خواتین واطفالگوشہ خواتینمضامین ومقالات

ماں کے ساتھ آج کے بیٹوں کا سلوک

ایک معاشرتی بحران اور اسکا حل
٭مدثر احمد قاسمی

ایک لفظ جسکو’’ماں‘‘کہتے ہیں ، اس میں موجود ممتا کا عنصر دنیا میں آنے والے ہر انسان کیلئے آبِ حیات کی مانند ہے، جسکو پی کر انسان زندگی کی ہر آسان اور مشکل راہوں پر چلنے کا حوصلہ پاتا ہے۔آپ نے ماں کی لوریاںضرور سنی ہوںگی اور آپ نے محسوس بھی کیا ہوگا کہ دل کی گہرائیوں سے نکلنے والے یہ نغمے بچوں کو بالکل مسحور کر دیتے ہیںاور بچے نیند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ایک بیمار بچے کی ماں کو بھی آپ نے دیکھا ہوگاکہ کس طریقے سے وہ اپنے لختِ جگر کی تکلیف سے خشکی میں تڑپتی ہوئی مچھلی کا نمونہ بن جاتی ہے۔یہ ماں ہی ہوتی ہے جو بچوں کی خطائوں اور لغزشوں پرعفو و درگذر کا پیکر بن جاتی ہے اور خدا کے حضور اپنے بچے کی اصلاح اور نیک زندگی کی دعا کرتی ہے۔

وہ ماں جو اپنا سب کچھ نچھاور کرکے آسودگی محسوس کرتی ہے،اسی ماں کے ساتھ آج کا بیٹا جوسلوک روا رکھتا ہے ،وہ سماجی مصلحین کے لئے ایک پیچیدہ سوال کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔شادی سے پہلے تک کے معاملات کسی حد تک اطمینان بخش ہوتے ہیں،لیکن شادی کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک چمن اجاڑ کر دوسرا چمن بسایا گیا ہے۔بیوی سے قربت کا مطلب ماں سے دوری ہرگز نہیں ہے،ہر ایک کا (ماں کا بیٹے پر اور بیوی کا خاوندپر) جو حق ہے اگر اسے دے دیا جائے توزندگی کی گاڑی پٹری پر چلتی رہے گی۔المیہ یہ ہے کہ جو حضرات عقلِ سلیم رکھتے ہیںاور حق کو بھی سمجھتے ہیں اُن سے بھی کوتاہی ہوجاتی ہے۔اگر کئی بھائی ہیں توہر بھائی دوسرے بھائی سے یہ توقع کرتا ہے کہ وہ ماں کا خیال رکھے،نتیجتاًانہیں جو توجہ ملنی چاہئے وہ نہیں مل پاتی۔خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو ماں کی خدمت کے ذریعہ دنیاوی اور اُخرویسعادت کے مستحق بنتے ہیںلیکن افسو س ہے ان لوگوں پر جو اس عظیم نعمت کے زیرِ سایہ زندگی گذارتے ہیںلیکن قدردانی سے محروم رہتے ہیں۔میری آنکھوں نے ممبئی شہر میں ایک ایسے گھرانہ کو دیکھا ہے جہاں بیٹا ،بہو اور پوتے پوتیاں گھر میں سویا کرتے تھے اور بوڑھی و ضعیف ماں کھر سے باہر کی راہداری میںسویا کرتی تھی۔

ماں کی عظمت کا اعتراف سبھی کو ہوتا ہے ،اس کے باوجود ان کے تئیں کوتاہی ہوتی ہے۔ آخر اس پستی کی وجہ کیا ہے؟اس کا ذمہ دار کون ہے؟حقیقت یہ ہے کہ موجودہ سماجی نظام کے بگاڑ، نے سب کو بگاڑا ہے۔وہ بیوی جو شوہر کے کان بھرتی ہے وہ یہ نہیں سمجھتی ہے کہ میں بھی کبھی اس حالت کو پہونچوںگی،اور شوہر یہ سمجھ نہیں پاتا کہ جس ماں نے مجھے جنم دیا ہے کیا وہ میری بھلائی کے علاوہ کچھ اور سوچ سکتی ہے۔آج کی دنیا کو اگر اس معاشرتی بحران سے نکلنا ہے توحبیبِ خدا محمد مصطفیٰ (ﷺ) کی تعلیم کو نہ صرف عام کرنا ہوگا ،بلکہ اسے عملی زندگی میں لانے کی کوششیں بھی کرنی ہوگی۔محسنِ انسانیت ﷺنے کس طرح ایک ماں کوعظمت کے تخت پر بٹھایا ہے اسکا اندازہ آپ کو ذیل میں درج واقعہ سے ہوگا:
” معاویہ بن جاہمہؓ سے روایت ہے کہ میرے والد جاہمہؓ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرا ارادہ جہاد میں جانے کا ہے اور میں آپ( ﷺ) کی خدمت میں مشورہ لینے کیلئے حاضر ہوا ہوں۔آپﷺ نے ان سے پوچھا ،کیا تمہاری ماں (بقید حیات)ہے؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔آپ ﷺ نے فرمایا پھر اسی کے پاس اور اسی کی خدمت میں رہو۔اسکے قدموں میں تمہاری جنت ہے۔ (مسند احمد، سنن نسائی)

بوقتِ ضرورت جہاد ایک مقدس مذہبی فریضہ ہے جس پہلوتہی کی بالکلبھی گنجائش نہیں ہے،لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ سائل کے حالات کے اعتبار سے کس خوش اسلوبی سے نبض شناشِ معاشرہ،مسیحائے دنیاحبیبِ خدا محمد مصطفیٰ ﷺ نے جہاد پر جانے کے مقابلہ میں ماں کی خدمت کو جنت کا پروانہ قرار دیا۔آپ ﷺ نے دنیاکو یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ دنیاوی اور مذہبی فریضہ کی ادائیگی کا سہارالیکرماں کی خدمت سے پہلو تہی کرنا پسندیدہ عمل نہیں ہے۔

حبیبِ خدا محمد مصطفیٰ ﷺ کی والدہ محترمہ حضرتِ آمنہ چونکہ آپ ﷺ کے ایامِ طفولیت ہی میں داغ مفارقت دے گئی تھیں، اسلئے آپ کو عملی زندگی میں ماں کے ساتھ برتائو کا نمونہ پیش کرنے کا موقع نہیں ملا۔لیکن قربان جایئے اس محسنِ انسانیت پر جنہوں نے اس باب میں بھی رہتی دنیاتک کے انسانوں کے لئے ایک نمونہ چھوڑا۔ذیل کی روداد کو پڑھئے اور آپ ﷺ کے معلمِ انسانیت ہونے کی گواہی دیجئے: ’’رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعدحضرت ابوبکر نے عمر ؓسے فرمایاکہ چلوحضرت ام ایمنؓ کے پاس ہوکر آئیں، جیسا حضور پاک ﷺ ان کے پاس آیا کرتے تھے۔‘‘ (مسلم شریف)

خلاصہ حدیث:”حضرت امِّ ایمن ؓ آپﷺ کو بطورِکنیز وراثتاً ملی تھیں،لیکن آپﷺ نے انہیں آزاد کر دیا۔انہوں نے حبیبِ خدا محمد مصطفیٰ ﷺکو گود میں کھلایا تھا ، اس لئے آپﷺ انکی بہت تعظیم کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ میری والدہ کے بعدامِّ ایمن میری ماں ہیں،چنانچہ آپ ﷺ انہیں امی کہہ کر بلایا کرتے تھے۔اور وقتاً فو قتاً ان کی مالی مدد بھی فرماتے رہتے تھے۔ اگر کبھی وہ اپنی کوئی حاجت لیکر آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتی تھیں تو آپﷺ ان کی وہ حاجت فوراًپوری کر دیتے تھے۔”(طبقات ابنِ سعد،صحیح مسلم،بحوالہ خصوصیات مصطفیٰ :۱۲۳)

آج کے تہذیب یافتہ لوگوں سے ایک چبھتا ہوا سوال یہ ہے کہ اگر آ پ اس ماں کی خدمت نہیں کرسکتے جس نے اپنی کوکھ میںآپ کو نو (۹) مہینے تک رکھا ،تو پھر آپ کس کی خدمت کر سکتے ہیں؟ یاد رکھئے اولڈ ایجڈ ہوم میں بھیج دینے سے آپ ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہوسکتے اور نہ ہی گھر کے کسی ایک کونے تک محدود کردینے سے آپ کا بوجھ ہلکا ہوسکتا ہے۔حبیبِ خدا محمد مصطفیٰ ﷺکو اپنی ماں کی خدمت کا موقع نہیں ملا تو آپ ﷺ نے ان کی خدمت کی جنہوں نے آپ ﷺ کو گود میں کھیلایااور انتہا تو یہ ہے کہ آپﷺ نے ان کو ماں کہہ کر پکارا۔ ان خوش نصیب لوگوں کے لئے جن کی مائیں زندہ ہیں یہ پیغام ہے کہ خدمت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیںاور اسکو اپنے لئے غنیمت و باعث سعادت سمجھیں۔

اگر آپ سعادت مند اولاد کی فہرست میں شامل ہوکر اپنے لئے کامیابی کی تاریخ لکھنا چاہتے ہیں تو ان ناتواں جسموں کو سہارا دیجئے جنہوںنے کبھی آپ کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھایاتھا،ان لرزتی اور لڑکھڑاتی ہوئی آوازوں کو سمجھنے کی کوشش کیجئے جنہوںنے کبھی آپ کی توتلی زبان کو سمجھنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔اور ہمیشہ اس بات کو ذہن میں رکھئے کہ اگر اللہ تبارک وتعالیٰ نے چاہا تو آپ بھی بڑھاپے کی عمر پائینگے اور اسوقت آپ نے جو بویا ہے وہی کاٹیں گے۔
٭مضمون نگار ایسٹرن کریسنٹ ممبئی میں نائب ایڈیٹر ہیں۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker