Baseerat Online News Portal

زرین کوب ونقد ادب

مشہود رضا ،جھیلم ہاسٹل جواہر لعل نہرو یونیورسٹی
ادبستان فارس کا تابناک مصباح جنکی پوری حیات تصنیف و تالیف پر مبنی ہے اصناف ادب میں بحیثیت محقق ،تنقید نگار، متر جم شہرت پائی اسلام سے آشنائی کے سبب عظیم ترین اسلام شناس مفکروں کے ساتھ نام لیا جا تا ہے۔آپ کا تعلق ایران کے ایک معروف خطہ سے ہے جہاں بڑے بڑے فقیہ پیدا ہوئے اورایک انقلابی ذہن واعلیٰ فکر ر کھنے والے علماء و فضلاء نے بھی جنم لیا ۔ عبدالحسین زرین کوب کی علمی و فکری ماحول میں پروورش ہوئی۔آپکی پیدائش ۱۹ /مئی ۱۹۲۳ء میں برو جر دکے محلہ بحرالعلوم کے ایک دینداروعلمی خاندان میںہوئی (جو کہ کوچہء صوفیان میں واقع ہے ) شادی قمرآریان سے ہوئی جو آپ کی ہم درس او ربہترین شریک شعبہء زندگا نی کے ساتھ حیات ادبی میں بھی معاون و مددگارتھیں آپ ایک ہمہ گیر شخصیت کے ساتھ صا حب ورع ومتقی بھی تھے اور۱۵/ ستمبر ۱۹۹۹ء بعد نماز ظہر چارباغ کے پارس اسپتال میں(بولوار کشاورز) تہران میں وفات پائی۔ زندگی بہت مصروف گذاری ۔تعلیم و تعلّم کی ابتدا وطن کے مدرسہء کمالیہ سے ہوئی اور تعلیمات متوسطہ (Secondrary Education ) کا اکتساب مد رسہء اعتضادیہ میں ہوا اور تحصیلات عالی (Higher Education)کیلئے تہران تشر یف لائے ، متنوع علوم و فنون میں مہارت پیدا کر کے مختلف اداروں اور شعبوں کواپنے علم و ہنر سے فیضیاب و علوم فلسفہ، منطق ،ادبیات ،تصوف، عرفان کے موتی بکھیرتے رہے ۱۹۵۵ء میںتہران یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی سند کے لئے نقدالشعراء کے موضوع پر مقالہ کی تکمیل کی اوراس کے بعد بہ حیثیت (Assistant Professor )معاون پروفیسر تقرری پائی اور چندسال کے بعد پروفیسر کے عہدہ پر فائز ہوئے خارجی زبانوں سے آشنائی کے اشتیاق نے متعدد زبانوں میں کا مل مہارت عطا کی فارسی وعربی کی کتابوں کا دیگر زبانوں میں ترجمہ کیا اور دیگرزبانوں کی کتابوں کو فارسیت کے لباس سے آرستہ کیا، یہ کتابیں ایرانیوں کو مغربی علوم وادب دیگر علوم سے واقفیت میں مدد گار ثابت ہوئیں ۔بالخصوص دوسرے زبانوں کے ادب میںجو مطابقت پا ئی جا تی ہے اس سے آگاہی ہوئی اور ادبیا ت تطبیق کو ایک مستقل فن کی حیثیت سے معرفی کرانے میں بہترین کردار ادا کیا ہے اپنے علوم کو بین الاقوامی بنا نے کے لئے بیرون ممالک کا دورہ کر کے وہا ں کے کتب خانوں سے استفا دہ کیا محمد اسفند یاری کہتے ہیں کہ ۔۔۔
’’استاد عبدالحسین زرین کوب کی زندگی کتاب،درس ،تحقیق،تالیف اور متعد د
سفروں پرمشتمل ہے ان کی تحقیق کے بنیادی موضوع تاریخ ایران،ادبیات ایران،تاریخ
فرہنگ وادب اسلامی، تصوف و عرفان ،نقد ادبی و ادبیات تطبیقی ہے۔‘‘1
وہ مشکل سے مشکل مسئلہ سے گھبراتے نہیں تھے اور نہ ہی کسی کو مایوس کرتے تھے۔ تصرف علم ان کی زندگی کااہم حصہ تھا علم ودانش کو شاگردوں پر خرچ کرنا ان کا شعار تھا، طالب علموں کی تا حیات رہبری کرتے رہے ۔ان کی زندگی طالب علموںکے لئے وقف تھی،استاد مایل ہروی فرماتے ہیں ۔۔۔
’’طالب علموں کی رہبری کرنا ان کا مشغلہ تھا ا ن کی ذات طلباء کے کے لئے منبع(Source)
کی حیثیت رکھتی تھیٍٍٍٍٍٍٍٍ عبدالحسین زرین کوب کی تحقیقات کی دنیا میں ایران شناس و علم شناس تھے او ر
وہ صرف ایران کے لئے باعث افتخار نہیں تھے بلکہ دنیائے جہاںکے لئے باعث ا فتخار تھے،،۲
خانم ڈاکٹر نوش آفرین اسی ضمن میں کہتی ہیں کہ
زرین کوب بہترین مددگارتھے اور بہت نیک انسان تھے ،۴۷ سے ۵۰ سالوں کے
درمیان اس وقت میں دانشکدہ کے کتب خانہ کی مسئول تھی کتب خانہ دانشکدہ ادبیات
مراجعان اور تشنگان علم سے بھرا رہتا تھا استاد صرف کتاب خانہ سے استفادہ ہی
نہیں کرتے تھے بلکہ ایک منبع شناس کی حیثیت سے تمام رجوع کر نے والوں کی
مد دکر تے تھے طالب علموں کی ان کے مطالعہ کے موضوعات میں راہنمائی کرتے تھے
اس اعتبار سے وہ بہت معزز تھے دوسروں کے ساتھ کرامت و محبت سے پیش آ نے
میںہچکچاتے نہیںتھے جالب توجہ یہ تھی کہ کتاب خانہ میں قدم کو زمین پربہت آرام و
آہستہ سے رکھتے تھے ،ان کو کتاب خوانی اور کتب خانہ سے عشق تھا ۔۳
آ پ کے والد عبدالکریم شیخ زرگر کے نام سے مشہور تھے۔ دادا ملا عبدالرحمٰن ان کے جد امجد ملا علی اکبر خوانساری اور ان کے پدر کے چچا شیخ باقر و شیخ غلام حسین بروجردی تھے۔ ان کے چچا شیخ غلام حسین شیخ ہادی نجم آبادی کے شاگرد اورعلی اکبردہخدا کے استاد تھے۔ بزرگان خاندان زہد و تقویٰ میں بے مثال تھے۔ ان کی برکت کے فیض میں تربیت پائی اپنے مورث اعلیٰ کی پیروی میں زرین کوب نام کو منسوب کیا۔ ان کے والد خا ندانی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ا ن کو دینی تعلیم سے آراستہ کر نا چاہتے تھے لیکن ان کی طبیعت دنیاوی تعلیم کی طرف مشغوف تھی لیکن ا ن کے والد اس بات پر راضی ہوئے کہ فرصت کے ایام میں حوزئہ علمیہ بحرالعلوم میںتحصیلات علوم دینی کو جاری رکھیں ۔ ان کو خوف تھا کہ دنیاوی تعلیم کا انہماک دینی تعلیم سے رابطہ منقطع نہ کردے زرین کوب خاندانی روایت کو بر قرار رکھتے ہوئے علوم دینیہ سے منحرف نہیں ہوئے اور ایام تعطیلات میں اور اسکول کے د رس سے فرصت پانے کے بعد د یگر اوقات کوعلوم دینی کے حصول میں صرف کرتے تھے جس کے نتیجہ میں فقہ ،تفسیر، وادبیات عرب پر دسترس حا صل ہو ئی اور عربی اشعار سے بہت زیاد دلچسپی پیداہوئی تعلیم دینیہ ہی کی بنیادپراسلام شناس اور اسلام کے عظیم ترین محققین میں شمار ہو تا ہے ۔محمد اسفندیاری کہتے ہیں ۔۔
،،عبدالحسین زرین کوب کا نام محققین ،دانشوران و قارئین کی نظروں میں مشہور ہے یہ نام درجنوں
کتابوں اور سو سے زیادہ تحقیقی مقالوں کی پشت پر درج ہے اور اس سما ج کے ہزاروں فر ھنگ دوست
کے ذہنوں پر نقش ہے یہ نام ہمارے حلقہء علم وادب کے مایہء ناز محققین کے درمیان مشہور ہے اور
دنیائے علم وادب کی مرکوز توجہ ہے اور پچاس سال سے زیادہ ہو چکے ہیں کہ ہزاروں دوستان علم ان کے علم
سے مستفید ہو رہے ہیں اور اپنے دماغ و دل کو تر و تازہ کیا ہے اور ان کو تحسین و آفرین کہتے ہیں۔زرین
کوب کی تما م تر خوبیاں کمتردانشوروں میں پا ئی جا تی ہیں ایک مہم تر یہ ہے کہ اس نے علم اور روح علم کا
ایک دوسرے کو آپس میںاختلاط کیا ہے وہ تنہا عالم نہیں ہے بلکہ علم کی روح ہے یہی وہ خصوصیت ہے
جس نے دوسروں کی نظر میں ان کو مقبولیت بخشی دوسری خصوصیت مختلف فرہنگوں سے معرفت ہے
اوراس خصوصیت کے باعث مختلف فکر و خیال کے قارئین ان کی کتا بوں کی قدر وقیمت کو جا نتے ہیں
اور اس کا استقبال کرتے ہیںوہ فرہنگ اسلا می وایرانی وغربی سے واقف تھے،، ۴
یونانی مفکرین سے ایرانیوں کو روشناش کرایا، ارسطو کی کتاب بو طیقا کا تر جمہ فارسی میں کیا اوربہت ساری کتا بیں تصنیف و تا لیف کیں ۔ بعض کتا بیں مقالات پر مبنی ہیں جو رسالہ میں یکے بعد دیگرے شائع ہوتے رہے بعد میں ان کے شاگردوں نے ا س کوکتا بی شکل دی ۔ ان کی مشہور کتابیں مندرجہ ذیل ہیں ۔
نقد ادبی ،سیری در شعر فارسی ،مثنوی بحر زدہ کوہ، تاریخ ترازو،گزشتہ از ادبی ایران ،نقش بر آب، دو قرن سکوت ،ارزث میراث صوفیہ ،جستجو در تصوف،دنبالہء جستجو در تصوف ایران ،یاد داشت ھا و اندیشہ ھا(شامل ۳۴ مقالہ)،از چیز ھای دیگر(۱۹ مقالہ پر مشتمل ہے)
نقد ادبی: نیک و بد کا امتیاز لے کر اس جہان میں انسان قدم ر کھتاہے ۔نو زائیدہ بچہ کو جب دیکھتے ہیں توا س کو کوئی چیز بری لگتی ہے ہے تو روتا ہے اچھی لگتی ہے تو مسکرا تا ہے ۔جیسے جیسے اس کا شعور معیار کو طے کرتا ہے اس کی پرکھ کا پیمانہ پختہ ہو تا جا تا ہے اور پھر اس کے لئے ایک توانا و مضبوط ا صو ل طے ہو تا ہے۔ نقد عربی کا لفظ ہے اردو زبان میں لفظ تنقید کو جس معانی مفاہیم میں لیا جا تا ہے۔ عربی میں اس کے لئے لفظ نقد وضع کیا گیا ہے ٹی ایس ایلیٹ نے زندگی کے لئے تنقید کو سانس کے مانند اہمیت دی ہے ۔نقاد ایسا شخص ہے جس کے اندر کسی فن پارے کی تفہیم اور تعین حسن وقبح کا پیمانہ مو جود ہو ۔تنقیدکا کا م بہت دشوار کن کام ہے نقاد میں بیشمار صلا حتیں ہو نی چا ہیئے ۔جہاں تک فارسی تنقیدکا مسئلہ ہے اس کے بارے میں تنقید نگاروںکا کہنا ہے کہ فارسی ادیبوںنے اس کی طرف کم توجہ دی ہے ۔عربوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھتے ہیں توعربو ں کے یہاں شعر کو پر کھنے کے لئے ایک مزاج تھا۔ بعض دانشوروں کا ماننا ہے کہ عجمیوں کا تنقیدی شعور عر بوں کی مر ہو ن منت ہے لیکن بعض محققین اس با ت کے قائل ہیں کہ دور قدیم سے ہی ا ن کے یہاں تنقید کے رحجا نات پا ئے جا تے ہیں۔
’’ اسلام سے پہلے کے ایرانی ادبی سرمایہ سے متعلق کوئی کتاب یا رسالہ
نقد ادب پسندمیں ہم تک نہیں پہونچا ہے لیکن شواہد و قرائن کے پیش نظر یہ یقین
ہو جا تا ہے کہ اس دور میں بھی نقد ادب اور سخن سنجی کا رواج تھا ۔ ،، ۵
نقد ادبی تنقید ی شعور کا ایک گرانقد ر سرمایہ ہے جو کہ زرین کوب کی فکری محنتوں اورکا وشوں کا ثمرہ ہے اور اس سے زرین کوب کی علمی و فکری توانائی لیاقت و صلاحیت ،علم و دانش کی بلندی و پختگی کا پتہ چلتا ہے ۔ پروفیسر نذیراحمد کا بیا ن ہے کہ
’’ استاد زرین کوب تنقید و تحقیق دونوں میدانوں کے شہسوار ہیں ،فارسی
زبان میں تنقید پر ایک اہم کتاب ہے جس میں نقدو انتقاد کے مسائل
کے علاوہ فارسی تنقید کے ارتقاء کی مختصر داستا ن ہے ،،۶
نقدادبی کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ زرین کوب کا خارجی مما لک کا سفر فقط سیر وسیا حی نہیں تھی آپ کا اروپا اور ایشیا ئی ملکوں کا سفر علمی تشنگی و گرسنگی کو دور کرنا تھا آپ کا اصلی مقصد وہا ں کے کتب خانوں سے استفادہ کر نا تھا اور جس کا بین ثبوت ان کی یہ کتاب نقد ادبی ہے۔ اس میں تنقید کی ابتدا اور دنیائے ادب کی تنقید کا تذکرہ زرین کوب کو عالمی تنقید نگار کی حیثیت سے روشناس کراتا ہے دنیا ئے ادب کی تنقید کی تاریخ کا بہترین نمونہ ہے جس سے ان کے عمیق مطالعہ اور تبحر علمی کا پتہ چلتا ہے ۔ ادبیات تطبیقی ان کا خاص مو ضوع ہے ادبیات تطبیقی و ادبیا ت تقا بلی کے مابین جو شبھات محققین و ناقدین میں پایا جا تا ہے اس کو نہایت یہ واضح انداز میں بیان کیا ہے او ر ان کے درمیان جو بنیادی فرق کو براہین و دلیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ان کا شمار معتدل پسندناقدین میں ہوتا ہے کہ جن کے یہاں نہ تو شدت پسندی ہے نہ تو جا نب داری ان کی تنقید و تحقیق عدالت پر مبنی ہے بیجاتعریف تنقید سے گریز کرتے ہیں۔نقد ادبی کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔
’’ منتقد جس وقت اپنے خیال کا اظہار کرتا ہے پوری بصیرت اور واقفیت نہیں رکھتا ہے
رشک و جستجو کے سوا ء اس کے لئے کیا شیء محرک ہو سکتی ہے ؟یہ صحیح ہے کہ منتقد کو کسی بھی اثر
میں جہاں عیب اور کوتاہی نظر آئے وہاں اس پر انگلی رکھنی چاہئے۔اور ایک دوسرے سے
نیک و بد کی تمیز کرنی چاہیئے اس قسم کا نقد جو دروغ اور بے بنیاد ہو وہ روزناموں میں ستائش
اور دشنام دہی کے لئے تو جگہ پاسکتا ہے مگر اس کو ثبات و دوام کی سند نہیں مل سکتی‘‘۔۷
نقد ادبی زرین کو زبان کی وسعت علمی وفکری و شناسی وعمق علمی کے معاصرین بھی تسلیم کرتے ہیں ۔عنایت اللہ مجید ان کے تنقیدی شعور کی تعریف ا ن کے مقا لات کے مجموعہ یاد داشتہاو اندیشھا میں کرتے ہیں ۔
’’ ڈاکٹر زرین کا شمار ایران کے ان گراں قدر ادباء اور محققین میں ہے جو
دقت نظر اور وسیع مطالعہ کے مالک ہیں ،یہ ادبی نقد اور اسلامی تہذیب و
ثقافت کے میدان میں کم نظیر اور مسلم استاد ہیں ۔ان کی پوری زندگی مطالعہء
کتاب ،درس وتدریس ،تحقیق،تالیف اور متعدد علمی سفروں سے عبارت ہے‘‘۸
زرین کوب کا سفر بیرونی مما لک صرف تعلیم و تعلم تک محدود نہیں تھا بلکہ تدریس کے سلسلہ کو بھی جاری رکھنا تھا ،۱۹۶۸ ء سے لے کر۱۹۷۰ء تک( Californai) و(Pristton) میں تد ریس کے فرائض بحیثیت (Visiting professer) انجام دیئے ۔ اس کے علاوہ دنیا کے عظیم ترین سیمینار وغیرہ میںبحیثیت نمائندئہ ایران شر یک ہوئے ۔
ڈاکٹر زرین کوب کی کتاب نقد ادبی ایران ہی نہیں بلکہ دنیا ئے ادب کی عظیم ترین کتابوں میںشمار کی جاتی ہے ۔ ڈاکٹر فضل الرحمن ندوی کہتے ہیں کہ ۔۔۔
’’ کتاب نقدادبی ہر طرح اصول نقد کی کتابوں میں صف اول میں جگہ لے سکتی ہے
بلکہ بعض نقطہء نگاہ سے اس کو اولیت اور افضلیت حاصل ہے و مشرق و مغرب میں
جہاں تا ریخ نقد ،نفس نقداور دیگر قوموں کے تطبیقی مطالعہ کاعطر پیش کیا گیا ہو ایسی کتاب
ادھر تصنیف نہیںہوئی۔،،۹
بعض محققین کاکہنا ہے کہ نقد ادبی تنقید کی تاریخ ہے بعض کاکہنا ہے کہ یہ ادبیات تطبیق کا بہترین سر مایہ ہے ، یہ بات واضح ہے کہ علوم انسانی آدم اول سے لیکر اب تک ایک دوسرے سے مر تبط ہیں درمیان میں کچھ فاصلے حائل ہیں لیکن ان سے روابطی سلسلہ ختم نہیں ہو تے ۔عبدالحسین زرین کوب نے نقد ادبی کے مقدمہ میں
لکھا ہے۔
’’جو کچھ بھی انسان و علوم انسانی ربط رکھتے ہیں تاریخ کے نصاب میں مو جود ہوتے ہیں ا ور
ضرورت تاریخ میں بھی متاثر شرطوں کے تفاوت کے ساتھ تحول و تغییر کو قبول کرتا ہے
گذشتہ و حال کے محدوو نظریوں پر منحصر نہیں رہتا ہے‘‘ ۱۰ ادبیات تطبیق کا تعارف سب سے پہلے احمد امین نے کرایا۔لیکن مبا دیا ت میں الجھ کر رہ گئے بعد میں دوسرے دانشوروں نے اس کی ضرورت واہمیت کومحسوس کیا ۔ فاطمہ سیاح نے ادب کے اس دبستان سے لوگوں کو سیراب کیا لیکن زندگی نے ان سے وفا نہیںکی اور حیات ابدی نے اپنی چادر میں لپیٹ لیا دوسرے ادبیات تطبیق کے عظیم ترین قافلہ سالاروں میں عبدالحسین زرین کوب ہیںجن کے توسط سے اس دبستان نے ار تقائی سفر کی منزلیں طے کیںصا حب کتاب خود تحریر کرتے ہیں ۔
’’اس باب میں ارباب نظر کے جو اقوال اور آر اء اور کچھ مسائل ہیں ،ان کی تحقیق نیز اجتہاد
کے باب میں ان کے جو خیا لات ہیں ان کے درمیان جمع و تطبیق کا کام راقم این سطورنے
