Baseerat Online News Portal

گیان واپی مسجد سنگھی سازش کی شکار: آل انڈیا امامس کونسل

نئی دہلی (پریس ریلیز) آل انڈیا امامس کونسل کے قومی صدر مولانا محمد احمد بیگ ندوی نے گیان واپی مسجد کے غیر قانونی سروے اور اس کو ناجائز سیل کرنے کے عدالتی حکم پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ: گیان واپی مسجد کے ناجائز سروے کے بعد وضو خانہ کے حصے کو سیل کرنے کا حکم جاری کرنا جمہوری ملک میں سرکاری اور عدالتی غنڈہ گردی کی ایک اور بد ترین مثال ہے۔ عوام اس کے خلاف آگے آئیں، اس طرح کے حکم کو کسی بھی صورت میں منظور نہیں کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ شرقی دور میں تعمیر کی گئی گیان واپی مسجد کوئی مندر توڑ کر نہیں بنائی گئی، اورنگ زیب عالمگیر پر وشوناتھ مندر توڑ کر مسجد بنانے کا الزام بے بنیاد اور جھوٹا ہے، مندر میں کچھ کی رانی کے ریپ کے بعد مہنتوں کے پالے ہوئے غنڈوں سے تصادم میں مندر کا کچھ حصہ متأثر ہوا تھا، جس کی اورنگ زیب نے بعد میں سرکاری خزانے سے مرمت کرادی تھی، گیان واپی محلے کی طرف منسوب مسجد ہے، اور یہ مسجد ہی رہے گی۔ مسلمان کسی بھی قیمت پر اس کے غیر دستوری سروے کی روشنی میں سِیل کرنے کے حکم کو قبول نہیں کریں گے؛ کیوں کہ تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ "1937میں دین محمد بنام اسٹیٹ سکریٹری میں” عدالت نے زبانی شہادت اور دستاویزات کی روشنی میں یہ بات طے کردی تھی کہ یہ پورا احاطہ مسلم وقف کی ملکیت ہے اور مسلمانوں کو اس میں نماز پڑھنے کا حق ہے۔ اسی وقت یہ بھی طے کر دیا گیا تھا کہ وضوخانہ مسجد کی ملکیت ہے۔
پھر 1991ء میں (Places of Worship Act 1991) پارلیمینٹ سے منظور شدہ قانون کے مطابق عدالت کو اس طرح کے مقدمات میں مداخلت کرنے کا کوئی حق ہی نہیں ہے۔ لیکن فسطائی طاقتوں کی چیرہ دستیوں اور دست درازیوں پر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے بجاے سروے اور پھر وضو خانے کے حصے کو سِیل کرنے کا حکم صادر کرنا عدالت کا انتہائی غیر منصفانہ قدم ہے، جسے کسی بھی صورت میں منظور نہیں کیا جا سکتا ہے۔
سنگھیوں کی اس سازش کو ناکام بنانے کے لئے سیکولر ذہن رکھنے والے شہریوں کی ذمے داری ہے کہ وہ ملک کو منافرت کی آگ سے بچائیں، اور بابری کے انہدام جیسی تاریخ دوہرانے سے ان فرقہ پرستوں کو روکیں، جو ملک کو توڑنے کے در پر ہیں، یہ مسئلہ تنہا مسلمانوں کا نہیں ہے بلکہ ان سیکولر پارٹیوں کا بھی ہے جو ملک کے دستور پر یقین رکھتی ہیں۔
عدالتی فیصلے نے انصاف کے تقاضوں اور عوامی اعتماد کو ایک بار پھر مجروح کیا ہے؛ اس لئے مرکزی حکومت کی ذمے داری ہے کہ فوری طور پر اس فیصلہ پر عمل آوری کو روکے۔ اگر اس فیصلے پر عمل درآمد کیا گیا تو آل انڈیا امامس کونسل پورے ملک میں اس ناانصافی کے خلاف جمہوری طریقے سے احتجاج کرے گی اور بابری مسجد کے ساتھ گیان واپی مسجد کو انصاف دلانے کے لیے ہر سطح پر قانونی کارروائی کے لیے میدان میں اترے گی۔
آل انڈیا امامس کونسل تمام انصاف پسند اور امن پسند شہریوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ جمہوری طریقے پر اپنی عبادت گاہوں کی حفاظت سے پیچھے نہ رہیں۔

You might also like