Baseerat Online News Portal

سری لنکا بحران: قومی ایئرلائنز کوبیچنے کی تیاری، نئے وزیراعظم نے تنخواہ کی ادائیگی کے لیے چھاپےنئے نوٹ

آن لائن نیوزڈیسک
سری لنکا کی نئی حکومت نے معاشی نقصان کی تلافی کے لیے اپنی قومی ایئر لائنز کو فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ ملک کی معاشی صورتحال کو سنبھالا جا سکے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے افسران کو نئے نوٹ چھاپنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق سری لنکا کی نئی انتظامیہ سری لنکن ایئر لائنز کو نجی ہاتھوں میں دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے نے ایک ٹیلیویژن خطاب میں کہا کہ سری لنکا کی ایئر لائنز کو مارچ 2021 کو ختم ہونے والے مالی سال میں 45 بلین روپے ($ 124 ملین) کا نقصان ہوا۔
سری لنکا کو ایک غیر معمولی اقتصادی بحران کا سامنا ہے اور یہ ملک غیر ملکی قرضوں کے معاملے میں ڈیفالٹر بننے سے چند دن دور ہے۔ وکرما سنگھے نے کہا، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ جنہوں نے کبھی ہوائی جہاز میں قدم بھی نہیں رکھا، غریبوں کو اس نقصان کا بوجھ اٹھانا پڑے۔
وکرما سنگھے کو سری لنکا کے وزیر اعظم بنے ہوئے ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی تنخواہ ادا کرنے کے لیے نوٹ چھاپنے پر مجبور ہیں جس سے ملکی کرنسی پر مزید بوجھ پڑے گا۔ سری لنکا میں پیٹرول کا صرف ایک دن باقی ہے اور حکومت خام تیل اور مٹی کے تیل کے تین جہازوں کی ادائیگی کے لیے اوپن مارکیٹ میں ڈالر جمع کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو اب سری لنکا کے ساحل پر پہنچ چکے ہیں۔
وکرماسنگھے نے کہا، ’’اگلے چند ماہ ہمارے لیے سب سے مشکل ہوں گے۔ موجودہ بحران کو حل کرنے کے لیے ہمیں فوری طور پر ایک قومی پارلیمنٹ یا تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک سیاسی ادارہ بنانا چاہیے۔‘‘
وزیر اعظم وکرما سنگھے نے صدر کے ’’ترقیاتی بجٹ‘‘کی جگہ ایک نئے ’’ریلیف بجٹ‘‘کا اعلان کیا۔ 2022 میں سری لنکا کی جی ڈی پی میں 13 فیصد کا خسارہ متوقع ہے۔

You might also like