زبان وادبشعر و ادبمضامین ومقالات

’’رات کی رانی،،

لالہ وگُل میں نمایاں
Assad Mehmood Khanاسد محمود خان

( ۱ )
تخلیق کیا ہے اور تخلیق کار کون ہے؟۔ ’’جب شبِ وصل کی سعی رنگ لے آئے اوربے چینی و بے قراری بڑھنے لگے ، بدن دُکھنے اورپَور پَور میں درد ہونے لگے، کبھی دل بیٹھتا تو کبھی اُچھلتا محسوس ہونے لگے ، دماغ شَل ہو جائے توایسی کیفیات میں جان لیجئے کہ معمہ ایک ہی ہے جسے تخلیق کہتے ہیں۔جب کہ ایسی مضطرب کیفیات سے دوچار ہونے والے کو تخلیق کار کہا جائے گا۔ ایک تخلیق کار ہی ایسی کیفیات کے تابع اپنے خصّی جذبات کی مسیحائی کرتااور اپنے کار گر ہتھیار سے کسی چاند کی چاندنی چھین کر کنوار جذبوں کو لمحہ وصل میں بدلتا اور دل کے باغ کی نرم مٹی پر اپنے نقوش چھوڑنے چل پڑتاہے۔ایسا اس سبب ہے کہ ایک تخلیق کاراپنے تخیل پہ اعتبار کرتا ہے کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ لمس ایک نشہ ہے جو بے منزل ، بے نشاں راہوں کا راہی رہتا ہے جس میں قوتِ انعکاس و جذب ہے۔ یہ قوت اک زہریلا اژدھا ہے جو خاموشی سے آتا ہے ، ڈستا ہے اور چلا جاتا ہے۔ یہ نازک جذبہ، نازک بدن میں سختی اور زہر بھر دیتا ہے۔وہ خود آشنا پھول، گوشہ نشینی، تنہائی، فراق، ضبط، شدتِ جذبات کے موسموں کی سختی تو جھیل لیتا مگر قربت کی نہیں لیکن پھر بھی وہ قریب، قریب تر ہوتا چلا جاتا کہ اپنے فلسفے کو کسوٹی پر پرکھ سکے۔ وہ اپنے فلسفے کی کسوٹی پر اس حسین شاہکار کو اپنی سانسوں سے سُولی پر چڑھا دیتا جسے تخلیق کہتے ہیں‘‘۔
تخلیق اور تخلیق کار کی یہ تعریف فلسفے اور تاریخ کی ضخیم کتابوں سے نقل نہیں کی گئی بلکہ افسانوں او ر کہانیوں کے مجموعے ’’رات کی رانی‘‘ سے مستعار لی گئی ہے جہاں کہانی کار شدتِ جذبات اور حسِ ادراک کا سرا خود قاری کے ہاتھ تھمادیتی ہے جو قاری کو کہانیوں کے خوب صورت حصار میں اتارتا چلا جاتا ہے۔ایسا کیوں کر نہ ہو کہ یہاں تخلیق کے سفر پر تخلیق کاراپنے قاری کے ہمسفر ہوتا ہے۔ ایسی کیفیات کو ’’سگمنڈ فرائڈ ‘‘ نے یوں بیان کیا ہے کہ’’ تخلیق کا محرک ناآسودہ خواہشات کی تسکین کا جذبہ ہوتا ہے لیکن پہلے یہ تخلیق کار میں اور بعد ازاں قاری میں وہی احساس ابھارتا ہے جو خود تخلیق کار کا مطمع نظر تھا‘‘۔شدتِ احساس ایک ایسا جذبہ ہے جو تخلیق کار کو ’’رات کی رانی‘‘ بن جانے پر مجبور کرتا ہے اور وہ کہیں پر زندگی کی حقیقتوں، کہیں پر محرومیوں اور کہیں پر مسافرت کی کہانیوں کا طشت سجائے قاری کے سامنے آ ن موجود ہوتی ہے۔’’رات کی رانی ‘‘ میں شامل کہانیاںرابعہ الربا کے تخلیقی وجو د کا وہ ٹکڑے ہیں جو اس اپنے آپ سے کاٹے ،پہلے پہل انہیں سجا کراپنے سامنے رکھ چھوڑا،بعد ازاں انہیں دھیرے دھیرے کاغذ پر منتقل کیا ۔اس منتقلی کے دوران اس نے اپنے احساسات و جذبات کی شدت کو ایسے انداز میں بیان کیا کہ قاری وہ سب دیکھنے اور محسوس کرنے لگتا ہے جو کہانی کے ساتھ ہو رہا ہوتا ہے ۔یہاں کہانی کار مکمل طور پر اپنی کہانیوں کے ساتھ موجود دکھائی دیتی ہے یعنی وہ خود کو کہانی سے جدا نہیںکر پائی اور یہی اس کی کہانیوں کا بنیادی وصف ٹھہرتا ہے۔
…………………
( ۲ )
’’رات کی رانی‘‘ کے معانی افسانہ نگار نے کتاب کے شروع میں بیان کردیے ہیں لیکن یاد دہانی کے لیے بیان کرتا چلوں کہ رات کی رانی کا تعلق جھاڑی نما پودوں کی نسل میں سے آلو کے خاندان سے ہے جس کی جنم بھومی ویسٹ انڈیز اور جنوبی ایشیاکو بتایا جاتا ہے۔ رات کی رانی کا المیہ ہے کہ یہ اپنے غیر موثر رنگوں اور قدرے بے ترتیب شاخوں کی وجہ سے کسی بھی آنکھ کو اپنی جانب متوجہ نہیں کرپاتی لیکن جب اس پر سبزی مائل پھولوں کا ظہور ہوتا ہے تو اس کی خوشبو اندھیروں میں روشنی بن کر پھیل جاتی ہے اور ہر کوئی اس کی جانب کھینچا چلا جاتا ہے۔ رابعہ کی ’’رات کی رانی‘‘ کا معاملہ ذرا ہٹ کے ہے کیوں کہ یہ اپنے ظاہری رنگ وروپ کے ساتھ بھر پور انداز میں جلوہ گر ہوتی ہے اور اپنے افسانوں کی خوشبو سے دھیرے دھیرے چاروں اور پھیل جاتی ہے۔ افسانہ نگار نے جس ضرورت کے تحت ’’رات کی رانی‘‘ کا معانی و مفہوم بیان کیا وہ موجودہ حالات میں درست محسوس ہوتا ہے۔کتاب میں شامل افسانے اور کہانیاں خارجی اثرات کے رد ِ عمل کی واردات محسوس ہوتی ہیں جواحساسات، نفسیات،کیفیات اور تجربات کا ایک حسین امتزاج ہے جو بلا شبہ افسانہ نگار کی معاشرتی جڑت کی آئینہ دار ہے۔یہ اس روایتی جڑت کی تاثیرہی ہے جو اپنے قاری پر ایک سحر طاری کرتی ہے جس کے زیر ِ اثر قاری کہانی اور کہانی کار کے ساتھ ساتھ چلنے لگتا ہے۔
معاشرتی جڑت نے ’’رات کی رانی‘‘ کو بہترین پلاٹ مہیا کیے جن کی افسانوی بُنت کاری نے انہیں خاصے کی شے بنا دیا ہے۔ ان کے پلاٹ سادہ اورعمومی طور پر ہمارے روز مرہ کے مسائل سے جڑے ہوئے ہیں جب کہ بحیثیت ِ مجموعی ان مسائل کا براہ راست تعلق عورت اور عورت کی نفسیات و مسائل کے ساتھ ہے۔ کہانیوں کے عنوانات خوب صورت اور کہانی کا مکھڑا ہیں جس پر پوری کہانی ’’واری واری‘‘ جاتی ہے۔ کہانیوں کا آغاز خوب صورت افسانوی رنگ میں رچے بسے جملوں سے ہو تا ہے جن کی گرفت قاری پر اتنی پُر اثر ہوتی ہے کہ وہ کہانی کی آخری سطر تک بنا پلک چھپکائے پڑھتا چلا جاتا ہے۔
افسانوں کے آغاز میں یک روایتی انداز نہیں اپنایا گیا یہی وجہ ہے کہ ہر افسانہ اپنا الگ مزاج لے کر جنم لیتا اور سطر سطر پروان چڑھتا ہے۔ہمیں اس کے ہاں کیفیات و نفسیات میں ڈوبے جملوں کا سلسلہ بھی ملتا ہے جو افسانہ نگار کے لفظی چنائو، جملوی برتائو اور تخلیقی بہائو کا عکاس ہے۔افسانہ’’تشنگی‘‘کا آغاز دیکھئے:
’’نجانے کیوں مجھے لگتا ہے اس حسن میں جادو نہیں، حسن وہ تلوار نہیں جو اندر کو کاٹ دے، بوٹی بوٹی کردے، چیتھڑے اُڑا دے، خون بکھیر دے، روح دھڑکا دے، جسم کو فنا کر دے،…‘‘
اسی طرح افسانہ ’’وصل مہر بر لب‘‘کا آغاز دیکھئے:
’’بادل ایسے گہرے آئے کہ جیسے وصل کی رات محبوب مخمور ہو تا ہے۔ دن میں اتنا اندھیرا ہو گیا جیسے کو ئی مستانی شرمیلی شام اور بارش جو شروع ہوئی پانی کا طلاطم…قطروں کا میلا…مگر پھر بھی اس میں اتنا حسن تھا کہ مزاجوں میں فرق آنے لگا…چہروں پہ نور و سکوں نے مسکراہٹ کے پھول کھلا دیئے‘‘۔
کہانیوں کے اس گل دستے میں بہت سی خوب صورت پنکھڑیاں ہیں جن کے زاویے بیان کیے جاسکتے ہیں جیسے ’’بلاعنوان‘‘ کی یہ ابتدائی لائنیں دیکھئے:
’’بہار کی قاتلانہ ہوا یوں محورقص تھی کہ باغ کے تمام درخت، پودے، پتے ، شاخیں بھی ان کے ہمراہ ناچ رہے تھے۔ پھولوں پہ دیوانگی کا عاشقانہ عالم طاری تھا جو چھپائے نہیں چھپتا…اک اک پھول کی خوشبو اپنا حسن بکھرا چکی تھی اور اب یہ چھوٹے چھوٹے عشق مل کر ایک بڑے عشق کی طرف بڑھ رہے تھے…‘‘
کچھ کہانیوں کا آغاز مکالمے کے انداز میں کیا گیا ہے جہاں مکالماتی جزئیات نگاری کا اہتمام افسانہ نگار کے مشاہداتی ادراک کا شاخسانہ محسوس ہوتی ہے جیسا کہ ’’نظریہ ضرورت‘‘،’’ایک قیامت ذرا سی ‘‘، ’’جنت الفردوس‘‘،’’وقت کرتا ہے پرورش برسو‘‘،’’دوپٹہ‘‘،’’تلاش‘‘ شامل ہیں۔افسانہ نگار اپنے ماحول پر گہر ی نگاہ رکھتی ہے۔ وہ اپنے آس پاس ہونے والے معمولی واقعات کو بھی نظر انداز نہیں کرتی اور جہاں مناسب ہو وہاں پر معاشرتی بے راہ روی پر طنزیہ انداز اپناتے ہوئے اپنے افسانوں کے ابتدائی منظر کو اسی لہر میں بیان کر تی ہے جیسے یہ ملاحظہ ہوں:
’’کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب گالیاں کھا کے بھی بے مزہ نہ ہو‘‘…(افسانہ:’’سماج‘‘)
’’اس گھر میں داخل ہوتے ہی محسوس ہوا کہ غربت سکوں کے گھنگرو باندھے محو رقص ہے اور امت بڑھانے کے مست اپنی مستی میں مست…!‘‘…(افسانہ:’’فال‘‘)
’’واہ بھابھی جی واہ… ہم تو سمجھے تھے خاندان کے باہر کوئی نگینہ ہی نہیں…(افسانہ:’’چاچا قیدو‘‘)
چند ایک افسانوں میں افسانہ نگار معاشرتی ناہمواریوں کے زیرِ اثر وقتی ناامیدی کا شکار بھی دکھائی دیتی ہے۔ اپنی اس کیفیت کو الفاظ کا لبادہ تو پہنا دیتی ہے مگر اس کے پیچھے چلنے والی مایوسی و بے بسی کی پوشیدہ لہر کہیں کہیں پر دکھائی دے ہی جاتی ہے جیسے یہ ملاحظہ ہوں:
