خواتین واطفالگوشہ اطفالگوشہ خواتین

بچہ کاپہلا مدرسہ ماں کی گود ہے

حفصہ صدیقہ
رمول،سرہا(نیپال)
انسانی زندگی کی ابتداء ماں کی گود سے ہوتی ہے۔اسی لئے ماں کی گود کوبچہ کا پہلامدرسہ اورمکتب کہا گیاہے۔بچہ جب اپنی آنکھیں کھولتاہے تووہ اپنے آپ کو ماں کی گود میں موجودپاتاہے اوراس وقت سے اس کا عمل بھی وجودمیں آنے لگتاہے۔ چناںچہ بچہ ماں باپ کوجیسا کرتادیکھے گا وہ بھی ویساہی کرے گا۔ماں میں اگردینداری ہوگی،ماں اگراچھاکام کرے گی توبچہ بھی دینداربنے گا اوراچھاکام کرے گا۔ماں میں اگردینداری نہیں ہے ،ماں تعلیم یافتہ نہیں ہےتویقینی طورپربچہ پربھی اس کے منفی اثرات پڑنے لگتے ہیں۔لہٰذا اگرماں گالی دے گی توبچہ بھی گالی سیکھے گا اوروہ بھی بدزبانی کرے گا۔اسی لئے والدین کے لئے لازم ہے کہ وہ بچہ کے سامنے اچھے ڈھنگ سے رہے،اپنے عادات واطوارکودرست رکھے۔بچہ کواچھی باتوں کی تعلیم دے،دین واسلام کی باتیں بتائے،انبیاء اورصحابہ کرام کے واقعات سنائے،بہتراندازسے پرورش وپرداخت کرے تاکہ بچہ بڑاہوکرمہذب اورنیک صالح بنے۔اپنے خاندان اورمعاشرہ کے لئے ایک مثال بنے اوراپنے والدین کوجنت میں لے جانے کاذریعہ بنے۔
یہ سوچناہماری نادانی کی علامت ہے کہ بچہ کی پرورش اوراس کی تربیت کاوقت پیدائش کے بعدشروع ہوتاہے،درحقیقت جس دن سے بچہ رحم مادرمیں پلناشروع ہوتاہے اسی دن سے ماں باپ پرفرض عائدہوجاتاہے کہ وہ اپنے ہونے والے بچہ کی اسلامی خطوط پرتربیت کریں اوراس کا طریقہ یہ ہے کہ ماں ہراس کام سے پرہیزکرے جوغیراسلامی اورغیرشرعی ہوحتی کہ کھانے پینے میں اس حدتک محتاط رہے کہ حرام مال تودورمال مشتبہ کوبھی کھانے اورپینے سے پرہیزکرے بلکہ اس کواپنے اوپرحرام کرلے،کیوں کہ اگرآپ نے حرام یامشتبہ مال کواستعمال کیاتویقیناپیٹ میں پلنے والابچہ اس سے متاثر ہوگا اور بڑاہونے کے بعداس حرام یامشتبہ مال کے اثرات کی وجہ سے وہ نافرمان نکل جائے،غلط عادتوں اوربری صحبتوں کاشکارہوکراپنی عاقبت خراب کرلے اوراپنے ماں باپ کے ساتھ ساتھ خاندان اورمعاشرہ کے لئے ناسوربن جائے۔ہمارے بزرگوں کایہ طریقہ رہاہے کہ وہ ہروقت اس فکرمیں ڈوبے رہتے تھے کہ کس طرح اپنی اولادکی پرورش کرے کہ وہ نیک اورصالح بنے۔
اولادکی بہترتعلیم وتربیت اوراس کی اسلامی خطوط پرپرورش وپرداخت کاایک حیرت ناک واقعہ بیان کرتی ہوں ۔کسی زمانے میں ایک بزرگ تھے۔ان کی تمام اولاد بہت نیک تھی،سوائے ایک کے۔اس بزرگ کی کسی اللہ والے نے دعوت کی۔جب بزرگ اپنی تمام اولادکے ساتھ اس اللہ والے سے ملے توانہوں نے محسوس کیاکہ تمام لڑکوں میں ایک لڑکانہایت شریراوربدمعاش ہے۔انہوں نے بزرگ صاحب سے وجہ پوچھی کہ آخرماجراکیاہے؟اتناسن کربزرگ بہت آزردہ خاطرہوئے اوررونے لگے۔پھریہ واقعہ سنایاکہ اس میں قصورمیراہی ہے۔میرے بدمعاش بیٹے کا کوئی قصورنہیں ہے۔دراصل بات یہ ہے ایک دن شاہی دعوت کابچاہواکھاناآیا،اس نے مجھے ہدیہ کے طورپردیا،مجھے بھوک لگی تھی،ہم دونوں نے مل کراس کھانے کوکھالیااوراسی رات میں اپنی بیوی سے ملا۔اللہ کاکرناایساہواکہ اسی رات اللہ نے اس بچہ کی بنیادڈال دی۔یہ اسی مشتبہ کھانے کااثرہے ۔
اس واقعہ سے یہ سبق ملتاہے کہ ہرحالت میں حرام اورمشتبہ مال سے بچناچاہئے۔آج کل توہمارامعاشرہ اس قدربے راہ روی کاشکارہوگیاہے کہ اللہ کی پناہ،آج کل کی ماؤں کایہ حال ہے کہ وہ بچہ کودودھ پلانے کے وقت بھی ٹی وی کے سامنے بیٹھ کرناچ گانا دیکھتی رہتی ہیں،بچہ دودھ پی رہاہے اورماں گانا سن رہی ہے،بچہ دودھ پی رہاہے اورماں ناچ دیکھ رہی ہے،غرض کہ اس بات سے بالکل بے خبرہیں کہ میں جوکچھ کررہی ہوں بچہ پرغیرمحسوس اورغیرشعوری طریقہ سے کیااثرہورہا ہے۔اوریہی بچہ جب بڑاہوکرماں باپ کانافرمان بنتاہے توپھردنیاسے شکایت کرتی نظرآئیں گی کہ میرالال بگڑگیا لیکن اس وقت بھی یہ احساس نہیں جاگے گا کہ میں نے کیا کیا۔میں نے کس طرح اپنے لخت جگرکی پرورش کی۔کیامیں نے اس کی پرورش وپرداخت کرتے ہوئے کبھی شریعت کے اصولوں کا پاس ولحاظ رکھا،نہیں ہرگزنہیں!
بچہ کی پرورش وپرداخت اوراس کی تربیت وتعلیم میں ہرلحظہ شریعت کے اصولوں کی پاسداری ضروری ہے تبھی بچہ نیک بخت اورصالح بنے گا،ایک ماں جب اپنے بچہ کودودھ پلانے کاارادہ کرے تواس کوچاہئے کہ وہ باوضوہوکرتسبیحا ت اورذکراللہ کے وردکے ساتھ دودھ پلانے کا اہتمام کرے تبھی بچہ نیک بخت اورصالح بنے گا۔کسی شاعرنے کیاخوب ترجمانی کی ہے: طفل سے بوآئے کب ماں باپ کے اعتبارکی * دودھ ڈبے کا پیاتعلیم ہے سرکارکی
جب ماں حمل سے ہوتواسے چاہئے کہ نیک اورصالح اولادکی تمناکرے اوراپنے رب سے دعاء کرےجیسے حضرت زکریاعلیہ السلام نے دعاء کی تھی ۔ قرآن نے اس کانقشہ اس طرح کھینچاہے: ’’رب ھب لی من لدنک ذریۃ طیبۃ انک سمیع الدعاء‘‘(القرآن)حضرت زکریاعلیہ السلام کی اس دعاء سے یہ پتہ چلتاہے کہ انسان کواللہ سے نیک اولادکی دعاء مانگنی چاہئے۔
کسی زمانے میں ایک عورت تھی،اس نے اپنے رب سے اولادکی دعاء مانگی،اللہ نے اسے ایک بیٹادیا،بیٹاجب بڑاہواتوکوئی غلطی ہوگئی،بچہ ہی توہے،بچہ سے غلطی توہوہی جاتی ہے۔بچہ کی اس غلطی پرماں کوغصہ آگیااوراس نے کہاکہ تومرجاتاتواچھاتھا۔اللہ نے ماں کی یہ بددعاء سن لی اورقبول کرلی،مگراسے ابھی فوراموت نہیں آئی بلکہ جب وہ عین عنفوان شباب کوپہونچا،اپنے وقت کابہترین حافظ وقاری اورعالم بن گیا،لوگوں میں اس کے علم وفضل کاخوب شہرہ ہواتووالدین نے اس کی شادی کے لئے لڑکی کاانتخاب کرکے شادی کی تاریخ متعین کردی،افسوس کہ شادی سے صرف ایک دن قبل اس کاانتقال ہوگیا۔ موت توبرحق ہے،اسے کوئی ٹال نہیں سکتا،لیکن یہ موت ماں کی بددعاء کی وجہ سے عین رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے سے پہلے ہوگئی جوکہ ہرایک کے لئے افسوسناک اورباعث غم تھی۔اسی زمانے میں اللہ نے کسی بزرگ کوخواب میں دیکھایاکہ اللہ تبارک وتعالیٰ اس بزرگ سے ارشادفرمارہے ہیں کہ میں نے فلاں جوان کواس کی ماں کی بددعاء کی وجہ سے جواس نے بچپن میں اس کے لئے کی تھی اسے عین شباب میں میںنے دنیاسے اٹھالیا،اس نے بچپن میں اپنے اولادکے لئے مرنے کی بددعاءکی تھی،میں نے اس وقت اس نعمت کواس وقت نہیں چھینابلکہ ایسے وقت میں جب کہ اسے اس کی سخت ضرورت تھی میں نے اسے چھین لیاتاکہ اسے اس نعمت کے چھن جانے کااحساس ہو۔اس واقعہ سے یہ سبق ملتاہے کہ ماں کوچاہئے کہ وہ سخت غصہ کی حالت میں بھی اپنی اولادکے لئے بددعاء نہ کرے۔اس لئے کہ ماں اپنی اولادکے حق میں جوبھی دعاء یابددعاء کرتی ہے اللہ اسے سن لیتاہے اورقبول بھی کرلیتاہے۔بچہ کی تربیت کاایک اصول یہ بھی ہے کہ بچہ کے ساتھ بدزبانی نہ کرے اورنہ ہی اسے بددعاء دے۔
بچہ کی تربیت میں ہمیشہ یہ بات ملحوظ خاطررہے کہ اسے اللہ کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پربچپن سے ہی عمل کرنے والابنائے،بچپن سے ہی اسے سنتوں پرعمل کرنے کی تلقین کرے اورچھوٹی چھوٹی سنتوں کویادکرائےاوراس پرعمل پیراہونے کی تلقین کرتی رہے۔بچپن سے جب وہ سنتوں پرعمل کرنے والاہوگا تواسے بچپن سے ہی اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت پیداہوگی اوریہی محبت اسے جنت میں لے جانے والا بنائے گی۔حضرت انس رضی اللہ عنہ جوکہ برسوں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں رہےان کاقول ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اف تک نہیں کہا،بلکہ ایک مرتبہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کوکسی کام کے لئے بھیجا۔حضرت انس رضی اللہ عنہ گئے،راستے میں کچھ بچے کھیل رہے تھے۔آپ رضی اللہ عنہ بھی اس میں شامل ہوگئے اورکھیلنے لگے۔جب آنے میںدیرہوگئی توآپ صلی اللہ علیہ وسلم خودباہرتشریف لائے تودیکھاکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کھیل رہے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیارسے کان پکڑا اورفرمایاکہ اے انس!میں نے تم کوجوکام دیاتھا وہ کرآئے۔غورکرنے کامقام ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس پیاربھرے اندازمیں آپؓ سے باتیں کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ڈانٹ بھی سکتے تھے لیکن ڈانٹانہیں اورنہ ہی مارا بلکہ اف تک نہیں کہا۔یہ تھاآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کاانداز۔ماں چوں کہ بچہ کاپہلامکتب اورمدرسہ ہوتی ہے اسی لئے ماں کوچاہئے کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پرچلیں ان کی سنتوں پرخودبھی عمل پیراہوں تاکہ بچہ بھی سنت کاپیروکاربنے اورآگے چل کروہ سنتوں کوزندہ کرنے والابنائے۔اللہ تعالیٰ ہم سبھوں کوسنت کے مطابق زندگی گذارنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین
* متعلمہ: درجہ عربی چہارم، جامعہ فاطمۃ الزھراء ململ،مدھوبنی (بہار)
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker