Baseerat Online News Portal

ایمن الظواہری امریکی حملے میں جاں بحق کابل میں القاعدہ رہنما کو ڈرون کے ذریعہ نشانہ بنایاگیا، اہل خانہ کو حقانی نیٹ ورک نے بحفاظت باہر نکال لیا، طالبان برہم، دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا

واشنگٹن ؍کابل۔۲؍ اگست: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر نے ملکی ایجنسی سی آئی اے کی کابل میں ایک سیکیورٹی آپریشن کے دوران ڈرون حملے میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔امریکی صدر کے بیان کے بعد طالبان حکومت نے نائب وزیر اطلاعات اور ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک بیان جاری کیا جس میں امریکی ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے دوحہ میں ہونے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔ترجمان طالبان نے مزید کہا کہ کسی ملک میں حملہ آور ہونا اس کی قومی سلامتی کو چیلنج کرنے کے مترادف اور عالمی قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ۲۰ سالہ فوجی آپریشن جیسے ناکام تجربات کو دہرانا افغانستان، امریکا اور خطے کے مفاد میں نہیں۔دوسری جانب امریکی حکام نے کہا کہ ایمن الظواہری اپنے خاندان سمیت کابل کے سیف ہاؤس میں موجود تھے۔ یہ دوحہ امن مذاکرات کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ معاہدے میں طے پایا تھا کہ القاعدہ سمیت کسی بھی عسکریت پسند گروپ کے رہنماؤں کو افغانستان میں محفوظ پناہ فراہم نہیں کی جائے گی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کے باوجود ایمن الظواہری کی موجودگی پر طالبان حکومت نے ضروری کارروائی نہیں کی۔ القاعدہ سربراہ اپنے خاندان کے ہمراہ کابل میں رہ رہے تھے۔ ان کے ٹھکانے کا خود پتہ لگایا اور کارروائی کی۔امریکی حکام کے مطابق ایمن الظواہری کو ڈرون حملے میں دو میزائل مارے۔ القاعدہ سربراہ کی ہلاکت کے بعد حقانی نیٹ ورک نے ان کے خاندان کے افراد کو مکان سے نکال لیا۔دریں اثناء امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس سے خصوصی خطاب کے دوران اعلان کیا ہے کہ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو افغانستان کے اندر ہونے والے ایک ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔صدر بائیڈن نے قوم کو بتایا کہ نائن الیون میں زندگی سے محروم ہونے والے معصوم امریکیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا اور الظواہری کی ہلاکت ثابت کرتی ہے کہ ہم اپنے عزم پر قائم ہیں اورایمن الظواہری کے ساتھ انصاف ہو گیا ہے۔صدر نے کہا کہ الظواہری نیروبی سے لے کر افغانستان تک، امریکہ کے عوام، اس کے سفارت کاروں ، فوجیوں اور اس کے مفادات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرنے والوں میں شامل رہے ہیں۔صدر بائیڈن نے تصدیق کی کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے افغانستان کے اندر خصوصی ڈرون آپریشن کی منظوری دی تھی اور اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ کسی عام شہری، بشمول الظواہری کے خاندان کے افراد کے، کسی کی زندگی کو نقصان نہ پہنچے۔امریکہ کے صدر نے کہا کہ انہوں نے کاونٹر ٹیررازم فورس کے اس پلان پر کافی غوروخوض کے بعد اس کی منظوری دی اور اس کے لیے گانگریس کے اراکین کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔صدر بائیڈن نے کہا کہ افغانستان سے انخلا کے وقت بھی میں نے امریکہ کے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ہم افغانستان کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہیں بننے دیں گے۔ صدر نے اس موقع پر امریکہ کی انٹیلی جنس کمیونیٹی اور انسداد دہشت گردی فورسز کی خدمات کو بھی سراہا۔صدر امریکہ نے کہا کہ اہداف کو نپے تلے انداز میں نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں سے ہم نے، الظواہری سے قبل، گزشتہ ماہ داعش کے ایک بڑے لیڈر کو بھی انجام تک پہنچایا ہے۔امریکہ کے صدر نے باور کرایا کہ دہشت گرد یہ جان لیں کہ وہ امریکہ کے لوگوں اور ا س کے مفادات کو نقصان پہنچائیں گے تو وہ کہیں بھی ہوں گے، جتنا بھی چھپ لیں، ان کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔ اور ان کے بقول ہم وہ سب کریں گے جس سے امریکہ کے شہری ملک کے اندر اور دنیا بھر میں محفوظ رہ سکیں۔قبل ازیں محکمہ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے وائس آف امریکہ کے استفسار پر بتایا ہے کہ امریکہ نے افغانستان کے اندر ایک کامیاب کارروائی کی جس میں عام شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔یاد رہے کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کی سپیشل فورسز نے ایبٹ آباد میں۲‘مئی۲۰۱۱میں ایک آپریشن میں ہلاک کر دیا تھا۔ اور اس کے بعد الظواہری نے دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیم کی قیادت سنبھال لی تھی۔ القاعدہ وہ تنظیم ہےجس کو امریکہ کے شہر نیویارک پر نائن الیون کے دہشت گرد حملوں کی افغانستان کے اندر بیٹھ کر منصوبہ بندی کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔

You might also like