Baseerat Online News Portal

ہاں میں صحافی ہوں۔۔۔!

 

نازش ہما قاسمی

جی!جمہوریت کے چوتھے ستون ’صحافت‘ کا محافظ، اخبار نویس، جرنلسٹ، مدیر، رئیس التحریر، ایڈیٹر، سمپادک، قلم کار، اہل قلم، صاحب قلم، لکھاری، رائٹر، رپورٹر، جریدہ نگار، نامہ نگار، کالم نگار، مضمون نگار، تجزیہ نگار، مبصر، نمائندہ ، محرر، سب ایڈیٹر، بیورو چیف، نیوز ایڈیٹر، چیف ایڈیٹر، منیجنگ ایڈیٹر، ایسوایٹ ایڈیٹر، فیچر ایڈیٹر خبروں کی جانچ پڑتال کرنے والا، جھوٹ کو بے نقاب کرنے والا فیکٹ چیکر، سچ کو آشکار کرنے والاسچا صحافی، حکومت کی دلالی کرنے والا دلال صحافی، گودی میڈیا کے ذریعے اپنی گود بھرائی کروانے والا،غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کے ذریعہ سماج کو باخبر رکھنے والا، جانبداری سے کام لیتے ہوئے سماج کو ورغلانے والا، سچ کو سچ لکھنے ، بولنے والا بے باک صحافی، جھوٹ کی پردہ پوشی کرنے والا جھوٹا اور صحافت سے غداری کرنے والا غدار صحافی، حقائق کو واضح کرکے آئینہ دکھانے والا، حقائق چھپا کر آئینہ پر گرد وغبار ڈالنے والا ، میدان جنگ سے جان کی بازی لگاتے ہوئے رپورٹنگ کرنے والا جانباز صحافی،گائوں کھیڑے سے رپورٹنگ کرنے والا ، ضلعی نمائندہ، شہری نمائندہ، علاقائی نمائندہ، شہروں اور گلیوں کی خاک چھاننے والا آبلہ پا صحافی، پارلیمنٹ کی خبروں پرنظر رکھنے والا، ایوان اسمبلی کی خبریں نشر کرنے والا، پنچایت، کارپوریشن ، الیکشن، ووٹنگ، نتائج کی خبریں دکھانےوالا سیاسی خبروں کو کوریج کرنے والا، ، سیاسی لیڈروں، سماجی رہنمائوں، ماہرین تعلیم کے انٹرویو شائع کرنے والا، اپنی خبروں سے غریبوں کی حوصلہ افزائی کرنے والا، امیروں کو سماج کے فلاح بہبود کےلیے بہتر کام پر ابھارنے والا، غریبوں کی کمر توڑنے والا، امیروں کا ہمدرد، بلیک میلر، خوب ترقیات حاصل کرکے نیچے سے اوپر پہنچنے والا، عالیشان بنگلوں میں رہنے والا، پوری زندگی صحافت کی نذر کرنے کے باوجود چھ بائی چھ کے کمروں میں کمر تک سیدھی نہ کرپانے والا، کئی کئی مہینوں تک بغیر تنخواہ کے کام کرنے والا، پائی پائی کو محتاج صحافی، فساد زدہ علاقوں کی خبریں نشر کرنے والا، عوام دوست، پولس دوست، لیڈر پرست، حکومت سے سوال کرنے والا نڈر رپورٹر، حکومت کی آنکھ میں آنکھ ملا کر بات کرنے والا صاف گو ، بے خوف، دلیر، بہادر، جری، جرات مندرائٹر، حکومت کی غلط پالیسیوں پر نقد کرنے والا نقاد صحافی، غلط پالیسیوں کا حامی دلال ، ایجنٹ، کمیشن خور، پٹھو،تابعدار پرنٹ والیکٹرانک میڈیا میں کام کرنے والا، سوشل میڈیا پر خبریں چلانے والا، اردو میڈیا کا صحافی، انگریزی میڈیا کا جرنلسٹ، ہندی میڈیا کا سمپادک ہوں، عربی ، فارسی، ترکش، فرینچ سمیت دنیا کی دیگر تمام زبانوں میں خبریں نشر کرنے، پڑھنے، لکھنے، بولنے والا صحافی ہوں ۔

جی سچا، حق گو، حقیقت شناس، خبروں کو انصاف سے نشر کرنے والا منصف مزاج صحافی ، خبروں میں مرچ مصالحہ لگا کر قوم میں بدامنی، انتشار، فرقہ پرستی، جھوٹ و دروغ گوئی کا سہارا لے کر امن وامان میں خلل ڈالنے والا، جعلی خبریں نشر کرنے والاکذاب، فرضی خبروں کو چلانے والا لپاڑیہ، بددیانت، عیار، مکار، فریبی، خادع، خائن ، بے ایمان، قزاق ، نوسر باز، شعبدہ باز، پاکھنڈی جھوٹ کا سہارا لے کر ترقی کرنے والا سیاسی لیڈروں کی آنکھوں کا تارا اور سچ کی پاداش میں جیل جانے والا، لیڈروں کی آنکھوں میں کھٹکنے والا، حکومت کی چالبازیوں کا شکار ، اپنے مضامین ، تجزیوں اور تبصروں سے حقیقت واشگاف کرنے والا فرضی واڑہ کوبے نقاب کرنے والا اعلیٰ درجے کا بلند پایہ صحافی ہوں ۔ ہاں میں وہی سچا صحافی ہوں، جس پر سماج کو، عوام کو، بھروسہ ہے، فخر ہے جس کی وجہ سے ہمیں سماج میں عزت، محبت اور الفت سے نوازا جاتا ہے، ہمارا مشن خبروں کو عوام تک سچائی کے ساتھ پہنچانا ہوتا ہے؛ تاکہ وہ باخبر رہ کر افواہوں سے بچیں،حقائق پر نظر رکھیں، ملک میں امن وامان کی فضا قائم رہے؛ لیکن ہمارے ہی صحافت سے وابستہ کچھ افراد کا کام دلالی کرنا ہوتا ہے وہ خبروں میں مرچ مصالحہ لگا کر، جھوٹی اور افواہوں پر مبنی خبروں کو ذیابیطش زدہ زبان سے میٹھا کر آپس میں نفرت و دشمنی کے فروغ کا ذریعہ بنتے ہیں، دو کمیونٹی کے اندر خلیج پیدا کرکے ٹی آر پی کے چکر میں ملک میں فساد و بدامنی کا سبب بنتے ہیں، دوہزار کے نوٹ میں چِپ ہونے کی باتیں کرتے ہیں۔

ہاں میں وہی صحافی ہوں جو دلال میڈیا ہا ئوس کے ذریعے پھیلائے گئے جھوٹ کو فیکٹ چیکنگ کے ذریعے بے نقاب کرتا ہوں، انتہائی عرق ریزی اور باریک بینی سی ان کے ذریعہ پھیلائے گئے جھوٹ کا پوسٹ مارٹم کرکے عوام کو سچ سے آگاہ کرتا ہوں، فتنہ پرور صحافیوں کی فتنہ پروری عوام کو بتاتا ہوں،جس کی وجہ سے ہمیں پریشانیاں اٹھانی پڑتی ہیں، کبھی حکومت مخالف قرار دیاجاتا ہوں، تو کبھی ملک مخالف، ہمیں سچ بولنے، لکھنے، اورکہنے کی وجہ سے جیلوں میں ڈال دیاجاتا ہے،طرح طرح سے پریشان کرنے کے ہتکھنڈے استعمال کیے جاتے ہیں، وہیں دوسری طرف ان گودی میڈیا کے دلالوں پر عنایت و بخشش کی بارش کی جاتی ہے، ان کے جھوٹ کو سراہا جاتا ہے، ان کے ذریعہ پھیلائے گئے افواہ کو تحسین کی نگاہوں سے دیکھاجاتا ہے جو جمہوریت کے چوتھے ستون کےلیے خطرناک ہے۔ ملک میں انگلی پر ہی گنے چنے سچے صحافی ہیں جو جمہوریت کی بقاء کےلیے ، ملک کی سالمیت کے لیے کام کررہے ہیں ، دوسری طرف دلالوں کا ایک بڑا ٹولہ ہے اور اس ٹولےکو ہر طرح کے جھوٹ ، فریب، مکر، دغابازی، جعل سازی پر ہرطرح کا تعاون اور عوام کے ایک بہت بڑے طبقے کی حمایت بھی حاصل ہے وہ ایسی ہی خبروں کو دیکھنا، پڑھنا، اور سنناچاہتے ہیں ۔ وہ یہی چاہتے ہیں کہ ملک میں ہندو مسلم کی خبریں نشر کی جائیں، مسجد مندر کا جھگڑا صبح وشام اسکرین پر چلتا رہے، لوجہاد کی خبریں اخبارات ورسائل اور سوشل میڈیا کی زینت بنتی رہیں، گئو کشی کی خبریں ہائی لائٹ کی جاتی رہیں، انہیں ملک میں پھیلی بدامنی، بھکمری ، تعلیمی انحطاط اور بیروزگاری سے کوئی سروکار نہیں ان کے نزدیک ملک کی ترقی فتنہ وفساد میں ہی مضمر ہے، یہ حکومت کے رٹّو طوطے ہیں وہی بولتے ہیں جو حکومت نے رٹایا ہوتا ہے، یہ ’پالتو ‘ہیں جہاں سے ’کچھ ‘ ملتا ہے اسی کے حق میں چیختے اور بھونکتے ہیں، صحافت جیسے مقدس پیشے کو ان حکومتی دلالوں نے بدنام اور بے اعتبار کردیا ہے۔ صحافیوں کو بے اعتبار بنانے میں ان ضمیر فروشوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، ہاں اب بھی صحافت کی لاج رکھنے والے کچھ ایماندار صحافی ہیں جو اپنی جان جوکھم میں ڈال کر اپنا فریضہ بحسن وخوبی انجام دے رہے ہیں، جو حکومت وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کر رہے ہیں جس کی بنا پر کبھی ان کو پابند سلاسل کیا جاتا ہے تو کبھی دھمکی دی جاتی ہے، کبھی ٹویٹ پر روک لگانے کی مانگ عدالت عظمیٰ سے کی جاتی ہے، کبھی ان ایماندار، نڈر اور بیباک صحافیوں کو صحافی ماننے سے ہی انکار کیا جاتا ہے ؛ لیکن یہ دیوانے سب کچھ برداشت کرکے جمہوریت کے چوتھے ستون کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور انتہائی کم تعداد میں ہونے کے باوجود بھی اپنے مشن میں کامیاب ہیں۔

You might also like