مضامین ومقالاتنوائے بصیرت

منیٰ سانحہ: اللہ ہم مسلمانوں کو اپنے غضب سے محفوظ رکھے

شکیل رشید (فیچرایڈیٹرروزنامہ اردوٹائمز، ممبئی)
کل نفْس ذائقۃُ المَوتِ
’ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے‘۔ یہ انسانی زندگی کاوہ ’سچ‘ ہے جس سے کسی کو مفر نہیں۔ آج، بروز جمعرات منیٰ میں ’شیطان کو کنکریاں‘ مارتے حجاج کرام بھی مذکورہ ’سچ‘ کا سامنا کرنے سے نہیں بچ سکے۔ بھگدڑ مچی اور دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوںشہید ہوگئے۔ یہ شہداء دنیا کے ہر ملک سے فریضۂ حج کی تکمیل کے لیے مکہ معظمہ پہنچے تھے۔ جب موت ان کی طرف بڑھی تب یہ تمام گناہوں سے اسی طرح پاک وصاف تھے جیسے کہ رحم مادر سے تولد ہونے والا بچہ۔ بلاشبہ ان سب کو اللہ رب العزت نے قبول کرلیا۔ اللہ کے یہاں قبولیت کا ثبوت یہ ہے کہ فریضہ حج کے لیے جانے والے تقریباً ہر عازم حج کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ اللہ کی راہ میں، حج کے ارکان ادا کرتے ہوئے ، بیت اللہ کا طواف کرتے یا سعی کرتے ہوئے یا رمی جمرات کے دوران اس کی موت ہو۔ اور اللہ رب العزت اپنے خاص بندوں کی اس تمنا کو پورا کرتا ہے۔ یہ تمام جو شہید ہوئے ہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعائیں بھی اور انہیں بھی قبول کرلیا۔
یہ سانحہ‘ اسی طرح افسوسناک ہے جس طرح کہ کرین کا سانحہ تھا۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ دونوں ہی سانحات اتفاقی یا قدرتی تھے۔ اللہ تعالیٰ کی یہی مرضی تھی، اللہ تعالیٰ اس طرح مسلمانوں کو یقینا یہ پیغام دیناچاہتے ہیں کہ زندگی پانی کا ایک بلبلہ ہے۔ ہم جسے چاہیں اور جہاں چاہیں موت دے دیں۔ لہذا موت آنے سے پہلے اپنی زندگیوں کو ہر طرح کی آلودگیوں سے پاک کرلو، تعصب کی چادر کو اتار پھینکو، مسلکی نفرت کو تج دو، مسلمان بن کر رہو اور ’امت واحدہ‘ کا ایسا عملی نمونہ پیش کرو کہ دنیا کے ایک کونے میں کسی امتی کو تکلیف ہوتو دنیا کے دوسرے کونے میں اس تکلیف کو دوسرا امتی محسوس کرے۔ اللہ تعالیٰ یقینا یہ پیغام دیناچاہتے ہیں کہ موت میں جس طرح دنیا بھر کے مسلمان ساتھ رہے اسی طرح زندگی میں بھی سب متحد ہوجائیں۔ اتحاد ہی میں برکت، رحمت اور عافیت ہے۔
منیٰ اور مکہ کے سانحات دنیا کی بے ثباتی کی دو مثالیں ہیں۔ ان کو روک پانا انسانوں کے بس میں نہیں تھا۔ یہ سانحات مسلم حکمرانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام لے کرا ٓئی ہیں کہ اپنے اپنے محلوں سے، عیش گاہوں سے اور اپنی اپنی خلوتوں سے باہر نکلو اور دیکھو کہ دنیا کے مسلمان جو ایک اللہ اور ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والے ہیں، جو ایک قرآن کو پڑھنے والے اور ایک کلمہ ’لاالہ الااللہ ‘ پر ایمان رکھنے والے ہیں، منتشر ہیں، پریشان ہیں، ستائے ہوئے ہیں، ٹھکرائے ہوئے ہیں۔ انہیں اپنے بھی مار رہے ہیں اور غیر بھی۔ ان کی فکر کرو یہ تمہارے بھائی ہیں۔ ورنہ ایک دن موت آئے گی اور تمہیں بھی اپنے ساتھ لے جائے گی۔ پھر نہ تمہاری دولت تمہیں بچاسکے گی او رنہ ہی تمہاری جاہ وحشمت تمہیں محفوظ رکھ سکے گی۔ آئیں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ وہ ہم تمام مسلمانوں کو اپنے غضب سے محفوظ رکھے۔ دعا کریں کہ اللہ رب العزت شہداء کو غریق رحمت کرے، لواحقین کو صبر جمیل دے اور ساری دنیا کے مسلمانوں کو اتحاد واتفاق کی ڈور سے باندھ دے کہ اتحاد میں ہی زندگی ہے اور انتشار میں موت ہے۔
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker