Baseerat Online News Portal

مکتب کا نظام: وقت کی اہم ضرورت

 

فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی

جنرل سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ

 

قرآن مجید میں جن اولوالعزم پیغمبروں کا ذکر آیا ہے ، ان میں ایک اہم ترین شخصیت حضرت یعقوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہے ، جن کا مختلف عنوان کے تحت قرآن میں سولہ بار ذکر آیا ہے ، ان کے والد حضرت اسحاق علیہ السلام تھے ، جن کا ایک نام اسرائیل بھی ہے ، بنی اسرائیل دراصل ان کی اولاد ہیں اور رسول اﷲ ﷺ کے علاوہ مصر اور عراق کے خطہ میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے چچا حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی خدا کے اولوالعزم پیغمبروں میں ہیں ، جن کو ان کے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا کی رضا کے لئے قربان کیا تھا اورعید قرباں ان ہی کی یادگار کے طورپر منائی جاتی ہے ، حضرت یعقوب علیہ السلام کے دادا ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں ، جنھوں نے تعمیر کعبہ کی تجدید فرمائی ، حج کے زیادہ تر افعال حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں اور فرمانبرداریوں کی یاد کو تازہ کرنے کا باعث ہیں اور دنیا کے تین بڑے مذاہب یہودیت ، عیسائیت اور اسلام آپ علیہ السلام کی عظمت پر متفق ہیں ۔

قرآن نے خاص طورپر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے توحید پر ایمان و ایقان کا ذکر کیا ہے اور اس سلسلہ میں ابتلاؤں اور آزمائشوں میں پورا اُترنے کے واقعات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ؛ چنانچہ آج جو مذاہب توحید کا اقرار کرتے ہیں ، وہ سبھی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اپنا رشتہ جوڑتے ہیں ، حضرت یعقوب علیہ السلام کے صاحبزادے حضرت یوسف علیہ السلام ہیں ، جن کے واقعہ پر قرآن مجید میں ایک مکمل سورت ’’یوسف ‘‘ کے نام سے موجود ہے اور ان کی داستانِ زندگی کو اﷲ تعالیٰ نے احسن القصص کے نام سے ذکر فرمایا ہے ، گویا حضرت یعقوب علیہ السلام کا پورا خانوادہ نبیوں اور رسولوں کا ، باپ ، چچا، دادا ، بیٹا ، سب اﷲ کے پیغمبر ہیں ، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس خاندان میں کس قدر دین داری ، تقویٰ اور خشیت ِالٰہی رہی ہوگی اور گھر کے پورے ماحول پر کیسی اعلیٰ دینی فضاء سایہ فگن ہوگی ، ایسے دین دار گھرانہ کے افراد سے گناہ اور معصیت کا اندیشہ بھی لوگوں کو نہیں ہوتا ، چہ جائے کہ کفر و شرک کا خوف ان سے ہو ؛ لیکن جب حضرت یعقوب ںکی وفات کا وقت آیا تو انھوں نے اپنے صاحبزادوں سے سوال کیا : مَاتَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِیْ؟ (بقرہ: ۱۳۳) میرے بعد تم کس کی عبادت کروگے ؟ صاحبزادوں نے جواب دیا :

نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآىِٕكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ ۔ (بقرہ:۱۳۳)

ہم آپ کے خدا ، آپ کے باپ دادا ابراہیم ، اسماعیل اور اسحاق کے خدا یعنی ایک ہی خدا کی عبادت کریں گے اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے ۔

اسی طرح سیدنا حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹوں کو جو خود نبی تھے وصیت فرمائی :

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰی لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔ (بقرہ: ۱۳۲)

بے شک اﷲ نے تمہارے لئے دین کو پسند فرما لیا ہے ؛ اس لئے اسلام ہی کی حالت میں تمہیں موت آنی چاہئے ۔

غور کیجئے ! کہ انبیاء کرام اپنے بچوں کے سلسلہ میں اس بات کے فکر مند ہیں کہ وہ دین پر قائم رہیں اور ان کو دین پر قائم رہنے کی حالت میں موت آئے ، جب انبیاء کو اپنی اولاد کے بارے میں اتنی زیادہ فکر مندی تھی ، تو اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عام مسلمانوں کو اس سلسلہ میں کتنا زیادہ فکر مند رہنے کی ضرورت ہے ، آج ہماری نفسیات یہ ہے کہ ہم اپنی خاندانی روایات پر یقین کرکے اپنے بال بچوں کے بارے میں مطمئن ہوجاتے ہیں کہ ہمارے بچے اسی دین کے حامل رہیں گے ، جو ہمیں ہمارے ماں باپ کی طرف سے ملا ہے ۔

راقم الحروف کو متعدد مغربی ملکوں کے سفر کا موقع ملا ہے ، یہ ایک حقیقت ہے کہ مغربی ملکوں نے مذہب سے اپنا رشتہ پوری طرح توڑ لیا ہے اور اگر کوئی اپنے آپ کو عیسائی کہتا ہے تو وہ محض روایات کے طورپر ایک تہذیب کے نقطۂ نظر سے ، یعنی کچھ مذہبی رسوم ہیں ، جو بطورِ عقیدہ کے انجام نہیں دیئے جاتے ؛ بلکہ اب وہ تہذیب اور روایت کا حصہ بن چکے ہیں ، لیکن اﷲ کا شکر ہے کہ جو مسلمان وہاں آباد ہیں اور خاص کر گجراتی مسلمان ، کہ ہندوستان سے زیادہ تر وہی اس ملک میں پہنچے ہیں ، ان کی نئی نسل میں بھی دین داری کا رجحان بہت ہی قابل تعریف اور لائق تحسین ہے ، ایک ایسے ملک میں جہاں یوں محسوس ہوتا ہے کہ لباس عورتوں کے لئے ایک ناقابل برداشت بوجھ ہے ، اور جہاں نوجوان لڑکے نت نئے فیشن کے پرستار ہیں ، وہاں بھی مسلمان خواتین کی اچھی خاصی تعداد برقعہ پوش ہے ، یا کم سے کم چہرہ کے علاوہ پورا جسم بشمول سر کے ڈھنکا ہوا ہے ، اور نوجوان لڑکوں کے چہروں پر کثرت سے داڑھیاں ہیں اور ان کی اچھی خاصی تعداد مشرقی لباس اور اسلامی وضع قطع کی حامل ہے ۔

 

اس کے اسباب یوں تو گھریلو ماحول اور طبعی سلامت رَوی، دینی تحریکوں اور جماعتوں سے تعلق اور خاص کر حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ کی تحریک دعوت و تبلیغ کی محنت علماء اورمشائخ سے تعلق و ارتباط وغیرہ بھی ہے ؛ لیکن سب سے اہم کردار اس میں نظام مکاتب کا ہے ، ریاست ِگجرات میں بہت زمانہ سے ایک نظام یہ ہے کہ گاؤں گاؤں میں مکاتب قائم ہیں ، جو طلبہ عصری درسگاہوں میں پڑھتے ہیں ان کے لئے ان مکاتب میں پڑھنا ضروری سمجھا جاتا ہے ، یہاں تک کہ اگر کوئی بچہ مکتب کے اوقات میں کھیلتا ہوا مل جائے تو محلہ کے لوگ بے تکلف بچہ کے سرپرست سے پوچھ بیٹھتے ہیں ، کہ یہ مکتب نہیں جارہا ہے ؟ اور سرپرست کو شرمسار اور معذرت خواہ ہونا پڑتا ہے ، عام طورپر مکتب کی تعلیم سے ذہن اس طرف جاتا ہے کہ یہ قاعدۂ بغدادی اورپارۂ عم جیسے تیسے پڑھادیا جائے اور چند کلمات اور دُعائیں یاد دلادی جائیں ، بس یہ کافی ہے ، یقیناً کچھ نہ ہونے کے مقابلے میں ہونا بہتر ہے ؛ لیکن گجرات کے نظم مکاتب کی سطح اس سے بہت بلند ہے ، یہاں عام طورپر میٹرک تک آٹھ دس سال مکتب کی تعلیم ہوتی ہے ، روزانہ ڈھائی گھنٹہ بچوں کا وقت لیا جاتا ہے ، ایک معلم پندرہ ، بیس طلبہ کو پڑھاتے ہیں ، ناظرہ قرآن تجوید کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے ، کچھ پارے حفظ کرائے جاتے ہیں ، پھر اس کے ساتھ ساتھ آیات و احادیث کے ترجمے ، ایمانیات ، مسائل و احکام ، سیرتِ نبوی وغیرہ کی تعلیم دی جاتی ہے اور بعض جگہوں پر عربی زبان کی ابتدائی کتابیں بھی پڑھائی جاتی ہیں ۔

گجرات کے مسلمان تاجر پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ، وہ جہاں بھی گئے مکتب کا یہ نظام بھی اپنے ساتھ لے کر گئے ، اس لئے ان کی نئی نسل پر دین داری کی جھلک نمایاں طورپر محسوس کی جاتی ہے ، چاہے وہ کتنے ہی مخالف ِاسلام ماحول میں ہوں ، وہ دوسرے مسلمانوں سے اپنے دینی ربط و تعلق کی بناء پر نمایاں محسوس ہوتے ہیں ، برطانیہ میں چوںکہ ۱۶ سال کی عمر تک سرکاری نصاب کے مطابق تعلیم حاصل کرنا ہر بچہ پر لازم ہے ، اس لئے اتنی عمر تک بچے پابندی سے مکتب کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اس طرح وہ نیم مولوی تو ہوہی جاتے ہیں اور بعضے قرآن مجید کا حفظ بھی مکمل کرلیتے ہیں ۔

بعض اہل بصیرت کا گمان ہے کہ ایشیاء میں جو ملک سب سے پہلے مغربی تہذیب کے سامنے سرنگوں ہوجائے گا اور جوتیزی سے مغرب کی پیروی کی طرف جارہا ہے ، وہ ہمارا ملک ہندوستان ہے اور مغربی ممالک کو چوںکہ افرادی وسائل کی ضرورت ہے اور ہندوستان کے نوجوان ذہانت ، صلاحیت ، محنت اور فنی مہارت کے ساتھ ساتھ مغربی تہذیب کو قبول کرنے کا مزاج بھی رکھتے ہیں ، اسی لئے یہاں کے کارکنان ان کے لئے سب سے زیادہ قابل قبول ہیں ۔

ان حالات میں مسلمانوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اگلی نسلوں کو دین سے وابستہ رکھنے کے طریقۂ کار پر غور کریں اور ایسا راستہ اختیار کریں کہ ہمارے بچے عصری تعلیم میں بھی آگے ہوں اور دینی پہچان بھی پوری طرح قائم رہے ، اس کے لئے سب سے مفید اور آزمودہ طریقہ مکاتب کا نظام ہے ، کہ زیادہ سے زیادہ مکاتب قائم ہوں ، مکاتب صرف رسمی انداز کے نہ ہوں ؛ بلکہ اس کا دس سالہ کورس ہو ، جس میں ناظرہ قرآن ، حفظ ، منتخب آیات و احادیث کے ترجمے ، عبادات و معاملات اور شخصی زندگی سے متعلق ضروری احکام ، نیز رسول اﷲ ﷺ اورانبیاء کرام کی سیرت اور تاریخ ہند جیسے اہم مضامین شامل نصاب ہوں اور ان کی باضابطہ تعلیم ہوا کرے ، اُردو زبان بھی اس نصاب کا ایک اہم جزو ہو اور ان طلبہ و طالبات کو اچھی طرح اُردو لکھنا اور پڑھنا آجائے ؛ تاکہ وہ اپنے اسلاف کے علمی ورثہ سے جڑے رہیں ، علماء کو ان کا علم ، مشائخ کو ان کی دینی نسبت اور دعوتی کام کرنے والوں کو ان کی دعوتی وابستگی انھیں اپنے بچوں کی طرف سے بے پرواہ نہ کردے اور یہ خیال نہ پیدا ہوجائے کہ ہماری یہ دینی وابستگی لازمی طورپر ہماری آنے والی نسلوں کو بھی دین سے مربوط رکھے گی ، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اورحضرت یعقوب علیہ السلام جیسے اولوالعزم پیغمبروں کے اُسوہ کو یاد رکھیں کہ پورا خاندان نبوت کے نور سے منور ہے ، اس کے باوجود انھیں اپنی وفات کے وقت یہی فکر دامن گیر ہے کہ ہماری اولاد دین پر قائم رہے گی یا نہیں ؟ ہم اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں کہ کیا کبھی ہم نے اس پر غور کیا ہے ؟ اور کیا ہم نے بھی کبھی اپنی اولاد سے استفسار کیا ہے : مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِیْ ؟؟

You might also like