اسلامیاتمضامین ومقالات

استقبالِ رمضان

متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
اللہ تعالیٰ کے فضل و عنایات اور رحم و کرم کا موسم بہار شروع ہونے لگا ہے رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ آپہنچا ہے۔وہ دیکھیے! جنت کو مزید سجایا جارہا ہے، عرش کے نیچے سے رحمت کی ہوائیں چلنے کو تیار ہیں، کچھ ہی دنوں میں جنت کے درختوں کے پتوں سے سریلی آوازیں سنائی دینے لگیں گی، حور عین بھی دست بدعا ہوکر عرض کریگی: اے باری تعالیٰ! اس مہینے میں ہمیں وہ خوش نصیب تیرے بندے چاہییں جن سے ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک ملے اور ان کی آنکھوں کو ہماری وجہ سے سرور ملے ہر ایک روزہ دار کو حور عین عطا کی جارہی ہے۔ رمضان کی یہ پہلی رات ہے فقیہ امت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں:
اس میں جنت کے سب دروازے کھول دیے جاتے ہیں پورا مہینہ ایک دروازہ بھی بند نہیں کیا جاتااور دوزخ کے سب دروازے پورے مہینے کے لیے بند کر دیے جاتے ہیں ایک دروازہ بھی نہیں کھولا جاتا، سرکش شیاطین و جن سب کو زنجیروں سے قید کردیا جاتا ہے، ایک آواز دینے والا آسمان سے ہر رات طلوعِ فجر تک آواز لگاتا رہتا ہے: خیر اور بھلائی کے طلب گار و!اللہ کی طرف سے خیر کو قبول کرو اور خوش ہوجاؤ، برائی اور شر کے طلبگار و! رک جاؤ اور ہوش سے کام لو۔ پھر رب لم یزل کی صدائے باز گشت سماعتوں میں رس گھولنے لگتی ہے، کوئی ہے جو مغفرت طلب کرے؟ ہم اس کو بخش دیں۔ کوئی ہے جو توبہ کرے ؟ ہم اس کی توبہ قبول کریں ، کوئی ہے دعا مانگنے والا؟ ہم پوری کرتے ہیں۔ کوئی ہے سوال کرنے والا؟ ہم عطا کرتے ہیں۔ ہر رات ساٹھ ہزار لوگوں کو جہنم سے آزاد کردیا جاتا ہے اور عید الفطر کے دن پورے مہینے میں روزانہ ساٹھ ہزار کے بقدر جتنے لوگ بنتے ہیں ان سب کو ایک ہی دن جہنم سے چھٹکارا نصیب ہوجاتا ہے۔
یہ تو آسمانوں پر فیصلے ہو رہے ہوتے ہیں۔اب زمین کی طرف آتے ہیں وجہ تخلیقِ کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رجب کے مہینے سے ماہ رمضان کی تمنا شروع فرماتے:اللھم بارک لنا فی رجب و شعبان وبلغنا رمضان ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرمااور ہمیں رمضان نصیب فرما۔
بلکہ جب شعبان کا مہینہ آتا تو لسانِ نبوت سے یوں موتی بکھرتے اللھم ھذا شعبان و بلغنا رمضان اے اللہ جیسے آپ نے ہم پر فضل و احسان کیا کہ ہمیں شعبان عطا فرمایا، اے اللہ! ہمیں رمضان کی مبارک ساعتیں بھی نصیب فرما۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو ماہ پہلے اپنے اس مبارک مہمان (رمضان) کا استقبال فرماتے اور جونہی شعبان کی آخری رات آتی آپ اپنے جانثار صحابہ کو جمع فرماتے ان کے سامنے رمضان المبارک کی اہمیت ،افادیت،خصوصیت،امتیازی حیثیت کا دلآویز تذکرہ فرماتے: حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے آپ کے ان فرامین کو نقل فرمایا ہے :’’ تم پر ایک مہینہ آ رہا ہے جو بہت بڑا اوربہت مبارک مہینہ ہے۔ اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے روزہ کو فرض فرمایا اور اس کی رات کے قیام کو ثواب کی چیز بنایا ہے۔ جو شخص اس مہینہ میں کوئی نیکی کر کے اللہ کا قرب حاصل کرے گا ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں فرض کو ادا کیا اور جو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو ادا کرے گا وہ ایسا ہے جیسے غیر رمضان میں ستر فرائض ادا کرے۔ یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے، یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا ہے۔ اس مہینہ میں مومن کارزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے اس کے لئے گناہوں کے معاف ہو نے اور آگ سے خلاصی کا سبب ہو گا اور اسے روزہ دار کے ثواب کے برابر ثواب ہو گا مگر ا س روزہ دار کے ثواب سے کچھ کم نہیں کیا جائیگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر شخص تو اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ ( یہ ثواب پیٹ بھر کرکھلانے پر موقوف نہیں) بلکہ اگر کوئی بندہ ایک کھجور سے روزہ افطار کرا دے یا ایک گھونٹ پانی یا ایک گھونٹ لسّی کاپلادے تو اللہ تعالیٰ اس پربھی یہ ثواب مرحمت فرما دیتے ہیں۔ یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ ا للہ کی رحمت ہے، درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ جہنم کی آگ سے آزادی کاہے۔ جو شخص اس مہینہ میں اپنے غلام اور نوکر کے بوجھ کو ہلکا کر دے تواللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمادیتے ہیں اور آگ سے آزادی عطا فرماتے ہیں۔ اس مہینہ میں چار چیزوں کی کثرت کیا کرو جن میں سے دو چیزیں اللہ کی رضا کے لیے ہیں اور دوچیزیں ایسی ہیں جن سے تمہیں چارہ کار نہیں۔ پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو اور جہنم کی آگ سے پناہ مانگو۔جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلائے رب تعالیٰ شانہ ( روزِ قیامت) میرے حوض سے اس کوایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد جنت میں داخل ہو نے تک اسے پیاس نہیں لگے گی۔‘‘(صحیح ابن خزیمہ)
آئیے ہم بھی اپنے اس مہمان مہینے کے استقبال کی تیاریاں شروع کردیں، محض جلسے جلوسوں سے نہیں بلکہ اپنے دلوں میں عبادات کا شوق پیدا کریں اور ہادی بر حق حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات اذہان و قلوب میں رچا بسا کر پر عزم ہوجائیں کہ ہم سب نے اس رمضان میں اپنی مغفرت کے تمام اسباب خلوصِ دل اور خلوصِ نیت سے اختیار کرنے ہیں۔ چنانچہ
جونہی ہم ماہ رمضان کے چاند کو دیکھیںتوچاند دیکھنے کی دعا پڑھیں جس کا ترجمہ یہ ہے ’’اے اللہ! اس چاند کو ہم پر برکتِ ایمان، خیریت اور سلامتی والا کردے اور (ہمیں) توفیق دے اس(عمل) کی جو تجھے پسند اور مرغوب ہو (اے چاند!) میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔‘‘
اب ہمیں احساس ہونا چاہیے کہ ہم پورا مہینہ اس ماہ مبارک کی دل و جان سے قدر کریں اور اس کے تقاضوں کو شرائط و آداب کے ساتھ پورا کریں۔یاد رکھیں توبہ و استغفار کی کثرت کریں، ذوق شوق سے تراویح کی بیس رکعات اد ا کریں، تین رکعات وتر اد اکریں اور خوب دعائیں مانگ کر جلد سوجائیں تاکہ صبح سحری کے وقت اٹھنے میں دِقَّت اور پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سوتے وقت کی دعا پڑھیں سورۃ ملک پڑھیں اور آیۃ الکرسی بھی پڑھ لیں سنت کے مطابق دائیں پہلو پر سوجائیں۔
جب سحری کا وقت آجائے ہشاش بشاش ہو کرچْستی سے اٹھ جائیں، گھر والوں کے ساتھ کام کاج میں ہاتھ بٹائیں، وضو کریں، تہجد ادا کریں، بلکہ کوشش کریں کہ تہجد ہمارا زندگی بھر کا معمول بن جائے ،حدیث پاک میں ہے : فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز تہجد ہے سحری ضرور کھائیں کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا تاکید کے ساتھ ہمیں حکم دیا ہے اور اس کو برکت والا کھانا قرار دیا ہے َتسَحَّرْوا فاِنَّ فِی السَّحْورِ بَرَکَۃً، بچوں کو بھی اس کی عادت ڈالیں صحابہ کرام کی زندگی میں اس کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ کھانا کھالینے کے بعد اگر وقت باقی ہے تو تلاوتِ قران کریں، ذکر اذکار کریں ،توبہ استغفار کریں، دعاؤں کا اہتمام کریں ، مرد حضرات مساجد میں آکر تکبیر اولیٰ کے ساتھ نمازیں اد اکریں ،اگر مسجد میں درس قرآن یا خلاصۃ القرآن کی ترتیب ہو تو اس میں ضرور شرکت کریں ورنہ باہمی مشاورت سے کسی مستند عالم سے درخواست کریں کہ وہ آپ کو روزانہ درس قرآن دے۔ نمازِ فجر کے بعد اشراق تک ذکر اذکار میں مصروف رہیں نماز اشراق پڑھیں، حدیث میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا اجر ایک مکمل حج یا عمرے کے برابر ہے۔
مساجد میں شور و غل سے پرہیز کریں کیونکہ یہ عمل نیکیوں کو ایسے ختم کردیتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ مسجد سے واپس آکر اپنے کام کاج میں مصروف ہوجائیں، کوشش کریں آپ کی زبان سے کوئی غلط بات نہ نکلے، بلکہ حدیث میں تو یہاں تک آیا ہے کہ اگر کوئی آپ کو غلط بات کہہ بھی دے لڑائی جھگڑا کرنے کی کوشش کرے تو آپ کہہ دیں انی صائم میں روزے سے ہوں۔ پورا دن اپنی زبان ،آنکھ ،کان اور تمام اعضاء کی حفاظت کریں۔
زبان کو جھوٹ ، غیبت، بہتان، چغلی، الزام تراشی، گالی گلوچ ،گانے اور فضول گوئی سے پاک رکھیں اور نہ ہی زبان کے نشتر سے کسی کا دل دکھائیں، کسی کی ہتک عزت ، بے عزتی او ر رسوائی نہ کریں۔
آنکھ کو حرام امور بچائیں۔فلم ،گانے، میوزک، ڈانس، بد نظری ،نامحرم کی طرف دیکھنے سے پاک رکھیں۔ کان کو غیبت سننے ،گانا سننے، فضول گوئی سننے اور نامحرم کی باتیں بلا وجہ سننے سے پاک رکھیں دل کو حسد، بغض، کینہ، عداوت، نفرت ،تکبر، غرور اور بڑائی سے صاف رکھیں ،باہمی رنجشیں دور کریں، کسی سے بول چال ختم تھا تو اس سے شروع کریں، قطع رحمی سے باز آئیں، صلہ رحمی کو عام کریں۔ ورنہ حدیث مبارک میں آتا ہے بہت سارے لوگوں کو سوائے بھوکا پیاسا رہنے کے اور کچھ ہاتھ نہیں آتا( صحیح بخاری)
دن بھر تلاوت قرآن کثرت سے کریں، قرآن کریم کے ہم پر درج ذیل پانچ بنیادی حقوق ہیں:
1:ایمان لانا:اس بات پر کہ واقعی یہ اللہ کی طرف سے بواسطہ جبرئیل حضرت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور تحریف و تبدیل سے پاک ہے ، اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لیا ہے ، اس میں جو کچھ ہے وہ سب کا سب بلاریب سچ ہے۔
2:تلاوت کرنا : یعنی کو اس کو پڑھناباعث ثواب ہے اور قرآن کا ہم پر حق بھی ہے۔
3:غور و خوض: اس کے اوامر اورنواہی کو سمجھنا کہ قرآن ہمیں فلاں موقع پر کیا حکم دیتا ہے ، اس میں موجودفلاح پانے اقوام کے واقعات سے سبق حاصل کرنا اور تباہ شدہ اقوام کے واقعات سے درس عبرت حاصل کرنا۔
4:عمل کرنا: قرآن میں جو کچھ ہے اس پر عمل کرنا۔ بس اتنی بات ہمیشہ ذہن میں رہے کہ جہاں منسوخ آیات ہیں ان کی محض تلاوت کی جا سکتی ہے ان پر عمل کرنے سے شریعت نے خود روک دیا ہے۔
5:تبلیغ ، تحفیظ اور تنفیذ:یعنی اس کی اشاعت و تحفظ اور نفاذ کی ہر ممکن کوشش کرنا۔
ان حقوق کی مکمل رعایت رکھ کر تلاوت کریں مستحب یہ ہے باوضو ہوکر، خوشبو لگاکر قبلہ رو ہوکر با ادب سوچ سمجھ کر تلاوت کریں، سجدہ تلاوت وغیرہ امور کو بالکل نظر انداز نہ کریں اگر آپ ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ پڑھنا چاہتے ہوں تومستند علماء حق کی معتمد تفاسیر پڑھیں۔
آپ کے گھروں ، دفاتر اور زمینوں پر جو ملازمین ہیں ان کے کام میں تخفیف کریں ، تمام نمازیں وقت پر ادا کریں، افطاری تیار کرنے میں گھر والوں کے ساتھ مل کر کام کریں، ان کو بالکل نہ ڈانٹیں، بلکہ اگر کبھی خلاف مزاج کوئی معاملہ سامنے آئے تو عفو و درگزر سے کام لیں۔ افطار کرانے کا معمول بنائیں۔کیونکہ حدیث میں اس کی بہت فضلیت آئی ہے۔
افطار کے وقت شور و غل اور بچگانہ حرکتیں مساجد کے تقدس کو پامال کرتی ہیں اس سے سختی سے پرہیز کریں۔ نماز مغرب کے بعد چھ رکعات اوابین کا معمول بنائیں۔حدیث مبارک میں ہے جس نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی بری بات نہیں کی تو اسے بارہ سال کی عبادت کا ثواب ملے گا۔
بلکہ حفاظ صاحبان کے لیے اوابین میں اپنی منزل پڑھ لینا زیادہ بہتر ہے نماز عشاء کی مکمل تیاری کریں، اذان ہوتے ہی مسجد میں پہنچ جائیں، خشوع خضوع سے نماز اداکریں،نماز تراویح کے لیے تیز رفتار حفاظ کی بجائے خوش الحان ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے سے والے قاری صاحبان کو منتخب کریں۔ کیونکہ تراویح رمضان المبارک کی بہت اہم عبادت ہے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کا بیس رکعات تراویح کا معمول بھی تھا اور اس پر اجماع بھی ۔ بے شعور قوم والی عادات سے خود کو بچائیں،جو مساجد میں خصوصاً تراویح کے وقت بیٹھے رہتے ہیں ،فون کالز اور میسجز کرتے رہتے ہیں ،پانی پینے کا بہانہ بنا کر اپنا وقت اور ثواب واجر ضائع کرتے رہتے ہیں اور جب امام رکوع میں جاتا ہے تو بھاگ کے رکوع میں شامل ہوجاتے ہیں۔خوب گڑ گڑا کر دعائیں مانگیں ، اپنے لیے، گھر والوں کے لیے ،اپنے ملک کے لیے ، پوری قوم بلکہ پورے عالم اسلام کے لیے۔
اس کے بعد جلد گھر واپس آئیں ،اپنی حاجات طبیعہ سے فارغ ہوکر سونے سے قبل تھوڑی دیر کے لیے اپنا محاسبہ کریں، پورے دن میں جتنے اچھے کام کیے ہیں اس پر اللہ کا شکر اد اکریں اور جو خلاف شرع کام سرزد ہوئے ان سے توبہ کریں۔ یعنی ندامت کے احساس کے ساتھ وہ کام فی الفور چھوڑ دیں آئندہ نہ کرنے کا پکا عزم کریں۔
جلد سو جائیں تاکہ صبح جلد اٹھیں اور اپنے معمولات صحیح طور پر ادا کرسکیں رمضان میں صدقہ خیرات دل کھول کر کریں، زکوٰۃادا کریں آخری عشرہ میں اعتکاف کریں، سب سے زیادہ بہتر یہ ہے اپنے شیخ اور مرشد کے ہاں جاکر اعتکاف کریں تاکہ اجر و ثواب بھی ملتا رہے اور ظاہری و باطنی ترقیات بھی نصیب ہوں، شیخ کی صحبت بھی زیادہ میسر ہو۔ لیلۃ القدر کی تلاش میں بہتر عمل اعتکاف ہے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کریں، صدقہ فطر اورزکوٰۃ کے حوالے سے مستحقین کو ضرور یاد رکھیں۔ نماز عید الفطر کی تیاری کریں، خود بھی نئے اور اچھے کپڑے سلوائیں اور بچوں کے لیے بھی ، نماز عید الفطر اد اکریں، اور خوب دعائیں کریں۔
نوٹ : اگر آپ صاحبِ نصاب ہیں تو رمضان میں عمرہ کریں، حدیث پاک میں ہے کہ رمضان کا عمرہ حج کے برابر ہے۔ (صحیح مسلم)
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker