شعر و ادبمضامین ومقالاتمیزان بصیرت

نقدِ افسانہ ۔ ایک مطالعہ

محمد عارف حسن 
ریسرچ اسکالر، بہار یونیورسیٹی، مظفرپور
7654443036
ممتاز طنز و مزاح نگار مجتبیٰ حسین (حیدر آباد ) نے پروفیسر عبدالمنان طرزی (دربھنگہ ) کے متعلق ایک موقع سے کہا ہے کہ میں طرزیؔ صاحب کو اپنی کوئی تصنیف اس لئے نہیں بھیجتا ہوں کہ پتہ نہیں کب مجھے اپنی ہی تصنیف منظوم کلام کی صورت میں پڑھنے کو ملے۔ کچھ ایسی ہی کیفیت ڈاکٹر منصور خوشترؔ کے ساتھ ہوتی جارہی ہے۔ ادیبوں اور شاعروں کی تخلیقات اب ان کی تصنیف میں شامل ہونے سے پہلے منصور خوشترؔ کی ترتیب دی ہوئی کتاب میں پہلے جگہ پانے لگی ہیں۔ اس کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ کئی غیر معروف ناموں کو ادبی دنیا میں متعارف ہونے میں مددملتی ہے اور قاری بھی نئی تخلیقات سے روبرو ہوتا ہے۔
ڈاکٹر منصور خوشترؔ کی انفرادیت ادب اور صحافت دونوں حوالوں سے اجاگر ہوتی ہے۔ ایک جانب جہاں وہ صحافت کے پرخار راستوں پر چلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں وہیں ادبی تقاضوں کی سیرابی کا بھی ہنر جانتے ہیں۔ سہ ماہی ’’دربھنگہ ٹائمز‘‘ کی اشاعت منصور خوشتر کی ادبی و صحافتی صلاحیتوں کی زندہ مثال ہے۔ ’’دربھنگہ ٹائمز‘‘ نے بہت کم مدت میں ادب کے قارئین کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔ رسالے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ موضوعات اور مواد کے اعتبار سے اس میں نئے اور پرانے لکھنے والوں کا ایسا سنگم ہوتا ہے کہ ہر شمارہ ایک دستاویزی حیثیت کا حامل رہتا ہے۔ بہر کیف ڈاکٹر منصور خوشتر بڑی تیز رفتاری سے شعر وادب کی دنیا میں اپنا مقام بناتے جارہے ہیں۔ ’’لمعات طرزی‘‘، ’’ماجرا دی اسٹوری ‘‘، ’’نثر نگاران دربھنگہ‘‘ ، ’’سید اجمل فرید ۔ یادیں باتیں‘‘ ، ’’’کچھ محفل خوباں کی‘‘ (شعری مجموعہ ) اور ’’اجالوں کا گھر‘‘ (منتخب افسانے) کے بعد ان کی ترتیب دی ہوئی تازہ ترین کتاب ’’نقد افسانہ‘‘ اس وقت میرے مطالعے میں ہے۔ اس کتاب میں کل ۱۳؍ تنقیدی مضامین ہیں جن میں کرشن چندر ، بیدی، منٹو، رشید جہاں ، احمد ندیم قاسمی، اقبال متین، مناظر عاشق ہرگانوی، نعیم ضیاء الدین، ڈاکٹر اسلم جمشید پوری اور غزال ضیغم جیسے فنکاروں کے فکر وفن پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ تین تحریروں ’’تانیثیت اور اردو کی نئی افسانہ نگار خواتین‘‘ ، ’’ہم عصر نصائی بیانیہ اور اس کے متعلقات ‘‘ اور ’’متھلامیں اردو افسانہ نگاری ۔ ایک جائزہ‘‘ میں ایک سے زائد افسانہ نگاروں کا ذکر ہے۔ مجموعی طور پر تمام مضامین جس تنقیدی بصیرت سے لکھے گئے ہیں وہ بھرپور علمی کارنامہ ہے۔ شاہد الرحمن نے ’’نقد افسانہ‘‘ کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’نقد افسانہ کے عنوان سے جو کتاب آپ کے ہاتھوں میں ہے، اس کی اپنی اہمیت ہے۔ ا س کے علاوہ بعض نئے لکھنے والوں جن میں خاکسار بھی موجود ہے، کے مضامین روایتی نہیں ہیں ، ان میں لکھنے والوں کا اپنا ذہن اور دماغ موجود ہے۔ اس کے لئے منصور خوشتر مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایک ساتھ اتنے نئے لکھنے والوں کو جمع کرلیا ہے۔‘‘
(بیک کور۔ نقد افسانہ)
نقد افسانہ میںنئی نسل کے ناقدین کے مضامین ہیں۔ ان میں چند نام ایسے ہیں جو بہت معتبر ہیں اور چند نام اپنی تنقیدی نگارشات کی جانب نئے لکھنے پڑھنے والوںکو متوجہ کررہے ہیں۔ میں یہ بات اس لیے بھی لکھ رہا ہوں کہ مرتب کتاب ڈاکٹر منصور خوشتر اس کتاب کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ارادہ تھا کہ منٹو پر گوپی چند نارنگ اور وارث علوی کے مضامین بھی شامل کیے جائیں لیکن ضخامت کو دیکھتے ہوئے ارادہ ملتوی کرنا پڑا گرچہ مجھے اس بات کا بیحد ملال ہے کہ نارنگ صاحب کا مضمون جو ان کی کتاب ’’جدیدیت کے بعد‘‘ میں شامل ہے اس کتاب میں جگہ نہ پاسکا۔ ‘‘
(کاسہ، نقد افسانہ، ص:۷)
یہ مرتب کتاب کی ذاتی رائے ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ اردو تنقید پچھلی کئی دہائیوں سے نیرنگی خیالات اور فاروقی تجربات سے کچھ ایسی دبی رہی کہ اب وہ خود اس حصار سے باہر نکل کر ہوا کے تازوں جھونکوں سے فیضیاب ہونا چاہتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ’’نقد افسانہ‘‘ بھی اسی کوشش کی جانب ایک قدم ہے جس کی پذیرائی بہر صورت ہونی چاہئے۔ یہ ایک حوصلہ افزا کام ہے جس کے لیے مرتب کتاب داد تحسین کے مستحق ہیں۔
اردو فکشن میں پریم چند ، کرشن چندر، بیدی، منٹو، رشید جہاں، غلام عباس، عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر اور ش۔ مظفرپوری جیسے ناموں کی اہمیت سے کون واقف نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے بعد افسانہ و ناول کی بستیوں میں جو نسلیں سامنے آئیں اور جنہوں نے متاثر کن تخلیقات پیش کیں ان کے مقام و مرتبہ کا بھی تعین ہونا چاہئے۔ نقدا فسانہ اس لحاظ سے کامیاب ہے۔ احمد ندیم قاسمی، اقبال متین، مناظر عاشق ہرگانوی، غزال ضیغم، اسلم جمشیدپوری یہ سب اسی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ وہ فنکار ہیں جنہوں نے زندگی کے تجربات کو اپنے اپنے لہجے میں بیان کیا ہے اور سماجی و معاشرتی حقیقتوں کی سچی تصویر کشی کی ہے۔
زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کی حصہ داری ناگریز ہے۔ بلکہ اب تو سیاسی محاذ پر خواتین کی شراکت داری کو آئینی پہلو کے سائے میں اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے کہ اب معاملہ شانہ بشانہ چلنے کا نہیں بلکہ دو قدم آگے بڑھ جانے کا ہوچکا ہے۔ بلاشبہ کئی محاذ پر نسائی قوتیں حاوی بھی ہیں اور ان کی پذیرائی بھی ہورہی ہیں۔ نہ ہمارا ادب اس Race میں پیچھے ہے اور نہ شعر وادب سے جڑی خواتین پیچھے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ خواتین کی حصہ داری اور ان کے تعاون کے برملا اظہار اب پرزور آواز میں کیا جارہا ہے۔ ’تانیثیت اور اردو کی نئی افسانہ نگار خواتین، اور ’ہم عصر نسائی بیانیہ اور اس کے متعلقات‘ ان دو مضامین میں اس گوشے کی بھرپور نمائندگی بھی ہوئی ہے۔ لیکن ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے اپنی تحریر کے اختتام پر یہ لکھ کر خواتین و حضرات کے سامنے ایک بڑا سوالیہ نشان لگادیا ہے:
’’ایک بڑا اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ افسانہ نگار خواتین اپنی معاصر خواتین تبصرہ نگاروں اور نقادوں کی آراء کو مردوں کی آراء کے مقابلے میں کم تر اور غیر اہم کیوں گردانتی ہیں؟ وہ اب بھی مردوں کی طرف تحسین طلب نظروں سے دیکھتی ہیں اور انہیں کی آراء کو نسبتاً معتبر خیال کیوں کرتی ہیں؟ہماری خواتین تنقید کی طرف کیوں نہیں متوجہ ہوتیں؟ ممتاز شیریں کے بعد اس پائے کی فکشن نقاد کیوں نہیں پیدا ہوسکی؟
(نقد افسانہ۔ ص:۶۲)
نقد افسانہ کی ایک اہم تحقیقی تحریر ’’متھلا میں اردو افسانہ نگاری۔ ایک مختصر جائزہ‘‘ بھی ہے۔ ڈاکٹر قیام نیر نے متھلا نچل میں اردو افسانہ نگاری کا جائزہ لیا ہے اور تمام اہم لکھنے والوں کو اس میں شامل کیا ہے۔ اس تحریر پر علاقائیت کا لیبل چسپاں نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تحریر قابل تقلید ہے۔ اس سے دوسروں کو یہ حوصلہ ملتا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقے کے ماضی و حال کو دریافت کریں۔ اپنی مٹی سے ابھرے ادیب و شاعر کو گمنامی سے باہر نکالیں اور شعر وادب کی دنیا میں انہیں متعارف کرائیں۔ ڈاکٹر قیام نیر کی یہ تحریر تحقیقی نوعیت کی ہے۔ اس لیے اس میں غیر شعوری طور پر کسی واقفیت کی کمی کا رہ جانا عیوب کی حد میں داخل نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر پروفیسر اسلم آزاد کے متعلق یہ لکھنا کہ ’’راجیہ سبھا کے ممبر رہ چکے ہیں، درست نہیں ہے۔ پروفیسر اسلم آزاد بہار قانون ساز کونسل کے رکن تھے اور ایوان میں جتنا دل یونائیٹیڈ کی جانب سے ڈپٹی لیڈر کی ذمہ داری بھی ادا کی تھی۔
۳۰۰ روپے قیمت کی یہ کتاب ’’نقد افسانہ‘‘ خرید کر پڑھنے والوں کو بھی اس لیے مہنگی نہیں معلوم ہوگی کہ اس کے مضامین معیاری اور معلوماتی ہیں اور کتاب کے مطالعے سے ہمیں نئی نسل کے ناقدین کے ذوق مطالعہ اور ان کے شعور تنقید کا بھی علم ہوگا۔ ’نقد افسانہ‘‘کے مطالعے کے خواہش مند حضرات 9234772764پر ڈاکٹر منصور خوشتر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
(بصیرت فیچرس)
٭٭٭

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker