ہندوستان

کیا اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کرنا مودی حکومت کے لئے مصیبت بنے گا ؟

نینی تال، ۲۲؍اپریل: (پردیش ۱۸)نینی تال ہائی کورٹ نے اتراکھنڈ میں صدر راج کو کالعدم قرار دیا ہے اور ہریش راوت کو 29 اپریل کو ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کیلئے کہا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ مرکز کی مودی حکومت کے لئے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ مرکز کی طرف سے اس معاملہ کی پیروی خود اٹارنی جنرل مکل روہتگی کر رہے تھے،تو ایسے میں عدالت کا یہ فیصلہ مرکز کے لئے کسی بڑے جھٹکے سے کم نہیں ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے کے دوران کہا کہ صدر راج کے نفاذ کیلئے جو آئینی قوانین ہیں، مرکزی حکومت نے اس پر عمل نہیں کیا۔ یہاں تک کہ ہائی کورٹ نے صدر کے فیصلے پر بھی سوالات اٹھائے۔ عدالت نے کہا کہ صدر بادشاہ نہیں ہیں اور ان سے بھی کبھی کبھی غلطی ہوسکتی ہے۔ ان کے فیصلہ کا بھی عدالتی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ ہائی کورٹ نے باغیوں کے اقدام کو ‘آئینی گناہ قرار دہا ۔ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا مودی حکومت نے اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کرکے کوئی مصیبت مول لے لی ہے؟ کیا پھر مرکزی حکومت کا یہ فیصلہ جلد بازی میں اٹھایا گیا قدم تھا؟کیا مودی حکومت کے اس فیصلے سے بی جے پی کو سیاسی نقصان ہوگا؟ کیا اس کا اثر اتراکھنڈ میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات پر پڑے گا؟آپ اپنی رائے تبصرہ باکس میں دیںیا آپ اپنے تبصرے ہماری ای میل آئی اردو ایٹ پردیش 18 ڈاٹ کام پر بھی بھیج سکتے ہیں۔ آپ کی رائے کو ہم اہمیت کے ساتھ جگہ دیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker