مضامین ومقالات

سیتاپور اور کاکوری کی کہانی ہر کسی کے من کی مراد

حفیظ نعمانی
تحصیل بسواں سیتاپور کے ایم ایل اے کو ان کی ضرورت سے زیادہ فرعونیت کی وجہ سے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے انہیں پارٹی سے نکال دیا اور انتظامیہ کے افسروں کو پوری چھوٹ دی کہ وہ قانون کے مطابق کام کریں۔ ایم ایل اے مسٹر رام پال یادو کے سینہ پر تین تمغے ہر وقت چمکتے رہتے تھے۔ ایک تو یہ کہ وہ ایم ایل اے ہیں، دوسرا یہ کہ حکمراں پارٹی کے ہیں اور تیسرا یہ کہ وہ یادو ہیں۔ ان کے نزدیک ان تمغوں کے بعد کسی آئی اے ایس افسر یا پی سی ایس افسر کی یہ ہمت نہیں ہونا چاہئے کہ وہ ان کے کسی بھی کام میں مداخلت کرے۔ بیشک اس میں تصور حکومت کے اس رکن کا ہے جسے ایم ایل اے کہا جاتا ہے۔ لیکن ان افسروں کا بھی جو یہ چاہتے ہیں کہ ودھائک جی اگر دونوں ہاتھوں سے بٹور رہے ہیں تو ایک ہاتھ سے ہمیں بھی لینے کا جو موقع ملا ہوا ہے اس میں مداخلت نہ کریں۔ اور ایسے ہی افسر انہیں اس کی شہ دیتے ہیں کہ پانچ سال میں جو کمانا کمالیں۔ پھر کیا خبر چراغوں میں روشنی رہے یا نہ رہے؟
1969 ء میں بلرام پور اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سیٹھ تھے۔ وہ شہرت کے اعتبار سے بہت سخت تھے۔ ایک صاحب جن کی کوئی توقع نہیں تھی لکھنؤ کے وسطی حلقہ سے اسمبلی کے ممبر ہوگئے۔ سب کو یاد ہوگا کہ 1970 ء میں بلرام پور اسپتال کی وہ حیثیت تھی کہ ہر وزیر، نائب وزیر، سکریٹری اور ایم ایل اے وغیرہ صرف بلرام پور میں ہی علاج کراتے تھے۔ اور ہم بھی اکثر اسپتال جایا کرتے تھے۔ نتیجہ کے آنے کے دوسرے دن ہم ایم ایل اے کے پاس بیٹھے تھے کہ کسی نے آکر خبر دی کہ باہر بلرام پور اسپتال کے تین ڈاکٹر کھڑے ہیں۔ سب چونک گئے کہ یہ مذاق کس نے کیا؟ جب ان کو اندر بلایا گیا تو ہم حیران رہ گئے کہ ڈاکٹر سیٹھ، ڈاکٹر شرما اور دل کے معالج ڈاکٹر رضوی تھے۔ جب یہ معلوم کیا کہ آپ حضرات کو کس نے زحمت دی تو ڈاکٹر سیٹھ صاحب نے کہا کہ بلرام پور (e/; {ks=) میں ہے۔ امتیاز صاحب اس چھیتر کے نمائندے ہوئے ہیں اس لئے ان کی صحت کی ذمہ داری بھی ہماری ہے۔ پھر انہوں نے اور ڈاکٹر شرما اور ڈاکٹر رضوی نے ایم ایل اے کو ہٹاکر پورا ڈرامہ کیا اور سیکڑوں روپئے کی دوائیں جو ساتھ لائے تھے وہ دیں اور امتیاز صاحب کو اہم آدمی وی آئی پی بنا دیا۔ ظاہر ہے جس کے قدموں کے نیچے شہر کا سب سے بڑا اسپتال ہو وہ بار بار بیمار کیوں نہ پڑے گا؟ اور جو امتیاز ادیب کبھی بیمار نہیں ہوتے تھے وہ ہر مہینے بیمار ہونے لگے اور وہ آرام کے مشورہ پر بھی عمل کرنے لگے اور دل کے مریض ہوکر اسی اسپتال میں بھرتی بھی رہے۔ جہاں ان کے ساتھ وہ کیا گیا جو وزیروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور جب پانچ سال کے بعد وہ عام آدمی ہوگئے تو وہ ڈاکٹروں کے پیچھے پیچھے پھرنے لگے اور انتقال بھی بلرام پور اسپتال میں ہوا۔
یہی رویہ پولیس انسپکٹروں کا تھا۔ امتیاز چونکہ چالاک آدمی نہیں تھے اس لئے بس تین سال کے لئے شیعہ وقف بورڈ کے کنٹرولر تو رہے اور وہاں کیا کیا یہ ہم اس لئے نہیں جانتے کہ ہم ان سے اس لئے دور دور رہنے لگے تھے کہ انہو ں نے بی کے ڈی چھوڑکر ہمارے علم میں لائے بغیر کانگریس کو اپنا لیا تھا۔ جس کا انعام شیعہ وقف بورڈ ملا تھا اور بورڈ سے، وہ کوئی بھی ہو ہمارا کوئی تعلق نہیں تھا۔ امتیاز صاحب کے ساتھ ہی ڈی پی بورا بھی مغربی لکھنؤ سے ایم ایل اے ہوئے تھے۔ وہ بہت سمجھدار نکلے اور آج ان کے بیٹے ڈاکٹر ہیں اور انہوں نے ایک پیٹرول پمپ بھی لے لیا تھا۔ غرض کہ انہوں نے کروڑوں کمائے مگر نہ کسی بورڈ سے کمائے نہ سرکاری زمینوں پر قبضہ کیا نہ بغیر نقشہ پاس کرائے ہوٹل اور فارم ہائوس بنائے ہر کام قانون کے اندر رہ کر کیا۔
رام پال یادو کی سرپرستی میں بنوایا ہوا سیتاپور کا اسپرش ہوٹل جو کروڑوں روپئے میں بنا ہوگا اسے گراتے ہوئے چار دن ہوچکے ہیں اور وہ ایسا بنایا گیا ہے کہ ابھی اور وقت لگے گا۔ ہم یا کوئی کیسے اس کا یقین کرسکتے ہیں کہ رام پال جی نے یہ سب چند مہینوں میں کرلیا۔ بیشک آج جو کارروائی کی گئی ہے وہ عوام کی خواہش کے مطابق اور سماج وادی حکومت یا پارٹی کے اصول کے مطابق ہے۔ اگر یہ اور پہلے کردی جاتی تو دوسروں کو بھی خیال ہوتا کہ وہ حاکم نہیں خادم ہیں۔ یہ ہر کسی کے سوچنے کی بات ہے کہ ایک آدمی جو شریف ہے، عوام کا ہمدرد ہے، اپنی زندگی میں ایماندار ہے۔ اسے ایک سیاسی پارٹی اپنا نمائندہ بناتی ہے۔ اسے نام دیتی ہے نشان دیتی ہے۔ پیسے دیتی ہے اور لوگوں سے اپیل کرتی ہے کہ اسے کامیاب بنائیں۔ اور عوام اسے خود بھی ووٹ دیتے ہیں اور دوسروں سے بھی دلواتے ہیں، ضرورت ہو تو جیب سے پیسے بھی خرچ کرتے ہیں لیکن وہ کامیاب ہوکر راجہ بن جاتا ہے اور اُمید کرتا ہے کہ ہر کوئی آئے اس کے پائوں چھوئے اور اگر اسے کوئی کام کرانا ہے تو اس کے لئے تحفے لائے اسے رشوت دے اور اس کے اوپر خرچ کرے۔ جبکہ ہونا یہ چاہئے کہ لوگ دیکھیں کہ وہ ہر وقت ہر کسی کے کام کے لئے آمادہ ہے اور اس کی کوشش ہے کہ کام ہوجائے اور اس کا کوئی پیسہ خرچ نہ ہو۔
پارٹی کے لیڈروں کا فرض ہے کہ وہ جسے ٹکٹ دیں اسے یہ سبق بھی پڑھائیں کہ اگر تم حاکم یا راجہ بنو گے تو پانچ سال کے بعد نہ تم آئوگے نہ ہم تمہیں لاسکیں گے۔ اپنے تاج محل بنانے کے بجائے عوام کے جھونپڑے بنوائو۔ ان کے دُکھ دور کرنے میں کام آئو انہیں نچوڑنے کی کوشش نہ کرو بلکہ ان کی ہر مشکل میں ان کی مدد کرو اور ان میں شامل ہونے کی کوشش کرو کیونکہ تم تین لاکھ ووٹروں کے نمائندے ہو۔ اگر پارٹی کے صدر اور وزیر اعلیٰ یادو ہیں تو وہ صرف یادوئوں کے نیتا یا وزیر اعلیٰ نہیں ہیں۔ وہ پنڈت جی ٹھاکر صاحب، ورما جی اور نگم بابو کے یا خاں صاحب اور موریہ جی کے بھی اتنے ہی قریب ہیں جتنے یادو کے۔ کسی یادو کو یہ سمجھنا کہ اب صوبہ میں یادو راج آگیا تو یہ پارٹی سے دشمنی ہے۔
لیڈروں کو اور وزیر اعلیٰ کو افسروں سے بھی کہنا چاہئے کہ کوئی ایم ایل اے بن جائے تو اس کا دماغ خراب نہ کریں۔ اس کی عزت کریں وہ جس کام کے لئے کہیں وہ اگر صحیح ہو تو ضرور کریں اور غلط ہو تو معافی مانگ لیں۔ وہ نہ ڈاکٹر سیٹھ بنیں اور نہ یہ نوبت آنے دیں کہ بعد میں کوئی ایم ایل اے تھپڑ مارنے یا ان کے لڑکے ریوالور دکھانے کی ہمت کرسکیں۔ سیتاپور کے دوسرے افسروں کے ساتھ ایل ڈی اے کے افسروں سے بھی جواب طلب کرنا چاہئے کہ جس دن ہوٹل کی نیو کے لئے زمین کھودی جارہی تھی یا تعمیر شروع کی جارہی تھی اس دن اور اس کے بعد جب اس کا ڈھانچہ بن رہا تھا تب آپ لوگ کہاں تھے؟
ایک بات مسلسل دیکھنے میں آئی ہے کہ ہر ایم ایل اے چاہے وہ جاہل ہو، وزیر بننا چاہتا ہے۔ اور پارٹی کے لیڈر جسے وزیر نہیں بنا پاتے اس کی نازبرداری داماد کی طرح کرتے ہیں۔ اس سے ان کا دماغ خراب ہوجاتا ہے۔ وزیروں کی ٹیم بنانا وزیر اعلیٰ کا اختیار ہے۔ اسی کو یہ طے کرنا ہے کہ جو کچھ اس نے سوچا ہے اس نقشہ میں رنگ بھرنے کے قابل کون کون ہے؟ ہم تو 1952 ء سے اب تک دیکھ رہے ہیں کہ پہلے وزارت کوئی مسئلہ نہیں تھی اس لئے کہ نہ یہ دیکھا جاتا تھا کہ ہر شہر کی نمائندگی ہو اور نہ یہ کہ ہر برادری کی نمائندگی ہو۔ اس بات کو الیکشن سے پہلے ہی صاف کردیا جائے تو اچھا ہو کہ وزیر بننا ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔ ایم ایل اے بننا بھی بہت کچھ ہوتا ہے۔ ایم ایل اے حکمراں پارٹی کا ہو یا مخالف کا اگر وہ اپنے دائرے میں رہے تو بہت کچھ ہے۔
مسٹر اکھلیش یادو بزرگوں سے مشورہ ضرور لیں لیکن اپنے خوابوں کی حکومت بنانے کے لئے وزارت ایسی ہی بنائیں جیسے گیارہ کھلاڑیوں کی ٹیم بنتی ہے کہ کس کو کس پوزیشن پر کھلایا جائے؟ اور بزرگوں نے بھی جب اعتماد کیا ہے۔ تو اچھا یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ کو پوری چھوٹ دی جائے۔ معاملہ سیتا پور کا ہو یا کاکوری کا یا کہیں کا بھی رعایت کسی کے ساتھ نہ کرنا چاہئے۔ اور بالکل آخری دنوں میں مس مایاوتی کی طرح دُھلائی اور صفائی کرنے سے عوام مطمئن نہیں ہوتے۔ عوام یہ دیکھنا چاہتے ہیں جو سیتا پور میں ہوا یا کاکوری میں ہوا یا کہیں اور ہوا اس لئے کہ پارٹی سماج واد کی علمبردار ہے۔ اور سماج واد کیا ہے؟ اسے لیڈروں سے زیادہ عوام جانتے ہیں۔
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker