Baseerat Online News Portal

ہزاروں یہودیوں کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا

 

اشتعال انگیز فلیگ مارچ کے ذریعہ قبلہ اول کی بے حرمتی، نمازیو ںپر تشدد، پہلی مرتبہ یہودی طریقے سے عبادت

مقبوضہ بیت المقدس۔۲۹؍ مئی: قابض صہیونی پولیس نے اتوار کی صبح مسجد اقصیٰ پر ہلہ بولا ، مسلمان نمازیوں کے ساتھ جھڑپوں کے بعد بہت سے نمازیوں کو عبادت کی جگہ  قبلی کی عمارت میں بند کر دیا۔مقامی ذرائع کے مطابق صہیونی پولیس فورس نے فجر کی نماز کے بعد مسجد کے صحن اور ڈھلوان پردھاوا بولا جس کے بعد مسلمان نمازیوں کے ساتھ جھڑپوں کے بعد شروع  متعدد نمازیوں کو قبلی کی عمارت میں بند کر دیا اسکے دروازوں کو زنجیروں سے بند کر دیا۔قبلی کی محصور عمارت کی چھت پر پولیس کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔اسی دوران پولیس فورس نے جھڑپوں کے دوران صوتی بم پھینکے اور مسجد کے صحن میں مسلمان عبادت گزاروں کو ہراساں کرنا شروع کر دیا کیونکہ سینکڑووں صہیونی آبادکاروں کو پولیس کے پہرے میں مقدس اسلامی مقامات پر لے جایا جا رہا تھا۔جیسے ہی پہلے گروپ نے پولیس کے سخت پہرے میں  مقدس مقام کے اشتعال انگیز دورے شروع کیے ، مسلمان عبادت گزاروں نے مسجد کے مختلف علاقوں بالخصوص قبلی کی عمارت کے سامنے نماز کی ادائیگی شروع کر دی۔القدس کے مقامی ذرائع کے مطابق یہودی آبادکاروں نے حرم قدسی پر گروپوں کی شکل میں حملہ کیا، ہر گروپ ۴۰انتہا پسندوں پر مشتمل تھا۔ انہوں نے اشتعال دلانے کے انداز میں حرم قدسی میں گشت کیا۔فلسطینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہودی آبادکاروں نے پہلی مرتبہ مسجد اقصیٰ کے صحن میںیہودی طریقے سے عبادت کی ۔ ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے مسجد اقصیٰ کے صحن اور باب السلسلہ سے ۱۰فلسطینی نوجوانوں کو حراست میں لیا۔ ایک عمر رسیدہ شخص کو تشدد کا نشانہ بنا کر اسے مسجد اقصیٰ سے نکال دیا گیا۔مقامی ذرائع کے مطابق ڈرونز کو صوتی بم اور اشک آور گیس کے گولے  اٹھائےمسجد کے اوپر اڑتے دیکھا گیا۔آبادکاروں کے مسجد کے دورے کے دوران قبل کی عمارت میں بند اور صحنوں میں موجود غصے سے بھرے مسلمان عبادت گزاروں نے مذہبی نعرے لگانے شروع کر دئےجب پولیس افسران نے انہیں منتشر کرنے کے لیے ان پر ربڑ کی گالیاں برسائیں اور صوتی بم پھینکے۔مقامی ذرائع کے مطابق  اشتعال انگیز فلیگ مارچ سے پہلے کم ازکم دوہزار انتہا پسند صہیونی آبادکار صبح کے وقت مسجد اقصیٰ کے صحن میں مراکشی دروازے سے داخل ہوئے جس سے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔کنیسٹ میں چھوٹی سی جماعت  کے لیڈر ایتامار بن جفیر اور انکے متعدد حامی مسجد کی بے حرمتی میں شامل تھے۔صبح کے وقت پولیس نے تقریبا دس فلسطینیوں مسجد اقصیٰ کے صحن میں موجودگی کے دوران گرفتار کر لیا۔فلسطینی صحافیوں اور فوٹو گرافروں نے بتایا کہ انہیں مسجد اقصیٰ میں داخلے سے روکا جا رہا ہے اور انہیں گرفتارکرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔حلال احمر نے اسکے حصے کے طور پر کہا کہ آبادکاروں نے پرانے شہر میں اسکی ایک ایمبولینس اور اسکے عملے پر حملہ کیا جب وہ ایک الواد کے علاقے میں ایک زخمی شخص تک پہنچنے کی کوشش کر دہے تھے۔ اسرائیلی فوج نے سڑک پر رکاوٹیں بھی کھڑی کیں اور فلسطینوں کو باب العامود(دمشقی دروازہ) تک پہنچنے سے روکا جو کہ پرانے شہر کا مرکزی داخلی دروازہ ہے۔یہودی قوم پرست ۱۹۶۷کی مشرق اوسط جنگ میں مقبوضہ بیت المقدس پراسرائیل کے قبضے کا جشن منارہے ہیں اور وہ سیکڑوں کی تعداد میں قدیم شہرکی تنگ وتاریک سڑکوں پر نعرے لگاتے ہوئے جلوس نکال رہے ہیں۔انھوں نے کٹڑ یہود کا مذہبی لباس زیب تن کررکھا ہے۔فلسطینی تنظیموں نے خبردارکیا ہے کہ شہر کے مسلم حصے میں پرچم لہرانے کی پریڈ اسرائیلیوں کے ساتھ ان کے عشروں قدیم تنازع کو دوبارہ بھڑکا سکتی ہے اور نئی مسلح کشیدگی کا سبب بن سکتی ہے۔یہود کا جلوس شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل پولیس نے کچھ فلسطینیوں کوالاقصیٰ کے احاطے میں واقع ایک مسجد کے اندر بند کردیا۔یہودی زائرین کی احاطے میں آمد سے قبل صہیونی پولیس نے فلسطینیوں کے خلاف یہ کارروائی کی تھی۔فلسطینیوں نے پولیس کی طرف پتھراؤ کیا اورآتش بازی کی اس کے جواب میں صہیونی پولیس نے خوف ناک آواز پیدا کرنے والے دستی بم پھینکے۔یہودی زائرین میں بیسیوں نوجوان بھی شامل تھے۔انھوں نے بھی مذہبی لباس پہنا ہوا تھا۔پھر وقت کے ساتھ ساتھ ان ہجوم بڑھتا گیا، دوسرے یہودیوں نے اسرائیلی جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور قومی ترانہ گارہے تھے۔غزہ کی پٹی کی حکمران حماس نے یہود کی مسجد اقصیٰ آمد کی آن لائن پوسٹ کی گئی ویڈیوز کی مذمت کی ہے۔ان میں کہا گیا ہے کہ یہودیوں نے مسجداقصیٰ میں عبادت ادا کی ہے اور اس طرح انھوں نے طویل عرصے سے جاری پابندی کی خلاف ورزی کی ہے۔حماس کے سینیرعہدہ دار باسم نعمت نے رائٹرزکو بتایا کہ اسرائیلی حکومت ان تمام غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں اور نتائج کی مکمل ذمہ دار ہے۔واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں حماس نے خود کو مقبوضہ بیت المقدس کے محافظ کے طورپرپیش کیا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے اتوار کے روزاپنے اتحادیوں کی جانب سے جلوس کے راستے پرنظرثانی کے مطالبے کومسترد کردیا اور تصدیق کی کہ پریڈ منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھے گی۔انھوں نے کہا کہ’’اسرائیل کے دارالحکومت میں اسرائیلی پرچم لہرانا بالکل قابل قبول ہے۔ میں شرکاء سے کہتا ہوں کہ وہ ذمہ دارانہ اور باوقار انداز میں جشن منائیں‘‘۔اسرائیل تمام یروشلم کو اپنا دائمی اورناقابل تقسیم دارالحکومت سمجھتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی حصے کواپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔حماس جدید دور کے تمام اسرائیل کوفلسطینی علاقوں پرقابض سمجھتی ہے۔فلسطینی انتہا پسند یہود کے مارچ کو اسرائیلی طاقت کے مظاہرے اور شہر بھر میں یہودیوں کی موجودگی کو تقویت دینے کی وسیع تر مہم کا حصہ سمجھتے ہیں۔اپریل میں رمضان المبارک کے دوران میں الاقصیٰ کے احاطے میں فلسطینیوں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان بار بار جھڑپیں ہوئیں اور مسلمان مسجد کے احاطے میں یہودی زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد پر احتجاج کرتے رہے ہیں۔المسجدالاقصیٰ مسلمانوں کا قبلۂ اول اور اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔یہودی اس کا ہیکل ماؤنٹ کے طورپر بھی احترام کرتے ہیں اور یہ ان کے عقیدے کے دو قدیم معبدوں میں سے ایک کا حصہ ہے۔سخت گیرصہیونیوں کا آج کا متنازع فلیگ مارچمسجد اقصیٰ کے نیچے واقع یہودیوں کی عبادت کے مقام دیوارِغربی پر اختتام پذیرہونے والا ہے۔

You might also like