ہندوستان

آگسٹا سے 39.8 ملین یورو وصول کریں گے، رشوت خوروں کو پکڑیں گے: منوہرپاریکر

نئی دہلی۔ ۷؍مئی: (پردیش۱۸)وزیر دفاع منوہر پاریکر نے آگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر رشوت معاملے میں حقیقی مجرموں کو قانون کے شکنجے میں لانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے آج کہا کہ داغدار کمپنی سے 39.8 ملین یورو کی وصولی کی جائے گی۔ مسٹر پاریکر نے لوک سبھا میں آگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر خریداری معاملے میں خصوصی توجہ دلاؤ تجویز پر هنگامہ خیز بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا، ’’ہم بوفورس کی طرح اس معاملے کو جانے نہیں دیں گے اور رشوت لینے والوں کو قانون کے شکنجے میں لا کر رہیں گے۔ ہم آپ کو مایوس نہیں کریں گے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اٹلی کی میلان عدالت کے فیصلے میں آگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر کے ڈیولپر کمپنی فینے مكینكا کا یہ عمل مجرمانہ سازش ثابت ہو گیا ہے اور حکومت اس کمپنی سے 39.8 ملین یورو کی وصولی کرے گی۔ وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) اورای ڈی اپنا کام تیزی سے کر رہے ہیں اور وہ یہ دیکھتے رہیں گے کہ دونوں ایجنسیاں اپنا کام کرتی رہیں، رکیں نہیں۔مسٹر پاریکر نے فینے مكینكا کو بلیک لسٹ میں نہ ڈالے جانے کا وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تین جولائی 2014 کو اس وقت کے وزیر دفاع اور موجودہ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اس کمپنی پر پابندی کی تجویز پر غور کرنے پر پایا کہ بحریہ کے کئی جنگی جہازوں پر گولہ بارود اور ہتھیاروں کے کچھ ٹولز اسی کمپنی کے لگے هیں۔ ان کی فراہمی کے سودے بھی ہو چکے ہیں تو قومی سلامتی کے مدنظر زیر التواء سودے کو روکنے اور دستخط شدہ سودے کے لیے موزوں آلات اور گولہ بارود کی فراہمی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کانگریس کی سیٹوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’اس سودے میں تو پیسہ کھایا گیا ہے اور فطری طور پر اس طرف والوں نے لیا ہوگا، اس کی جانچ پڑتال ہو گی لیکن قومی سلامتی تو بالاتر ہے اور جنگی جہازوں کو گولہ بارود اور آلات سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ اس لئے ہم نے بلیک لسٹ میں نہیں ڈالا‘‘۔آگسٹا سے 39.8 ملین یورو وصول کریں گے، رشوت خوروں کو پکڑیں گے: منوہرپاریکروزیر دفاع نے کہا کہ آج کی بحث میں کانگریس نے بھی مان لیا ہے کہ اس معاملے میں بدعنوانی ہوئی ہے۔ اٹلی کی عدالت کے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستانی ایجنسیوں پر منحصر ہے کہ وہ چیک کریں اور ہم نے جنہیں رشوت دینے کے الزام میں پکڑا ہے، ان سے رشوت حاصل کرنے والوں کا بھی الزام ثابت ہو۔ فضائیہ کے سابق سربراہ ایس پی تیاگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ ایئر چیف مارشل کے عہدے سے 2007 میں ریٹائر ہوئے تھے لیکن آرڈر تو 2010 میں ہوا تھا۔ اس لئے انہیں فائلوں وغیرہ میں مشورہ کے بدلے میں کچھ ’’چلر‘‘ یا ’’پرساد‘‘ ملا ہو گا۔ اصلی مال تو 2010 والے کو ملا ہو گا۔ مسٹر پاریکر نے کہا کہ حکومت مزید بوفورس نہیں ہونے دے گی اور اس معاملے کو منطقی نتیجہ تک پہنچائےگی۔ وزیر دفاع کے جواب کے درمیان کانگریس کے اراکین نے جم کر ہنگامہ کیا۔ کانگریسی رکن ان کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے هے ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker