ہندوستان

مغربی بنگال انتخابات:383امیدواروں کی قسمت کا ہوگا فیصلہ

فٹ بال کھلاڑی بائچنگ اور اداکارہ لاکٹ چٹر جی سمیت کئی وزراء کی قسمت پہ لگے گی مہر
کولکاتہ16اپریل-مغربی بنگال میں دوسرے مرحلے کے انتخابات کے لئے جمعہ شام انتخابی مہم تھم گئی۔دوسرے مرحلے میں 17اپریل کو شمالی بنگال کے چھ اضلاع سمیت کل سات اضلاع کے 56اسمبلی حلقوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔اس مرحلے میں شمالی بنگال کے علی پور دوار کے پانچ، جپائی گوڑی کے سات، شمالی دیناج پور کے نو، جنوبی دیناج پور اور دارجلنگ کے 6-6 اور مالدہ کے 12اسمبلی حلقوں میں ووٹ پڑیں گے۔جنوبی بنگال کے ایک محض ضلع بیربھوم کے 11اسمبلی حلقوں میں ووٹنگ ہوگی۔دوسرے مرحلے میں تقریبا 1.22کروڑ ووٹروں کے پاس ووٹ ڈالنے کا حق ہے۔13645پولنگ مراکز پر 33خواتین امیدواروں سمیت 383امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔اس مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹر جلپائی گوڑی کے داب گرام-فلباری اسمبلی علاقے میں ہیں جبکہ رقبہ کے لحاظ سے دارجلنگ سب سے بڑا اسمبلی علاقہ ہے،ووٹروں کی تعداد کے حساب سے بیربھوم سب سے چھوٹا اسمبلی علاقہ ہے۔بڑے لیڈروں میں وزیر اعظم نریندر مودی، کانگریس صدر سونیا گاندھی، وزیر اعلی ممتا بنرجی اور سی پی ایم کے ریاستی سیکرٹری سوریہ کانت مشرا نے اپنی اپنی پارٹی کے امیدواروں کے حق میں انتخابی مہم کی۔ترنمول کانگریس، کانگریس بائیں محاذ اتحاد اور بھارتی جنتا پارٹی اس مرحلے کی تمام نشستوں پر انتخاب لڑ رہی ہیں۔گورکھا جن مکتی مورچہ کے امیدوار دارجلنگ اور جلپائی گوڑی ضلع میں انتخابی میدان میں ہیں۔
اس مرحلے میں سابق فٹ بال کھلاڑی بائچنگ بھوٹیا ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر سی پی ایم امیدوار اور سابق وزیر اشوک بھٹاچاریہ کے خلاف سلی گوڑی اسمبلی سیٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔لاکھوں کی نظریں مالدہ کے سجاپور اسمبلی علاقے پر بھی ٹکی ہوئی ہیں جہاں سابق وزیر آنجہانی اے بی اے غنی خان چودھری کے لواحقین ایک دوسرے کے خلاف انتخابی میدان میں ہیں۔سجاپور سے چودھری کے چھوٹے بھائی ابو نثار خان چودھری ترنمول کے ٹکٹ پر اپنے بھتیجے کانگریس کے امیدوارایشا خان چودھری کے خلاف الیکشن لڑ رہے ہیں۔
ابو نثار خان کانگریس کے ٹکٹ پر 2011کے اسمبلی انتخابات جیتے تھے، لیکن بعد میں ترنمول کانگریس میں شامل ہو گئے،دیگر قدآور امیدواروں میں وزیر گوتم دیب، فوڈ پروسیسنگ وزیر کرشیندو نارائن چودھری اور بی جے پی کے ٹکٹ پر اداکارہ لاکٹ چٹرجی انتخابی میدان میں ہیں۔اس مرحلے کے 383امیدواروں میں 68نے اپنے اوپر قتل اور آبروریزی جیسے سنگین الزامات سمیت مجرمانہ معاملے درج ہونے کی بات قبول کی ہے جبکہ 56امیدوارو کے پاس ایک کروڑ سے زیادہ قیمت کی جائیداد ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker