مضامین ومقالات

ایک دن آئے گا جب…

پیاز مودی کو رُلا دے گی
شکیل رشید (فیچرایڈیٹر اردوٹائمز، ممبئی)
اٹل بہاری واجپائی کو پیاز نے پہلے تو خوب رلایا تھاپھر ان کی حکومت لے ڈوبی تھی۔
اب وزیر اعظم نریندر مودی پیاز کی زد پر ہیں۔ پیاز کے دام آسمان کی بلندی کو چھو رہے ہیں۔ ذرا تصور کریں کہ جس ملک میں پیاز ہوٹلوں وغیرہ میں کھانے کو مفت دی جاتی ہو اسی ملک میں جب پیاز 80روپئے فی کلو کے حساب سے فروخت ہونے لگے، وہ بھی سڑی گلی پیاز تو لوگوں کو کس قدر غصہ آئے گا، بالخصوص گھریلو خواتین کو جو کھانے پکانے کے روز مرہ کے معمولات اور بازار سے خریداری کی ذمے دار ہوتی ہیں! مہنگائی نے صرف پیاز کے دام ہی نہیں بڑھائے ہیں، دالوں اور سبزیوں کے دام بھی بڑھائے ہیں، یہاں تک کہ چکن جو آج کے اس دور میں عام طور پر غریبوں کی غذا ہے، اس کے دام بھی بڑھتے بڑھتے اتنے بڑھے ہیں کہ لوگ چکن خریدنے سے پہلے جیب ٹٹولتے ہیں کہ کہیں خریداری ان کے بجٹ کو درہم برہم نہ کردے۔ مہنگائی کی ایک وجہ تو قدرتی آفات ہیں۔ مثلاً بارش اتنی ہوئی کہ پیاز کی فصل برباد ہوگئی اور دام آسمان کو چڑھ گئے۔ لیکن مہنگائی کی ا یک وجہ ذخیرہ اندوزی بھی ہے۔ پیاز کی قلت ایک تو فصل کی بربادی سے ہوئی لیکن جو پیاز دستیاب تھی یا جو پیاز بیرون ممالک سے آرہی تھی اسے بجائے بازاروں تک پہنچانے کے ذخیرہ کیاگیا۔ گوداموں کے اندر اس طرح بھردیا گیا کہ وہاں پڑے پڑے پیاز اور اناج سڑنے لگا۔ ظاہر ہے کہ جب ایسا ہوگا تو بازار میں قلت پیدا ہوگی ، مانگ بڑھے گی، اور مانگ بڑھے گی تو قیمت بڑھے گی۔ ذخیرہ اندوزوں کا تو کچھ نہیں بگڑے گا ، ان کا سڑا گلہ اناج اور سڑی گلی پیاز بھی مہنگے داموں بک جائے گا لیکن عام آدمی کی زندگی کی گاڑی پٹری سے اتر جائے گی۔ اور ان دنوں سارے ہندوستان میں عام آدمی کی گاڑی پٹری سے اتری ہوئی ہے۔
نریندر مودی ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کا نعرہ لگا کر جیتے تھے۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ چھ مہینے کے اندر بیرون ملکوں میں جمع ہندوستانیوں کا ’کالا دھن‘ واپس لے آیا جائے گا، ان کا یہ وعدہ تھا کہ غریبوں کو مہنگائی کی مار نہیں جھیلنی پڑے گی۔ انہوں نے کسانوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کے سپنے دکھائے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس ملک کے غریبوں، بے روزگاروں اور نوجوانوں کے لیے ملازمت کے دروازے کھل جائیں گے۔ لیکن ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوا ہے، الٹے جتنے وعدے کیے تھے ان کے برعکس کام ہورہا ہے۔ نہ سب کو ساتھ لیا گیا ہے اور نہ ہی سب کا وکاس کیاجارہا ہے۔ مودی سرکار نے مخصوص ذہنیت کے ہندوستانیوں کو ساتھ لیا ہے اور ان کا ہی وکاس بھی ہورہا ہے۔ ان میں ذخیرہ اندوز بھی شامل ہیں اور وہ تاجر بھی شامل ہیں جو ہندوستان کو لوٹ کر غریبوں کی زندگیوں کو مزید اجیرن بنارہے ہیں۔
مودی کی جیت میں ہاتھ ان دھنّا سیٹھوں کا ہی تھا جو آج پیاز، دال اور اناج، سبزی، مچھلی اور گوشت کے دام آسمان کی بلندی تک لے جانے کے ذمے دار ہیں۔ یہ وہ دھنّا سیٹھ ہیں جن کے چہرے لوگوں کے سامنے ہیں، جن کے کالے کارنامے بھی طشت از بام ہیں مگر مودی سرکار اور بی جے پی کی ریاستی سرکار یں ان پر ہاتھ تک نہیں ڈال رہی ہیں۔ ہاتھ ڈالنے کی اصل میں جرأت ہی نہیں ہے کیوں کہ ان دھنا سیٹھوں نے اپنی دولت سے ان حکمرانوں کے منہ پر تالے ڈال دئے ہیں۔ ابھی گزشتہ روز ہی مودی سرکار نے اپنے کام کاج کے 420دن پورے کیے تھے، اس روز سوشل میڈیا پر سرکار کی ’چارسو بیسی‘ کی کئی مثالیں پیش کی گئی تھیں جن میں چند آنکھیں کھولنے والی ہیں ۔ مثلاً ایک دلچسپ سچائی یہ پیش کی گئی تھی کہ ہندوستان میں پہلی بار ضرورت اور آسائش اور تعیش کی چیزیں ایک ہی دام میں بک رہی ہیں، پیاز اگر 75روپئے فی کلو ہے تو پٹرول کی قیمت بھی 75روپئے فی لیٹر اور بیئر کی بوتل بھی 75روپئے میں مل رہی ہے!
مہنگائی بڑھنے کی وجوہات میں ایک بڑی وجہ مودی سرکار کا ’پروپیگنڈہ خرچ ‘بھی ہے۔ جیسے کہ سو کروڑ روپئے کی گیس سبسڈی ختم کرانے کے لیے 250کروڑ روپئے کے اشتہارات دینا۔ صفائی مہم کی تشہیر کے لیے 250کروڑ روپئے کا خرچ اور دہلی کے صفائی کرمچایوں کے لیے 35کروڑ روپئے دینے سے لاچاری۔ کسان ٹی وی کے لیے سالانہ سو کروڑ روپئے کا خرچ مگر کسانوں کو کھاد سبسڈی دینے سے انکار۔ یوگا کے لیے 500کروڑ روپئے کا بجٹ مگر اسکولوں کے سرکاری بجٹ میں کٹوتی وغیرہ وغیرہ۔ یہ اعدا دو شمار بے حد دلچسپ ہیں، ان سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مودی سرکار کے پیسے عام ہندوستانیوں پر نہیں کارپوریٹ پر، دھنا سیٹھوں پر اور ان اداروں پر خرچ ہوتے ہیں جن میں سنگھی نظریات رکھنے والوں کی گھس پیٹھ ہے۔ ظاہر ہے کہ جب سرکاری خزانہ اس طرح سے لٹایاجائے گا تو مہنگائی بڑھے گی، عام شہری پریشان ہوں گے اور کسان خودکشی کریں گے۔ پیاز، دال، چاول اور گیہوں کی قلت بنی رہی گی اور ضروریات کی دوسری اشیاء عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوں گی۔ باالفاظ دگر یہ کہ مودی سرکار کی پالیسیاں خالص ’عوام مخالف‘ ہیں ، انصاف کی فراہمی سے یہ سرکار قاصر ہے۔ ایسے میں قدرت کا قہر ہی نازل ہوگا، قدرتی آفتیں آئیں گی اور فصلیں برباد ہوجائیں گی، جیسے کہ پیاز کی فصلیں برباد ہوئی ہیں یہ مودی سرکار پر اللہ کی مار ہے۔ جو حالات ہیں، ان میں عام آدمی کو غصہ آئے گا لیکن غصہ آکر بھی وہ سوائے دانت پیسنے کے کچھ نہیں کرسکے گا۔ ہاں مگر پانچ سال بعد ضروروہ دقت آئے گا جب پیاز کی بڑھتی قیمتوں سے خون کے آنسو رونے والا عام شہری اس حالت میں ہوگا کہ مودی کو بھی واجپئی ہی کی طرح رلادے۔ مودی بھلے آج نہ رو رہے ہیں لیکن آنے والے کل کو یہ پیاز انہیں ضرور رلائے گی۔
(بصیرت فیچرس)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker