Baseerat Online News Portal

گیان واپی مسجد : اتنا ہی یہ ابھرے گا، جتنا کہ دباؤگے

 

ڈاکٹر سلیم خان

بنارس کی گیانواپی مسجد میں کل 700 لوگوں کے لیے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے لیکن شہر میں جگہ جگہ مسجدوں کی موجودگی کے سبب جمعہ کی نماز میں عام طور پر 400 لوگ نماز پڑھنے آتے تھے ۔ یعنی  تقریباً آدھی مسجد خالی رہ جاتی تھی۔ ایسے میں ہندوتوا کے حامیوں نے فوارے کو شیولنگ قرار دے دیا۔ عدالت نے سروے کا حکم صادر کیا ۔ نائب وزیر اعلیٰ نے ٹویٹ کرکے شیولنگ کی توثیق کی تو نمک خوار   میڈیا نے آسمان سر پر اٹھالیا اورخوب جی بھرکے جھوٹ پھیلایا۔ اس کا مقصد مسلمانوں کو بدنام کرنا اور ڈرانا تھا لیکن کیا یہ سب اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے؟  اس سوال کا جواب نہیں میں ہے کیوں کہ دنیا بھرسے شیولنگ کے نمودار ہونے کے مضحکہ خیز واقعات خود ہندووں کی بدنامی کا سبب بن گئے اور جہاں تک خوفزدہ کرنے کا سوال ہے اس کا منہ توڑ جواب مسلمانوں نے جمعہ کے دن گیانواپی مسجد کو ہاؤس فل کرکے دے دیا۔  مسجد انتظامیہ کو اس کا خدشہ تھا اس لیے اس نے صبح میں ہی  یہ اپیل کردی کہ لوگ اپنے محلے میں نمازِ جمعہ ادا کریں یعنی گیانواپی مسجد نہ آئیں۔ سرکاری انتظامیہ نے ایک ہزار کی تعداد میں پولیس تعینات کردی تاکہ انہیں دیکھ کر مسلمان ڈر جائیں لیکن اس کے باوجود    1200 مسلمان وہاں پہنچ گئے اور انتظامیہ کو گیٹ بند کرنا پڑا یعنی اورنگ زیب کی مسجد کو پوری طرح بھرنے کا انتظام مخالفین کے ذریعہ ہوگیا۔ اس طرح مسلمانوں  کوڈرانے کا خواب دیکھنے والوں کی نیند اڑ گئی  اور وہ رات بھر بے چینی سے کروٹ  بدلتے رہے ۔  اس صورتحال پر مولانا محمد علی جوہر کا یہ شعر صادق آگیا کہ ؎

اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے                      اتنا ہی یہ ابھرے گا، جتنا کہ دبا دو گے

 اس  معاملے میں     آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے گیان واپی مسجد کیس اور دیگر مسائل پر  گراونڈ زیرو  یعنی  وارانسی میں اپنی  ایگزیکٹیو کمیٹی کے ایک ہنگامی اجلاس کا اہتمام کیا۔ اس اجلاس  وارانسی میں منعقد ہونا بورڈ کی دلیری اور سنجیدگی کا مظہر ہے۔پرسنل لا بورڈ نے  اس بابت سب سے  اہم فیصلہ یہ کیا    چونکہ  گیان واپی مسجد  کا معاملہ عدالت  میں زیر سماعت ہے، لہٰذا بورڈ کے قانونی مشیروں کی  کمیٹی کیس لڑنے میں مسلم فریق کی ہر ممکن مدد کرے گی۔ عدالت سے باہر  پلیس آف ورشپ ایکٹ 1991 پر مرکزی حکومت سمیت دیگر سیاسی جماعتوں سے ان کا موقف معلوم کیا جائے گا۔ یہ اقدام انہیں ان کی ذمہ داری  کا احساس  دلانے اور اس کی ادائیگی پر آمادہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔  اس معاملے میں عوام کے سامنے  افواہوں  کی بنیاد پر جو جھوٹ پھیلایا جارہا ہے اس کی تردید کے لیےحقیقی معلومات پر مبنی   پمفلٹ اور کتابیں شائع کرنے کا  فیصلہ بھی بورڈ نے کیا جو رائے عامہ  تبدیل کرنے میں معاون ثابت ہوگا ۔  یہ فتنہ چونکہ مختلف محاذ سے پھیلایا جارہا ہے اس لیے  ہر سطح پر اس سے نبرد آزما ہونے کی ضرورت ہے۔  مسلم پرسنل لا بورڈ  نے اس حقیقت کی جانب توجہ مبذول کرائی کہ  1991 میں سابق  وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کی حکومت نے عبادت گاہ کا قانون (پلیس آف ورشپ ایکٹ) منظور کیا تھا۔ اس قانون کے مطابق 15 اگست 1947 سے پہلے وجود میں آنے والی ہر مذہبی عبادت گاہ کو کسی دوسرے مذہب کی عبادت گاہ میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔  ایسا کرنے کی کوشش کرنےوالے پر  ایک سے تین سال تک قید اور جرمانہ  ہو سکتا ہے۔ ایودھیا کا معاملہ چونکہ اس وقت عدالت میں زیر سماعت  تھا، اس لیے اسے اس قانون سے باہر رکھا گیا

 افسوس  کی بات یہ ہے  کہ آئین  سے وفاداری کا حلف لینے والے اپنے سیاسی مفاد کی خاطر قانون کی  دھجیاں اڑا رہے  ہیں۔  عام طور پر ایسے معاملات میں نچلی عدالت کو رام کرلیا جاتا ہے لیکن عدالت عظمیٰ سے یہ توقع نہیں کی جاتی حالانکہ بابری مسجد کے معاملے میں اس نے بھی مایوس کیا تھا ۔  اس بار بھی سپریم کورٹ نے دو ٹوک رویہ اختیار کرنے کے بجائے ظالم و مظلوم کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے ۔ یہ کام   عدالت تو دور اہل سیاست کو بھی زیب نہیں دیتا  لیکن ہر کسی کی اپنی مجبوری ہوتی ہے کوئی خود اپنے مفاد کے لیے تو کوئی دوسرے کے دباو میں مجبور و مقہور ہوتا ہے۔  گیان واپی مسجد معاملہ کی  پہلی سماعت میں  سپریم کورٹ  نے ’پاسباں بھی خوش رہے راضی صیاد بھی‘   کا رویہ اختیار کیا ۔  عدالت نے نوٹس جاری کرکے مقامی ڈی ایم کو حکم دیا کہ جس جگہ سے شیولنگ ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے اسے محفوظ رکھا جائے لیکن لوگوں کو نماز سے نہ روکا جائے۔

سپریم کورٹ نے وارانسی  کورٹ کی کارروائی پر روک لگانے کے بجائے وضو خانے کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا جو سیل کرنے کے مترادف ہے۔ اس  نے مسجد کمیٹی کی درخواست پر ہندو فریق اور یوپی حکومت کو نوٹس  بھی جاری کردیا۔    شیو لنگ کے معاملے میں گودی میڈیا نے حق نمک ادا کرتے ہوئے ہنگامہ تو خوب  کیا مگر وہ  الٹا ہندو سماج  کی جگ ہنسائی کا سبب بن گیا کیونکہ دنیا بھر میں ملنے والے مختلف  عجیب و غریب شیولنگ کی دریافت  زیر بحث آگئی۔   ان میں تین الگ الگ ممالک کی مثالوں سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اندھی عقیدت کسی زمان و مکان کی محتاج نہیں ہوتی۔  اس پر موقع محل کا کوئی اثر نہیں ہوتا کیونکہ ایک واقعہ تو وطن عزیز کا ہے جہاں شرک  کا بول بالا ہے لیکن دوسری امریکہ کا ہے جو جدید تہذیب کا گڑھ مانا جاتا ہے اور تیسرا ا مسلم ملک ہے۔

پچھلے سال  جنوری میں بدایوں کے کنور گاوں  کے اندر  مویشیوں کے طبیلے میں صفائی   کے دوران ملازم کو ایک چمکتی ہوئی گول  شئے نظر آئی ۔ اس نے اس کی اطلاع گاوں والوں کو دے دی  بس پھر کیا تھا عقیدتمندوں نے اس کے آس پاس سفید کپڑا بچھا کر شیولنگ کے ظاہر ہونے کا اعلان کردیا۔ گاوں میں جیسے ہی یہ خبر پھیلی لوگ دودھ اور پرشاد چڑھانے پہنچنے لگے ۔ دوپہر تک کافی بھیڑ جمع ہوگئی اور پندرہ سو روپیہ   دان کے طور پر بھی جمع ہوگیا۔ اس دوران کچھ لوگوں نے اسے کھودا تو پتہ چلا  کہ اندھ بھکت ایک ایل ای ڈی بلب کی پوجا کر رہے تھے ۔  اس کے بعد سارے لوگ مسکراتے ہوئے لوٹ گئے اور جمع شدہ رقم پاس کے شنی مندر کو دے دی گئی ۔ فرض کریں کہ اگر وہ بلب کسی شاہی مسجد کے اندر ملا ہوتا تو کیا ہوتا ؟ لوگ سیدھے عدالت میں جاتے ۔ عدالت اس کے سروے کا حکم صادر کرتی ۔ اس علاقہ کو سیل کردیا جاتا  اور میڈیا اپنے زور بیان سے اس کو شیولنگ ثابت کرچکا ہوتا مگر وہ بیچارہ غلط جگہ نمودار ہوگیا ۔ اس سے بہت سارے لوگوں کا متوقع سیاسی کاروبار ماند پڑ گیا۔

  دبئی کے اندر بندرگاہ میں کشتیوں کو باندھنے کے لیے بنائے  گئے کھونٹے کو دے کر ایک عقیدتمند کا دل مچل گیا اور وہ اس نے وہیں پوجا ارچنا شروع کردی ۔  ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی اس تصویر کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اس نے یہ سوچنے کی زحمت بھی نہیں کی کہ لوگ کیا سوچیں گے ؟  ویسے اگر اس بیچارے میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہوتی تو ایسی حماقت کیوں کرتا ؟ کچھ لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ امریکہ جاکر لوگ روشن خیال ہوجاتے ہیں  لیکن شیولنگ کی رونمائی نے اسے بھی دور کردیا ۔  بابری مسجد کی شہادت جہاں ایک طرف  عالمی سطح پر ملک کی بدنامی کا سبب بنی وہیں دوسری جانب  اس کے ایک سال بعد سان فرانسسکو  کے گولڈن گیٹ پارک میں شیولنگ ظاہر ہوتے ہی پھر سے ملک کا نام روشن ہوگیا ۔  دیکھتے دیکھتے  چار فٹ کے نام نہاد شیولنگ کی زور و شور سے پوجا شروع ہوگئی اور وہاں مندر بنانے کا مطالبہ ہونے لگا۔ آگے چل کر پتہ چلا کہ وہ ٹریفک کنٹرول کا ایک پتھر تھا جسے چار سال قبل وہاں لاکر پھینک دیا گیا تھا  لیکن اگر کوئی کسی پتھر کی عبادت کرنے لگے  تو اسے امریکہ میں بھی کوئی نہیں روک سکتا ہاں مندر بنانے کے مطالبے کو انتظامیہ نے  سختی سے مسترد کردیا اور اڈوانی کا کوئی چیلا رتھ یاترا نکالنے کی جرأت نہیں کرسکا۔ ویسے اگر انتظامیہ مندر کی اجازت دے دیتا تو بعید نہیں کہ پردھان سیوک شیلا نیاس کے لیے تام جھام کے ساتھ پہنچ جاتے۔  

بدایوں کے اندر تو یہ معاملہ آدھے دن میں نمٹ گیا مگر امریکہ کے اندر مائیکل بوین عرف کالی داس  نے اس  کو ہٹائے جانے کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیا ۔ اس کے بعد جب 14,000  ڈالر کے قانونی چارہ جوئی کا بل آیا تو اس کے ہوش ٹھکانے آگئے اور وہ اسے وہاں سے ہٹانے پر راضی ہوگیا ۔  اس سے قبل قرب و جوار سے سیکڑوں ہندو عقیدتمند وہاں آکر پوجا پاٹ کرکے اور چڑھاوے چڑھا کر جاچکے تھے ۔ اس سے دنیا بھر میں وطن عزیز کی خوب جگ ہنسائی ہوئی تھی لیکن وقت کے ساتھ لوگ اسے بھول بھال گئے ۔ گیان واپی مسجد کے اندر فوارے کو شیولنگ قرار دینے کی حماقت نے ان سارے واقعات کو پھر سے تازہ کردیا ۔ ان کی ویڈیوز اور تصاویر گردش میں آگئیں اور ملک کا نام روشن ہونے لگا۔  آج نہیں تو کل یہ نام نہاد شیولنگ بھی فوارہ ثابت ہوجائے گا مگر اس کے ذریعہ جو بدنامی ہوئی ہے اس کے اثرات آسانی سے زائل نہیں ہوں گے۔  گیا ن واپی مسجد کے ساتھ بابری مسجد والا معاملہ ان شاء اللہ نہیں ہوگا لیکن امت مسلمہ کو اس بابت اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی اور   اسلام و مسلمانوں  کو بدنام کرنے کی مذموم  سازش کا پردہ فاش کرنا ہوگا تاکہ ملک کے اندر اسلامی شعائر کی حفاظت ہوسکے اور دین کی تبلیغ و اشاعت کا کام جاری و ساری  رہ سکے ۔

 

You might also like