Baseerat Online News Portal

محرم اور ہم تحریر: مفتی ناصرالدین مظاہری

محرم الحرام کے شروع ہوتے ہی مسلمان نما یہود، یہود نما ہنود، ہنود نما روافض اور بدعات وخرافات کے دلدادگان کی بڑی تعداد اپنے گھروں میں باجے بجانے لگتی ہے،ڈھولک کی آوازیں سماعتوں سے ٹکرانی شروع ہوجاتی ہیں،ناچ ،راگ اور تماشوں کی وہ وہ حالتیں اور کیفیتیں ان دس دنوں میں دیکھنے کوملتی ہیں کہ الامان والحفیظ۔

آسمان ،زمین، قلم ،حضرت آدمؑ ،حضرت اسماعیلؑ اور حضرت عیسیٰؑ کی تخلیق،اجابت توبہ،رفع حضرت ادریسؑ وعیسی ؑ،کشتئی نوح کی لنگراندازی، نار ابراہیم کا گلزار ہونا، حضرت یوسف ؑکی رہائی ،حضرت یعقوبؑ سے ملاقات،بنی اسرائیل سے نجات ،تورات کا نزول،حضرت سلیمان ؑ کی بادشاہت ،حضرت ایوبؑ کو شفا ،شکم ماہی سے حضرت یونس ؒکی آزادی ، قبولیت توبہ ، قوم یونس سے عذاب کا ٹلنا،پہلی بارانِ رحمت کا نزول،خاتم المرسلین کا نکاح اولین، نواسہٴ رسول جگر گوشہٴ فاطمہ بتولؑ حضرت حسینؒ کی کربلا میں دردناک شہادت اور قیام قیامت یہ سب واقعاب وکرامات،حالات وکیفیات،اہم واقعات اسی تاریخ میں پیش آئے ہیں اس لئے اس کو صرف سیدناحسینؓ سے جوڑ دینا گویا تاریخ کے گزشتہ تمام تر واقعات سے اغماض اور چشم پوشی کے مرادف ہے۔

خاص طورپرمحرم میں نکاح کرنا، مٹھائی کی تقسیم ،پانی یا شربت کی سبیلیں،ایصال ثواب کے لیے کھچڑا اورمختلف کھانوں پکوانوں کی تیاریاں، تعطیلات،ماتم کی مجالس اور تعزیہ کے جلوس میں شرکت یہ سب وہ متعدی لعنتیں ہیں جن میں ہماری کلمہ گوقوم ملوث ہے ۔

میں کس منہ سے شیعوں کی مخالفت کروں حال یہ ہے کہ ہمارے ہی گھرمیں اِس قسم کی بدعات اور خرافات جنم لے چکی ہیں۔جی ہاں میں بات کررہاہوں ایک ایسے قصبہ کی جہاں علمائے دین ہیں،حفاظ کرام ہیں، مدارس دینیہ ہیں، مراکز اسلامیہ ہیں ،یہاں شیعوں کی بڑی تعداد آباد ہے،گھلی ملی آبادی ہے،کہیں شیعوں کے محلے ہیں تو ان ہی میں کہیں کہیں سنی مسلمانوں کی رہائش گاہیں بھی ہیں۔

میں نے ۱۹۸۸سے ۱۹۹۳تک تقریباً چھ سال اسی قصبہ میں تعلیم حاصل کی ہے،میں اگرچہ کم عمرتھا لیکن تھوڑا بہت ہوشمند بھی تھا،کس طرح وہاں ماتمی جلوس میں گلمہ گو مسلمان شریک ہوتے تھے،کس طرح پورے شہر میں جشن اور چراغاں کی کیفیت رہتی تھی،کس طرح پورے شہرمیں ایک عجیب ماحول اورمخمور فضا طاری رہتی تھی اس منظر کوجب بھی میں یادکرتاہوں افسوس ہوتاہے ، آپ حیرت کریں گے کہ اس قصبہ میں اکثریت کلمہ گو مسلمانوں کی ہے، اہل بدعات تو برائے نام ہیں ان کے سارے کام ہم انجام دیتے ہیں،دس محرم کومحلے محلے سے تعزیئے نکالے جاتے ہیں ،ان کو بنانے والے،اٹھاکر چلنے والے، شرکت کرنے والے، کربلانامی (مقامی ) مقام تک پہنچانے والے، تعزیہ کے آگے پیچھے، دائیں بائیں مسلمانوں کاہجوم میری ان آنکھوں نے دیکھاہے ۔سچ کہوں دس محرم کو اہالیان قصبہ اپنے کلمے کو،اپنے مسلک کو،اپنے اسلاف کی تعلیمات کو،اپنی کتابوں کے دروس اور اسباق کو،ماجدکے منبرسے بلند ہونے والی تقریروں کو،رسائل اور کتابچوں، اخبارات و پوسٹروں میں ممانعت اور سدباب کے مضامین سب چیزوں کو بالائے طاق بلکہ بالائے چھت رکھ کر اس ہجوم میں جس شد و مد کے ساتھ شریک ہوتے ہیں اس کودیکھ کراُس وقت اتنی تکلیف نہیں ہوتی تھی کیونکہ کم سن تھا، ایک تماشا اورکھیل سمجھ کرشاید خوشی ہی ہوتی ہوگی کیونکہ مدرسہ میں تعطیل بھی ہوجاتی تھی،آپ خود بتائیں جام بھی ہو،صراحی بھی ہو،سبو بھی ہو،تنہائی بھی ہو، رسم دنیابھی ہو،موقع بھی ہو،دستور بھی ہوتو ایک کم سن اور کم عمر طالب علم کیا اویس قرنی کاکردار ادا کرے گا ہم بھی تماش بینوں کی حیثیت سے کسی نہ کسی ہجوم کاحصہ بن جاتے تھے، کھانے پینے کا خیال کہاں،تھکاوٹ کانام ونشان بھی نہیں محسوس ہوتا تھا۔

سونے چاندی کے تعزیئے، زنجیروں سے اپنے آپ کو لہولہان کرنے کے مناظر، جگہ جگہ لگی ہوئی سبیلیں، کوئی شبر وشبیرکویادکرکے رورہاہے، کوئی حضرت حسینؓ کے قصے روروکربیان کررہاہے، کوئی حضرت حسین کی صاحب زادیوں کی قربانیوں کویادکرکے نالہ و بکاسے آسمان کوسرپراٹھائے ہوئے ہے، کوئی کہیں تقریرسے ،کوئی کہیں مجلس سے،کوئی کہیں کسی اورذریعہ سے محبت حسینؓ اورقربانئی حسین کی نظمیں پڑھ پڑھ کر روپے بٹوررہاہے۔کیسے کیسے لوگ ان تعزیوں پرروپوں کی برسات کرتے تھے توبہ توبہ۔عباوالے، قباوالے،جبہ ودستار والے سب اس دن بے دست وپانظر آتے تھے ۔خود ہمارے مدرسہ کے بالکل متصل ایک بڑا امام باڑہ تھا پتہ نہیں اب بھی ہے یاختم ہوگیا جب کہ اس کے قرب وجوار میں،دور و نزدیک شایدہی کسی شیعہ کاگھرہو۔

دیکھا جو تعزیہ کو تو پنڈت نے یہ کہا
تو نے میرے مندر کا نقشہ چرالیا
کاغذ میں جب حسین کو تو نے بلا لیا
پتھر کی مورتی میں خدا کیوں نہ آئے گا؟

خوددیکھ لیجئے !کہاں نواسۂ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ اورکہاں ان کے نام پرڈھول تماشے،کہاں جگرگوشۂ علی رضی اللہ عنہ اوران کے نام پرخرافات ،کہاں صاحب زادگان وشہزادگانِ صحابہ اوران کی یادمیں یہ بدعات ورسومات۔لاحول ولاقوۃ ولاباللہ

تمام کے تمام صحابہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اورہدایات پرجانیں قربان کرنے والے تھے وہاں دوردورتک یہ بدعات اوران کاتصورنہیں تھا،بہت بعدمیں کچھ عیاش بادشاہوں،کچھ مفسد سازشیوں اورکچھ چاپلوس قسم کے لوگوں نے اپنے عیش وطرب کے لئے یہ چیزیں شروع کردی تھیں تاکہ ان کوکچھ مشغلہ مل جائے ۔ہمارے آقانے رونے دھونے،سینہ کوبی کرنے،ماتم اوربکا ہرچیزسے منع فرمادیاہے، جب تین دن سے زیادہ تعزیت کی اجازت نہیں تویہ چودہ سوسال بعدبھی ہرمحرم میں نوحہ وبکا کی اجازت کیونکردی جاسکتی ہے۔

دوسرے پہلوسے دیکھئے یہ دولت جواس دن تعزیوں اور دیگرخرافات میں خرچ کردی جاتی ہے اسی رقم سے آپ جوان یتیم وبے سہارا غریب بچیوں کے نکاح کرسکتے تھے، تعلیمی اوررفاہی ادارے کھول سکتے تھے،زچہ بچہ کے ہوسپٹل کھول سکتے تھے تاکہ ہماری بہنیں غیروں کے سامنے برہنہ اور رسوانہ ہوں لیکن کچھ نہیں بس ایک لکیرملی ہوئی ہے بالکل کفارومشرکین کی طرح کہ جوکام ہمارے باپ داداؤںنے کام کئے ہیں ہم ان ہی پرچلیں گے۔ قَالُواْ بَلْ وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا كَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ۔

نبی کی نہیں مانیں گے،صحابہ کونہیں مانیں گے،خلفائے اربعہ کونہیں مانیں گے ،بلکہ بہت سے صحابہ کو (نعوذباللہ) گالیاں دیں گے، ان کی کردارکشی کریں گے ،کتابوں اور شریعت کونہیں مانیں گے۔ مانیں گے توصرف شیطان کو اس کے حکموں کو،اس کی ایجاد کردہ رسوم اوربدعات کو۔استغفراللہ ربی من کل ذنب۔

پھرگیارہ محرم کو یہی طبقہ نہایت عجز و انکساری کے ساتھ آپ کے پہلو میں آپ کے ساتھ آپ کی مسجدمیں نماز ایسے پڑھ رہا ہوتاہے کہ اگر فرشتے ان کی تردامنی کودیکھ لیںتوان کے دامن سے ہی وضوکرنے پر فخرکریں اورایک دوسرے سے سبقت لے جائیں۔

کفرکو،کفریہ باتوں کو،بدعات کو، بدعات کے قرب کو،خرافات کو، خرافاتی افرادکو طلاق دیدیجئے،جس کسی نے کسی بھی قوم کی بھی مشابہت اختیارکی وہ ان ہی میں شمار ہوگا اوردنیامیں اگر اسلام کے دشمن سے دوستانہ اوریارانہ گانٹھاہے تو یقین کریں کہ قیامت کے دن ان ہی کے ساتھ محشور کیا جائے گا۔

اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھاہے ،آپ بھی روزہ رکھیں،اس سے پہلے یا بعد ایک دن مزید روزہ رکھنے کاحکم شریعت میں ہے اس لئے ضم روزہ بھی کرلیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل وعیال کے لئے کھانے پینے کے معاملہ میں وسعت کاامرفرمایاہے اس کی بھی تعمیل کریں باقی جوکام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابۂ کرام سے ثابت نہیں ہیں ان سے احتراز و احتیاط کریں۔وشر الأمور محدثاتها، وكل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة، وكل ضلالة في النار۔

You might also like