مضامین ومقالات

خدمت اسلام پر ملامودی کوسعودی عرب کاسب سے بڑاایوارڈ؟

عبدالرافع رسول
بھارتی ریاست گجرات کے مسلمانوںکے قتل عام پر،پورے بھارت میںمسلمانوں کی حلال خوراک’’ بڑے گوشت ‘‘کوحرام بنانے کی سعی لاحاصل پر،دادری کے واقعہ پر،گھرواپسی کے زندیقانہ پروگرام پر،مسلمانان بھارت کو’’وندے ماترم ،بھارت ماتاکی جے اورسوریانمسکار‘‘جیسے کلمات کفریہ کہلوانے پر،کشمیرکے مسلمانوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلنے پر،اسلام کی اصل شکل کوبگاڑے کے سلسلے میںدہلی میں صوفی کانفرنس منعقدکرنے پر،سوال یہ ہے کہ شاہ سلیمان نے ان تمام خدمات اسلام میں سے مودی کوکس خدمت کے صلہ میں سعودی عرب کے سب سے بڑے اعزازسے نوازا۔افسوس صدافسوس
وہ بھی عرب حکمران ہی تھے کہ جنہوں نے عماد الدین ’’محمد بن قاسم‘‘ کومحض17 سال کی عمر میں اسلامی فوج کاسپہ سالاربناکرسندھ ہندوستان میں ایک مسلمہ خاتون کی آہ اورفریادپراسکی رہائی کے لئے سندھ بھیجااسی طفیل سندھ فتح ہوا ،اورسرزمین ہند بھی اسلام سے متعارف ہوا۔اسی لئے سندھ کو ’’باب الاسلام‘‘کہا جاتا ہے کیونکہ ہند کے دروبام اسی دروازے سے اسلام کے نورسے منورہوئے۔ اس عظیم فتح کے باعث محمدبن قاسم اسلام کوایک مسلمان ہیروکی شان ومقام حاصل ہے ۔ محمد بن قاسم کی آمد کی بر ِ صغیر میں کی روداد مسلمان حکمرانوں کے لئے سبق آموزہے جوجہاںاخوت اسلامی شہکارہے وہیںملی غیرت کی عظیم ترین مثال ہے ۔واقعہ یوں ہے کہ سری لنکا’’سیلون‘‘کے غیر مسلم راجہ نے ایک عرب مسلمان تاجر کے یتیم بچوں، بیوہ اور چند دوسرے عازمینِ حج کو نہایت قیمتی تحائف کے ہمراہ خلیفہ دمشق کی خدمت میں روانہ کر دیا تاکہ اس کی خوشنودی حاصل کر سکے۔ مگر ان کے جہاز کو دیبل ’’کراچی‘‘کی بندرگاہ کے قریب لوٹ لیا گیا اور مسافروں کو قیدی بنا لیا گیا۔ انہیں قیدیوں میں سے ایک عورت نے بآوازِ بلند حجاج بن یوسف ’’جوبڑاسفاک حکمرانوں‘‘تھا کو مدد کے لیے پکارا ۔ حجاج بن یوسف تک اس واقعے کی اطلاع پہنچی تو وہ بے ساختہ پکار اٹھا کہ یہ کسی مصلحت اورحیل وحجت کا وقت نہیں بلکہ یہ ملی غیرت کا سوال ہے۔ حالانکہ انہی دنوں مسلمان اندلس، سپین اور ترکستان کے محاذ علی الترتیب موسی بن نصیر اور قتیبہ بن مسلم کی قیادت میں کھول چکے تھے اورمسلمان فوجیں ان محاذوں پرمصروف تھیں۔اس دوران ایک تیسرا بڑا محاذ کھولنے کی گنجائش نہیں تھی ۔ حجاج نے اتمامِ حجت اور صورتِ حال کو پر امن ماحول میں نپٹانے کے لیے راجہ داہر حاکمِ سندھ کو لکھ بھیجا اور قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ داہر نے نہایت حقارت سے مختصر جواب بھیجا کہ ’’انہیں بحری قزاقوں نے پکڑا ہے اور وہ میری گرفت سے باہر ہیں اگر ہمت ہے تو خود آ کر انہیں پکڑ لو‘‘۔
بالآخر حجاج نے آخری اقدام کا فیصلہ کیا اور خلیفہ وقت ولید بن عبدالملک سے اپنے منصوبے کی منظوری لے لی ۔ اس نے اپنے چچا زاد بھائی کے نوجوان سترہ سالہ ہونہار بیٹے عمادالدین محمد بن قاسم پر اس مہم کو سر کرنے کی ذمہ داری ڈال دی۔ سامانِ جنگ اور رسد میں حجاج نے سوئی دھاگہ تک مہیا کی۔ محمد بن قاسم 92 ھ بمطابق 711میلادی میں کل پندرہ یا بارہ ہزار سپاہیوں کے ساتھ دیبل پر حملہ آور ہوئے اور اسے فتح کر ڈالا۔ اس مہم میں حجاج کی دلچسپی کا عالم یہ تھا کہ علامہ بلاذری کی روایت کے مطابق اسے تازہ بہ تازہ حالات کی اطلاعات بصرہ بھیجی جاتیں اور تین روز کے اندر اندر اس کی ہدایات بھی محمد بن قاسم کو وصول ہو جاتیں۔ محمد بن قاسم نہایت تیزی کے ساتھ 75 میل کے فاصلے پر نیروان شہر پر جا پہنچے ان لوگوں نے پہلے ہی اپنے سفیر حجاج کی خدمت میں روانہ کیے ہوئے تھے اور اس کے ساتھ صلح کر چکے تھے۔ اس کے بعد وہ پے در پے کئی علاقے فتح کرتا ہوا دریا عبور کر کے داہر سے جانبر و آزما ہوا۔ بالآخر سخت لڑائی کے بعد داہر مارا گیا۔ مذکورہ عرب قیدی عورتیں اور بچے راجہ داہر کے ایک وزیر سسکار کی تحویل سے دیبل میں بر آمد ہوئے۔محمد بن قاسم کی سندھ کی سرزمین پرفتوحات کاسلسلہ تقریبا 4 سال رہا۔ فتح سندھ کے بعد انہوں نے یہاں کا نظام حکومت انتہائی کامیابی سے چلایا۔ اس نظام کی کامیابی یقینا ان کی شخصیت کی مرہون منت تھی۔یہ تھے وہ عرب آیئے چلتے ہیں اور آج کے عرب آمروں کے کرتوت ملاحظہ کرتے ہیں۔مسلمان حکمرانوں کے اندازحکمرانی کی تصویرکایہ ایک رخ ہے ۔
تصویر کادوسرارخ یہ ہے کہ 2 اپریل 2016کومسلمانان ہندکوکفریہ کلمات وندے ماترم، سوریہ نمسکار ، بھارت ماتاکی جے کہلوانے پرمصر ، پریوارکو گھر واپسی کا سب سے پہلے تحفہ دینے اور گائوخوروں کے چھکے چھڑانے والی،ریاست جموں وکشمیرکے علاقوںجموں ،ادھم پور،سانبہ اورہندوارہ اورکپوارہ کوخون مسلم سے نہلانے والی بھارتیہ جنتاپارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعدبھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے پہلے متحدعرب امارات کاطوفانی دورہ کیااوراس کے چندماہ بعدہفتہ2اپریل2016 کو وہ سعودی عرب پہنچے توسعودی سرکار نے ان کا پر جوش استقبال کیا۔استقبالیہ پر سندل کی لکڑیوں کی دھونی دی گئی ،جب ریش سپید مودی نے خوشبودار دھویں کو مذہبی روایت سمجھتے ہوئے عقیدت سے ہاتھ جوڑ لئے۔ سعودی ظل الٰہی کے کٹ ریشوں’’فرنچ کٹوں‘‘ کو باریابی کا شرف بخشا، مصا فحے معانقہ کئے، مسکراہٹوں کی چاند ماریاں کیں،نئے الفاظ تراشے، اندازِ گفتار بدلا،توشاہ سلیمان نے نریندر مودی کو سعودی عرب کے اعلیٰ سول ایوارڈسے نوازا۔سوموار4اپریل 2016کومودی کوسعودی عرب کاسب سے بڑاایوارڈ ’’شاہ عبدالعزیز ایوارڈ ‘‘دیاگیا یہ ایوارڈ دہلی کے لیے روانگی سے قبل شاہی دربار میں عطا کیا گیا۔بلاشبہ قصر سلطانی میںتخت شاہی پرمتمکن ظل الہٰی سعودی حکمران کی بھارت کے تئیںر رطب اللسان اورمودی کے حق میں مدھر لے چھوڑتے ہوئے، مودی کو اعلیٰ سول ایوارڈ سے نواز اجس پرمودی ،موہن بھاگوت، بال ٹھاکرے، راج ٹھاکرے، ساکھشی مہاراج ، پروین توگڑیانہال تھے کہ چلوشکرکہ قصر سلطانی میںتخت شاہی پرمتمکن ظل الہٰی سعودی حکمران کم ازکم مسلمانوں کے تئیں ان کے عزائم سے بے خبرہیں تودوسری طرف جموں و کشمیر کے مظلوم عوام اورگجرات کے لٹے پٹے مسلمان ورطہ حیرت اورشش وپنج میں پڑگئے کہ جنکی زمین وزمن خوں بار ہے اورجنہیں بندوق اور خنجرکے گہرے گائو کاسامناہے ۔ان خاک نشینان کوپہلے یہ گمان گزرا کہ شایدوہ اس طرح کایہ کوئی خواب دیکھ رہے ہیںمگر ٹیلی ویژن کاجام ِ جم نظروں کا میزباں تھا ، پل پل تصویر ِیں اورزندہ حقائق کاایک جہاں دکھارہا تھاتویقین آنے پر وہ کف افسوس ملتے رہے،وہ اس کے علاوہ اورکیاکربھی سکتے تھے۔عفو خدایا!
جب ہم اپنے حافظے کی لوح کو ماضی کے دھندلکوں سے نکال کے ٹٹولتے ہیں اورپاتال کھنگالتے ہیںاورحادثاتِ زمانہ کی بیاض کی ورق گرادنی کرنے بیٹھتے ہیں تواس پرکہیں یہ نظرنہیں آتاکہ قصر سلطانی میںتخت شاہی پرمتمکن ظل الہٰی سعودی حکمرانوں نے بھارتی وزرائے اعظموں کے سامنے کشمیرکے حوالے سے کم ازکم بے کلی کااظہارکیاہو۔حالانکہ مرکزاسلام کے ان متولیوں کی یہ اولین اورلابدی ذمہ داری تھی کہ اہل کشامرکے لئے وہ دل کے دروازے کھول دیں اورجگر کی کھڑکیاں واکریں، سٹیٹ لیول پروہ کشمیرکامسئلہ اٹھاکراس کے حل کے لئے چاردانگ عالم آوازبلندکرتے پرافسوس ایساآج تک کبھی نہیں ہوا۔کیامجال کہ قصر سلطانی میںتخت شاہی پرمتمکن ظل الہٰی سعودی حکمران مودی جی سے اس امرپراحتجاج کرتے کہ جی اقتصادی تعلقات اپنی جگہ مگرگجرات میں مسلمانوں کے ساتھ خون کی ہولی کیوں کھولی گئی، دادری میں اخلاق احمد کا قتل کس جرم کی پاداش میں ہوا؟ مظفر نگر میں مسلمان کیوں پٹ گئے؟ اودھم پور جموںمیں ایک کشمیری نوجوان کو کس ناکردہ جرم میں بلوائیوں نے زندہ جلادیا؟کس گناہ کی پاداش میں سروڑی سانبہ میں بے قصور گجربستی کو آگ لگاکربھسم کردیاگیا؟ظل الٰہی کے اس کرداروعمل کودیکھ کربندہ!سرپکڑکربیٹھے رونے پرمجبورہوجاتاہے۔
لیکن جب تاریخ کی سطورہتھوڑابن کردماغ پرپرستے ہوئے اسے یہ یاد دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ سعودی عرب کے ظل الٰہی ہی کیوں موردالزام،تمام عرب مملکتیں اورمملکت ایران ان سب میں کس نے کب بھارت کے حکمرانوں کے سامنے تمہارے حق خودارادیت کی بات کی اور یہ کہاکہ کشمیریوں کوچھوڑوںاورانہیں اپناپیدائشی حق فراہم کروتوپھریقینی طورپران سب کے مجرمانہ عمل وکردارپرترس آجاتاہے۔البتہ جب سعودی فرمانرواشاہ سیلمان کی طرف سے مودی جی کی زبردست آئوبھگت اور’’وارم ویلکم ‘‘دیکھ کربندہ مظلوم پریشان ہوجاتاہے توساتھ ہی پھریہ بھی یادپڑتاہے کہ یہ کب غمخوارامت تھے ۔یادپڑتاہے کہ موجودہ ظل الٰہی شاہ سلیمان کے پیشرو،ان کے برادرشاہ عبداللہ مرحوم ہی تھے ناکہ جنہوںنے مسلمانان عالم کے قاتل جارج ڈبلیوبش اوراوباماکوسعودی عرب کے سب سے بڑے سول ایوارڈ سے نوازکراسلام اورمسلمانوں کی خدمت کابھرپورحق داداکردیا۔آہ ! کہاں کھوگئی بلکہ خاک میںمل گئی ہے مسلمان حکمرانوں کی وہ جرات رندانہ ،انکے ارادوں کی رفعت، اورانکے ایمان ویقین میں حرارت جوکسی وقت ان کاطرہ امتیازہوتاتھا۔
شاہانہ طرز زندگی اور عیش و عشرت کے رسیا عربوں کے نزدیک دولت کا خرچ ہی عزت و اقدار کا پیمانہ بن کر رہ گیا ہے، مغربی ممالک میں محلات ان کی شناخت بن چکے ہیں۔عرب ریاستیں اس وقت ایک طرف برادرکشی کا شکار ہیں تو دوسری ان ریاستوں کے مخبوط الحواس آمر جزیرہ نمائے عرب کی بنیادیںکھوکلا کرنے میں مصروف ہیں۔ عرب ریاستوں کے گمراہ اور عیاش حکمرانوں کی گمراہی اورانکی عیاشیوں کاہی یہ نتیجہ ہے کہ آج امت مسلمہ عتاب کی شکارہے اوراس کاانگ انگ مجروح ہے ۔جس طرح برطانوی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل تھامس ایڈورڈ لارنس آف عربیہ اس وقت کے عربوں کوچکمہ دینے میں کامیاب ہوا، بھارتی وزیراعظم نریندرمودی بھی اسی طرح عرب ریاستوں کے عیاش حکمرانوںکے لئے لارنس آف عربیہ ثابت ہورہے ہیں۔ یہ موجودہ عرب ریاستوں کے بادشاہ ہی ہیں کہ جنہوں نے محض اپنے خاندانوںکی حکمرانی ،اوراپنی بادشاہت قائم کرنے کے لئے برطانوی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل تھامس ایڈورڈ لارنس آف عربیہ کابھرپورساتھ دے کرخلافت عثمانیہ کاخاتمہ کردیاتھااورجزیرہ نمائے عرب عربستان کوٹکڑوں میں بانٹ کرعملی طورپراس شیرکی ٹانگیں کاٹ کراسے اسرائیل کے سامنے انتہائی بے بسی کی حالت میں ڈال دیا۔ جب سے عرب شیخوں نے خلافت عثمانیہ پرشب وخون ماراتب سے آج تک امت اسلامیہ کاوہ اقتداراعلی بحال ہوسکااورنہ ہونے دیاگیااسلام نے جسکے قیام کافریضہ امت مسلمہ کوسونپاتھا اب عالمی اسلامی تحریکوں کے بڑھتے ہوئے قدموں کوروکنے کے لئے عرب ریاستوں کے عیاش حکمران بھارت کے ساتھ یارانہ گانٹھ کراسے لارنس آف عربیہ کاکردارسونپ رہے ہیں۔کشمیرمیں مسلسل مسلمانوں کے قتل عام اوران کی ’’ھل من ناصرانصرنا‘‘کی دلدوزچیخ وپکارجبکہ بھارت میں بدستورمسلمانوں کاعرصہ حیات تنگ ہونے اورانکی آہ وبکاکوکسی خاطرمیں لائے بغیرسعودی عرب کے بھارت کے ساتھ تعلقات مضبوط سے مضبوط ترہورہے ہیں گذشتہ برسوں سے لگاتاربھارت اورسعودی عرب کے حکمرانوںکے درمیان گاڑھی چھن رہی ہے ۔
2010 میں بھارت کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ ریاض گئے تھے جہاں دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ جس کے بعد اس وقت سعودی وزیر دفاع اور موجودہ بادشاہ شاہ سلمان نے 2014 میں بھارت کادورہ کیا اور دفاعی تعاون پر مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کیے گئے۔اس سے پہلے 2012 میں ایک قابلِ ذکر تبدیلی اس وقت آئی، جب سعودی عرب نے ممبئی حملوں میں ملوث ذبیح الدین انصاری’’ابوجندل ‘‘کوبھارت کے حوالے کیا۔جبکہ اتوار16اگست 2015 کو بھارت کے جنگی طیارے ایک سو کے قریب اعلی افسروں اور عملے کو لے کر یکے بعد دیگرے سعودی عرب کے شہر طائف کے ہوائی اڈے پراترنا شروع ہوئے۔ سب سے پہلے سخوئی ایم کے ون، پھرC-17 گلوب ماسٹر پھر C-130سپر ہرکولیس اور سب سے آخر میں IL-78نے لینڈکیا۔ شاید سعودی عرب کی تاریخ میں اس کی سرزمین پر بھارتی ایئر فورس کی یہ پہلی لینڈنگ تھی۔یہ دونوں معاملے کوئی آسان نہیں بلکہ خوفناک ہیں اورجسے یہ پتہ چلتاہے کہ کس طرح بھارت کوسعودی عرب سے سیکورٹی تعاون حاصل ہے اورکس طرح سائبر سیکورٹی کے حوالے سے دونوں کے درمیان گاڑھی چھن رہی ہے۔
یہ ایک مبرہن حقیقت ہے کہ سعودی حکمران خاندان معیشت کو فوقیت دیتا ہے اور ،تجارتی و سفارتی تعلقات کے معاملہ میں سعودی عرب لبرل سوچ کا قائل ہے البتہ ملوکیت کی بقاکے لیئے مذہب کو’’ نظریہ ضرورت ‘‘کے تحت استعمال کیا جاتا ہے۔ تجارتی تعلقات کے سامنے دین ،اسلام چاردانگ عالم مسلمانوں کی مظلومیت کے ساتھ اسے کوئی سروکارنہیں۔یہی وجہ ہے کہ سرزمین کشمیرروزخون مسلم سے رنگین ہورہی ہے جبکہ بھارت کاپشتنی باشندہ مسلمان زیرعتاب ہے لیکن اسکے باوجود بھارت کی معیشت کو مستحکم کرنے میں سعودی عرب بدستوراہم کردار اداکررہاہے ۔ کشمیرسے بھارت تک مسلمان کٹ مررہے ہیں جبکہ موحدین کہلانے والوں کے سفاک مشرکین وکفارکے ساتھ برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔سعودی عرب بھارت کو تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔اس کے علاوہ سعودی عرب میں بھارتی تاکین وطن کی بڑی تعداد بر سر روزگار ہے۔سعودی عرب انڈیا کا پانچواں بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 25 ارب ڈالر بڑھ کر48 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔سعودی عرب میں 30 لاکھ بھارتی باشندے ملازمت کرتے ہیںجوزرمبادلہ کے طورپربھارت کی اکانومی کی ریڑی کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔دنیائے سیاست کے پنڈتوں کاکہناہے کہ آخراس میں مظلوم مسلمانوں کو حیرت ہی کیوں ہوتی ہے کہ جب صورتحال یہ ہو کہ جس طرح بھارت جنوبی ایشیامیں امریکہ کا سب سے بڑا حلیف سمجھا جاتا ہے اسی طرح سعودی عرب خلیجی ممالک میں امریکہ کا سب سے بڑا حلیف ہے۔اس لئے ’’انکل سام ‘‘امریکہ اسٹریٹیجک معاملے کے طورپردونوں کی قربت بڑھانے میں اہم کرداراداکررہاہے۔
ہمارے قارئین کویادہوگاسعودی حکمرانوں سے قبل گذشتہ برس متحدہ عرب امارات کے حکمران خاندان نے بھی مودی کے دورے کے موقع پر اپنی آنکھیں فرش راہ کیں،جس پرچاردانگ عالم مظلوم ومجبورمسلمانوں کورنج توپہنچاتھالیکن وہ متحدہ امارات کے ان حکمرانوں سے اس سے برعکس بھی کوئی بہترامید بھی نہیں رکھ رہے تھے کہ جنہوں نے متحدہ عرب امارات کوابلیس کی آماجگاہ بنادیاہے ۔دبئی کی بلند و بانگ عمارات، کشادہ شاہراہوں، پلازوں، تجارتی و کاروباری مراکز،شاپنگ مالز،ہرقسم کے عیاشی کے اڈوں،جواکھیلنے اورسٹہ لگانے والوں، نائٹ کلبوں،مادرپدرآزاد،ننگے بدن بیٹھے کے مقامات تفریحی ساحلوں اور چار سو آنکھوں کو چندیا دینے والی روشنیوں کا شہر دبئی جس کا شمار عالمی سرمائے کی محفوظ ترین پناہ گاہوں میں ہوتا ہے، ٹیکس فری ہونے کی وجہ سے تیسری دنیا کے بیشتر ٹیکس چور اور بدعنوان نو دولتیوں سمیت کالے دھن انڈرورلڈ کے بیوپاریوں کی بھی دبئی خاص آماجگاہ ہے۔ اس شہر کی انہی رنگینیوں کے باعث یہ متحدہ عرب امارات جو سات چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے مالکان شیوخ خاندانوں کے ایک وفاقی اتحاد پر مشتمل ہے کی خاص پہچان بنا ہوا ہے۔سیاحت کے عالمی مرکز نے اس مسلمان شہر کے مسلمانانہ تشخص بھی ختم کر دیاگیا۔ سیاحت وہاں کونسی ہے نہ آبشار ہیں نہ پہاڑ اور نہ ہی تاریخی مقامات، البتہ نائٹ لائف کے نام آپ کو سیاحتی کتابچے ضرور میسر آ جائیں گے۔ان تمام خرابیوں میں ایک کمی ضروررہ گئی تھی وہ یہ کہ دبئی میں بس ایسے مندرکی کمی تھی جسے ہندمیں مساجدڈھانے والے مودی کے ذریعہ سے افتتاح ہوجائے سوگذشتہ برس وہ بھی پوری ہوئی،اوربھارت میں مساجدگرانے والے نریندرمودی کودبئی میںمندر کاتحفہ دیاگیا۔
وہ جزیرہ نمائے عرب جہاںجاہلیت کے زمانے میں جگہ جگہ بت خانے قائم تھے اورلاشریک رب کوچھوڑکر لوگ بتوں کی پوجا پاٹ کیا کرتے تھے پیغمبراعظم صلعم نے آج سے چودہ سو سال قبل بتوں کوتوڑا ،اورشرک و بت پرستی کا خاتمہ کر دیا تھا، اسی جزیرہ نمائے عرب کے ایک حصے میںآج کے عرب حکمرانوںنے پھرسے لات ومنات اورحبل نصب کرنے کیلئے مندر کی تعمیر کے لیے زمین دی،اگرچہ یہ بہت بڑاالمیہ ہے لیکن پیغمبراعظم صلعم نے ساڑھے چو سوسال قبل ان سب علامات قیامت کی خبر دی جو ایک ایک کرکے ظاہرہوکررہیں گی۔انہی علامات میںپیغمبراعظم صلعم نے ارشادفرمایاکہ قیامت قائم نہیں ہو گی، یہاں تک کہ دوس قبیلہ کی عورتیں ذوالخصلہ کے بت خانہ میں چکر نہ لگائیں۔(بخاری) عرب کے جنوب مغرب میں دوس قبیلہ رہتا تھا جن کا بت خانہ ذوالخصلہ کے مقام پر تھا۔ دین حق پھیلا تو اس کا نام و نشان تک ختم ہو گیا۔
ذوالخصلہ کے بت خانے کا چکرسے شایدمرادیہ ہے کہ عرب پھربتوں کی طرف راغب ہونگے اوربت کدہ ہند بھارت عرب میں اس قدر اہمیت اختیار کر جائے گا کہ وہ مسلمان ممالک کوچھوڑ کراسکے ساتھ تجارت کریں گے ،روابط بڑھائیں گے اور اسی پرانحصارکربیٹھیں گے۔
سوموار17اگست2015 کو دبئی کے فرمانروا شیخ محمد بن راشد المکتوم کے علاوہ ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاہد النہیان نے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کا ایئرپورٹ پر استقبال کیاگیا ۔مودی نے اپنے دورے کا آغاز ابوظہبی کی شیخ زائد مسجد کے دورے سے کیاتھا۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا متحدہ عرب امارات کا دورہ جن دو وجوہات سے بھارت کے عام عوام میں کافی دنوں تک بحث بنارہا، ان میں سے ایک ہے شیخ زاید مسجد میں ان کا جانا اور دوسرا متحدہ عرب امارات کے شیخوں کی طرف سے ابوظہبی میں مندر کی تعمیر کے لیے زمین کا دیا جاناتھا۔یہ پہلاموقع ہے کہ جب مودی کسی مسجدکودیکھنے کے لئے گئے ہوں،اس پہلے شایدہی وہ کبھی کسی مسجد میںگئے ہوںگے۔عرب امارات کے شیخوں کی حکومت نے مودی کی خواہش پر مندر کا اعلان کر کے ایک خیر سگالی پیغام دینے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط کرنے کی خواہش واضح طور پر ظاہر کی تھی۔34سال بعد وہاں پہنچنے والے کسی بھارتی وزیر اعظم کے لیے اس سے اچھا تحفہ بھلا عرب کے شیخوں کی طرف سے اور کیا ہو سکتا تھا؟اورمندر کا اعلان ان کے ہندو نظریاتی حامیوں کے درمیان ان کی تشخص قائم رکھنے میں مددگار ہوگا۔سکل کیپ پہننے سے انکار کر دینے اور مسلسل دو سال صدر کی افطار پارٹی میں نہ جانے کے بعد مودی اگر شیخ زاید مسجد کو اپنے سفر میں شامل کرتے تویہ بڑامعنی خیزتھا۔اس موقع پرگلف نیوز میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں مودی نے کہا تھاکہ متحدہ عرب امارات میں ایک چھوٹا بھارت آباد ہے۔سات ریاستوں پر مشتمل متحدہ عرب امارات میں لگ بھگ 26 لاکھ بھارتی تارکین وطن آباد ہیں جو متحدہ عرب امارات کی کل آبادی کا ایک تہائی حصہ ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم بھارتی اندازا سالانہ 14 ارب ڈالر زرمبادلہ بھارت بھیجتے ہیں۔اس موقع پرمودی کاکہناتھاکہ بھارت متحدہ عرب امارات کا دوسرا بڑا تجارتی ساتھی ہے جبکہ متحدہ عرب امارات امریکہ اور چین کے بعد بھارت کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔گزشتہ برس بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارت کا حجم 60 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔اور دونوں ممالک کے سفارتی اور معاشی تعلقات کی ترقی ہو رہی ہے، اس کے علاوہ دفاع شعبے اور توانائی کے شعبے میں بھی تعاون فروغ پا رہا ہے۔
سعود ی عرب فی کس سالانہ آمدن 25ہزار ڈالر، کل جی ڈی پی 09 کھرب ، 27 ارب ، 76 کروڑ ڈالر۔ بحرین 28 ہزار 691 ڈالر، کویت ایک لاکھ19 ہزار ایک سو ایک ڈالر، مراکش3260 ڈالر، متحدہ عرب امارات ایک لاکھ چھبیس ہزار سات سو ڈالر، سلطنت اومان24 ہزار 700 ڈالر، قطر ایک لاکھ 53 ہزار اور لیبیا18ہزار 130 ڈالر فی کس آمدنی کے اعتبار سے سر فہرست ممالک ہیں۔ ان میں کویت، سعودی عرب، قطر، اور دیگر خلیجی ریاستیں بے پناہ قدرتی وسائل کی مالک ہیں۔ یہاں کے لوگوں کی امارت اور دولت و ثروت کا اندازہ لگانے کے لیے ’’گلف نیوز‘‘ کی ایک رپورٹ کے اعدادو شمار ملاحظہ کیجئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر صرف کویت، قطر اور سعودی عرب اپنی مجموعی دولت کا 10 فی صد خیرات کردیں تو افریقا کے صومالیہ جیسے چھ غریب ملکوں کی آٹھ کروڑ آبادی کو تیس سال تک خوراک فراہم کی جا سکتی ہے۔امریکی بزنس جریدیفوربز کی رپورٹ کے مطابق فی خاندان دولت کے اعتبار سے سعودی عرب خلیجی ممالک میں پہلے نمبر پر ہے۔ سوئس کریڈٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق پوری دنیا کی فی کنبہ دولت 241 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ جبکہ سعودی عرب کا اس میں حصہ چھ کھرب ڈالر ہے۔ جو کسی بھی دوسرے عرب ملک کی فی خاندان دولت کے اعتبار سے سب سے زیادہ ہے۔ اگر اس خطیر رقم کا عشر عشیربھی غریب ملکوں کے عوام کو دے دیا جائے تو ان کی زندگیاں بدل سکتی ہیں۔ فی کس دولت کے اعتبار سے قطر عرب ممالک میں پہلے نمبر پرہے ۔2013 کے دوران قطر میں فی کس آمد ن سالانہ ایک لاکھ 53 ہزار 294 ڈالر بتائی گئی۔ فی کس دو لت کے اعتبار سے متحدہ عرب امارات ایک لاکھ26 ہزار 791 ڈالر کے ساتھ دوسرے اور کویت ایک لاکھ 19 ہزار 101 ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیاکررہے ہیں عرب حکمران اس سیال دولت کا؟کیاغلام آزادکرنے پراپنی دولت خرچ کررہے ہیں یامسلمان ممالک میں پائے جانے والی بدترین قسم کی غربت وافلاس کے خاتمے پراپنایہ زرخرچ کررہے ہیں جس کاواضح حکم قرآن وسنت میں موجودہے ؟۔افسوس سے یہ کہناپڑتاہے کہ یہ دولت عرب حکمران محض اپنی عیاشی کے لئے جمع کررہے ہیں اوراسی پرصرف بھی کررہے ہیں۔ہمارے قارئین کی معلومات میں اضافہ کرنے کے لئے کئی رپورٹس کومیں اس لئے شامل مضمون کررہاہوں تاکہ انہیں یہ اندازہ ہوسکے کہ عر ب حکمرانوں کادشمنان دین ،اوران کفارومشرکین کے ساتھ تعلقات مضبوط سے مضوط ترہورہے ہیںکہ جوپانی کی طرح مسلمانوں کاخون بہارہے ہیں،پرایسے میں افسوس کااظہارکیوں کیاجائے جبکہ وہ اپنے عرب ریاستوں اوراپنی نسل سے بھی بیگانگی اختیارکئے ہوئے ہیں،کوحکمران اپنی نسل اوراپنے پڑوس عرب ریاستوں سے غافل ہیں توان سے پھریہی توقع رکھنی چاہئے کہ وہ مودی ،جارج ڈبلیوبش ،اوباماکواس کی اسلام دشمنی پراعزازات سے نہیں نوازیں گے تواورکیا۔
1945 میں جب قاہرہ میں’’ عرب لیگ‘‘ کی اساس رکھی گئی تو عرب اقوام میں غربت کا خاتمہ، وسائل کی منصفانہ تقسیم، عرب ممالک کے مابین سیاسی اور جغرافیائی تنازعات کا پرامن حل اور لیگ کے فورم کے ذریعے کسی بھی تیسری طاقت کے ساتھ مذاکرات یا طاقت کا استعمال جیسے نکات بنیادی مقاصد قرار پائے تھے۔اب عرب لیگ کی عمر70 برس ہورہی ہے۔ ان ستر برسوں میں لیگ کے مقاصد اور اہداف میں ان بنیادی نکات کے ساتھ کئی دوسرے نکات بھی شامل ہوئے لیکن عملا یہ اتحاد کوئی بڑا معرکہ سر نہیں کرسکا ہے۔ عرب لیگ کے ہوتے ہوئے فلسطین میں یہودیوں کے لیے قومی وطن کا اعلان کیا گیا۔عرب لیگ کے رکن ممالک کو اسرائیل نے تین جنگوں میں شکست دی۔ 2011 میں عرب ریاستوں میں انقلاب کی تحریک اٹھی تو’’عرب لیگ‘‘ تماشا دیکھتی رہ گئی۔ لیبیا میں کرنل معمرقذافی نے عوام پر طاقت کا استعمال کیا تو’’ نیٹو‘‘ کو مداخلت کرنا پڑی۔ شام میں خونی تحریک چوتھے سال میں داخل ہوچکی اور اب تک تین لاکھ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں لیکن عرب لیگ کے راہنمائوں کی نشست وبرخاست کوئی رنگ نہیں دکھا سکی۔ یوں دفاعی اور تزویراتی اعتبار سے بھی یہ اتحاد بدترین ناکامی سے دوچار ہوا۔ اس لیے یہ تنظیم عربوں کی قوت میں اضافے کا موجب بننے کے بجائے مفاداتی گروپوں کے بلاکس میں بٹی اور بڑے عرب ملکوں کے بوجھ تلے دب کررہ گئی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق عرب لیگ کے بنیادی ایجنڈے میں عرب اقوام کا معیار زندگی بلند کرنے کا نکتہ شامل ہونے کے باوجود تنظیم کے ایجنڈے پرسیاسی معاملات ہمیشہ چھائے رہے ، اس لیے لیگ اپنے رکن ممالک میں غربت و افلاس اور بھوک وننگ کی خلیج نہیں پاٹ سکی ہے۔ لیگ کے رکن ممالک میں ایک طرف سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، اومان، قطر اور لیبیا جیسے قدرتی تیل، گیس اور معدنیات کی دولت سے مالا مال ملک ہیں۔ وہاں پر صومالیہ، سوڈان،یمن، عراق اور موریتانیہ جیسے ممالک میں بسنے والے کروڑوں لوگوں کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔
خلیج، مشرق وسطی اور افریقا کی مکمل آزاد اور نیم خود مختار عرب ریاستوں کی مجموعی تعداد تیس کے قریب ہے ، لیکن ان میں سے 22 ممالک سعودی عرب، بحرین، مصر ، کویت، جزائر القمر، اردن، عراق، یمن، جیبوتی، لبنان، لیبیا، موریتانیہ،مراکش، اومان ، قطر، سومالیہ، سوڈان، فلسطین، شام، تیونس اور متحدہ عرب امارات لیگ کے رکن ہیں۔البتہ شام میں جاری موجودہ خانہ جنگی کے باعث عارضی طور پر اس کی رکنیت معطل ہے ۔ زبان، کلچر، مذہب، تہذیب وثقافت کی یکجائی کے باوجود وسائل اور معیار زندگی کے اعتبار سے ان ملکوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ دولت و ثروت اور غربت وافلاس میں ان دو درجن عرب ممالک میں ایک گہری خلیج حائل ہے۔ عرب برادری میں پائے جانے والے اس منفرد تضاد میں ایک ملک کی دولت کا کوئی حساب نہیں اور دوسرے کے عوام زندگی کی سانسیں بحال رکھنے کے لیے روٹی کے ایک ایک لقمے کو ترس رہے ہیں۔
مثل مشہور ہے کہ علم بھوک سے حاصل ہوتا ہے لوگ اسے سیری میں تلاش کرتے ہیں بھلا کیسے پائیں گے۔بے پناہ دولت کے مالک عربوں نے اس ضرب المثل کو سچ کردکھایا۔ ان کی دولت سیر سپاٹوں اور عیاشیوں پرصرف ہورہی ہے۔یہ کوئی جذباتی تخیل نہیں بلکہ اقوام متحدہ جیسے مستند ادارے کے اعدادو شمار ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس و ثقافتیونیسکو کی حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بہ کثرت دولت کے باوجود عرب ملکوں کے 43 فی صد بچے نا خواندہ ہیں۔’’تعلیم سب کے لیے کے زیرعنوان‘‘ اقوام متحدہ نے پوری دنیا میں شرح خواندگی کا ایک جائزہ پیش کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب کے قریب بچے بنیادی تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں ان میں پانچ کروڑ بچے عرب ممالک کے بھی شامل ہیں ۔ان میں یمن کا نام پھر سرفہرست ہے کیونکہ یمن میں صرف 36 فی صد بچوں کو بنیادی تعلیم کی سہولیات میسر ہیں اور باقی نور علم سے یکسر محروم۔ یمن میں جس رفتار سے تعلیمی سہولیات کا نیٹ ورک پھیل رہا ہے اگر اس میں اضافہ نہ ہوا تو سو فی صد شرح خواندگی میں 58 سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ ناخواندگی اور بچوں کی بنیادی تعلیمی سہولیات کے فقدان کے اعتبار سے نائیجیریا دوسرے نمبر پر ہے ۔یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طورپر عرب ممالک 129 ارب ڈالر کی رقم تعلیم پرصرف کرتے ہیں لیکن اس کا نتیجہ صفر ہے۔ اس کی بنیادی وجہ حکومتوں کے اللے تللے ہیں۔ تعلیم کے لیے بجٹ منظور کر لیا جاتا ہے مگر اسے صرف کرتے ہوئے نہایت بخل سے کام لیا جاتا ہے۔ اربا ب اختیا ر بچوں کی تعلیم کا بجٹ اپنے عالمی دوروں اورعیش و عشرت پر صرف کردیتے ہیں، جس کے نتیجے میں ناخواندگی کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جس رفتار سے عرب ممالک میں شرح خواندگی بڑھ رہی ہے اگر رفتار وہی رہی تو اسے سو فی صد تک لانے میں 70 سال کا عرصہ درکار ہوگا ۔
یہ ان عرب ملکوں کی حالت ہے جو دولت و ثرولت کے ڈھیر پر پلتے ہیں جنہیں خود بھی اپنی دولت کا اندازہ نہیں۔ رہے افریقا کے غریب عرب ممالک تو ان کے پاس تعلیم کے لیے بجٹ بچتا ہی نہیں ہے۔ صومالیہ جیسے شورش زدہ ملکوں میں جتنی کچھ تعلیمی سرگرمیاں ہو رہی ہیں وہ غیرملکی این جی اوز کے تحت ہیں۔ سرکاری سکولوں کا معیا ر اس قدر پست ہے کہ تیس تیس مربع کلو میٹر کے علاقوں میں صرف ایک مڈل اسکول بھی دستیاب نہیں ہے۔تعلیم کا یہ معیار اور دوسری طرف عربوں کی شہ خرچیاں دیکھ کریہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ ان کے ہاں بچوں کی بنیادی تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خلیجی ممالک کے 70 فی صد لوگ بیرون ملک سیرو سیاحت پر جاتے ہیں اور سالانہ تین کھر ب ڈالر کی رقم عیاشیوں پر اڑاتے ہیں۔ان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین کویت او ر اومان سر فہرست ہیں۔بات صرف شہ خرچیوں تک محدود نہیں بلکہ اس سے بھی ایک خوفناک شکل خوراک کا ضیاع ہے۔ اس ضمن میںناجائزریاست اسرائیل کے عبرانی میگزین ’’ہارٹز‘‘ کی رپورٹ میں ہوش ربا اعدادو شمار بیان کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خلیج کے امیر ممالک سالانہ چار ملین ٹن خوراک ضائع کرتے ہیں جبکہ خود اسرائیل میں سالانہ نصف خوراک ضائع کردی جاتی ہے۔ گو کہ رپورٹ میں پوری دنیا میں خوراک کے ضیاع کے خوفناک اعدادو شمار بیان کیے گئے ہیں مگر عرب ممالک کے بارے میں بیان کردہ حقائق ناقابل یقین ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب متحدہ عرب امارات، مصراور لیبیا میں ضائع کی جانے والی سالانہ خوراک اگر مستحق لوگوں تک پہنچائی جائے توتین کروڑ لوگوں کی ایک سال کی خوراک کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ ایک طرف خوراک کے ضیاع کا یہ عالم ہے او ر دوسری جانب انہی عرب ملکوں کے بیچ ایسے خطے بھی موجود ہیں جہاں لوگ مردار کھا کر پیٹ بھرتے ہیں۔ اس باب میں تازہ ترین خطہ شام کا ہے جہاں لاکھوں لوگ پچھلے ایک سال سے خوراک سے محروم ہیں اور قحط کے نتیجے میں مرر ہے ہیں۔ شام میں خوراک کی قلت کی بنیادی وجہ وہاں پر جاری شورش ہے لیکن شام سے باہر یمن، عراق، سوڈان اور صومالیہ میں سالانہ 10 لاکھ بچے ، بوڑھے اور عورتیں علاج کے فقدان اور خوراک نہ ملنے کے باعث زندگی کی بازی ہا ر جاتے ہیں اور عرب ملکوں کے کھرب پتیوں کی دولت جیت جاتی ہے۔جب زراورزن عرب حکمرانوں کاایمان ٹھرجائے توپھروہ مظلوم مسلمانوں کے بجائے ان کے قاتلین اوراسلامی تحریکوں کے بجائے ان کے دشمنان کے ساتھ دوش بدوش کھڑے ہوجاتے ہیں۔
یہ ماضی کی بات نہیں یہ توکل کی بات ہے کہ عرب آمریت نے مل کرمصر کے لئے اسلام پسندی کو گورا نہ کیا اور اخوان کی حکومت گرادی۔عرب ریاستوںکی جانب سے اسلامی بیداری کی مخالفت کئے جانے اور ان ملکوں کی حکومتوں کی جانب سے اپنے شہریوں پر دبا ئواور گھٹن کاماحول بنائے رکھنے کے لئے حماس پرپابندی عایدکرنے اوراخوان المسلمین کو دہشت گرد تنظیم قرادینے کے فیصلے سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ عرب حکومتوں کی بنیاد یںکمزور پڑگئی ہے۔تاریخ نے یہ ثابت کیا ہے کہ اخوان المسلمین ہر طرح کے غلو سے دور رہتے ہوئے صحیح اسلامی فکر اور سوچ کی ترویج و اشاعت میں ہمیشہ ہمیش پیش پیش رہی ہے۔ اخوان کو اپنے نظریہ اور فکر پر فخر ہے اور تمام مسلم معاشروں کی عوام کے ساتھ وابسطہ اپنی تاریخ پر بھی۔ اس نے ہمیشہ اسلام کی جامع مفہوم کو اپنے دعوت کی پہچان بنایا ہے۔ اخوان اعلیٰ اخروی حدف رکھتی ہے اور اس کا حصول نظریاتی معاشرتی سیاسی اور دینی گروہوں سے گفت وشنید کے ذریعے ہی ممکن سمجھتی ہے اخوان المسلمین خیر خواہی کے راہ پر چلتی اور ملک وقوم کی مفادات کے برعکس کیئے جانے والے ہر اقدام کی مخالفت جاری رکھتے ہوئے یہ واضح کرتی ہے کے وہ اپنی سیاسی اور اصلاحی جدوجہد کو کسی بھی ملک میں محض کسی حکمران کی مخالفت کی بنیاد پر شروع نہیں کرتی بلکہ وہ حکمت پر مبنی دعوت اور خیر خواہی پر مبنی نصیحت پر یقین رکھتی ہے۔اخوان اورحماس کوچھوڑ کرمودی کی قدم بوسی سے کی بنیادی وجہ سرمائے کے ان گماشتوں کو لاحق وہ خوف ہے جو اپنے قرب وجوار میں ابھرنے والی انقلابی تحریک کی کامیابی سے لاحق ہو چکا ہے۔ چونکہ قرب و جوار کے کسی بھی ملک میں سرمایہ داری نظام کا حقیقی خاتمہ اس پورے خطے میں ایک ایسی عمومی بیداری کی لہر کو جنم دے گا جو پورے مشرق وسطی سے بادشاہتوں کو نیست و نابود کر دے گا۔ اس سے بھی بڑھ کر ان حکمرانوں کو ان کے سامر اجی آقائوں کی طرح اپنے زوال پذیر نظام پر اعتماد کم سے کم تر ہوتا جا رہا ہے۔عراق سے شام تک ابھرنے والی تحریکیں ان ممالک پر اپنے اثر ات مرتب کر رہی ہیں اور آنے والے عر صہ میںان ممالک کے اندر بھی بڑے واقعات رونما ہو سکتے ہیں اورجلد یا بدیر آس پاس کے واقعات کے دبا ئوکے نتیجے میں خلیجی ممالک میں ایسے واقعات رونما ہونگے جو مستقبل میں ابھرنے والی انقلابی تحریکوں کی راہ ہموار کریں گے۔
قیامت سے پہلے قیامت برپاہوگی اورعرب گمراہ ہونگے اس میں کوئی ابہام نہیں کیونکہ صادق المصدوق صلعم نے قیامت سے قبل علامات قیامت میں عربوں کے حالات’’جوبتدریج پورے ہورہے ہیں‘‘ کی خبرچودہ سوسال قبل دی تھی ۔مکہ کی گلیوں میں گرم کوئلوں پر لٹائے گئے خباب بن ارت ؒکی ثابت قدمی کا حوالہ ہو یا پھرعین عالمِ دوپہر میں عرب کی تپتی ہوئی ریت پرلٹائے گئے سیدنا بلال حبشیؒ کی احد، احد کی بلند ہوتی صدائیں، ابوجہل کے ظلم وستم کے سامنے ڈٹ جانے والی کمزور سی سیدہ سمیہؒ کی المناک داستان ہو یا آلِ یاسرؒ کی پامردی کا تذکرہ ، دنیا میں حق وباطل کی کشمکش ازل سے جاری ہے اور تا ابد جاری رہے گی۔
جس سعودی عرب سے ہم شکوہ کنان ہیں کہ تم مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے کفارومشرکین حکمرانوں کوایوارڈ کیوں دیتے ہو؟ کیوں اس طرز عمل سے کشمیرکے ستم رسیدہ مسلمانوں کے زخموں کی نمک پاشی کررہے ہو؟ اس سعودی عرب کی مملکت کی تاریخ بھی سامنے رکھی جائے تاکہ معاملہ سمجھنے میں آسانی ہوجائے۔ مرکزاسلام’’ حجاز‘‘جسے شاہ عبدالعزیزبن سعودنے مقدس نام تبدیل کرکے سعودی خاندان کے نام سعودی عرب رکھا۔ حجازمقدس کانام تبدیل کرکے آج کا سعودی عرب جس کی شمال مغرب میں اردن، شمال میں عراق اور شمال مشرق میں کویت، قطر اور بحرین اور مشرق میں متحدہ عرب امارات، جنوب مشرق میں اومان، جنوب میں یمن سے سرحدیں ملی ہوئی ہے جبکہ خلیج فارس اس کے شمال مشرق اور بحیرہ قلزم اس کے مغرب میں واقع ہے ۔ تاریخ کامطالعہ بتلاتاہے کہ سعودی ریاست کا ظہور تقریبا 1750 میں عرب کے وسط سے شروع ہوا جب ایک مقامی رہنما محمد بن سعود معروف اسلامی اسکالر اورعظیم موحدمحمد بن عبدالوہاب کے ساتھ مل کر ایک نئی سیاسی قوت کے طور پر ابھرے ۔اگلے ڈیڑھ سو سال میں آل سعود کی قسمت کا ستارہ طلوع و غروب ہوتا رہا جس کے دوران جزیرہ نما عرب پر تسلط کے لئے ان کے مصر، خلافت عثمانیہ اور دیگر عرب خاندانوں سے تصادم ہوئے ۔ بعد ازاں سعودی ریاست کا باقاعدہ قیام شاہ عبدالعزیز السعود کے ہاتھوں عمل میں آیا۔یہ 1902 کی بات ہے کہ جب شاہ عبدالعزیزآل سعود نے حریف آل رشید سے ریاض شہر چھین لیا اور اسے آل سعود کا دارالحکومت قرار دیا۔ اپنی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے انہوں نے 1913 سے 1926 کے دوران الاحسا، قطیف، نجد کے باقی علاقوں اور حجاز جس میں مکہ المکرمہ اور مدینہ المنورہ کے مقدس شہر شامل تھے پر بھی قبضہ کرلیا۔ 8 جنوری 1926 کو عبدالعزیز ابن سعود حجاز کے بادشاہ قرار پائے ۔ 29 جنوری 1927 کو انہوں نے شاہ نجد کا خطاب حاصل کیا۔ 20 مئی 1927 کو معاہدہ جدہ کے مطابق برطانیہ نے تمام مقبوضہ علاقوں پرجو اس وقت مملکت حجاز و نجد کہلاتے تھے پر عبدالعزیز ابن سعودکی حکومت کو تسلیم کرلیا۔ 1932 میں برطانیہ کی رضامندی حاصل ہونے پر مملکت حجاز و نجد کا نام تبدیل کر کے مملکت’’ سعودی عرب‘‘ رکھ دیا گیا۔یہ مملکت پہلے پہل اقتصادی اعتبارسے خوشحال نہیںتھی۔لیکن مارچ 1938 میں تیل کی دریافت نے ملک کو معاشی طور پر زبردست استحکام بخشا اور مملکت میں خوشحالی کا دور دورہ ہوگیا۔ یہ ریاست کی آبادی تین کروڑ دس لاکھ پرمشتمل آبادی پرمشتمل ہے۔
(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے)
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker