Baseerat Online News Portal

گیان واپی مسجد معاملہ؛ نیا جال لائے پرانے شکاری: آل انڈیا امامس کونسل مدھیہ پردیش

 

جو افراد بابری مسجد کو فقط ایک مسجد کا معاملہ سمجھ کر نظر انداز کر رہے تھے، انہیں اب ہوش کے ناخن لینا چاہیے: مفتی عطاء اللہ قاسمی

 

بھوپال، 18 مئی(پریس ریلیز)

 

آل انڈیا امامس کونسل ایم پی کے صوبائی صدر مفتی عطاء اللہ قاسمی نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں ایک شور ہے، بلکہ اس دفعہ شرپسند ٹولہ کچھ زیادہ ہی بے چین ہیں۔ انہیں ملک کے ہر مسلم ادارے، مسجد اور قدیم عمارت میں بھگوان یا بھگوان کا عضو مخصوص نظر آرہا ہے۔ اس سوچ کے پیچھے چھپے مقاصد ہر کوئی سمجھ رہا ہے۔ اور شرپسندوں کے عزائم بھی جگ ظاہر ہیں۔

صوبائی صدر نے مزید کہا کہ آل انڈیا امامس کونسل مدھیہ پردیش اس سازش کی پرزور مخالفت کرتی ہے۔اور کھلے لفظوں میں گیان واپی مسجد اور اجین کی مسجد کے ساتھ ساتھ دوسری مساجد کی حمایت کا اعلان کرتی ہے۔ صرف گیان واپی ہی نہیں، بلکہ ملک بھر کی تمام مساجد اور قومی و ملی سرمایہ جس پر ان فتنہ پرست عناصر کی نگاہیں ہیں ان تمام کی حمایت کا اعلان اور حفاظت کا عہد کرتی ہے۔اور ملک کے تمام مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ بتا دینا اپنا فرض سمجھتی ہے کہ اگر ملک میں مساجد کی عزت و حرمت کو یوں ہی تار تار کیا جاتا رہا اور عدلیہ و انتظامیہ یوں ہی تماشہ دیکھتی رہی تو یہ ملک کے امن و امان پر گہرا اثر ہوگا۔ ظاہر ہے جہاں انصاف ختم ہوجاتا ہے وہاں امن کا بھی خاتمہ ہوجاتاہے۔اور امن کے بغیر کسی بھی ترقی یافتہ سماج کو تشکیل نہیں دیا جاسکتا؛ اس لئے آل انڈیا امامس کونسل مدھیہ پردیش ملک کے تمام انصاف پسند طبقات کو آواز دیتے ہوئے عدالت کو اپنے عجیب و غریب فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ

اس موقع پر یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ صرف گیان واپی مسجد کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔اب بات گیان واپی سے بڑھ کر ملک کی تمام مساجد اور اسلامی شعائر تک پہونچ گئی ہے؛ اس لئے ہم اسے اتفاق یا ایک علاقے کا معاملہ کہہ کر نظر انداز نہیں کرسکتے ہیں؛ اس سازش کے تانے بانے ان پرانے شرپسندوں سے جا ملتے ہیں، جنہوں نے ماضی میں انصاف و عدلیہ کا خون کرتے ہوئے بابری مسجد کو مسمار کیا تھا؛ لہذا وہ افراد جو بابری مسجد کو فقط ایک مسجد کا معاملہ سمجھ کر نظر انداز کر رہے تھے، انہیں اب جامع مسجد گیان واپی، شاہی عیدگاہ متھرا، جامع مسجد دہلی اور بنانیوکی مسجد اجین کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ہوش کے ناخن لینا چاہیے۔

ہم یہ واضح کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ اب بابری مسجد کے بعد ہم ملک کی دوسری کسی مسجد کو کسی بھی صورت میں ظلم اور ناانصافی کی شکار نہیں ہونے دیں گے، لہذا آل انڈیا امامس کونسل مدھیہ پردیش ملک کے عوام اور تمام قومی وملی تنظیموں سے اپیل کرتی ہے کہ مساجد کی حفاظت وامن وامان کے قیام لئے پورے ملک میں احتجاج درج کریں۔

You might also like