ہندوستان

ملک کو فرقہ پرستوں کے چنگل سے بچانا اب ہماری ذمہ داری؟

سہارنپور ۔19اپریل( تجزیاتی رپورٹ، احمد رضا.یو این این) مغربی اتر پردیش کے ترقی سے محروم گھنے مسلم اور دلت علاقوں اور مشرقی اتر پردیش کے پسماندہ اور پچھڑے علاقوں میں تعلیمی، مذہبی اور سوشل بیداری لانے کی غرض سے ملک کے سب سے اہم اودھ علاقہ کے رہنے والے چند باشعور ذمہ دار افراد نے ہندو اور مسلم سوشل کارکنان کو ساتھ لیکر تعلیمی، مذہبی اور سوشل بیداری لانے کے علاوہ ان خاص علاقوں میں فرقہ پرستی کے خلاف تحریک چلانے کا پچھلے لمبے عرصہ میں جو قابل قدر عملی کام انجام دیاہے وہ کام ہر صورت قابل تعریف ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کی بہتری اور خوشحالی کے لئے بھی بہت ہی اہم ہے۔عوامی فلاح کے اس اہم عملی کام میں سرگرم ملک کے ذمہ داران سے کل دیر شام جب ہمنے انکے ذریعہ لمبے عرصہ سے کئے جارہے کاموں کی بابت پوچھا تو ان سوشل تنظیمی قائدین کا سیدھا کہناہے کہ پرامن، قابل اعتماد اور ملک کے نظام کی وفادار دبی، پچھڑی اور پسماندہ اقوام کے ساتھ کچھ تنظیموں اور سیاسی جماعتوںکا سوتیلا برتائو اب کسی بھی صورت برداشت نہی کیاجائیگا ان ذمہ داران کا کہناہے کہ ملک کی ۷۰ فیصد آبادی آج بھی بہت ہی گھٹن بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ مرکزی اور ریاستی سرکار انکے پچھڑے پن کو دور کرنے کی بجائے جان بوجھ کرنظر انداز کرتی آرہی ہے جو قابل افسوس بات ہے اور سماج کی حق تلفی کے متارف ہے ؟ قابل غور ہے کہ دہشت گردی اورفرقہ پرستی کے بیہودہ الزامات کے خلاف لمبی لڑائی لڑنے والے اور مظلوم طبقہ کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو انکاحق دلانے میں پیش پیش رہنے والے رہائی منچ، ملک سماج مہا سبھا اور پچھڑاسماج مہاسبھاکے ذمہ داران نے بتایاکہ ملک کے حالات عوام کے لئے ساز گار نہی ہیں ۷۰ فیصد آبادی تنگی اور پریشانی سے دوچار ہے ۔ رہائی منچ، ملک سماج مہا سبھا اور پچھڑاسماج مہاسبھاکے ذمہ داران نے بتایاکہ اب پھر سے دلت، صاف ذہن ہندو اور پسماندہ کارکنان کو ساتھ لیکر موجودہ دور میں پسماندہ اور کمزور ا قوام کے ساتھ لگاتار ہونے والی زیادتیوں، بد کلامیوں، بیہودہ الزام تراشیوں اور ناانصافیوںکے خلاف پھر سے پر امن تحریک چلاکر موجودہ بد عنوان نظام کے خلاف لڑائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے!سوشل تنظیم پچھڑاسماج مہاسبھاکے قومی سربراہ جناب احسان الحق ملک نے بتایاہے کہ پچھلے روز پچھڑا سماج مہا سبھا، رہائی منچ اور ورلڈ شودر مہاسبھا کی ایکاہم میٹنگ پچھڑاسماجمہا سبھا کے صوبائی دفتر میں کرپا شنکر سویتا کی صدارت میں منعقدہوئی اس اہم میٹنگ کو خطاب کرتے ہوئے انجینئر پردیپ کمار پلٹا نے قوم کو خطاب کرتے ہوئے بیباک لہجہ میں کہاکہ حصہ داری مشن ان انڈیا کے ذریعہ پچھڑوں،دلتوں،مسلموں،آدیواسیوں کو ان کے آبادی کے تناسب میں سبھی شعبوں میں حصہ داری دیجانی وقت کا اہم تقاضہ ہے؟ انجینئر پردیپ کمار پلٹا نے کہا کہ آزادی کے ۶۸سال بعد بھی سرکار کے ذریعہ پچھڑوں،دلتوں،مسلموں،آدیواسیوں کو ان کے آبادی کے تناسب میں سبھی شعبوں میں حصہ داری نہی دیاجانا ملک اورسماج کیلئے بڑا خسارہ ہے ۔ میٹنگ کو خطاب کرتے ہوئے چودھری جگدیش پٹیل نے کہا کہ منوادی بندوبست نے ملک کے90فیصد لوگوں کو مذہب ذات پات دہشت پیدا کرکے و ہندو مسلم کے درمیان فسادات کراکرکے اقتدار حاصل کرتے رہے ہیں چودھری جگدیش پٹیل نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے جب اس ملک کے اصلی باشندے ہی اس ملک پر حکومت کریں گے ۔پٹیل نے یہ بھی کہا کہ اب ۱۵فیصد لوگوں کی حکمرانی نہیں چلے گی چودھری جگدیش پٹیل نے کہا کہ آج بھی اس ملک میں پچھڑوں،دلتوں،مسلموں کے ساتھ ساتھ آ دیواسی سماج کے لوگ بھی تعصب اوراقتصادی استحصال کا شکار ہیں۔میٹنگ میں اپنے خطاب کے دوران رہائی منچ کے قومی سربراہ محمد شعیب ایڈوکیٹ نے کہا کہ عدلیہ، ودھائیکا ،آرمی پیرا میلٹڑی فورسیز اور بین الاقوامی کمپنیوں میں حصہ داری سے محروم سماج کو صرف حصہ داری کا مطالبہ ہی نہیں کرنا ہے بلکہ ان سے چھین کے ہم سبھی کو اب اپناحق لینا ہے رہائی منچ کے قومی سربراہ محمد شعیب ایڈوکیٹ نے کہا کہ اب ہر حال میں محروم سماج حصہ داری لیکر رہے گا؟ محمد شعیب ایڈوکیٹ نے بیباک لہجہ میں کہا تھاکہ اب وقت آگیا ہے کہ پچھلے ۶۸سالوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں جو ۶۶ہزار فسادات ہوئے ہیں اور ان فسادات میں اقلیتوں کے ہوئے جان مال کے تمام نقصانات کا حساب فساد کرانے والوں، لاپرواہ افسران ا ورفسادیوں سے مانگا جانا بیحد ضروری ہے۔ میٹنگ کو خطاب کرتے ہوئے دلت اور شودر برادری کے قائد شیو نارائن کشواہا نے یہ بھی کہا کہ فرقہ پرست طاقتوں کا سیاسی سفر لاشوں پر چل کر ہی شروع ہوتا ہے اوراقتدا حاصل کرنے پر رکتاہے دلت قائد شیو نارائن کشواہا نے کہاکہ ان طاقتوں نے ہمیشہ ہی اقتدار ر کے لئے پورے ملک میں مظلوم قوم کو نشانہ بناکر جو حیوانیت اورافراتفری پیداکی ہے وہ سبھی جانتے ہیں مظفر نگر، شاملی اورسہارنپور کے فسادات اسکی تازہ مثالیں ہیں مہذب ملک میں اس طرح کی ایک طرفہ سازشیںبیحد شر م کی بات ہے ۔ آپ نے ملک کے سبھی سیکولر شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد ہوکر اب ان طاقتوں کے کالے کارناموں کو اجاگر کریں اور ملک کو فرقہ پرستوں کے چنگل سے باہر لانے کا اہم فریضہ مکمل کریں؟میٹنگ کو خطاب کرتے ہوئے پچھڑا سماج کے قومی رہبر اے ایچ ملک نے کہاہے کہ ملک کے تقسیم سے پہلے ہی ان سازشی لوگوں نے ہندو مسلم کے درمیان نفرت پیدا کرنے کابیج اسی لئے بویا تھا کہ انہیں اقتدار مل سکے ۔یہ اقتدار کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ ملک کی نامور سوشل تنظیم پچھڑاسماج مہاسبھاکے قومی سربراہ جناب احسان الحق ملک نے اپنے تمام ہم نظریہ قائدین کی جانب سے مرکزی سرکار کو ایک مکتوب کے ذریعہ مسلمانوں کے ساتھ بھاجپا کے ذمہ داران کی جانب سے کی جانے والی چھیڑ چھاڑ کو ملک کی سالمیت کے لئے خطرہ بتاتے ہوئے ان حرکتوں سے باز آنے کی اپیل کی اور زور دیکر کہاکہ، گئو ہتیا، بھارت ماں کی جے، لوجہاد مدارساسلامیہ اور دہشت گردی کے بیہودہ الزامات سے مسلمانوں کے ایک گہری سازش کے تحت لگاتار ہی گھیرا جارہاہے مگر مودی جی سب کچھ جانتے اور ددیکھتے ہوئے بھی خاموش بیٹھے ہیں یاد رہے کہ مودی جی سنگھی برادریکے نہی بلکہ ایک سیکولر ملک کے وزیر اعظم ہیں؟پچھڑاسماج مہاسبھاکے قومی سربراہ جناب احسان الحق ملک نے کہاہے کہ ملک میںمذہبی جنوں کو آر ایس ایس،بھاجپا، وشوہندو پریشداور بجرنگ دل اور انکے قائدین کی جانب سے لگاتار ہوا دیکر بڑھا یا جا رہاہے فرقہ وارانہ وارداتومیں اور فرقہ واریت پر مبنی بیان بازی میںبھی بے تحاشہ اظافہ ہوتا جا رہاہے فرقہ پرستی کو مینکا گاندھی، ساکشی مہاراج، یوگی آددیتہ ناتھ ، سنگیت سوم اور سشیل رانا جیسے بھاجپا نیتا لگاتار بڑھا واہی نہیں بلکہ مسلمانوںکو للکارنے کا گھنونہ کام بھی انجام دے رہے ہیں جو ملک اور قوم کی ایکتا ،خوشحالی اور امن کے لئے خطرناک سازش کا ایک حصہ ہے؟ سوشل تنظیم پچھڑاسماج مہاسبھاکے قومی سربراہ جناب احسان الحق ملک نے کہاکہ اب تک ملک میں جتنے بھی فرقہ وارانہ فساد رونماء ہوئے ہیں انمی سنگھی گروہ اور فرقہ پرست تنظیموں کا زبردست رول رہا ہے اس بات کا خلاصہ صوبائی سرکار کے زریعہ کرائی گئی جانچ میں بھی ثابت ہو چکاہے کہ چندلوگ ہی فر قہ پرستی کو بڑھاوادینے میں آگے آگے ہیں؟مسلمانوں کو پہلے جوش دلائو پھرایک دوسرے سے لڑائو، حالات بگڑنے کے بعد مسلمانوں کی خوب پٹائی کرائواور جب فورسیز مالمانوں پر ظلم ڈھائے تب خاموشی کے ساتھ اپنے اپنے گروں میں دبک کر بیٹھ جائواور پھر مظلوم مسلمانوں کو بیچ سڑک پر کھڑا کر کے بھاگ جائو بس یہ ہے ہمارے قائدین اور سیای جماعتوں کے لیڈرا ن کی ہنر مندی ۔ آخر یہ کس طرح کی ذہنیت آخر کیو ںمسلمانوں کے ساتھ آزادی سے آج تک یہی کھیل کھیلا جارہا ہے۔ سوشل تنظیم پچھڑاسماج مہاسبھاکے قومی سربراہ جناب احسان الحق ملک نے بتایا کہ ملک میں رونما ہونے والے ہر دنگے میں مسلمانوں کو بھا ری تباہی کا سامنا ہے ۱۹۴۷ کے بعد سے لگاتار مظفر نگر اور سہارنپور فساد میں مسلمانوں پر ، مسلمانوں کے کاروبار پر اور مساجد پر بہت ہی منظم ظریقہ سے حملہ کئے گئے ہماری مساجد آج بھی ان حملوں کی گواہ ہیں مظفر نگر اور سہارنپور فساد کے بعد سے کافی مسجدیں آج بھی رونقوں سے محروم ہیں ان مساجد میں مسلمان نماز ادا کر تے ہو ئے اب ڈرنے لگے ہیں مگر تمام حالات سے واقف ہونے کے بعد بھی مسلمانوں سے ہمدرد ی کا ناٹک کر نے والے قائدین ان نازک اور حساس معاملات پر چپ کیوں ہیں بیباک طور سے بتائیں کہ سہارنپور فساد میں مسلمانوں کے ساتھ کون سا انصاف ہوا ہے مساجد کو لوٹنے اور شہید کرنے والوں کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا ہیاور مسلمانوں کو معزور کرنے والے مقامی پولیس اور فورس کے جوانوں کے خلاف کیا کاروائی کی گئی ہے ۔ فساد میں مسلمانوں پر ، مسلمانوں کے کاروبار پر اور مساجد پر بہت ہی منظم ظریقہ سے حملہ کئے گئے مگر نہ جانے ہمارے قائدین ان نازک اور حساس معاملات پر چپ کیوں ہیں ؟

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker