مضامین ومقالات

پانی بن جیون کیسا

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
پانی، پانی، پانی کی ہاہاکارہے۔ قومی میڈیا کی گفتگو کا موضوع بناہوا ہے۔ پانی ہے کہ ہاتھ سے پھسل کر آنکھ سے چھلکنے کوبے تاب ہے۔ کہتے ہیں کہ پانی اپنا راستہ خود بنالیتا ہے۔ پتھروں کو پھوڑ کر، پہاڑ کا سینہ چیر کر نکل جاتاہے۔ لیکن اس کا انسان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ پانی اس کو سیراب تو کرتا ہے مگر اس میںنمی نہیںپیدا کرتا۔انسان کو ہی اس کی ضرورت ہے پھر بھی وہ پانی کو سمجھنا نہیں چاہتا۔ یایوں کہاجائے کہ پانی اس کی عقل پر پڑاہوا ہے۔ تبھی تو وہ پانی کو فراموش کرتا ہے۔ پانی کے دھتکارنے پر وہ بلبلاجاتاہے۔ اس کانظارہ آج کل ملک کے کئی حصوںمیں دیکھنے کو مل رہا ہے۔
تقریباً آدھا ملک قحط، خشک سالی یا پانی کی کمی سے جوجھ رہا ہے۔ اس کی وجہ کیالگاتار دوسال میں 12سے 14فیصد مانسون میں آئی گراوٹ ہے، نہیں۔ ماحول میں پیدا ہورہی لگاتار تبدیلی اور زیرزمین پانی کی سطح میںآئی کمی سے حالات خراب ہوئے ہیں۔ بے لگام صنعت کاری نے آلودگی کو جنم دیا۔ پیڑکٹنے سے جنگلات سکڑگئے۔ندیاں، فیکٹریوں کی گندگی سے زہریلی اور اتھلی ہوگئیں۔ تالاب پاٹ کر بلڈنگیں کھڑی کردی گئیں، سرکاروں کی اندیکھی سے اسے بڑھاوا ملا۔ نتیجہ پانی کا بحران، باڑھ اورسونامی کی شکل میں سامنے آرہا ہے۔پہلے بس اڈے ڈوبتے تھے اب ایئر پورٹ ڈوب رہے ہیں ۔ پچھلے دوسالوںمیں ربیع کی فصل خراب ہونے سے کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہوا ۔ بے وقت اولے، بارش اور تیز ہوائیں بھی نیچر کا توازن بگڑنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

وزارت برائے آبی وسائل اور ترقی نے اس بار کے واٹرویک میں پانی کی کمی سے نپٹنے کیلئے اسرائیل کو پارٹنربنایا۔ ساتھ ہی پانی کی قلت سے جوجھ رہی پانچ ریاستوں گجرات، کرناٹک، مہاراشٹر، راجستھان اور تلنگانہ کو سرگرم ساجھیدار۔ اس موقع پر یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملک کے600میں سے 300سے زیادہ اضلاع سوکھے کی زد میں ہیں۔ یہ حالات دھیرے دھیرے کرکے بنے ہیں اور آئندہ اور بدتر ہو جائیںگے۔ اعدادوشمار کے مطابق1951میں 5177کیوبک میٹر فی شخص پینے لائق پانی موجود تھاجو 2011میں گھٹ کر 1150کیوبک میٹر رہ گیا۔ اس میں کچھ دخل موسموں میں آرہی تبدیلی کا بھی ہو سکتا ہے لیکن جو فلم ہم دیکھ رہے ہیں وہ ہماری ہی تیار کردہ ہے۔ زمینی پانی کے استعمال میں جیسی لاپروائی ہم نے پچھلے 50برسوںمیں برتی ہے اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ ہوہی نہیں سکتا تھا۔ پانی کو ہوا، روشنی جیسی چیز مان کر زمین کے نیچے سے اس کو اندھا دھند کھینچتے گئے۔ ایسے علاقے جن کے بارے میں کہا جاتا تھا پگ پگ روٹی ڈگ ڈگ نیر ’’ماوا‘‘ بھی سوکھے کی چپیٹ میں ہے۔ 25ہزار برسوں میں بنے پانی کے بھنڈار چتر کوٹ جیسے علاقوں کے پانی کو بھی سر ے سے ختم کردیا۔ جہاں ایسانہیں کرپائے وہاں موٹے موٹے پائپوں سے کارخانوں کا کچرا ٹھونس کر انہیں زہر یلابنادیا۔ دراصل پینے لائق صاف پانی کو برباد کرکے ہی بوتل بند پانی کے دھندے کو بڑھاوا دیا گیا ہے۔

پہلے پانی بیچانہیں جاتاتھا کیوںکہ پانی کو تالابوں،ندیوں میں سنجونے کی روایت تھی۔ اب پانی ہم خریدنے لگے ہیں اس کا مطلب ہے کہ پانی پیدا نہیں کرتے جمع بھی نہیں کرتے۔ صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے واٹر ویک (بھارت جل سپتاہ)میں اس بات پر تشویش کااظہار کیا کہ دنیا میں صنعت کاری کی وجہ سے پانی کی کھپت توبڑھی ہے لیکن پانی کا تحفظ نہیںہوپارہا ۔ انہوںنے کہاکہ بھارت میں دنیا کی 17فیصد آبادی رہتی ہے لیکن پانی کی دستیابی صرف 4فیصد ہے۔ پانی کا تیز رفتاری سے غلط استعمال ہورہا ہے جس کی وجہ سے زمین میں پانی کی سطح میں کمی آرہی ہے۔ انہوںنے پانی کے منصفانہ تقسیم اور مناسب استعمال کی ضرورت پر زور دیا۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ زراعت آب پاشی پر منحصر ہے اور کسان کو مسلسل ترقی کیلئے زمین میں پانی کے ذخائر کی ضرورت ہے۔اس لئے زمین کے اندر پانی کی سطح بڑھانے پر سب کو خصوصی توجہ دینی چاہئے۔
بھارت میں 263ندیاں ہیں۔ جوبھی ندی ایک سے زیادہ صوبوں سے گزرتی ہے وہ ریاستوں میں آپسی اختلاف کا سبب بنتی ہے۔ مثلاً پنجاب ہریانہ کے بیچ ستلج ویاس یمنا، لنک کی لڑائی بہت پرانی ہے۔ مسئلہ عدالت میں ہے۔ دہلی ہریانہ کے بیچ یمنا کو لے کر کہا سنی ہوتی رہتی ہے۔ دہلی کو215ایم جی ڈی پانی یمنا سے اور240ایم جی ڈی گنگا سے ملتا ہے۔ کاویری کولے کر کرناٹک اور تمل ناڈو میں روز ہنگامہ ہوتا ہے۔ وجہ صاف ہے ایک طرف آبادی اور نیچائی کے علاقوں میں بڑھوتری ہورہی ہے، دوسری طرف ندیوں میں پانی کی کمی۔ پانی کے بٹوارے کو لے کر توریاستیں برسر پیکار رہتی ہیں لیکن ندی کی حالت کو سدھارنے کی ذمہ داری نہیں نبھاتیں۔
کہا جاتاہے کہ درواساراکشس نے پورا سمندر پی لیاتھا۔ ہم بھی کچھ کم نہیں ہیں الگ الگ ریاستوں کے لوگ الگ الگ ندیوں کو پی چکے ہیں۔ دہلی کی بات کی جائے تو دہلی والے یمنا کے بعد گنگا کا بڑا حصہ پی چکے ہیں اب بھاگیرتھی کا پانی پی رہے ہیں۔ ریڑو کا جی سے پانی لانے کی بات چل رہی ہے یہ دہلی والوں کیلئے آخری ذریعہ ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا دہلی کی حالت شروع سے ایسی ہے یا دہلی والوںنے خود تباہی مول لی ہے۔ دستاویزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دہلی میں 800تالاب اور کئی باوڑیاں تھیں۔ ندیاں بھی تھیں جو اراولی سے نکل کر دہلی میں کئی مقامات سے گزرکر یمنا میں مل جاتی تھیں۔ کئی محلے تو آج بھی تالابوں کے نام پر ہی ہیں جیسے حوض خاص، حوض قاضی، حوض رانی وغیرہ۔ نظام الدین اولیا کی باوڑی کے نام پر یہ محلہ نظام الدین بن گیا۔ آج جہاں چاندنی چوک ہے کبھی وہاں چاندنی ندی بہتی تھی۔ لودھی گارڈن میں ایک پل ہے اس کے نیچے سے کبھی ندی گزرتی تھی جو پرانے قلعہ کی کھائی میں مل جاتی تھی اس کا اضافی پانی یمنا میں چلا جاتا تھا۔ آج دہلی میں 70-60فٹ پر بھی اچھا پانی نہیں ہے۔
