Baseerat Online News Portal

غزہ پر اسرائیلی جارحیت جاری، شہداء کی تعداد ۱۵؍ ہوگئی

۱۰۰ سے زائد زخمی، اسرائیل کا جنگ کو طول دینے کا اعلان، حماس کا منہ توڑ جواب، ۱۶۰ سے زائد راکٹ فائر ، کئی صہیونی زخمی، تل ابیب مسلسل سائرن سے گونج اُٹھا، یہودی بنکروں میں چھپنے لگے، ترکی، قطر، ایران، سمیت دیگر مسلم ممالک نے اسرائیلی جارحیت کو ناقابل برداشت قرار دیا، مصر کی دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوشش

غزہ پٹی۔۶؍ اگست: اسرائیلی جیٹ طیاروں کی جانب سے ہفتے کو صبح سویرے بھی غزہ میں گولہ باری کی گئی۔اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری میں سنیچر کو غزہ پٹی کے دو مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے اور غزہ کے مختلف علاقوں میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا۔وحشی اسرائیلیوں نے غزہ شہر کے مغرب میں واقع شیخ عجلین محلے میں ایک مکان کی طرف متعدد میزائل داغے اور اس حملے سے آس پاس کے مکانات کو کافی نقصان پہنچا ، اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے خان یونس میں بھی ایک مکان پر بمباری کی جس سے وہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔

اسرائیلی جارحیت کا شکار منہدم عمارت۔

گذشتہ روز سے جاری اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم ۱۵؍افراد شہید ہوچکے ہیں جن میں حماس کے سینئر کمانڈر سمیت پانچ سالہ بچی علاء قدوم بھی شامل ہے۔اب تک ۱۰۰ سے زائد زخمی بھی ہوگئے ہیں۔صہیونی حملوں کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینوں کی شہادت میں اضافے کا خدشہ ہے۔غزہ کے شہداء کے جلوس جنازہ میں حماس کے اعلی کمانڈروں ، مجاہدوں اور فلسطینی عوام کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اسرائیل نے دھمکی دی ہے کہ اگر حماس نے مداخلت کی اور اسلامی جہاد تحریک کی حمایت کی تو وہ غزہ میں اپنی کارروائیوں کو بڑھا دے گا۔اسرائیل کے ایک فوجی ترجمان نے غزہ کی پٹی میں ایک ہفتہ مزید جنگ جاری رکھنے کی تیاریوں کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔فوجی ترجمان اویچائی ادرعی نے بتایا ہے کہ صہیونی فوج نے غزہ کے علاقے میں اسلامی جہاد کے چالیس سے زاید ٹھکانوں پر تیس فضائی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں پچاس میزائل اور راکٹوں کا استعمال کیا گیا۔ترجمان کے مطابق اسرائیلی حملوں میں جن اہداف کو نشانہ بنایا گیا ان میں پانچ میزائل لانچنگ پیڈز، چھ اسلحہ ساز فیکٹریاں، میزائل گودام، ہاون میزائل سٹوریج سائٹ اور جہاد اسلامی کے زیر استعمال چھ کنڑول سینٹر شامل تھے۔اسرائیل فوج نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی پر حملے کے دائرہ کار میں ایک ’’ہائی کمانڈ روم‘‘ قائم کیا گیا ہے اور تقریباً پچیس ہزار ریزرو فوجیوں کو ڈیوٹی پر بلایا گیا ہے۔اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز یہ بھی اعلان کیا کہ غرب اردن کے علاقے میں کم سے کم ۱۹‘اسلامی جہاد کے ارکان کو گرفتار کرلیاگیاہے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق اسلامک جہاد نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی فضائی حملے کو اعلان جنگ قرار دے دیا۔صیہونی حکومت کے حملوں کے جواب میں حماس نے تل ابیب اور صیہونی کالونیوں پر راکٹوں کی بارش کردی اور صیہونی کالونیوں اور تل ابیب پر ۱۶۰راکٹ داغے جس کے نتیجے میں اب تک ۸ صیہونی زخمی ہوئے۔ زخمی ہونے والے صیہونیوں کو اسوتا اور برزیلای ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔صیہونی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ آئرن ڈوم میزائل ڈیفنس سسٹم فلسطینیوں کے راکٹوں کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔فلسطینی مجاہدین کے جوابی حملوں کے بعد تل ابیب میں وحشت پھیل گئی ، وہاں مسلسل سائرن بج رہے ہیں انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔ادھر فلسطین کی نمائندہ مزاحتمی تنظیم حماس نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل دوبارہ جنگی جرائم کا مرتکب ہوا جس کی اسے قیمت چکانی پڑے گی۔اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ جو بھی اسرائیل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے اسے جان لینا چاہیے، ہم اس کو تلاش کر لیں گے۔فلسطینی صدر محمود عباس کے دفتر نے کہا کہ اسرائیلی فوجی کارروائی خطرناک کشیدگی میں اضافے کے مترادف ہے اور انہوں نے عالمی برادری سے اسرائیلی جارحیت کو روکنے کا مطالبہ کیا۔ ترکی کی حکومت نے اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام شہریوں اور بچوں کا قتل عام کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے۔ قطرنے غزہ کی پٹی پراسرائیلی جارحیت کی ’’سخت‘‘ مذمت کی ہے۔ایک مختصر بیان میں قطری وزارت خارجہ نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ شہریوں، خاص طور پر خواتین اور بچوں کے خلاف قابض فوج کے بار بار حملوں کو روکنے کے لیے فوری کارروائی کرے۔قطری وزارت خارجہ نے فلسطینی کاز کے انصاف، برادر فلسطینی عوام کے جائز حقوق اور ۱۹۶۷کی سرحدوں پر مشرقی بیت المقدس کے دارالحکومت پرمبنی فلسطینی ریاست کےقیام کی حمایت کے موقف کا اعادہ کیا۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت کو ’’وحشیانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے فلسطینی مزاحمتی قوتوں کی حمایت کی ہے۔کنعانی نے اپنے بیان میں قابض ریاست کے اقدامات کو ’’مجرمانہ اور اشتعال انگیز‘‘ قرار دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’اسرائیل‘‘ تنہا اس جرم کا ذمہ دار ہے۔ فلسطین اور غزہ کے خلاف جارحیت اور جارحیت کے نتائج کو برداشت کرتا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اشارہ کیا کہ فلسطینی عوام اور مزاحمتی دھڑوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قانون کے مطابق صہیونی ادارے کی جارحیت اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے خلاف اپنے دفاع کے لیے کام کریں۔انہوں نے تمام ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں جس کو انہوں نے مظلوم فلسطینی وطن کے طور پر بیان کیا ہے۔کنعانی نے صہیونی ریاست کو دہشت گردانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئےتازہ کارروائی کو فلسطینیوں کے خلاف جرائم کا تسلسل قرار دیا۔اردن کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت اسلامک ایکشن فرنٹ نے غزہ کی پٹی پرجارحیت کی شدید مذمت کی ہے۔یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ نے ایک بیان جاری کرکے صیہونی حکومت کی جارحیت کے مقابلے میں فلسطینی عوام اور مزاحمتی فلسطینی تنظیموں کے جوابی اقدام کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔ دریں اثناء فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی حالیہ جارحیت کے بعد مصر کی حکومت جنگ روکنے کے لیے حرکت میں آ گئی ہے۔مصر نے تصدیق کی کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری اور فلسطینیوں کی طرف سے راکٹ حملے روکنے کے لیے قاہرہ نے ثالثی کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔مصری حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے ’’کہ قاہرہ غزہ کی پٹی پر بمباری کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔‘‘ مصر نے اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان کشیدگی کو روکنے پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ایک مصری سکیورٹی وفد غزہ کی پٹی کو پرسکون کرنے کے لیے تل ابیب جائے گا، جب کہ مصر کے ایک سرکاری ذریعے نے اعلان کیا ہے کہ قاہرہ، اسرائیل اور فلسطینی فریقوں کے ساتھ رابطے تیز کر رہا ہے تاکہ غزہ کی پٹی میں موجودہ کشیدگی کو ختم کیا جا سکے۔مصری حکومت کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی تنظیموں کے ساتھ اس کے رابطے موجود ہیں اور وہ جنگ بندی کی پوری کوشش کر رہا ہے۔قاہرہ کا کہنا ہے کہ مصر نے اپنے رابطوں کے دوران بچوں سمیت ہلاکتوں اور زخمیوں کے بعد غزہ کی پٹی میں فوجی آپریشن کو روکنے اور پٹی میں فوج کی پیش قدمی روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے نشاندہی کی کہ قاہرہ نے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ معاملات مزید خراب نہ ہوں اور آپریشن مزید آگے نہ بڑھے۔قبل ازیں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے غزہ کی پٹی پر غدار صہیونی جارحیت کی مذمت کی ہے۔ تحریک کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ صیہونی غاصب اس جرم اور اس کی جارحیت کے اثرات کا ذمہ دار ہے جواس نے ہماری قوم پر مسلط کررکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ہم کمانڈر الجعبری اور صالح شہداء کا سوگ مناتے ہیں، ہم اپنے لوگوں کے خلاف صیہونی جارحیت کو روکنے پر زور دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ معاملات تمام سمتوں کے لیے کھلے ہیں۔تحریک کے سربراہ سے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر بہت سے رابطے ہوئے تاکہ اس غیر منصفانہ جارحیت سے کیسے نمٹا جائے۔ان کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق اسماعیل ھنیہ نے سب پر واضح کیا کہ وہ اس جرم کی مذمت کریں اور صہیونی دشمن کو اس کے اثرات اور نتائج کا ذمہ دار ٹھہرائیں۔

You might also like