ساکت رنجن پروین ہندوستان ،ڈاکٹر حنا آفرین نئی دہلی ،نصر ملک ڈنمارک ، منصور قاسمی ریاض سعودی عرب ، ریاض ساغر ہندوستان اور ٹیکنیکل سپورٹ کی ذمہ داری نازنین علی کویت سے نبھا رہی تھیں ۔ اس ویبینار میں کئی ممالک کے باذوق سامعین و ناظرین اپنی اپنی قیام گاہ سے شریک رہے۔ واضح رہے کہ پروگرام کے درمیان گاہے گا ہے افروز عالم اپنا کلام سناتے رہے، سو چلتے چلتے آپ بھی ان کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:

وقت کی نبض پہ انگشت رکھی ہو جیسے ایک ساحر نے کوئی بات کہی ہو جیسے

اس کی آنکھوں کی طرف دیکھا تو احساس ہوا راکھ کی تہہ میں کوئی آگ دبی ہو جیسے

ہائے اس صاحب مسند کے تکلم کی ادا سرخ پھولوں سے لدی شاخ جھکی ہو جیسے

گفتگو اردو میں کرتا ہے تو یوں لگتا ہے کوئی خوشبو کسی سانچے میں ڈھلی ہو جیسے

میری قسمت کا ستارا بھی ہے معدوم ابھی اک دعا پھر کسی عالم میں رکی ہو جیسے

[email protected]

You might also like