مضامین ومقالات

بے وجہ پوچھتے ہیں لوگ میری بے گناہی کا سبب

بات نکلی ہے تو دور تلک جائے گی
ڈاکٹرشمیم اخترقاسمی علیگ
صدرشعبہ اسلامیات،عالیہ یونیورسٹی کولکاتہ
12 اپریل کو ڈاکٹر رضی الاسلام صاحب سے دھلی میں ملاقات ھوئ، بہت اچھا لگا۔ انھوں نے اپنےفیس بک اکاؤنٹ پر میرے ساتھ تعلقات کا بڑا ہی خوب صورت اظہار کرنے کے ساتھ میری دوکتابوں پر اپنی عمدہ رائے پیش کی ہے۔ اسی کے ساتھ میری ایک سالہ معاشی کش مکش کا بھی ذکر کیا ھے اس سے ان کی محبت کااظہارواندازہ ہوتا ہے۔ لیکن یہاں پر بات کچھ مبھم سی رہ گئی ہے اس کی وضاحت ضروری ہے۔ اگر وہ کردیتے تو اچھا ھوتا:
یہ فسانہ محبت بزبان دیگراں کیا * اسے تم اگر سناتے تو کچھ اور بات ہوتی
جس دینی ادارہ کا انہوں نے ذکر کیا ہے اس کے سکریٹری ایک یونیورسٹی کے استاذبھی ہیں۔ مگر عصبیت وتنگ نظری ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ ادارہ کے وہ رفقاء جن کی وجہ سے ادارہ کا معیارووقار بلند ھوااور وہ ادارہ سے لگ بھگ اسی وقت سے جڑے رھے جب سے قائم ھوا تھا۔یہاں تک کہ ادارہ کو اوڑھنا بچھونا بنالیا تھا اسے بھی انھوں نے نھیں بخشااور انھیں ادارہ سے نکال باھر کیا۔ مجھ سے پہلے ایک معمر محقق کو اور میرے بعد ایک عالمی شہرت یافتہ رفیق کو ،معلوم ھوا ہے کہ حال ہی میں ایک صاحب کو (جن کا خود موجودہ سکریٹری نے تقرر کیا تھا) پروانہ دے دیا ہے کہ آپ کی ادارہ کو ضرورت نھیں ہے جس پر اس کی حمایت میں ایک بااثر گروپ نے احتجاج کردیا ہے، اس گروپ کا کہناھے کہ آپ کس کس کو نکالیں گے آپ خود کیوں نہیں نکل جاتے۔ ادارہ قومی ادارہ ھے آپ کی میراث نھیں۔
ادارہ سے میری وابستگی اور برخواستگی کا واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ یہاں تقرر کے لئے جب انٹر ویو ہوا تو تقریبا 20 امیدوار تھے۔ ان میں سے بیشتر لوگ فکری طور پرجماعت اسلامی سے وابستہ تھے۔ اللہ اللہ خیر سلا میں ہی ایک امیدوار تھا کہ میرا تعلق حلقہ دیوبند سے گہرا تھا اورالحمداللہ اب بھی ہے۔ لیکن جماعت کے علمی لٹریچر کو میں نے بہت پڑھا اور اس سے استفادہ کیا ہے۔ خاص کر مولانا مودودی ؒ، مولانا جلال الدین عمری صاحب اور ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی صاحب وغیرہ کی کتابوں سے خوب استفادہ کیاہے۔ انٹر ویو میں موجودہ امیر جماعت اسلامی کے علاوہ پروفیسر فضل الرحمن فریدی، پروفیسر عبدالحق انصاری، پروفیسر حمیداللہ اور موجودہ سکریٹری کے علاوہ ایک دو آدمی اوربھی تھے۔ تقریبا 45 منٹ انٹر ویو چلا، سب نے علمی سوالات پوچھ پوچھ کر مجھے بے حال کردیا تھا۔ ایک مجاھد کی طرح میدان انٹر ویو میں میں بھی ڈٹارہا۔ البتہ سکریٹری ادارہ نے ایک ھی سوال کیاتھا، مگر بڑاھی بھونڈا،جاھلانہ اورمتعصبانہ: شمیم صاحب آپ کا تعلق حلقہ دیوبند سے ہے اور ھمارا ادارہ جماعت اسلامی کا ہے اور علماء دارالعلوم کو جماعت اسلامی سے بہت زیادہ اختلاف ھے،اس صورت میں آپ یہاں کیسے کام کریں گے اگر یہاں آپ کا تقررہوجاتا ہے تو؟
میں نے جواب دیا ڈاکٹر صاحب اختلاف تو ہمارے چاروں فقہی امام کے درمیان بھی ھے، مگر صرف افضل اور غیر افضل کا ھے۔ایک محقق کی حیثیت سے میں اعتدال کی راہ نکالوں گا اور جو صحیح ھو گا اسے دلائل کی روشنی میں ترجیح دوں گا۔ میرے اس جواب پر سبھی لوگ بہت خوش ھوئے۔ لیکن مجھے اندازہ تھا کہ اتنے لوگوں میں میرا تقرر مشکل ھے وہ بھی عصبیت کی اس فضا میں۔( دو امیدوار کے لئے یہ رائے گشت کررھی تھی کہ ان ھی دو کا تقرر ھوگا) لیکن اسی شام میرے ایک کرم فرما جو پیشے سے دوا کے تاجر ھیں اور ادارہ سے کہیں نہ کہیں گہری وابستگی ھے بتایا کہ شمیم صاحب یہاں دو آدمیوں کا تقرر ھونا تھا مگر صرف ایک کاھوا وہ بھی آپ ھی کا۔
میرے تقرر کی یہ خبر جب میرے سپروائزر اور دوسرے اساتذہ کو ھوئی تو ایک استاذنے میرے سپروائزر سے کہا (دونوں آدمی بھی جماعت اسلامی سے وابستہ ھیں)شمیم صاحب کو ادارہ جوائن کرنے سے روکئے۔ انھوں نے کھا یہ ناسمجھ نھیں ھیں وھاں رہ کر بھی یہ اپنی شناخت برقرار رکھیں گے۔ اس وقت ان کو معاش کی ضرورت ھے۔ادارہ جوائن کر نے کے 6 ماہ بعد میرے تحقیقی کام کا موضو ع فائنل کیا گیا۔ ایمان داری کے ساتھ میں اپنے کام میں منہمک ھو گیا۔ ہر ماہ دو تین علمی مضامین تیار کرتا اور اسے شائع کرواتا، نیز سمینار وکانفرنس میں بھی شرکت کرتاجس کی تحریری رپورٹ ادارہ کی ماھانہ مٹنگ میں پیش کردیتا۔ لیکن ہر مٹنگ میں سکریٹری ادارہ ہم لوگوں کو اپنی منفی آرا کے پابند بنانے پر بہت زور دیتے جس پر ہم لوگوں کا ان سے اختلاف ھوجاتا تھا۔
اسی درمیان انھوں نے کئی بار زور دے کرمجھ سے کہا کہ آپ ادارہ میں کام کرتے ھیں،بہتر ھوگا کہ آپ جماعت اسلامی کی رکنیت اختیار کرلیں، یہاں تک کہ انھوں نے مجھے فارم بھی لاکر دیا۔ میں ان سے ھربار یہی کھتا رھاکہ اتنی جلدی کیا ھے وقت آنے پر دیکھا جائے گا۔ شاید ان کو اس بات کا اندازہ ھو گیا تھا کہ میں یہاں رہ کر بھی جماعت کی رکنیت اختیار کرنے والا نھیں ھوں۔
ڈیڑھ سال ہوگئے تو انھوں نے مجھ سے کھاکہ آپ اپنا مفوضہ کام جلد مکمل کرکے جمع کردیجئے تاکہ منتظمہ کی اگلی مٹنگ میں آپ کو مستقل کردیا جائے۔ (مطلب یہ تھا کہ تحقیقی کام مکمل کراکر پہلے جمع کروالیا جائے )میں نے ایک مشکل کام کے لئے حامی بھردی اور دن رات ایک کرکے صرف 14 ماہ میں اپنا کام ’’سیرت نبوی پر اعتراضات کا جائزہ‘‘ فائنل کمپوز کرکے جمع کردیا جو 350 صفحات پر مشتمل تھا۔مٹنگ کے بعدکوئ وجہ بتائے بغیر انھوں نے نہایت ھی غیر مہذب انداز میں میرے تقرر کے منسوخی کا پروانہ مجھے تھما دیا۔ ان کی تحریر اب بھی میرے پاس موجود ھے۔ میں نے بھی اس پر کوئ احتجاج نھیں کیا۔ادارہ کے رفقا نے مجھ سےکہابھی کہ آپ مرکز سے رجو ع کیجئے لیکن میں نے ایسا نھیں کیا اسی وجہ سے ہٹایا گیا ھےکہ میں نے جماعت کی رکنیت حاصل کرنےکے لئے ان کی بات نھیں مانی اور نہ ھی میں نے کبھی ان کی طوطا چشمی کی۔ ادھر لوگوں میں انھوں نے یہ پھیلادیا کہ میں نے غیر معیاری کام کیا ھے اس لئے منتظمہ کی طرف سے مجھے برطرف کئے جانے کا فیصلہ کیا گیاھے۔
بعد میں میرےمسودہ کے اشاعت کی کوئی کوشش بھی نھیں کی گئی میرے پوچھنے پر آفس سے جواب ملتا کہ اسے مرکز میں اشاعت کے لئے بھیج دیا گیا ھے اور فلاں صاحب کے پاس ان کی میز پر مسودہ رکھا ھوا ھے۔ ایک سال کے بعد جب میں نے مرکز سے اور فلاں صاحب سے معلوم کیا تو بتایا کہ یہاں آپ کی کتاب کا مسودہ آیا ھی نھیں ھے۔ سکریٹری کے اس غیر ذمہ دارانہ رویہ کے بعد میں نے اپنے مسودہ کو بڑی خاموشی کے ساتھ مرکزی مکتبہ اسلامی کو بھیج دیا۔ جواب ملا کہ ہم اس کی اشاعت بہت جلد کرنے جارھے ھیں۔ جب یہ کتاب چھپ کر آگئی تب ان کو پتہ چلا۔ بعد میں کچھ لوگوں نے ان سے پوچھابھی کہ یہ غیر معیاری کتاب آپ ہی کے مکتبہ سے کیسے شائع ھوگئ اور آپ کو پتہ بھی نہیں چلا؟
جب یہی کتاب پاکستان پہنچی تو وھاں کے دوپبلشرز نے بڑے ہی اھتمام کے ساتھ شائع کیا۔
یہ کتاب میں نے حضرت مولانامحمد سالم صاحب قاسمی مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند کے پاس بھیجی تو میرے کام سے وہ بہت خوش ھوئے اور میری حوصلہ افزائی کے لئےپیرائیہ سالی کے باوجود اپنے ہاتھ سے ایک طویل خط میرے نام لکھا، بعد میں ان کے خادم نے مجھے فون کیا کہ حضرت کی خواہش ھے کہ آپ کی اس کتاب کوجامعہ دینیات کے نصاب میں شامل کردیا جائے۔ بس آپ کتاب کے ابواب کے آخر میں سوالات تیار کردیں، اس کے بعد جامعہ سے اس کی اشاعت بھی ھوجائے گی۔ اطلاعا یہ بھی عرض ھے کہ یہ کتاب عالیہ یونیورسٹی کولکاتا کے BA دینیات کے نصاب میں بھی شامل ھو گئی ھے۔
تلخ یادیں اور بھی ہیں، صورت مسئلہ کی تفہیم کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker