Baseerat Online News Portal

آج فلسطین میں یہودیوں کا ’فلیگ مارچ‘ 

 

خطے میں کشیدگی کا خدشہ، حماس کی مسلمانوں سے مسجد اقصیٰ میں جمع ہوکر دفاع کی اپیل، القسام بریگیڈ کا طاقت کا مظاہرہ، اسرائیل کو بھرپور جواب دینےکی دھمکی

مقبوضہ بیت المقدس۔ ۲۸؍مئی: اسرائیلی حکومت نام نہاد یوم یکجہتی القدس کی یاد میں ۲۹؍ مئی کو ’فلیگ مارچ‘ کا اعلان چند دنوں قبل کیا تھا جس کی تیاریاں وہ کررہے تھے اتوار کو خطے میں کشیدگی خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ایک طرف جہاں اسرائیلی حکومت مصر ہے تو وہیں دوسری جانب حماس نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ میں فجر کی نماز پڑھیں اور قبلہ اول کے احاطےمیں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے رہیں۔ اطلاعات کے مطابق سنیچر کو اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت کل اتوار (۲۹مئی) کو اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق ’’فلیگ مارچ‘‘کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ایک بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے کہا کہ بینیٹ نے منصوبہ بند فلیگ مارچ کے موقع پر صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے (اپنی سیکیورٹی سروسز کے ساتھ) فون پر بات چیت کی ہے۔دفتر نے کہا کہ بینٹ کو مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں پولیس کی طرف سے کی گئی تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اس حوالے سے انٹیلی جنس کی جا رہی کوششوں اور فیلڈ میں تعینات فورسز کی طاقت کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا تھا۔دفتر نےبتایا کہ بینیٹ نے اپنی کال کے دوران اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ’’فلیگ مارچ ‘‘اسی طرح منعقد کیا جائے گا جس طرح پہلے منعقد کیا گیا تھا اوراسی راستے پر چلے گا جس کا تعین کیا جا چکا ہے۔ یہ مارچ مسجد اقصیٰ سے نہیں گذرے گا بلکہ دیوار براق پر ختم ہوجائے گاانہوں نے کہا کہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد کیے جائیں گے اور اس سلسلے میں ہر سطح پر، اگلے دو دنوں کے دوران مسلسل مشاورت کی جائے گی۔اسرائیلی داخلی سلامتی کے وزیر اور کمشنر جنرل آف پولیس، اسرائیلی پولیس کمانڈر، وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری اور دیگر سینئر حکام نے بھی فون پر بات چیت کی۔ادھر اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ نے فلسطینی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اگلے اتوار ۲۹‘ مئی اتوار کو فجر کے وقت مسجد اقصیٰ میں جمع ہوں اور دن بھر وہاں اعتکاف کریں۔ وہیں نماز ظہر ادا کریں۔ اس دوران مسجد تمام مبارک صحنوں، دروازوں اور ستونوں پر ثابت قدم رہیں۔ اس کا دفاع  کریں، اس کے صحن میں دھاوا بول کر مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کرنے اور دھاووں کی روک تھام کریں۔جمعرات کو ایک پریس بیان میں حماس نےخبردار کیا کہ مقبوضہ بیت المقدس اور الاقصیٰ کے حوالے سے  اسرائیل کی کوئی بھی حماقت دشمن کے لیے تباہ کن ہوگی۔ حماس نے قابض ریاست کے انتہا پسند لیڈروں کو خبردار کیا کہ ہم اپنے مقدس مقامات، اپنے حقوق اور اپنے قومی وطن کے دفاع میں پوری طاقت، عزم اور یقین کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔حماس نے القدس  اور مسجد اقصیٰ کےلیے فلسطینیوں کی دی جانےوالی  قربانیوں کا تذکرہ  کرتے ہوئے  کہا کہ ہماری قوم بہادر ہے جو سفاک دشمن کے ساتھ ہر مقام اور موڑ پر کھڑی ہے۔۱۸مئی کو داخلی سلامتی کے اسرائیلی وزیر عمر بار لیو نے پولیس کی تجویز کو قبول کرتے ہوئے مغربی  بیت المقدس سے باب العامود کے راستے اور وہاں سے ہاجی اسٹریٹ (الواد روڈ) کے اندر طے شدہ راستے کے ساتھ ’’فلیگ مارچ‘‘ کرنے کی سفارش کی۔سال ۲۰۲۱میں ہزاروں آباد کاروں نے اسرائیلی پرچم اٹھائے ہوئے ایک مارچ کا اہتمام کیا اور باب العامود کے علاقے پر دھاوا بولا جو القدس کے پرانے شہر کے دروازوں میں سے ایک ہے۔ اس مارچ میں شریک یہودیوں نے دیوار براق کی طرف بڑھنے کے دوران ’’عرب مردہ باد‘‘کےنعرے لگائے تھے۔فلسطین کے شہاب ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق تحریک حماس کے ترجمان فوزی برہم نے سنیچر کی صبح الجزیرہ ٹی وی پر القسام بریگیڈ کے میزائلوں کا ویڈیو نشر کئے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پرچم مارچ نکالنے کے حوالے سے صیہونی حکومت کی دھمکیوں کے درمیان الجزیرہ ٹی وی کا پروگرام اس واضح پیغام کا حامل تھا کہ القسام بریگیڈ پوری طاقت سے جنگ ختم کرنے کی صلاحیت اور عزم و ارادے کا حامل ہے اور یہی ہماری قوم کے لئے باعث اطمینان ہے ۔فوزی برہم نے کہا کہ القسام بریگیڈ کے ہتھیاروں کی تدبیر کے سامنے صیہونیوں کی دھمکیوں اور خطرات کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیونکہ القسام بریگیڈ سیکورٹی و عسکری لحاظ سے پیشرفت کرچکا ہے ۔ برہم صالح نے بیت المقدس کو حماس اور دیگر فلسطینی استقامتی گروہوں کی ریڈ لائن اور اس کے خلاف صیہونیوں کے ہر اقدام کو آگ سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا۔تحریک حماس کے ترجمان نے کہا کہ اگر صیہونی حکومت نے کسی طرح کا کوئی اقدام کیا تو القسام بریگیڈ اس کا جواب دینے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الجزیرہ کے آج کے پروگرام نے واضح کردیا کہ فلسطین ، صیہونی غاصبوں کے خلاف متحدہ محاذ پر ڈٹا ہوا ہے اور کسی بھی وقت ان کے خلاف آگ بھڑک سکتی ہے ۔

You might also like