Baseerat Online News Portal

انسانی اور نباتاتی زندگی میں مماثلت تحریر: مفتی محمد صابر حسین ندوی

کیا انسانی اور نباتاتی زندگی میں کچھ مماثلت ہے؟ پیڑ پودے، کھیت کھلیان اور پھول بوٹے ایک طرف تو دوسری طرف انسان کا بچپن، لڑکپن، جوانی اور کہولت کے بعد بڑھاپے کی مجبوریاں، پھر موت کی گود میں ہمیشہ کی نیند سوجانا- — اگر آپ غور کریں تو فوری طور پر معلوم ہوگا کہ نہیں، نباتاتی زندگی اور انسانی زندگی میں کوئی یکسانیت نہیں، مگر آپ قرآن مجید کی تلاوت کریں گے تو پتہ چلے گا کہ نہیں، انسانی ارتقاء اور نباتاتی زندگی میں بہت حد تک مماثلت ہے، اللہ تعالیٰ نے زندگی کی حقیقت کو کسانوں کی کھیتی سے تشبیہ دی ہے، انسانی عقل کو زندگی کی حقیقت بتلانے اور دنیا کو متاع غرور ثابت کرنے کیلئے لہلہاتے کھیت، اس کا مرجھا جانا اور پھر کسان کا مایوس و نامراد ہوجانے کی کیفیات سے سمجھایا ہے، یہ واقعہ بھی ہے کہ انسانی زندگی کا ارتقاء کسی پیڑ پودے اور کھیت سے الگ نہیں ہے؛ البتہ فرق یہ ہے کہ جس تیزی اور سرعت کے ساتھ نباتاتی زندگی کو بدلتے اور ملیامیٹ ہوتے دیکھتے ہیں تو شاید ہمیں خود پر یقین نہیں ہوتا؛ جبکہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں بلکہ اگر ہم غور و خوض کریں تو خود ہماری نگاہ میں زندگی اتنی ہی رفتار کے ساتھ بدلتی اور زمین دوز ہوجاتی ہے؛ جتنی مدت میں کوئی درخت یا کھیت ہو کا بننا بگڑنا ہو، افسوس کہ کچھ ہی لوگ اس راز کو پاتے ہیں، تکوینی نظام کو سمجھتے ہیں، مالک اور غلام، خالق اور بندہ کا رشتہ جان پاتے ہیں، مگر بہت سے لوگ اس سے انجان ہی زنگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جو باور کرلیتے ہیں وہی مؤمن ہوتے ہیں اور جو نہیں سمجھ پاتے وہ کافر ہوتے ہیں، مگر ہاں! قیامت کے دن دونوں کو ان کی سمجھ کا ثمرہ دے دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کی بہت عمدہ مثال ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: کَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْکُفَّارَ نَبَاتُہٗ ثُمَّ یَہِیْجُ فَتَرٰىہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَکُوْنُ حُطَامًا وَ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ وَّ مَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضْوَانٌ وَ مَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ – (حدید:٢٠) ”(انسانی زندگی کی مثال ایسے ہے) جیسے بارش برستی ہے تو اس سے پیدا ہونے والی روئیدگی کسانوں کو بہت اچھی لگتی ہے پھر وہ کھیتی اپنی پوری قوت پر آتی ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوجاتی ہے پھر وہ کٹ کر چورا چورا ہوجاتی ہے۔ اور آخرت میں بہت سخت عذاب ہے اور (یا پھر) اللہ کی طرف سے مغفرت اور (اس کی) رضا ہے۔ اور دنیا کی زندگی تو سوائے دھوکے کے ساز و سامان کے اور کچھ نہیں ہے۔“

ڈاکٹر اسرار احمد صاحب مرحوم نے مذکورہ آیت کی بڑی جامع تفسیر بیان کی ہے، آپ بیان القرآن میں فرماتے ہیں کہ اس میں انسانی اور نباتاتی زندگی کے مابین پائی جانے والی مشابہت اور مماثلت کا ذکر ہے، یہ مضمون قرآن مجید میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے کہ نباتاتی سائیکل Botanical cycle اور انسانی زندگی کی سائیکل Human life cycle دونوں میں بڑی گہری مشابہت اور مناسبت ہے، اس تشبیہہ سے انسان کو دراصل یہ بتانا مقصود ہے کہ اگر تم اپنی زندگی کی حقیقت سمجھنا چاہتے ہو تو کسان کی ایک فصل کے سائیکل کو دیکھ لو، اس فصل کے دورانیہ میں تمہیں اپنی پیدائش، جوانی، بڑھاپے، موت اور مٹی میں مل کر مٹی ہوجانے کا حقیقی نقشہ نظر آجائے گا۔ { کَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْکُفَّارَ نَبَاتُہٗ } ”انسانی زندگی کی مثال ایسے ہے جیسے بارش برستی ہے تو اس سے پیدا ہونے والی روئیدگی کسانوں کو بہت اچھی لگتی ہے“ { ثُمَّ یَھِیْجُ } ”پھر وہ کھیتی اپنی پوری قوت پر آتی ہے“ { فَتَرٰٹہُ مُصْفَرًّا } ”پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوجاتی ہے“ { ثُمَّ یَکُوْنُ حُطَامًا } ”پھر وہ کٹ کر چورا چورا ہوجاتی ہے۔“ — اس تشبیہہ کے آئینے میں انسانی زندگی کی مکمل تصویر دیکھی جاسکتی ہے، بچہ پیدا ہوتا ہے تو خوشیاں منائی جاتی ہیں، پھر وہ جوان ہو کر اپنی پوری قوت کو پہنچ جاتا ہے، پھر عمر ڈھلتی ہے تو بالوں میں سفیدی آجاتی ہے اور چہرے پر جھریاں پڑجاتی ہیں، پھر موت آنے پر اسے زمین میں دبادیا جاتا ہے جہاں وہ مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے؛ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تشبیہہ صرف دنیوی زندگی کی حقیقت کو سمجھنے کےلئے ہے، تم اشرف المخلوقات ہو، نباتات نہیں ہو، تمہاری اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے جو کہ دائمی اور ابدی ہے اور اس کی نعمتیں اور صعوبتیں بھی دائمی اور ابدی ہیں۔ لہٰذا عقل اور سمجھ کا تقاضا یہی ہے کہ تم اپنی آخرت کی فکر کرو. { وَفِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ وَّمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٌ } ”اور آخرت میں بہت سخت عذاب ہے اور یا پھر اللہ کی طرف سے مغفرت اور اس کی رضا ہے۔“ – – رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے ابتدائی دور کا ایک خطبہ ”نہج البلاغہ“ میں نقل ہوا ہے۔ اس کے اختتامی الفاظ یوں ہیں: …ثُمَّ لَتُحَاسَبُنَّ بِمَا تَعْمَلُوْنَ، ثُمَّ لَتُجْزَوُنَّ بِالْاِحْسَانِ اِحْسَانًا وَبِالسُّوْئِ سُوْئً، وَاِنَّھَا لَجَنَّـۃٌ اَبَدًا اَوْ لَنَارٌ اَبَدًا- ”…پھر لازماً تمہارے اعمال کا حساب کتاب ہوگا اور پھر لازماً تمہیں بدلہ ملے گا اچھائی کا اچھا اور برائی کا برا۔ اور وہ جنت ہے ہمیشہ کے لیے یا آگ ہے دائمی۔“ {وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُوْرِ.} ”اور دنیا کی زندگی تو سوائے دھوکے کے ساز و سامان کے اور کچھ نہیں ہے۔“ تمہاری دنیوی زندگی کی حقیقت تو بس یہی ہے؛ لیکن تم ہو کہ اس حقیقت کو فراموش اور نظر انداز کیے بیٹھے ہو، تمہارے دل میں نہ اللہ کی یاد ہے اور نہ آخرت کی فکر، بس تم اس عارضی اور دھوکے کی زندگی کی آسائشوں میں مگن اور اسی کی رنگینیوں میں گم ہو، یاد رکھو! یہ طرز عمل غیروں کی پہچان تو ہوسکتا ہے، ایک بندہِ مومن کے ہرگز شایان شان نہیں ہے۔ بقول علامہ اقبال:
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے۔
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق!

[email protected]
7987972043

You might also like