شعر و ادبمضامین ومقالاتمیزان بصیرت

باتیں :’’کچھ محفلِ خوباں کی‘‘

انوارالحسن وسطوی
9430649112
زیر مطالعہ کتاب ’’کچھ محفلِ خوباں کی‘‘ ڈاکٹر منصور خوشترؔ کی غزلیات کا مجموعہ ہے۔ منصور خوشترؔ بیک وقت وادیٔ صحافت اوردنیائے شاعری دونوں میدان کے مشہور شہسوار ہیں۔ جس طرح صحافت کے میدان میں انہیں امتیازی حیثیت حاصل ہے اسی طرح جواں سال شعرا میں بھی وہ اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ انگریزی کا مقولہ ہے :”Morning Shows the day”صبح کا نکلتا سورج دیکھ کر یہ اندازہ لگ جاتا ہے کہ دن کیسا ہوگا۔ ’’کچھ محفل خوباں کی ‘‘ منصور خوشترؔ کا پہلا شعری مجموعہ ہے جس کے مطالعہ سے یہ بخوبی اندازہ لگ رہا ہے کہ موصوف اپنی عمر اور مشق سخن کی پختگی کے ساتھ ساتھ دنیائے شاعری میں اپنا مقام متعین کرانے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ خوشتر کا یہ شعری مجموعہ منظر عام پر آنے کے فوراً بعد ہی سے ادباء اور ناقدین ادب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ڈاکٹر شارب رودلوی ، پروفیسر عبدالمنان طرزیؔ، پروفیسر فاروقی احمد صدیقی ، ڈاکٹر سید احمد قادری ، ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی ، ڈاکٹر راشد احمد راشد، ڈاکٹر جمال اویسی ، عطا عابدی، سلیم انصاری جیسے اردو شعر وادب کے مشہور پارکھوں اور نقادوں نے اپنے تنقیدی نگارشات کے ذریعہ ڈاکٹر منصور خوشترؔ کے اس شعری مجموعے کی جس طرح پذیرائی کی ہے اور شاعر کے فنی شعور کو اپنی سند کے ذریعہ جس طرح وقار بخشا ہے اس سے ڈاکٹر خوشترؔ کا حوصلہ یقینا سوا ہوا ہوگا۔ راقم السطور کوئی ادیب یا ناقد نہیں کہ اس شعری مجموعہ پر اپنا کوئی ناقدانہ تبصرہ پیش کرسکے۔ البتہ اردو شعر وادب کے ایک معمولی قاری کی حیثیت سے ’’کچھ محفلِ خوباں کی ‘‘ کے تعلق سے اپنے مطالعہ کا ماحصل نذر قارئین کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔
ڈاکٹر منصور خوشترؔ ابھی کم سن اور جواں سال ہیں لیکن ان کے اشعار اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ان کے محسوسات، تجربات و مشاہدات کسی پختہ عمر انسان سے ذرا بھی کم نہیںہیں بلکہ بہتوں سے زیادہ ہیں۔ ’’کچھ محفل خوباں‘‘ کی پہلی غزل دیکھ کر ہی میں حیران و ششدر رہ گیا اور شاعر کی بصیرت اور بصارت کا قائل ہوگیا۔ غزل کی چند شعرملاحظہ ہوں:۔
بہاروں پر تسلط ہے خزاں کا
برا دن آگیا ہے گلستاں کا
رہائی غم سے ناممکن سی لگتی
یہی حاصل ہے سعیٔ رائیگاں کا
مقدر ہے ہمارا بے پناہی
یہاں پر ذکر مت کیجئے اماں کا
فریب و رہزنی، شورش، دھماکے
کوئی بھی عنواں رکھ دیجے بیاں کا
منصور خوشترؔکے ان اشعار کے آئینے میں ہم اپنی، اپنے سماج اور اپنے ملک کی تصویر بآسانی دیکھ سکتے ہیں۔ شاعر نے اپنے جذبات کی ترجمانی کی لیے جس سادہ اور سہل زبان کا استعمال کیا ہے وہ قابل داد ہے۔ ساتھ ہی ان کے اشعار میں پائی جانے والی بے ساختگی بھی قاری کو متوجہ کرتی ہے۔
منصور خوشترؔ کا تعلق نئی نسل سے ہے۔ اس نسل کے افراد ہر گھر، ہر خاندان اور ہر سماج میں موجود ہیں جنہیں ہم بغور دیکھ رہے ہیں، ان کے حرکات و سکنات پر بھی ہماری نظر ہے، ان کی پسند اور ناپسند کا بھی ہمیں اندازہ ہے۔ لیکن منصور خوشترؔ نئی نسل کے ہونے کے باوجود پرانی قدروں کے علمبردار ہیں اور نئی تہذیب انہیں ناپسند ہے۔ وہ نئی تہذیب کی خرابیوں کو دیکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں آرہی گراوٹ پر بھی ان کی گہری نظر ہے۔ چنانچہ نئی تہذیب پر ان کا رد عمل قابل توجہ اور قابل داد ہے۔ ملاحظہ ہوں چند اشعار:
نئی تہذیب ہی نے کی ہے نیورو سرجری جو
ہمارا خود، ہمارا چہرہ اب لگتا نہیں ہے

مٹایا ہے نئی تہذیب نے اچھے برے کا فرق
مسلط روشنی پر تیرگی معلوم ہوتی ہے

مہربانی ہے نئی تہذیب کی
کر گئی کتنا ہمیں ننگی ہوا

فیس بک اور ہے ٹیوٹر کا زمانہ آیا
کتنے اقدار جو اعلیٰ تھے وہ ہم سے گزرے

ایک لعنت ہے یہ نئی تہذیب
کاش صحرا میں ہی مکاں ہوتا
ڈاکٹر منصور خوشترؔکی غزلوں میں فکری آگہی، عصری حسیت اور سماجی و معاشرتی تقاضوں کی ترجمانی جس ہنرمندی سے ہوئی ہے وہ ان کے بھرپور احساس و ادراک کا پتہ دیتی ہے۔ چھوٹی سی عمر میں زندگی کے ڈھیر ساے مسائل سے واقف ہوجانا گرچہ متحیر کرنے والی بات ہے لیکن جب ہم شاعر کے تجربات، مشاہدات اور محسوسات کے پس منظر پر غور کرتے ہیں تو یہ حقیقت ہم پر پوری طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ منصور خوشتر کے پس منظر پر غور کرتے ہیں تو یہ حقیقت ہم پر پوری طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ منصور خوشتر کے تجربات و مشاہدات کے اسباب ان کا کثیر المشاغل ہونا ہے۔ وہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ صحافی بھی ہیں اور تاجر بھی معالج بھی ہیں اور اردو کے تحریک کار بھی۔ صحافی کا زیادہ وقت سیاست دانوں کے ساتھ گزرتا ہے لہٰذا سیاست کے دائو پیچ کو اس سے زیادہ کوئی اور سمجھ نہیں سکتا ۔ ایک تاجر کا واسطہ امیر سے غریب تک اورجاہل سے پڑھے لکھے تک سے پڑتا رہتا ہے۔ وہی حال معالج کا بھی ہے کہ سماج کے ہر شعبۂ حیات کے لوگوں سے اس کا ربط رہتا ہے اور اردو کے تحریک کار کے تجربات تو ایسے ہوتے ہیں جس کا جواب نہیں۔ اسے ہمیشہ ادباء، شعراء، اساتذہ اور دانشور حضرات سے ہی سابقہ پڑتا رہتا ہے۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ جس کے تجربات اور مشاہدات کی زمین اتنی کشادہ اور وسیع ہو تو ویسے شاعر کے اشعار میں فکری آگہی ، عصری حسیت اور سماجی و معاشرتی تقاضوں کی عکاسی ہونا فطری بات ہے۔ یہی سبب ہے کہ منصور خوشترؔ کی شاعر ی میں کہیں زندگی کی نارسائی کا ذکر ملتا ہے تو کہیں ملک کے سیاست دانوں اور ملک کے ماحول کا نقشہ دکھائی دیتا ہے تو کہیں سماجی و معاشرتی خرابیوں کی نشاندہی ملتی ہے۔ عطا عابدی کی یہ رائے بالکل صحیح ہے کہ ’’خوشترکے یہاں عصری حسیت سے مملو اشعار کسی جہاں دیدہ مسافر کے سفر کی کہانی لگتی ہے یا پھر تجربوں کی بھٹی میں تپے کسی عام فرد کی آواز محسوس ہوتی ہے۔ ‘‘اس ضمن میں خوشتر کے چند اشعار دیکھیں اور ان کے ذہن اور شعور و ادراک کی داد دیں:
سڑک پر چلنے والے کو نہیں اتنی سی مہلت
ترپتی لاش کو بھی دیکھ کر رکتانہیں ہے
راہ زن کو جو سمجھتے ہیں رہ نما
ہم میں ایسے ہیں ابھی نادان کچھ

سینکڑوں قتل کیا جس نے وہی منصف ٹھہرا
شہر کا تیرے ہے دستور نرالا کیسا

اب دکاں بازار میں اہلِ خرد کی بند ہے
اب اجارہ داری ہے دانائی پہ نادان کی

نیتا جی نے کب دیکھا بھی
بھوکے، سوکھے، پیلے، چہرے
خوشترؔ تیرے کیمرے نے تو
اکثر دیکھے دوہرے چہرے
منصور خوشترؔ کے کئی ناقدوں نے ان کی رومانی اور عشقیہ شاعری کا خصوصی ذکر کیا ہے۔ ایک تحریر میری نگاہ سے ایسی بھی گزری ہے جس میں ان کے یہاں رومانیت کے غلبہ کا ذکر ہے۔ جس طرح ہنسنے پر باچھوں کا کھل جانا اور دانتوں کا دکھائی دینا فطری امر ہے ور رونے پر آنکھوں سے آنسو کا رواں ہوجانا فطرت میں شامل ہے۔ وہی حال شاعری کا ہے۔ شاید ہی کوئی شاعر ایسا ہو جس کی شاعری میں عشق و عاشقی اور رومانیت کا عنصر موجود نہ ہو۔ خوشترؔ کوئی فرشتہ تو ہیں نہیں کہ ان سے ایسی توقع نہ رکھی جائے۔ لیکن ان کا کمال یہ ہے کہ ان کے خالص عشقیہ اشعار میں بھی پاکیزگی اور شائشتگی کا بھرپور مظاہر ہوا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
میزبانی پر تیری آنچ نہ آنے دوں گا
تم بناکے کبھی دیکھو مجھے مہماں اپنا

چاند پر ہم بھی خریدیں گے جگہ
گھر بنائیں گے، بسائیں گے تجھے

عمر بھر لکھتا رہا میں ریت پر اس کا ہی نام
ہائے نادانی یہ کیسا کار طفلانہ کیا

ہے تغافل ہی کا تیرے فیض کچھ
رفتہ رفتہ میں غزل خواں ہوگیا

ایسے پیکر پہ دل و جان سے ہوں خوشتر قربان
بزم میں شرم و حیا سے جو نہ اٹھی صورت

مجھ کو اپنا بناکے دیکھو تو
قصۂ غم سناکے دیکھو تو
منصور خوشتر کی غزلوں میں صوفیانہ شاعری کی بھی کچھ مثالیں ملتی ہیں۔ ان کے ایسے اشعار سے ان کی راسخ العقیدہ ہونے کا بھی پتہ چلتا ہے۔ ان کی غزلیات کے مجموعہ ’’کچھ محفل خوباں کی‘‘ کے غواصی سے اس ضمن میں جو اشعار میرے مطالعے میں آئے ہیں وہ حسب ذیل ہیں:
اے خدا مجھ کو سکونِ قلب کی دولت کے ساتھ
دین و دنیا میں فقط اک تیری رحمت چاہئے

شکر ہے اللہ نے بخشی مجھے ایسی جبیں
جز خدائے پاک میں نے سرجھکایا بھی نہیں

بھروسہ قوتِ بازو پہ اس کو
تو کمزوروں کا بھی ناصر خدا ہے

بخشی خوشترؔ کو درد کی دولت
شکر پروردگار کرتے ہیں

آبرو اللہ نے خوشترؔ جبیں کی رکھی ہے
جس کا اس در کے سوا ہے آستاں کوئی نہیں
منصور خوشترؔ کی شاعری کی جہتوں میں ایک جہت ان کا ناصحانہ انداز بھی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ فنکار کو ناصح نہیں بننا چاہئے۔ لیکن کیوں؟ فنکار تو معاشرے اور سماج کاترجمان اور نباض ہوا ہے۔ منصور خوشترـ نے اپنی غزلوں میں اس ترجمانی کا حق ادا کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ قابل توجہ ہے اور اس کے صالح فکر ہونے کی دلیل ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:
اک نمونہ جس سے بن جائے ہماری زندگی
ایسے ہی لوگوں کی صحبت اور رفاقت چاہئے

نقصان خواہ آپ کا جتنا بڑا بھی ہو
ایمان و راستی کا تو سودا نہ کیجئے

ہوگا نہیں شمار کچھ اچھوں میں آپ کا
صحبت میں بدنہاد کی بیٹھا نہ کیجئے

میخانے کی راہ سے مسجد مت جائو
ہوجائوگے خوشترؔ تم بدنام بہت

ایسی عظمت کے نہیں جو اہل ہیں
ان کو پلکوں پہ بٹھانا چھوڑ دو

اجنبی پر مت بھروسہ کیجئے
کرلیا توجلد توبہ کیجئے
اپنے ذاتی مسئلے خوشترؔ کبھی
ہر کسی کو مت بتایا کیجئے
غزلیات خوشترؔ کامطالعہ موضوعات موضوعات کے اعتبار سے کیا جائے تو جو نقشہ ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ خوشترؔ کے تجربات و احساسات مستعار نہیں بلکہ ان کے اپنے ہیں۔ انہوں نے اپنے تجربات اور مشاہدات کا خوب صورت اور سہل لفظوں میں اظہار کرکے قاری کو ہم فکر ، ہم خیال اور ہم زبان بنانے کی کوشش کی ہے۔ خوشترؔ کی شاعری ایک ایسے فنکار کے دل کی آواز ہے جس میں نہ کوئی تکلف ہے اور نہ تصنع بلکہ وہی کچھ ہے جس کا مشاہدہ شاعر نے کیا ہے۔ یہ شاعری واضح اور قابل فہم ہے اس لیے پڑھنے والوں کو اپنی جانب متوجہ بھی کرتی ہے اور متاثر بھی۔ نئی نئی ترکیبوں اور نئے نئے قافیہ ردیف کے استعمال کے باوجود خوشتر کی غزلوں کے اشعار اپنی سادگی، روانی اور اثر انگیزی کے سبب قاری کو اپنی گرفت میں لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ منصو ر خوشتر کا مشق سخن اگر اسی طرح جاری و ساری رہا تو وہ یقینا ایک دن دنیائے شاعری میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوں گے اور ان کے کلام ادبی سرمایے میں شمار کیے جائیں گے۔ منصور خوشترؔ کے اس شعری مجموعہ ’’کچھ محفل خوباں کی‘‘ کی قدر و قیمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گذشتہ دنوں اتر پردیش اردو اکادمی نے اس کتاب کو انعام کے لیے منتخب کیا ہے۔ امید قوی ہے کہ دوسرے صوبوں کی اردو اکادمیوں میں بھی اسے بنظر تحسین دیکھا جائے گا اور انعام کے لئے اسے منتخب کیا جائے گا۔ ۱۱۲ صفحات پر مشتمل اس خوبصورت اور جاذب نظر کتاب کی قیمت صرف دو سو روپے ہے۔ کتاب کے تعلق سے راقم السطور کے تاثرات کی صداقت کی اگر جانچ کرنی ہو تو اسے حاصل کرنے کے لئے شاعرکا موبائیل نمبر قائین نوٹ فرمانے کی زحمت گوارا کریں۔ 9234772764
(بصیرت فیچرس)
٭٭٭

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker