Baseerat Online News Portal

امریکہ: انتخاب میں شکست واضح ہوجانے پرسابق صدرٹرمپ غصے سے بے قابو ہوگئے،وائٹ ہاؤس کی سابق معاون کی گواہی

آن لائن نیوزڈیسک
وائٹ ہاو س میں بطور معاون کام کرنے والی کیسیڈی ہچِنسن نے امریکی قانون سازوں کے سامنے شہادت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 2020کے صدارتی انتخابات میں اپنی شکست واضح اور یقینی نظر آنے لگی، تو وہ غصے سے بے قابو ہوگئے۔یہاں تک کہ اُنہوں نے 6 جنوری کو امریکی کانگریس پر حملہ کرنے والوں کے اِس مطالبے سے بھی اتفاق کیا کہ سابق نائب صدر مائیک پینس کو الیکشن کے نتائج نہ روک پانے پر پھانسی دینی چاہیے تھی۔
کیسیڈی کے مطابق کانگریس کی عمارت کے باہر ٹرمپ کے ہزاروں حامی حملہ آور نعرے لگا رہے تھے کہ "مائیک پینس کو لٹکا دو!”، جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے اُس وقت وائٹ ہاوس کے چیف آف سٹاف اور کیسیڈی کے باس، مارک میڈوز سے کہا کہ ” مائیک اِسی کا حقدار ہے!”۔اُنہوں نے مارک میڈوز کے حوالے سے کہا کہ سابق صدر ٹرمپ کی نظر میں مائیک پینس کے خلاف مظاہروں میں کچھ بھی غلط نہیں تھا۔
وائس آف امریکہ کی رپورٹ کے مطابق ، اُس روز ٹرمپ کے حامیوں نے گانگریس کی عمار ت کے بالکل قریب واشنگٹن ڈی سی کے "نیشنل مال” پر ایک فرضی پھانسی گھاٹ بنا رکھا تھا، تاہم ہنگامہ آرائی شروع ہونے کے بعدسابق نائب صدر کے سیکورٹی اہلکاراُنہیں محفوظ خفیہ مقام پر لے گئے تھے۔مگر اس کے باجود کچھ حملہ آور مائیک پینس سےمحض 12 میٹر کے فاصلے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
بعد ازاں ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ "مائیک پینس میں جرات نہیں تھی” کہ وہ کانگریس کو اِس بات کی تصدیق کرنے سے روکتے کہ 2020 کے الیکشن میں ڈیموکریٹ جو بائیڈن نے ٹرمپ کو شکست دے دی۔تاہم ایک گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد بلآخر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعےاپنے حامیوں سے کانگریس کی عمارت چھوڑنے کو کہا ، جبکہ اِس سے قبل وہ اپنے اہلِ خانہ ، بیٹی ایوانکا ، وائٹ ہاوس معاون اور دیگر مشیروں کی جانب سے ہنگامہ آرائی ختم کرنے کے لیے عوامی اپیل کرنے کی درخواستوں کو نظر انداز کرتے رہے۔
6 جنوری حملہ کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے سامنے شہادت کے دوران کیسیڈی نے کہا کہ اُنہیں مارک میڈوز کے ایک معاون اینتھونی اورناٹوکی زبانی پتہ چلا کہ کانگریس پر حملہ شروع ہونے سے کچھ قبل ،سابق صدر ٹرمپ نے اپنی ریلی ختم کی تو، صدارتی لیموزین کو چلانے والے "سیکرٹ سروس” ایجنٹ سے گاڑی کا کنٹرول چھیننے کی کوشش کی، کیونکہ وہ وائٹ ہاوس واپس جانے کے بجائے، گاڑی کا رخ کانگریس کی طرف موڑنا چاہتے تھے، تاکہ وہاں موجود اپنے حامیوں میں شامل ہو سکیں۔کیسیڈی نے مزید بتایا کہ اینتھونی اورناٹو کے مطابق، لیموزین میں بیٹھنے کے بعد ٹرمپ کا خیال تھا کہ وہ کیپٹل(کانگریس) جا رہے تھے، لیکن جب اُنہیں احساس ہوا کہ ایسا نہیں تھا، تو وہ انتہائی شدید غصے میں کہنے لگے کہ "میں صدر ہوں، مجھے کیپٹل لے چلو!” ۔ٹرمپ نے لیموزین کا سٹیرینگ ویل دبوچا تو اُنکے چیف سیکورٹی افسر بوبی اینگل نے کہا”سر آپ سٹیرینگ ویل سے ہاتھ ہٹا لیں، ہم وائٹ ہاوس واپس جا رہے ہیں۔”جس پر ٹرمپ دوسرے ہاتھ سے بوبی کی جانب لپکے۔