خبر ہے کہ 13مارچ کو مغربی بنگال کے این ٹی پی سی کو بند کرناپڑا۔ مشینوں کو ٹھنڈا رکھنے والی فرککا فیڈر نہر میں پانی کم ہوگیاتھا۔ اس سے 38ہزار خاندانوں کو بجلی کی قلت سے دوچار ہونا پڑا۔ گنگا میں نائو کی آواجاہی کو بھی روکنا پڑا۔ وہاںکوئلے سے لدی13ناویں کم پانی میں دھنس گئی تھیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گنگا بھی دھیرے دھیرے اتھلی ہوتی جارہی ہے۔
مہاراشٹر کے لاتور سمیت کئی اضلاع پانی کی شدید قلت کا سامنا کررہے ہیں، کئی اسپتالوں میںآپریشن بند کردئے گئے ہیں۔6000لیٹر پانی کا جو ٹینکر 500روپے میں ملتا تھا اب وہ ہزار بارہ سو روپے میں مل رہا ہے۔ غریب لوگوں کو کئی کئی کلو میٹر دور سے پانی لانا پڑرہا ہے۔ شعبہ موسمیات نے پہلے ہی بارش کم ہونے اور سوکھے کے حالات پیدا ہونے کی بات کہی تھی پھر بھی سرکارنے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ممبئی ہائی کورٹ نے لوک ستاآندولن کی پٹیشن پر سنوائی کے دوران سرکار سے ان حالات پر پوچھا تھا کہ آئی پی ایل ضروری ہیں یا عوام۔ سوراج ابھیان کی پٹیشن پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے جواب مانگا تھا کہ وہ سوکھے سے نمٹنے کیلئے کیا کررہی ہے اور من ریگا میں کام کرنے والے مزدوروں کے پیسے کیوںباقی ہیں۔
بھارت کے 36فیصد بڑے باندھ مہاراشٹر میں ہیں۔ یعنی 5174باندھوں میں سے 1845اس کے باوجودمہاراشٹر کی 15.5فیصد کھیتی کے لائق زمین کی ہی سینچائی ہوسکی ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں سینچے گئے رقبہ میںکوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ موجودہ سرکار سینچائی گھوٹالے کو مدعا بناکرہی اقتدار میں آئی تھی۔ لیکن یہ سرکار بھی مرکز سے آ ئے پیسے کو انہیں اسکیموںمیں لگارہی ہے جن سے بڑے ٹھیکیداروںکی لابی کو ہی فائدہ ہو۔ لاتور کی خشک سالی میں بھی پانی کے ٹھیکیداروں کی ہی چاندی ہوئی ہے یہ پانچ سے سات لیٹر پانی دو سے تین روپے میں فروخت کررہے ہیں ایک اندازے کے مطابق ہر روز پچاس لاکھ روپے کا پانی فروخت ہورہا ہے۔ یہ اس وقت ہے جب لاتور نگم اور رضاکار تنظیموں کے ڈیڑھ سو ٹینکر مفت پانی تقسیم کررہے ہیں۔
لاتور کی خشک سالی نے یہ بتادیا ہے کہ پانی کے بنا زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ راجستھان کے جیسلمیر اور دوسرے علاقوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے جہاں بارش کی بوندوںکو تو بہت عزت واحترام کے ساتھ اکٹھا کیاجاتاہے جو سال بھر ان کی پیاس بجھاتی ہیں۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگاکہ ترقی چاہئے یا پانی۔ اگر پانی چاہئے تو ترقی کے بارے میں پانی کو سامنے رکھ کر غورکرنے کی ضرورت ہے ۔ پیڑ اگانے، تالاب بنانے ہوںگے۔ ندیوں کو زندگی دینے کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ تب ہی یہ نظم گنگنا سکیںگے۔ ’’مچھلی جل کی رانی ہے جیون اس کا پانی ہے‘‘ یعنی پانی ہوگا تبھی زندگی باقی رہے گی۔(یو این این)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker