مضامین ومقالات

لالو پرشاد نے ملائم سنگھ کی طرح انسانیت دوستی پر منافقت نہیں کی

بابا رام دیو سے ملاقات کا راز کیا ہے ؟
سمیع احمد قریشی
ممبئی 9323986725
سیکولرازم انسانیت دوستی فرقہ وارانہ ہم آہنگی دیش کی تعمیر و بقاء کے لئے اک انتہا ء لازمی امر ہے -فرقہ وارانہ ہم آہنگی سے ملک میں ہونے سے امن وامان کی صورت حال رہا کرتی ہے،جس سیزندگی کے تمام کاروبا چلا کرتے ہیں فرقہ وارانہ ہم آہنگی ہمارا ہزاروں سال پرانا قابل فخر اثاثہ ہے- ہمارے ملک کو چلانے کے لئے بنائے گئے دستور وائین میں ملک کے ہر شہری کو اس کے مذہب پر چلنے کی یکساں آزادی دی گئی ہے –
ملک کے دستور میں سیکولرازم کو خصوصی درجہ حاصل ہے اس کے باوجود ملک کی آزادی کے بعد ،ذات پات مذہب کے نام پر بے انتہا خون بہا ہزاروں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے -ہمارے ملک کا دستور انتہاء پیارا ہے انسانی اقدار سے بھرا پڑا ہے- کمزوریوں اقلیتوں دلتون کمزوروں کو ہمت اور جینے کا حوصلہ دیتا ہے -اسی دستور و آئین کے پیش نظر ملک کے حکمرانوں کو نظام حکومت چلانا ضروری ہے -مگر بر سیا برس سے ملک کے حکمران اورسیاست دان،دستور پر ایمانداری سے چلنے کی قسم کھانے کے بعد بھی،ایمانداری پر نہیں چلتے-یہ سوہان روح ہے-
کانگریس ملک کی انتہاء قدیم اور بڑی سیاسی پارٹی ہے-ایس کے بزرگوں نے انسانی اقدار پر اس کی بنیاد رکھی امن وامان فرقہ وارونہ ہم آہنگی قائیم دیکھنا اس کی تعلیمات میں شامل ہے – کانگریس کے علاوہ دوسری متعدد سیکولر پارٹیاں بھی ملک میں ہیں، جن کے تعلیمات میں انسانیت دوستی کا درس شامل ہے- آر ایس ایس ہی وہ تنظیم ہے، جو اپنے زور قیام 1925 سے آج تک منظم طریقہ سے ہندوتوا پر چلتے ہوئے دلتون اقلیتوں چھوٹے کسانوں مزدوروں کے لئے ہی خطرہ نہیں ،ملک کی بنیادوں کے لئے بھی اک عظیم خطرہ بنے ہے-پہلے جن سنگھ پھراب بھارتیہ جنتا پارٹی،آر ایس ایس کی ہی شاخیں ہیں -ملک کے موجودہ وزیراعظم مودی کا تعلق آر ایس ایس سے برسہا برس پرانا ہے- بطور وزیر اعلی گجرات انہوں نے 2002 میں ،گجرات میں بھیانک فرقہ وارانہ فسادات کروالے ،بتلا دیا کہ وہ کس قدر اقلیت دوست ہیں ؟
آر ایس ایس نے اس کا صلہ مودی کو بطور وزیراعظم ہندوستان بنا کردیا-
گذشتہ پارلیمانی الیکشن میں مکر فریب جھوٹ کی بنا پر ،آر ایس ایس کی نور نظر بی جے پی، کے مودی بھارت کے وزیراعظم ہندوستان بن گئے-الیکٹرک میڈیا نے بے جے پی،مودی کا بڑھ ،چڑھ کر ساتھ دیا-ہندوتوا کے سامنے ہر طرح سے الیکٹرانک میڈیا ،صحافت کے اپنے معیار کو بھلائے ہوئے تھا-فرقہ واریت کے خلاف اک زبان ہو کر آوازیں اٹھانے والی سیاسی پارٹیوں میں اتحاد و اتفاق نہیں تھا-سیکولر ووٹوں کی تقسیم کا سبب بنے تھے ،اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی،گھر گھر مودی،سب کا ساتھ سب کا وکاس ،رات دن چیخنے چلانے کے بعد بھی تقریبا 31 فی صد ووٹوں سے بی جے پی نے مرکز میں اپنی حکومت بنا لی-
مرکز میں پہلی بار بلاء￿ شرکت غیر ہندوتواوادی بی جے پی کی حکومت آگء-یوپی میں جہاں پارلیمنٹ کی اسی سیٹیں ہیں یہاں بی جے پی کو 73 سیٹوں پر خلاف توقع کامیابی ملی-اس نعمت مرقبہ کی بنیاد پر ہندوتواوادیون کو مرکز میں حکومت بنانے میں آسانی ہوء-یہیں سے بی جے پی کو اس قدرکامیابی دلانے میں 73پارلیمانی سیٹیں سجا کر پلیٹ میں دینے کا کام ،ملائیم سنگھ کی سماج وادی نہ کیا، ایسا بولا جا ئے تو غلط نہ ہو گا-پارلیمنٹ ک چناو ہونے سے پہلے ہی یوپی میں ہندوتو کا ننگا رقص بے شرمی سے جاری ہو گیا – ہندوتواوادیوں کو مکمل آزاد ی ،قول و عمل کی ملتی رہی-معصوموں کے جان ومال عزت سے کھلواڑ کی آزادی رہی-فرقہ وارانہ طاقتوں کو قابو میں رکھنے کے لئے پولیس کو خاطر خواہ ہدایتین ،سماجوادی حکومت کی طرف سے نہیں تھیں -جس کی واضح مثال مظفر نگر میں بار بار فرقہ وارانہ فسادات تھے-سادھوی پراچی، تو گڑیا، ساکھشی مہاراج ،سوم دت، فرقہ وارانہ کشیدگی میں ماحول کو پوری طرح انتہاء زہر آلود بنا رہے تھے- سماجوادی پارٹی کی حکومت ہے ہی نہیں، اس کا واضح اشارہ مل رہا تھا-یہ سب کچھ یوپی سے پارلیمنٹ میں بی جے پی کی ذیادہ سے زیادہ سیٹیں کامیاب ہوں-اس کے لئے تھا-انسانیت دوستی ،فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر،ملائیم سنگھ کے دعو ے ،کھوکھلے ثابت ہو رہے تھے.جو ملائیم کا انسانیت پر ،اک بد نما داغ ہیں -یوں فرقہ وارانہ یک جہتی پر اک لمبے عرصے سے ان کی،ہندوتواوادیوں کے ساتھ اک نورا کشتی کے سوا کچھ نہیں-
لالو پرشاد یادو کا انسانیت دوستی پر عمل،منافرت سے پاک صاف ہے، ہندوتواوادیون کے ساتھ وہ زبانی نہیں عملی سطح پر نیک نیتی کے ساتھ دو دو ہاتھ کرتے،سالوں سال سے نظر آتے ہیں – مندر مسجد کے مدعے پر بی جے پی کے ایڈوانی پورے ملک مین رتھ یاترا لے کر نکلے اس رتھ یاترا کو لوگ خونی یاترا کہنے لگے – امن وامان کے لئے یہ اک مسئلہ تھی- کوء اسے روک نہیں پا رہا تھا- لالو نے ایڈوانی کی رتھ یاترا کو بہار میں روک لیا ،ایڈوانی کو گرفتار کر لیا- لالو سالہا سال سے برہمن واد کے خلاف موثر طریقہ سے دو بدو لڑرہے ہین-سالہاسال سے برہمن واد ہی ملک کو بڑی تباہی بربادی کرتاآیا ہے-آر ایس ایس کے برہمن واد کے خلاف کر پوری ٹھا کر اور لوہیا کے سماج واد میں بہت کچھ طاقت ہے، سماجوادی تحریک کے لالو مخلص سپاہی ہین-وہ ملائیم کی طرح منافق نہیں،گاوں گاوں دیہاتوں میں بڑے پیمانے پر لالو نے برہمن واد کے خلاف عوامی تحریک کو زندہ رکھا ہے –
لالو لو پرشاد کی گذشتہ دنوں سادھو سے بیوپاری بننے والے بابا رام دیو سے ملاقات انتہاء حیران کن رہی-با بارام دیو آر ایس ایس کے زبردست حمائتی ،منافرت کرنے والے،مذہبی دل آزادی کرنے والے ہیں- ابھی حال میں بھارت ماتا کی جے پر کہا کہ قانون کا پاس نہ ہوتا تو لاکھوں مسلمانوں کی گردن اڑا دیتا-سیاسی سماجی نظریات پر لالو برسہا برس سے چل رہے ہیں -بہت کچھ قربانیاں دیں-ان کی بابا رام دیو جیسے سے حالیہ ملاقات پر سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں-کیا لالو کے سمدھی ملائم نے ان کو کوئی بوٹی پلا دی ہے کہ وہ ہندوتواوادیوں کے قریب جا رہے ہیں !
پہلی بار ملک کی ترقی و تعمیر میں اک خطرناک وجود رکھنے والی آر ایس ایس ہندوتوا کے خلاف، ملک مین اک زبردست عوامی بیزاری کی لہر اٹھی ہے-اک طالب علم لیڈر کنہیا کمار کو ملک میں بڑے پیمانے پر چھوٹے کسان دلت مزدور کسان ور اقلیتیں طلبا ء￿ میں،پذیراء مل رہی ہے-مہنگاء،بے روزگاری،فرقہ واریت ،اونچ نیچ سے پریشان حال ،مظلوموں کو کنہیا کمارکی شکل میں گویا اک نجات دہندہ مل گیا ہے،کنہیا کمار ہندوتوا اور آر ایس ایس کے خلاف آخر تک لڑاء جاری رکھنے کی بات کررہے ہین-ایسے میں لالواور با با رام دیو کی ملاقات کیا معنی،ہمیں امید ہیکہ پورے ملک میں ہندوتوا اور آر ایس ایس کے خلاف جو پہلی بار عوامی بیزاری آئی ہے-کنہیا کمار کے ساتھ مل کر لالو بھی اپنا تاریخی رول ادا کریں گے.(یو این این)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker