Baseerat Online News Portal

ہندی کے نام پر سنسکرت کو مسلط کیا جائے گا تو 2024سے قبل ہی مرکز میں حکومت بدل جائے گی:انڈین یونین مسلم لیگ

 

اردو ہندوستان میں سب سے زیادہ سمجھی جانے والی زبان ہے، ملک میں 19500سے زیادہ زبانیں ہیں: پرو فسیر قادر محی الدین
چنئی (پریس ریلیز) انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل)کے قومی صدر پروفیسر قادر محی الدین نے اپنے جاری کردہ اخباری اعلامیہ میں کہا ہے کہ ہندوستان میں 19,500سے زیادہ زبانیں ہیں اور اردو واحد زبان ہے جسے ہر کوئی سمجھتا ہے اور مرکزی بی جے پی حکومت ہندی کے نام پر سنسکرت کو زندہ کرنے کی کوشش کررہی ہے، اگر بی جے پی ہندی کے نام پر سنسکرت کو مسلط کرنا چاہے گی تو 2024سے قبل ہی مرکز میں حکومت تبدیل ہوسکتی ہے۔ پروفیسر کے ایم قادرمحی الدین نے مزید کہا ہے کہ آندھرا بائیولوجیکل سروے آف انڈیا، ہندوستانی محکمہ بشریات کے مطابق ہندوستان میں 4,698طبقات رہتے ہیں۔ یہ طبقات ایک ہی مذہب، ایک ہی زبان، ایک ہی ثقافت، ایک ہی تاریخ، ایک ہی مقام، ایک ہی قسم کے کھانا کھانے والے نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان تنوع میں اتحاد کا ملک ہے!۔ ہمارا بھارت اس کی ہم آہنگی، انصاف، مفاہمت، امن اور تخلیقی صلاحیتوں کی مشترکہ تاریخ کی وجہ سے ‘سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ‘کہلاتا ہے۔ایک اچھے ملک کے طور پر سبھی ہمارے بھارت کو سراہتے ہیں۔ حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ اور مرکزی حکومت کا حکمران طبقہ ہندی کو ہندوستان کی قومی زبان بنانے کی بات کررہے ہیں۔ آئین ہند کے ایکٹ کے آٹھویں شیڈول میں 22قومی زبانوں کی فہرست ہے۔ ان میں سے 140کروڑ ہندوستانیوں میں سے 52کروڑ ہندی بولنے والے ہیں، وہ ایسے جھوٹے اعدادو شمار جاری کرکے ہندی کو ہندوستان کی قومی زبان بنانے کی مہم چلارہے ہیں۔ شمالی ریاستوں میں بولی جانے ولی 56زبانون کو ہندی بتا کر ہندی بولنے والوں کی تعداد کو بڑھا کر بتایا جارہا ہے۔نہ صرف تمل ناڈو بلکہ اب مغربی بنگال اور کرناٹک کے ساتھ ساتھ مشرقی ہندوستان اور جنوبی ہندوستان کی کئی ریاستیں مرکزی حکومت کی طرف سے ہندی مسلط کئے جانے کے خلا ف ہیں۔ دانشوران کا کہنا ہے کہ انگریزی کو ہٹا کر ہندی کو ملک بھر میں سرکاری رابطے اور بول چال کی زبان بنانے کا سوچنا ایک تاریخی غلطی ہوگی اور یہ ایک ایسا عمل ہے جو ہندوستان کے اتحاد اور سا لمیت کو مجروح کرتا ہے۔ انگریزی ہندوستان کی سرکاری زبان، عدالتوں کی زبان، سائنس کی زبان اور اعلی تعلیم کی زبان ہے، اسے مزید مضبوط اور جاری رکھنے کی ضرورت ہے، اس میں اگر کوئی تبدیلی کی گئی تو ہندوستان باقی دنیا سے الگ تھلک ہوجائے گا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم دوبارہ پتھر کے زمانے میں واپس چلے جائیں گے۔ وہ سیاسی وجوہات کی بنا پر ایک اور حقیقت کو مسلسل چھپاتے آرہے ہیں۔اعدادو شمار کے مطابق ہندوستان میں بولی جانے والی زبانیں 1950سے زیادہ ہیں۔ ان میں 121زبانیں دس ہزار سے زیادہ لوگ بولتے ہیں۔ جزائر انڈمان اور نکوبار میں ایک ایسی زبان ہے جو صرف ایک دادی بولتی ہیں۔ اگر وہ نہیں رہیں تووہ زبان بھی نہیں رہے گی، اعداد وشمار بتاتے ہیں اسی طرح کہ کئی زبانیں خطرے سے دوچار ہیں۔یہ وہ حقیقت ہے کہ جو ہندوستانی سیاست میں مسلسل چھپائی جاتی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کے ہندوستان میں 19,500سے زائد زبانیں ہیں اور اس جھوٹے پروپگینڈے کے باوجود کہ ہندی بولنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ہندی یا کوئی دوسری زبان، ہندوستان میں زیادہ بولی جانے والی زبان نہیں ہے۔ ہندوستان کے تمام حصوں میں ہندی، تامل، کننڈا، تلگو، ملیالم، مراٹھی یا بنگالی نہیں بولی جاتی ہیں۔ ہندوستان بھر میں، ہرریاست میں، مذہب، نسل اور ثقافت کے درمیان صرف ایک زبان بولی جاتی ہے! وہ اردو ہے! اسی کو ہندوستانی کہا گیا ہے۔ یہی اردو، یہی ہندوستانی، لوگوں کی زبان ہے، سنیما کی زبان ہے، شاعری کی زبان ہے۔ ہندوستان میں پیدا ہوئی اور ہندوستان میں ہرکوئی اردو کو سمجھتا ہے۔ اس حقیقت کو مسلسل چھپایا جارہا ہے۔ ہندی کے نام پر مودی حکومت مردہ سنسکرت زبان کو زندہ کرنے کی مذموم کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ اسرائیل میں جس طرح مردہ عبرانی زبان کو زندہ کیا گیا، اسی طرح مرکزی حکومت ہندوستان میں سنسکرت کو زندہ کرنے کی پرزور کوشش کررہی ہے۔ایسا کھبی نہیں ہوگا! بھارت اسے قبول نہیں کرے گا! اگر بی جے پی مرکزی حکومت سنسکرت کو ہندی بنانے کی کوششیں جاری رکھے گی تو 2024سے پہلے مرکز میں حکومت کی تبدیلی واقع ہوجائے گی۔

You might also like