Baseerat Online News Portal

امریکی اسپیکر کا متنازع دورہ تائیوان، چین میں جنگی مشقیں شروع۔

نینسی پلوسی کا دورہ تائیوان چین کی خودمختاری اور آزادی کو چیلنج کرنا ہے۔ترجمان چینی دفتر خارجہ

نیویارک (انٹرنیشنل ڈسک)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کے متنازع دورہ تائیوان پر چین نے تائیوان کے قریب سب سے بڑی جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے۔

چین نے امریکا کو خبردار کیا تھا کہ اگر نینسی پلوسی نے تائیوان کا دورہ کیا تو چین کی فوج ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھے گی لیکن اس کے باوجود امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی تائیوان کے دورے پر پہنچ گئیں جس پر امریکا اور چین کے درمیان تناؤ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔دوسری جانب روس نے بھی امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کے دورہ تائیوان کو اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی اسپیکر کے دورہ تائیوان کی وجہ سےکشیدگی کی سطح کو کم نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
چین نے نینسی پلوسی کے دورے سے قبل متنبہ کیا تھا کہ اگر امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکرنینسی پلوسی نے تائیوان کا دورہ کیا تو فوج کو متحرک کردے گا۔ ترجمان چینی دفتر خارجہ کے مطابق نینسی پلوسی کا دورۂ تائیوان چین کی خود مختاری اور آزادی کو چیلنج کرنا ہے، ایسی صورت میں چین کی طرف سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔دوسری جانب تائیوان نے چینی فوجی مشقوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ تائیوان نے خبردار کیا ہے کہ یہ چین کی جانب سے بڑے پیمانے پر شروع ہونے والی عسکری سرگرمی علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ترجمان وزارت دفاع نے پریس کانفرنس میں اسے بین الاقوامی نظام کو چیلنج کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔چین نے نینسی پلوسی کے دورے سے قبل متنبہ کیا تھا کہ اگر امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکرنینسی پلوسی نے تائیوان کا دورہ کیا تو فوج کو متحرک کردے گا۔ترجمان چینی دفتر خارجہ کے مطابق نینسی پلوسی کا دورۂ تائیوان چین کی خودمختاری اور آزادی کو چیلنج کرنا ہے، ایسی صورت میں چین کی طرف سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔دوسری جانب تائیوان نے چینی فوجی مشقوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ تائیوان نے خبردار کیا ہے کہ یہ چین کی جانب سے بڑے پیمانے پر شروع ہونے والی عسکری سرگرمی علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ترجمان وزارت دفاع نے پریس کانفرنس میں اسے بین الاقوامی نظام کو چیلنج کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

You might also like