Baseerat Online News Portal

موجودہ حالات میں حیات ابراہیمی کا سبق!

 

فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی

جنرل سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ

 

اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی فطرت کچھ اس طرح رکھی ہے کہ یہاں اکثر اوقات چیزیں فناء کے راستہ سے گزرکر بقاو دوام کی منزل تک پہنچتی ہیں ، اور اپنے آپ کو مٹاکر زندگی کے ایک نئے پیکر سے سر فراز ہوتی ہیں ، سورج ڈوبتا ہے ؛ لیکن اس ڈوبنے میں صبح نو کی آمد چھپی رہتی ہے ، چاند اپنا منھ چھپاتا ہے ؛ لیکن اس لئے کہ کچھ گھنٹوں کے وقفہ کے بعد نئی آب وتاب کے ساـتھ اُفق پر طلوع ہو اور پھر بدر کامل بن کر لوگوں سے خراج تحسین وصول کرے ، کسان جس بیج کو زمین میں ڈالتا ہے ، وہ بظاہر اپنے وجود کو کھودیتی ہے ؛ لیکن اسی سے لہلہاتے ہوئے پودے وجود میں آتے ہیں ، باغبان بظاہر گٹھلیوں کو زمین کی اتھاہ تاریکیوں میں دفن کرتا ہے ؛ لیکن یہی عمل آسمان کو چھوتے ہوئے درختوں کے لئے بنیاد بنتے ہیں ، جن کے خوش ذائقہ پھلوں اور خوش رنگ پھولوں سے انسان اپنے کام ودہن اور نگاہِ شوق کی تسکین کرتا ہے ۔

یہی نظام اللہ تعالیٰ نے عالم انسانیت کا بھی رکھا ہے ، جو شخص اپنے آپ کو جتنا مٹاتا ہے، وہ اسی قدر سر بلندی سے نوازا جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : من تواضع للّٰه رفعہ اللّٰه فہو في نفسہ صغیر وفي أعین الناس عظیم (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر: ۸۱۴۰) جو شخص اللہ کے لئے جھکتا ہے اور پستی کو قبول کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کو سربلند فرماتا ہے ، وہ خود اپنی نظر میں حقیر ہوتاہے اور لوگوں کی نظر میں عظیم۔

انسانیت میں سب سے بڑھ کر خدا ترسی اور خدا کی خوشنودی کے لئے اپنے آپ کو قربان کردینے والا گروہ انبیاء علیہم السلام کا ہے ، اللہ کے پیغمبر علم ، ذہانت ، شخصی وجاہت ، جسمانی حسن وجمال ، اخلاقی کمالات ، خاندانی عزت و شرف ہر جہت سے سب سے زیادہ مکمل ہوا کرتے تھے ؛ لیکن اللہ کے راستہ میں ہر طرح کی آزمائش اور ابتلاء سے بھی ان ہی کو گزرنا پڑتا تھا ، وہ نہ صرف لوگوں کی بے احترامی کا زخم سہتے تھے ؛ بلکہ ان کی زبان درازی اور سب وشتم کو بھی برداشت کرتے تھے ؛ یہاں تک کہ جسمانی ایذاء رسانی سے بھی دوچار ہوتے تھے ؛ لیکن یہ ساری چیزیں مل کر بھی ان کے پائے استقامت میں کوئی تزلزل پیدا نہیں کرتی تھی ، مخالفتوں اور زیادتیوں کے اس طوفان میں انھیں اللہ تعالیٰ ہدایت کا منارہ بنادیتا تھا ، اور ایسی سربلندی سے نوازتا تھا کہ نہ صرف اس عہد کے لوگ ان کے سامنے سر تسلیم خم کرتے تھے ؛ بلکہ رہتی دنیا تک کے لئے ان کا نام نقش جاوداں ہوجاتا تھا ۔

جن پیغمبروں کو بڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑا اور قرآن نے ان کی داستان حیات کو قیامت تک آنے والی انسانیت کے لئے مشعل راہ بناکر محفوظ کردیا ، ان میں ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذات والا صفات ہے ، وہ عراق کے ایک معزز قبیلہ کے فرزند تھے، جو اپنی ذاتی صلاحیت کے اعتبار سے بھی نمایاں حیثیت کے حامل تھے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے توحید اور شرک پر جو مباحثے فرمائے ، اس سے ان کی غیر معمولی ذکاوت ، استدلالی قوت ، فہم رسا ، اور قوت تفہیم ظاہر ہوتی ہے ، پھر ان کی گفتگو میں جو نرمی ، ملائمت ، ناصحانہ اُسلوب ، اور داعیانہ تڑپ پائی جاتی ہے ، اس سے ان کی بلند اخلاقی اور نرم خوئی ، نیز انسانی ہمدردی کا بے پناہ جذبہ ظاہر ہوتا ہے ، ان تمام خوبیوں کے باوجود جب وہ حق کی دعوت لے کر اُٹھے تو ایسا نہیں ہوا کہ ان کا استقبال کیا گیا ہو ، ان کے لئے پھولوں کی سیج بچھائی گئی ہو اور قوم نے ان کا شکریہ ادا کیا ہو کہ وہ انھیں گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے ہدایت کی روشنی کی طرف لے جارہے ہیں ؛ بلکہ انھیں ایسی آزمائشوں سے گزرنا پڑا کہ انسانی تاریخ میں کم اس کی مثال ملے گی اور انھوں نے اتنی قربانیاں پیش کیں کہ اس سے بڑھ کر خدا کے راستہ میں جاںنثاری اور فداکاری کا تصور نہیں کیا جاسکتا ، انھیں آتش ؛ بلکہ آتش فشاں میں ڈالا گیا ، یہ ایسی آگ تھی جو پتھر کو بھی خاکستر بنانے کے لئے کافی تھی ، مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مرضیٔ ربانی کے سامنے تسلیم و رضا کا حال یہ تھا کہ انھوں نے اُف بھی نہیں کیا اور خدا سے بھی اس آزمائش سے نجات کے لئے فریاد نہیں کی ، یہاں تک کہ خدائے رحیم کو خود اپنے اس بندۂ کامل پر رحم آیا اورآگ ان کے لئے پھول بن گئی ، پھر انھیں اپنے دین اور ایمان کو بچانے اور اسے پھیلانے کے لئے وطن کی مانوس و محبوب سر زمین کو داغ فراق دینا اور ایک نا معلوم منزل — فلسطین — کی طرف روانہ ہوجانا پڑا ، یہ صرف ان فضاؤں کی قربانی نہیں تھی ، جن میں انھوں نے بچپن سے جوانی تک پوری زندگی گزاری تھی ؛ بلکہ یہ تمام اعزہ اور اہل تعلق سے بھی ہمیشہ کے لئے منھ موڑ لینے کا اعلان تھا۔

 

پھر ایک مرحلہ آیا جب خدا کی طرف سے حکم ہوا کہ ابراہیم اپنی نئی نویلی دُلہن — شہزادی مصر ہاجرہ — کو فلسطین اور شام کے سبزہ زار سے نکال کر اپنے شیر خوار بچے کے ساتھ مکہ کے بے آب گیاہ صحرا میں چھوڑ آئیں ، نوجوان بیوی اور دُودھ پیتے بچے کو ایسی جگہ چھوڑ آنا جہاں پانی کا ایک قطرہ بھی میسر نہیں تھا ، اورجہاں آدم زاد کا جینا تو کجا پرندوں کا پرمارنا بھی مشکل تھا ، اپنی جان کی قربانی سے بھی بڑھ کر تھا ؛ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کے سامنے بھی سرِتسلیم خم کردیا ، مگر قربانی کے مرحلے ابھی تمام نہیں ہوئے اور آزمائش کی دنیا ابھی ختم نہیں ہوئی ؛ بلکہ وہ جوان بیٹا جو اولاد سے نا اُمیدی کے بعد پیدا ہوا ، حکم ہوا کہ اسے خود اپنے ہاتھوں اپنے رب کی خوشنودی کے لئے تہ ِتیغ کردو ، یہ حکم خواب کے ذریعہ ہواتھا ، اور خواب میں تاویل کی گنجائش ہوتی ہے ؛ لیکن بندۂ کامل حیلۂ و حجت پر کیوں کر قناعت کرسکتا تھا ؛ اس لئے آپ نے اپنے بیٹے کی قربانی کا ارادہ کرلیا ، اور بیٹے — حضرت اسماعیل علیہ السلام — بھی آخرجذبۂ ابراہیمی کے وارث تھے ، انھیں کیسے عذر ہوسکتا ـتھا ، انھوں نے بھی سرِ تسلیم خم کردیا اورباپ نے اپنے جگر گوشہ اور نور چشم کو رضائے ربانی کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھادیا ؛ البتہ خدا کو انسان کی قربانی مطلوب نہیں تھی ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خود سپردگی کا امتحان مقصود تھا ؛ اس لئے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بجائے پردۂ غیب سے آنے والے مینڈھے کی قربانی عمل میں آئی ۔

غرض کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حیات طیبہ کا قرآن کی روشنی میں مطالعہ کیا جائے توا س کا خلاصہ صرف دوباتیں ہوں گی : دعوت حق اور اس راہ میں قربانی وفداکاری ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کی رضا اور خوشنودی کے لئے اپنے آپ کو مٹانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ، اپنے آپ کو مٹایا ، اپنے تعلقات کو مٹایا ، بیوی او ر شیر خوار بیٹے کی محبت کو مٹایا اورجوان بیٹے کو مٹایا ؛ لیکن قربانی اور اپنے آپ کو مٹانے نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو زندہ جاوید بنادیا ، قرآن مجید نے متعدد مواقع پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے ؛ چنانچہ فرمایا گیا کہ ہم نے اسے دنیا میں بھی منتخب کرلیا اور وہ آخرت میں بھی صالحین میں شمار ہوںگے :وَلَقَدِ اصْطَفَیْنَاہُ فِیْ الدُّنْیَا وَإِنَّہُ فِیْ الآخِرَۃِ لَمِنَ الصَّالِحِیْنَ ۔ (بقرہ: ۱۳۰)

یہی بات ایک دوسرے موقع پر بھی فرمائی گئی :وَآتَیْنَاہُ فِیْ الْدُّنْیَا حَسَنَۃً وَ إِنَّہُ فِیْ الآخِرَۃِ لَمِنَ الصَّالِحِیْنَ (نحل: ۱۲۲) حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعلیمات کو بقاء و دوام سے نوازا گیا : وَجَعَلَہَا کَلِمَۃً بَاقِیَۃً فِیْ عَقِبِہِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ (زخرف:۲۸) اُمت محمدیہ جو قیامت تک کے لئے ہدایت یافتہ گروہ ہے ، ان سے کہا گیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی بھی تمہارے لئے آئیڈیل اورنمونہ ہے : قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْ إِبْرَاھِیْمَ(ممتحنہ: ۴) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دُعاء کی تھی کہ بعد میں آنے والوں میں میرا ذکر خیر باقی ہے : وَاجْعَل لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِیْ الْآخِرِیْنَ(شوریٰ:۸۴) یہ دُعاء اس شان سے قبول ہوئی کہ آج دنیا میں تین بڑے مذاہب : اسلام ، عیسائیت اور یہودیت کے ماننے والے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف اپنی نسبت کرتے ہیں اور اسی نسبت کو اپنے لئے تمغۂ افتخار سمجھتے ہیں ، یہ بلندی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان بے پناہ قربانیوں کے ذریعہ حاصل ہوئی ، جن کا ابھی ذکر کیا گیا ۔

گروہ انبیاء علیہم السلام میں سب سے زیادہ آزمائشوں سے جو شخصیت گزری ، وہ پیغمبر اسلام جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو جس قدر اللہ کے قریب ہوتا ہے ، وہ اسی قدر آزمائشوں سے گزرتاہے ؛ اس لئے سب سے زیادہ آزمائش اللہ کے پیغمبروں پر آتی ہے ، اور پیغمبروں میں سب سے زیادہ آزمائش مجھ پر آئی ہے ، رسول اللہ ﷺ کی پوری سیرت مبارکہ اس پر گواہ ہے، اس سلسلہ میں وہ واقعہ خاص طور پر قابل ذکر ہے ، جس کے پس منظر میں آپ ﷺ کو قربانی کا حکم دیا گیا ہے ، ہوایوں کہ آپ ﷺ کے ایک صاحبزادے حضرت عبد اللہ ؓ کی وفات ہوگئی ، اس موقع پر عاص بن وائل نے کہا کہ محمد (ﷺ) تو ابتر ہوگئے ، ’’ ابتر ‘‘ سے مراد ہے بے نام ونشان ہوجانے والا شخص ، عرب ایسے لوگوں کو ابتر کہتے تھے ، جن کی صرف بیٹیاں ہوں ؛ کیوںکہ انھیں پر ان کا خاندانی سلسلہ ختم ہوجاتا تھا ، یہ مکی زندگی کا واقعہ ہے ۔

اس سورہ میں پہلے تو رسول اللہ ﷺ کی دلداری کی گئی کہ ہم نے آپ کو حوض کوثر سے نوازا ہے ، جس سے نہ صرف آپ ﷺ کی اُمت کو راحت نصیب ہوگی ؛ بلکہ وہ میدان حشر میں آپ ﷺ کا امتیاز ہوگا ؛ لہٰذا آپ اپنے پروردگار کے لئے نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے ، اوردشمنوں کی باتوں سے متاثر نہ ہوئیے ، اللہ انھیں کو بے نام و نشان کردیںگے ، مفسرین نے لکھا ہے کہ یہاں دشمن سے مراد خاص طور پر ابوجہل ، عاص بن وائل اور عقبہ بن ابو معیط وغیرہ ہیں ، جو دل آزاری کی یہ بات کہنے میں پیش پیش تھے ، خدا کی شان دیکھئے کہ اس نے دنیا میں رسول اللہ ﷺ کو ایسی سرفرازی اور سر بلندی عطا فرمائی کہ شب و روز کا کوئی لمحہ ایسا نہیں گزرتا ہے کہ جب کسی خطۂ زمین میں حضور ﷺ پر صلاۃ و سلام کی ندائے جاں فزا کانوں میں رس نہ گھولتی ہو ، آپ ﷺ کی حیات طیبہ پر جتنا کچھ لکھا گیا ہے ، جتنا کچھ کہا گیا ہے اور جس قدر شعراء نے اپنے تخیلات میں بلند پروازی کی ہے ، دنیا کی کسی مذہبی یا غیر مذہبی شخصیت پر اس کا ہزارواں حصہ بھی نہ کہا گیا اور نہ لکھا گیا ، اپنوں کے علاوہ بے گانوں اور دوستوں کے علاوہ دشمنوں کو بھی آپ ﷺکی ذات عالی صفات کے حضور خراج تحسین پیش کرنا پڑا ، یہ ’’رفعنا لک ذکرک‘‘ کی بہترین مثال ؛ بلکہ نبوتِ محمدی (ﷺ ) کا اعجاز ہے ،ا س کے برخلاف آپ ﷺ کے دشمنوں کا نام و نشان اس طرح مٹا کہ اگر آپ ﷺ کے حوالہ سے ان کاذکر نہ آئے ، تو تاریخ کے صفحات سے بھی ان کے نام مٹ جائیں ، آج دنیا میں کروڑوں انسان ہیں جو محمد (ﷺ) کو اپنے نام کا جز بناکر اپنے لئے سعادت و برکت حاصل کرتے ہیں اور ان میں خوشی کا احساس ہوتا ہے ؛ لیکن کوئی شخص اپنا یا اپنے بچوں کا نام ابوجہل ، یا ابولہب ، یا عاص اور عتبہ رکھنا نہیں چاہتا ۔

قرآن مجید نے اس سرفرازی و سربلندی اور دشمنوں اور بدخواہوں کی ناکامی و نامرادی کو دوباتوں سے جوڑا ہے : ایک خدا کے سامنے سر تسلیم جھکانا ، جس کا مثالی طریقہ نماز ہے ، دوسرے : خدا کے راستے میں قربانی ، جس کا علامتی عمل بقرعید اور حج کی قربانی ہے ، مسلمانوں کے لئے ان کے نبی محمد رسول اللہ ﷺ اور ابو الانبیاء حضرت ابرہیم علیہ السلام کا اُسوہ یہ ہے کہ وہ آزمائشوں اور ابتلاؤں سے گھبرائیں نہیں ، امتحان ان کے پایۂ استقامت کو پھسلا نہ دے ، حالات کچھ بھی ہوں ، اگر ان کی پیشانیاں خدا کے سامنے خم رہیں اور خدا کی خوشنودی کے لئے قربانی وفداکاری کا اتھاہ جذبہ اس کے سینوں میں موجزن ہو ، تو پھر سر بلندی ، کامیابی اور سرفرازی آخرت ہی میں نہیں ، دنیا میں بھی اس کے قدم چومے گی :

آج بھی ہو جو براہیم سا ایماں پیدا

آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

You might also like