Baseerat Online News Portal

ہندوستانی متو سط طبقے کے موضوع پر اردو کارواں اور TISS کے اشتراک سے کتاب کا اجرا

ممبئی ( پریس ریلیز) پروفیسر منیش کمار جھا (ٹا ٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائینس) کی
کتابByond Consumption India’s New Middle Class in Neoliberal Timesکا اجراء اور تجزیہ کیا گیا.
ڈاکٹر رمیش کامبلے( سابق صدر شعبہ سماجیات،ممبئی یونیورسٹی) ڈاکٹر سوہنی سین گپتا ایسوسیٹ پروفیسر ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائینس ، ڈاکٹر عبدالشعبان ایسوسی ایٹ پروفیسر ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائینس، فرید احمد خان
صدر اردو کارواں اور شبانہ خان جنرل سکریٹری اردو کارواں نے بہ حیثیت تجزیہ نگار حصہ لیا۔
اس کتاب میں متوسط طبقے کی زندگی کے مختلف رنگ اور آزاد معاشی پا لیسی کے بعد کے حالات سے متعلق روشنی ڈالی گئی ہے۔ متوسط طبقے کے اندر موجود تنوع، لوگوں کے طرز عمل کو تسلیم کرتے ہوئے ہندوستان کے نئے متوسط طبقے کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں سماجی نقل و حرکت، ترقی، صارفیت، ٹیکنالوجی، سماجی شناخت، اور ترقی کے معانی اور تصورات کے علاوہ اس بات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ نیا متوسط طبقہ مختلف سیاق و سباق میں کس طرح آزاد یا محکوم ہوسکتے ہیں۔ اس کتاب میں نئے متوسط طبقے میں داخل ہونے والوں، خاص طور پر پسماندہ طبقوں، ان کی جدوجہد، عدم تحفظ، پریشانیوں، ایجنسیوں اور تجربات کا ذکر کیا گیا ہے۔
کتاب کے ابواب متوسط طبقے کے مختلف ادوار کے ساتھ منسلک ہیں ۔کتاب کا مضمون ملک کے بڑے خطوں اور شہروں میں شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک علاقائی طور پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ نئے متوسط طبقے کی معاشی اور سماجی زندگیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے ، جس سے آزاد خیالی کے بعد کے ہندوستان اور ملک بھر کے مختلف شہروں میں جنس، ذات، مذہب، ہجرت، اور دیگر سماجی اقتصادی مارکروں کے ساتھ اس کے باہمی تعلق کو وسعت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
پروفیسر عبدالشعبان نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئےکتاب کی مختصراً تلخیص پیش کی اور اہم نکات پر روشنی ڈالی۔
کتاب کے مصنف پروفیسر منیش جھا نے کتاب کا تعارف کراتے ہوئے متوسط طبقے کی سیاست کی پیچیدہ نوعیت پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ وہ مختلف خدمات کے لیے شہری غریبوں پر انحصار کرتے ہیں، لیکن ان کے ساتھ ان کا تعلق خارجی اور مبہم ہوسکتا ہے۔ وہ متوسط طبقے میں بے حسی کے عناصر کو سامنے لانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کتاب کی تکمیل کے مراحل پر بھی مفصل بات کی۔
پروفیسر رمیش کامبلے نے کتاب میں موجود اسباق کو سراہتے ہوئے کہا کہ کس طرح نیا متوسط طبقہ سرمایہ داری کی نوعیت اور کردار میں تبدیلیوں کے ساتھ تشکیل پا رہا ہے۔ ڈیجیٹل اور ورچوئل دور میںمتوسط طبقے کے سامنے نئے چیلنجز ہیں۔
ڈاکٹر سوہنی سین گپتا نے متوسط طبقے کی صنفی نوعیت پر اس سے وابستہ پریشانیوں اور ذمہ داریوں پر زور دیا۔ انھوں نے ماں کی مشقت کی کارکردگی کی روزمرہ کی کاوشوں کے تعلق سے بات کی۔
فرید خان نے متوسط طبقے کی زندگی کو متعین کرنے والے خطرات، غیر یقینی صورتحال، کامیابی اور ناکامی کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ انہوں نے ان امکانات اور چیلنجوں، مواقع اور حادثات کے بارے میں تفصیل سے بتایا جن کا سامنا متوسط طبقے کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں اکثر ہوتا ہے۔
شبانہ خان جنرل سیکرٹری اردو کارواں نے متوسط طبقے کی مسلم لڑکیوں اور خواتین کی زندگی میں آنے والی مشکلوں اور چیلنجوں اور ایک بہتر اور روشن مستقبل کے لیے معاشرے کو آگے بڑھانے کے لیے ان کی جدوجہد کے بارے میں واضح طور پر اپنی باتیں رکھیں۔ انھوں نے ان رکاوٹوں کے بارے میں بھی بات کی جو اکثر خواتین کو در پیش ہوتی ہیں، اور وہ کس طرح عصر حاضر میں ان رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
پروفیسر عبدالشعبان کے شکریہ کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
رسم اجراء کی تقریب میں ٹا ٹا انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر حضرات، طلباء و طالبات،پروفیسر زینت میتھی بائی کالج اور اردو کارواں کے نائب صدر شعیب ابجی کے علاوہ دیگر اراکین نے بھی شرکت کی۔

You might also like