تاہم سیکریٹ سروس نے ایسے کسی واقعہ کی تردید کرتے ہوئے، 6جنوری کے تحقیقاتی پینل کے سامنے شہادت دینے کی پیشکش کی ہے۔ جبکہ صدر ٹرمپ دیگر کئی دعووں کو سوشل میڈیا پر مسترد کر رہے ہیں۔
گانگریس پر حملے سے قبل ٹرمپ نے اپنے ہزاروں حامیوں سے کہا تھا کہ وہ اُنکے ساتھ کانگریس تک پیدل چلیں گے، تاہم صدر کی حفاظت پر مامور عملے نے فیصلہ کیا کہ ایسا کرنا بہت خطرناک ہوگا اور وہ اُنہیں وائٹ ہاوس واپس لے گئے۔ کیسیڈی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو اطلاع کی گئی کہ جن حامیوں کو وہ کانگریس کی طرف مارچ کرنے پر اکسا رہے تھے، اُن میں سے کئی مسلح تھے۔ٹرمپ اِس بات پر بھی برہم ہوئے کہ اُنکی ریلی میں آنے والوں کی "میگنیٹو میٹرز ” (میٹل ڈیٹیکٹرز)سے چیکنگ ، اور ان سے ملنے والا اسلحہ ضبط کیا جا رہا تھا۔
اِس حملے سےپہلے، 1دسمبر 2020 کو اُس وقت کے اٹارنی جنرل ولیم بار نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا تھا کہ محکمہِ انصاف کی تحقیقات میں الیکشن فراڈ کے ایسے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے تھے، جن کی بنیاد پرجو بائیڈن کی کامیابی کوکالعدم قرار دیا جاتا۔الیکشن میں خرد برد کے اپنے الزامات کو ثابت کرنے کی کوشش میں ڈونلڈ ٹرمپ 5 درجن سے زیادہ مقدمات ہار گئے تھے۔کیسیڈی کے مطابق اٹارنی جنرل کے اِس بیان پر بھی ٹرمپ برہم ہوئے اور اُنہیں یہ بات وائٹ ہاؤس میں صدر کے دفتر کے سامنے ان کے ذاتی ڈائننگ روم کی صفائی پر مامور عملے سے معلوم ہوئی۔غصے کے عالم میں ٹرمپ نے اپنا کھانا دیوار پر دے مارا تو ایک پلیٹ ٹوٹنے کے علاوہ دیوار پر کیچپ کے داغ پھیل گئے۔
کیسیڈی ہچنسن نے مزید بتایا کہ مارک میڈوز اور ڈانلڈ ٹرمپ کے وکیل ، نیو یارک کے سابق میئر روڈی جولیانی نے سابق صدر کو بر سرِ اقتدار رکھنے میں جو کردار ادا کیا، اُس پر صدراتی معافی طلب کی تھی۔اگرچہ ٹرمپ نے عہدہ چھوڑنے سے پہلے، اپنے دیگر معاونین کے لیے اُن کے ممکنہ جرائم پرعام معافی کا اعلان کیا، تاہم مارک میڈوز، روڈی جولیانی اور دیگر نصف درجن رپبلکن قانون سازوں کی جانب سے معافی کی درخواست پرعمل نہیں کیا۔
کیسیڈی کی یہ گواہی ، ایوانِ نمائندگان کی چھے جنوری کے واقعات کی تحقیقاتی کمیٹی کی چھٹی سماعت کے سامنے پیش کی گئی۔ اِس کے بعد باقی رہ جانے والی دو عوامی سماعتوں کو جولائی کے وسط میں پیش کیا جائے گا۔جن میں سے ایک کے دوران کانگریس پر حملے میں دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی شمولیت اور دوسری میں یہ تفصیلات پیش کی جائیں گی کہ جب کانگریس پر حملہ جاری تھا، تو 3 گھنٹے سے زیادہ وقت وائٹ ہاوس میں بیٹھ کر اُس کی براہ راست کوریج دیکھنے کے دوران صدر ٹرمپ اور کیا کر رہے تھے، جب اُنہوں نے حملہ آوروں کو کیپٹل عمارت چھوڑ دینے کی اپیل کرنے کے ہر مشورے کو رد کر دیا۔
اگرچہ 6جنوری کی تحقیقاتی کمیٹی فردِ جرم عائد نہیں کر سکتی، تاہم امریکی محکمہ ِ انصاف اِن سماعتوں کو غور سے دیکھ رہا ہے، تاکہ یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ آیا ٹرمپ سمیت کسی بھی فرد پر غیر قانونی طور پر 2020 کے صدارتی انتخابات کے نتائج تبدیل کرنے کے الزام میں فردِ جرم عائدہو سکتی ہے یا نہیں۔

You might also like