انجام دیا ہے۔،،۱۱
نقدادبی کتاب کے مصنف نے تنقیدکے نہایت ہی اہم مسئلہ کو بیان کیاہے یہ کتاب ایک جلدپرمشتمل تھی لیکن بعد میںجب یہ سولہ سال بعد شائع ہو ئی تو اس میںمصنف نے مزید مباحث کا اضافہ کیا اوراسکی ضخامت کو دیکھتے ہوئے اسے دوحصوں میں تقسیم کر دیا اور جدا جلدوں میں شائع کیا ۔لیکن اب جو نیا ایڈیشن شائع ہو رہا ہے دونوں جلدوں کو یکجا کر کے ایک ضخیم کتاب شائع کی گئی قدیم ایڈیشن کو دو جلدی سے متمایز کر نے کے لئے ’’آشنائی با نقد ادبیِِِِِِ‘‘کے نام سے موسوم کی گئی۔ جوکتاب سات ابواب پرمبنی ہے پہلے باب میں نقد وادب کی تعریف ،علوم و فنون میں تنقید، ادبی آثار میں تنقید نگاری،نقادوںو تنقید نگاری کے اصول کا اجمالی بیان ، تنقید اور ابداع ،تنقید اور علم ،صناعت تنقید، تنقید اور ادب کے فنون ، ادب کی تنقید کے حدود ، تنقید کا امکان ، قدرو قیمت اور فائدہ، حکمتوںکی کسوٹی، ذوق ،تنقیدکی غرض و غایت، تنقید کی تاثیر و افادیت پر بحث کی گئی ہے دوسرے باب میں تنقید کی قسمیں مثلا اخلاقی ،اجتماعی، نفسیاتی ، جذبہ ،الہام،شعر کی تاثیر، تاریخی ،علوم طبیعی کی روش ،روش فنی ،قدماء اور متجددین ،قدماء کا تتبع ،تنقیح اشعا روغیرہ کیا ہے
کے حوالے سے گفتگو کی ہے ، تیسرا باب ادبی نقد کے مسائل پر مبنی ہے شامل مو ضوعات مسئلہ انتساب ،تصحیح متون سرقات اور توادر موازنہ ادبیات تطبیقی نقادوں کی اصطلاحات اوصاف اہمیت کے حامل ہیں ۔چوتھا باب یونان و روم میں نقد اس میں ارسطو کے اور اس سے ما قبل فلسفیوں کے جو نظر یات اور مکتب اسکندریہ کے عہد کے دو اہم نقاد کا اجمالی بیان ہے اس باب کی قدر و منزلت اس لئے زیادہ ہے کہ یوروپ کے ناقدوں میں سقراط،افلاطون ،ارسطو سے ما قبل نقا دوںسے بیشتر افراد نا بلد ہیں،اس ضمن میں زرین کوب نے جن علمی استبصار اور نکات کی طرف اشارہ کیا ہے بنہایت ہی دلچسپ ہیں بالخصوص الہام کی بحث۔پانچواں باب عرب واسلام سے متعلق ہے چٹھے باب میں ادبیات ایران کاتفصیلی تنقیدی جایئزہ لیا گیا ہے ا س میںاسلام سے قبل عہد قاچاریہ تک کا ذکر ہے ساتویں باب میں ایران کا جدید ادب مشروطیت سے قبل وبعد کا ہے ۔ دو جلدی کتاب اٹھارہ ا بواب پر منقسم ہے پہلی جلد میں نو باب دوسری جلد دسویں با ب سے لے کر اٹھارہویں باب تک کا بیان ہے پہلے ان جلدوں کو جدا کر کے شائع کیا گیا، اب نیا ایڈیشن میں دونوں جلدیںضم ہو کرشائع ہوئی لیکن تقسیم دو جلدوں پرہے، یہ کتاب برادرحمید زرین کوب کی کوششوں سے بعض مطالب کی توضیح و اصلاح عمل میں آئی اور ڈاکٹر توفیق سبحانی نے ترمیم کرکے اسے انتشاری تشکیل دی ۔کیونکہ پہلی چاپ میں جو کچھ مشتبھات آ گئے تھے ا نکا ازالہ کیا گیا ہے ۔ اس نئی کتاب میں پہلا باب مقدمات و تعریفات ،دوسرا باب روش تنقید و اہمیت تنقید، تیسرا باب ادب کی تنقید کے مسائل و مباحث،چوتھاباب عرب واسلامی عہد کی تنقید،پانچواںباب ایرا ن کا قدیمی ادب پرمشتمل ہے ،چھٹا باب تاثیرات یونان و روم ،ساتواں باب اسلام کے محصورات میں نقائض، اس باب میں تسلسل فرہنگ باستانی، قرن وسطی و مسیحیت ، تاویل گرائی ، ادبیات اقوام ، ابیات و قرن وسطی بانیان قرن وسطی، آٹھواں باب دانتے کی میراث کی اہمیت اس باب میںتحریک ہیومینسم،مشرحین ارسطو ،چھٹی صدی کا اسلوب،رومانیت و نقد،سترہویں صدی اور نقد،نواں باب ڈن کیخود اپنے میں دیکھتا ہے اس باب میں اسپین ا ور اسلامی میراث ، مسیحی دنیا کی طرف مراجعت، کامیڈی اور عمومی نقد ،اٹھارویں صدی میں تنقید ،رومانیت اور کلاسیکی ادب ،تنقیدو تحقیق ،دسواں باب انفجارروح فایئوست اس باب میںجرمن اورا نسانیاتی ادب (Humanism )شعر اور انقلاب مذہب ، تاثیر فرانس ،تحریک رومانیت ، تاثیر ات فرانس کا زوال ، گیارہواں باب وجود کے بعد تفکر اس باب میں نظریات فرانس ، مسائل حقیقی،کلاسیکت کے دبستان، انتزاع قافیہ ، احساس کی اہمیت، متقدمین رومانیت ، رومانیت اور مخالفین رومانیت ، بارہواں باب شکسپیئر کے جزیرے میں اس باب میں پسپائی انگلستان ، انگریزی ادب کاارتقاء ،اہمیت شعر،و مسائل قافیہ ، ناقدین انگلستان ، ویکٹوریہ کا دور، میتھوآرنلڈ،تنقید صدی کے اواخر میں تیرہواں باب تجدید کی دنیا میں ارتقائی منزلیں۔اس باب میں آزادی سے پہلے نئی دنیا ، جنگ انفصال و قومی ادب ،امریکہ کے ادب وفرہنگ کا جدید عہد،داستان نویسی ، ناقدین بازاری ،چودہواں باب ظلمت کے حوزہ میں شعاع نور، اس باب میں روس میں ادبی روایت ، مشرق و مغرب میںروس ،ادبیات جدید اور غلامانہ نظام ،تحریک آزادی ، روس کی داستان نویسی ،شعر و شاعروں کی زبان پندرہواں باب عہد حاضر میں تنقید کی جدید روش۔ اس باب میں ،عہد حاضر میں روسی تنقید کی اہمیت،فرانسیسی ادب اور دانشگاہ کی تنقید ،ادبیات تطبیق و مسئلہ شعر خالص، برکسٹن کا فلسفہ اور ناقدین معاصر، عہد حاضر میں اسپین ،جدید رو مانیت و کلاسیکل کی طرف مراجعت ، جرمن میں جدیدیت کے رحجان، روس میں انقلاب، امریکہ میں سماجیاتی تنقید، ناول نگا ری اور ناول کی تنقید، برناڈ شاہ کے دورسے برٹولٹ برشٹ کے عہدتک ڈرامہ نگاری ، سولہواں باب ایران میں جدیدیت اور کلاسکیت اس باب میں ایران ا ور مغرب کی دنیا ، ایران میں بورژ کی پیدائش ،تصور آزادی ، روایت (کلاسکیت)میںمطابقت ،میراث روایت(کلاسیکیت) ، عوامی ادب، ترویج فکر اور جدید فرہنگ ، مغربی تمدن میں تصادم ، مشروطیت کے عہد کا ادب،جدیدیت کے نظریات ،روایت کے رحجانات ، جدید دور کے آغازمیں ادب ، ادب کی تحقیق سترہواں باب ترویج فلسفہ و فکر اس باب میں فلسفہ اور تنقید، افلاطون وارسطو، کانٹ اوررومانیت، شیلر اور فلسفہ کانٹ، ہیگل اور اس کے فلسفہ کی تاثیر، حقیقت نگاری اور فطرت نگاری، تاثیر ڈارون،مارکس کی تعلیمات کے اشارات ،فرویڈوادبیات،آدلر ویونگ،برگساںا ورولیم جیمس ، جنبش اشتراکیت ،سا تر اورمتعہد فکرکے ادبیات، ادب کی تاریخ اورڈیلٹا کے مفہوم کی طبقہ بندی ،فلسفہ اورادب کارشتہ اٹھارہواں باب تنقید کے ماخذ کا جائیزہ اور تنقید اس باب میں نقدا ور فلسفہ، شناخت کی دو نوع ،ادب میں غایت اور التزام ، شناخت میں محدودیت، تنقید نگار کی شناخت ،اور فلسفیوں کی شناخت کیا شعر وادب ایک نوع کی شناخت ہیں، معیا ر کی کسوٹی،تنقید نگار کی مشکلات ، معیا ر کے لحاظ سے عقل اور طبیعت کی اہمیت ،حقائق تاریخ اور تقدم نقد اور نقش کا مسئلہ اور نظام تنقید،تنقید تعلیم کے اعتبارسے ،ادب کے رموز ، تنقید نگار بہ حیثیت ترجمان و واسطہ ،نقد امری،نقد حقیقی اورادب کی تحقیق میں مشکلات، ادب کی تاریخ اور بلاغت، اسلوب کی شناخت، جامع نقد ، اور اسلوب میں فرق ،تنقید نگاروں کا تنقیدی جائیزہ ، تنقیدبہ حیثیت و جدان ادب، طول کے باعث اور مباحث کا بیان نہیں کیاگیا ہے ۔ان ابواب کے موضوعات یقین و مطمئن کراتے ہیںکہ یہ کتاب دنیاے تنقید کی میراث ہے ۔
پروفیسر نذیر احمد فر ماتے ہیں۔
’’ فارسی زبان میں اس فن پر نہایت اہم تصنیف ہے۔،، ۱۲
یہ کتاب عربی فارسی اور اردو ادب کے طالب علموں کے لئے بہت مفید ہے عربی ، اردو ،فارسی کے تنقیدی مسائل کا فی حد تک ایک دوسرے سے مماثلت رکھتے ہیں ۔ بالخصوص اردو اور فارسی کے دانشجویان کو اس کا مطا لعہ کر نا چاہیئے۔ نقد ادبی دنیائے نقدکی تاریخ بھی ہے اور ادبیات تطبیق کو سمجھنے اور اس سے واقفیت کے لئے کارآمد و سود مند کتاب ہے۔
حواشی:۱ اسفندیا ری محمد، یک شاخہء گل، آئینہء میراث ،تابستان۱۳۷۷ شمارہ۱ ص۴۲
۲۔ آزادہ فریدون تفرشی،یاد کرد،پیام بہارستان شھریور ۱۳۸۲،شمارہ۲۷ص۲
۳۔ایضاص۳
۴۔اسفندیاری محمد ، یک شاخہء گل،آئینہء میراث،تابستان ۱۳۷۷ شمارہ ۱ص۴۲/۴۳
۵۔زرین کوب عبدالحسین،نقد ادبی ص۱۸۱ ،اشاعت تہران امیر کبیر۱۳۷۳
۶۔زرین کوب عبدالحسین،تاریخ نقد ادب ،مترجم ڈاکٹر محمد فضل الرحمن سیوانی ندوی ص۷، اشاعت ۱۹۸۵ء/۱۴۰۵ہجری دہلی
۷۔زرین کوب عبدالحسین،نقد ادبی ص۸۳ / ۱۸۲،اشاعت تہران امیر کبیر۱۳۷۳
۸۔زرین کوب عبدالحسین،یاد داشت ھاو اندیشہ ھا ص شش، اشاعت تہران سخن،۱۳۸۹
۹۔زرین کوب عبدالحسین،تاریخ نقد ادب،مترجم ڈاکٹر محمد فضل الرحمن سیوانی ندوی ص۵۱،اشاعت ۱۹۸۵ء/۱۴۰۵ ہجری دہلی
۱۰۔زرین کوب عبدالحسین ،آشنائی با نقد ادبی ص ۸ ،تہران ۱۳۷۳
۱۱۔ایضا ص۱۴
۱۲۔ زرین کوب عبدالحسین،تاریخ نقد ادب،مترجم ڈاکٹر محمد فضل الرحمن سیوانی ندوی ص۱۲،اشاعت ۱۹۸۵ء/۱۴۰۵ ہجری دہلی

You might also like