Baseerat Online News Portal

ایک ناتھ شندے کے وزیراعلیٰ بننے کا راز ؟

 

تجزیہ خبر: سمیع اللہ خان

برہمنوں کے لیے، شیوسینا کے ایک وزیراعلیٰ کو غداری، اغوا اور آئینی اداروں کی سازشوں کےساتھ مل کر تخت چھوڑنے پر مجبور کرنا مرکزی سرکار میں ہونے کی وجہ سے جتنا آسان تھا گجراتی حمایت یافتہ برہمن دیویندر فڈنویس کو وزیراعلیٰ بنا دینا اُتنا ہی آسان نہیں ہے، فڈنویس کےعلاوہ بھاجپا میں سے ہی کسی اور کو وزیراعلیٰ بنایا جانا فڈنویس برداشت نہیں کرتے، دوسری طرف اگر فڈنویس وزیراعلیٰ کا حلف لے لیتا تو اُدھو ٹھاکرے سیاسی طورپر شہید ہوجاتے جیساکہ میں نے مہاراشٹر میں جاری تختہ پلٹ کارروائیوں کی تیسری قسط میں لکھا تھا لیکن برہمن دماغ خود ان باریکیوں اور مراٹھی نفسیات کو نظرانداز نہیں کررہاتھا اسلیے ایکطرف اُدھو کو تخت چھوڑنے پر مجبور تو کیا لیکن شِندے کے نام کا اعلان کر کے اُدھو ٹھاکرے کو سیاسی شہید ہونے کی تقریب نہیں دی۔

اس اقدام کے ذریعے غالب گجراتی آر۔ایس۔ایس نے برہمنی سیاست کی دھاک مہاراشٹر کے مرہٹوں پر بٹھانے کی کوشش کی ہے شیوسینا کے باغی ایم۔ایل۔ایز کے لیڈر کو وزیراعلیٰ بنانے کا فیصلہ ایسی شاطر چانکیہ نِیتی ہے کہ جس کے سامنے اُدھو ٹھاکرے کو یا تو سرینڈر کرنا ہوگا یا تو ان کا سیاسی کیرئیر بظاہر ختم ہوتا نظر آتاہے کیونکہ یہ اقدام بظاہر ادھو سے شیوسینا کو چھین لینے کا مؤثر وار نظر آتاہے اتنے سارے حملے سہنے کےباوجود بھاجپا اور سنگھ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالنے کے لیے بضد ٹھاکرے کیا اب ہتھیار ڈال دیں گے؟ ایکناتھ شِندے کو وزیراعلیٰ بنا کر مہاراشٹر کے مراٹھیوں اور شیوسینکوں کو کنفیوژ کردیاگیا ہے۔

ایکناتھ شِندے کو وزیراعلیٰ بنا کر شیوسینا اصلی اور نقلی کی رسہ کشی کو بھاجپا نے ایسی ہوا دے دی ہے جس میں اصلی یعنی اُدھو ٹھاکرے گروپ بظاہر چاروں شانے چت ہوجائےگا اب تک مراٹھی عوام اُدھو کے ساتھ تھی، مہاراشٹر میں ایکناتھ شِندے وِلن اور بھاجپا گُھس پیٹھیوں کی طرح دیکھی جارہی تھی، مہاراشٹر سرکار کا تختہ پلٹنے کی وجہ سے جو رائے عامہ مہاراشٹر میں بنی تھی اسے آر۔ایس۔ایس کے اعلیٰ برہمنوں نے نظرانداز نہیں کرنے فیصلہ کیا جیساکہ یہ تاریخ بھی ہےکہ مراٹھی رائے کو سَنگھ نے زیادہ دیر تک اپنے خلاف رہنے نہیں دیا ہے کیونکہ سَنگھ مرہٹوں کی مخالفت جھیل نہیں سکتاہے۔

چنانچہ ایسا داؤ کھیلا کہ، باغی ایکناتھ شِندے جسے وِلن کے طورپر دیکھا جارہاتھا اس کو چیف منسٹر کی پوسٹ دے کر ہندوتوا کی خاطر جدوجہد شروع کرنے والا ہیرو بنادیا جس دیویندر فڈنویس کو مہاراشٹر سرکار کا تختہ پلٹنے والا پالیسی ساز سازشی سمجھا جارہا تھا اسے سرکار سے ہی دور رکھ کر ایک مہان اور ہندوتوا کے مصلح سیاستدان کے روپ میں پیش کردیا جو مراٹھی عوام اُدھو کےساتھ اور غدار شِندے و بھاجپا مخالفت کے لیے ایک زبان تھی کہ بیرونی سازشوں کےذریعے ان لوگوں نے مراٹھا سرکار گرائی ہے وہ اب منقسم ہوجائے گی کیونکہ شِندے کی غداری اور گجراتی بھاجپا کی سازشوں کے باوجود بظاہر یہ دکھایا جائےگا کہ دیکھو وزیراعلیٰ تو شیوسینا کا ہی بن رہاہے اور ہندوتوا کے لیے جو لڑائی اس نے شروع کی تھی وہ کامیاب ہوگئی جسے آپ بغاوت سمجھ رہےتھے اس طرح مراٹھی خودمختاری اور مہاراشٹریت کی جو تھوڑی سی چنگاری گزشتہ دنوں بیدار ہوئی تھی اب وہ بجھ کر ہندوتوا میں سمٹ سکتی ہے اور یہ سَنگھ کا ایسا ہدف ہے جس کے لیے برہمن مہاراشٹر کیا بھارت کی حکمرانی بھی تیاگ سکتاہے، مہاراشٹر کے منظرناموں میں برہمن کا دماغ، بنیوں کی نیتی اور سَنگھ کی سیاست ان دونوں بھول بھلیوں کو سمجھنے کے لیے آپ کو ماضی میں مرہٹوں، پیشواؤں اور برہمنوں کی تاریخی کشمکش کا مطالعہ کرنا ہوگا آزادی کے قریب اور بعد سے اس میں مراٹھی بنام گجراتی فیکٹر کی تاریخ بھی تلاشنی ہوگی *خاص بات یہ ہےکہ ایکطرف شِندے کو وزیراعلیٰ بنانا شیوسینا اور اُدھو کے لیے خطرناک چیلینج ہوگیاہے وہیں دوسری طرف یہ مزید گہری حقیقت ہےکہ مرہٹوں کےخلاف تختہ پلٹ کروانے کےبعد گجراتی سَنگھ نے دیویندر فڈنویس کو وزیراعلیٰ بنانے کا خطرہ مول نہیں لیا، مراٹھیوں پر تختہ پلٹ کا جو غصہ تھا اسے برہمنوں نے محسوس کرلیا اور غدار پیادے کو ہی بظاہر تخت و تاج سونپ دیا جسے مرہٹوں نے ایسے غدار کے طورپر دیکھا تھا جس نے پوری مراٹھا سلطنت کو گجراتیوں کے قدموں میں فروخت کرنے کی کوشش کی تھی، ایسےمیں مرہٹوں کے غصے سے بچنا بہت ضروری تھا اور اس طرح مہاراشٹر میں شروع ہونے جارہاہے ایک کٹھ پتلی وزیراعلیٰ کا دور، کیونکہ سب کچھ کےباوجود اس غاصب اور کٹھ پتلی نفرتی سرکار کا ریموٹ تو برہمنوں کے ہاتھوں میں ہی ہوگا، اس جنگ میں مرہٹوں کے سرپرست مشیر شردپوار تھے، ذہنی شطرنج پر رشمی ٹھاکرے تھیں، راجا اُدھو ٹھاکرے اور سپہ سالا سنجے راؤت تھے، بہرحال شِندے نے مرہٹوں سے تاریخی غداری پر مہر ثبت کردی ہے مؤرخ اس داستان کو دلچسپی سے لکھے گا۔

You might also like