’’میں کیا کرتی میرے پر کاٹ دیے گئے تھے، میری سوچ کے در بند کر کے ان پر تالے لگا دیئے گئے تھے جن پہ زنگ نے میرے دشمنوں سے وفا کی، میری آنکھوں پر شریعت نام کے پردے ڈال دیئے گئے تھے۔ ہاتھوں سے کتاب چھین کرایک مقدس کتاب مجھے تھما دی گئی جسے میں پڑھ نہ سکتی تھی…‘‘(افسانہ:’’راج مُہر‘‘)
یہاں شریعت کے نام پر عورت کے ساتھ کی جانے والے جبر و استحصال کا ذکر کیا گیا ہے جسے عورت صدیوں سے کاٹتی چلا آرہی ہے۔ عورت ہی کے ساتھ برتا جانے والا ایک خوف ناک رویہ جس میں مردانہ حاکمیت کا پہلو نمایاں دکھائی دیتا ہے ، کا اظہار ’’چپ کا پہاڑ ‘‘ میں دیکھئے:
’’اک انجانا ڈر، اک انجانا سا خوف بوجھل کر رہا تھا، اک ہجر، فراق کی آگ بیدار ہو رہی تھی جس کا نہ کوئی نام تھا اور نہ کوئی پہچان۔ وہ اس کلی کی قید میں تھی تو گویا میرے جذبوں، میرے لبوں ، میرے بدن کی قید میں بھی تھی۔ وہ کمی کی قید میں تھی تو گویا مجھے سکون تھا، اطمینان تھا کہ میں اس زمین کا مالک ہوں جس کی وہ کمی ہے اور ملکیت کا احساس بڑا جان لیوا ہوتا ہے…‘‘
…………………
( ۳ )
’’رات کی رانی ‘‘ میں شامل پچیس افسانوں کے پلاٹ زمانی تناظر میں انتہائی اہم اور سادہ تاثیر دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر لگتا ہے جیسے کہانی اپنے کرداروں کے ساتھ افسانہ نگار کے پاس خود چل کر آئی ۔ تب افسانہ نگار نے سب کرداروں کے ساتھ مل کر کسی ایک ہی نشست میں سے قرطاس پر منتقل کر دیا۔کہانی میں اتار چڑھائو دراصل افسانہ نگار کی فسانہ فہمی اور سخن سلیقہ کی آئینہ دار دکھائی دیتی ہے۔ کہانی جس بنیاد پر کھڑی کی گئی ہے اس میں مشاہداتی ادراک کا بھر پور استعمال نظر آتا ہے۔
افسانہ نگار نے کہانی کے واقعات کو بیان کرنے کے لیے خوب صورت جزئیات نگاری سے کام لیا ہے جو کہانی کے حسن کو دوچند کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوئے ہیں۔اگرچہ کہانیاں مختصر ہیں لیکن بیان میں سحر کاری کا انداز انہیں قاری پر مکمل ہاوی رکھتا ہے۔ واقعات طوالت کا شکار دکھائی نہیں دیتے لیکن کہیں کہیں جملہ سازی کچھ گھمبیرتا کا شکار ہو جاتی ہے لیکن یہاں کمالِ سخن یہی ہے کہ اس سے کہانی کے حسن و روانی میں فرق نہیں آتا۔
افسانہ نگار، کہانی کی ضرورت کے مطابق افسانوں میں اُلجھیڑااورمخمصہ پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس طریق سے وہ اپنے قاری کو اچنبھے کی سی کیفیت میں مبتلا کردیتی ہے اوریہی کیفیت قاری کونہ صرف کہانی پڑھنے پر مجبور کرتا ہے بلکہ ایک ہی نشست میں پڑھ جانے پر مجبور کرتا ہے۔یہاں افسانوں میں بے منظر نگاری کے کوشش نہیں کی گئی بلکہ معروض کے ساتھ جیتے جاگتے، چلتے پھرتے کرداروں کو جوں کے توں اٹھا کر کہانی کے قالب میں بٹھا دیا گیا ہے ۔ انہیں دیکھ کر کہیں بھی یہ شائبہ نہیں گزرتا کہ انہیں تخلیقی تختِ مشق پر گھڑا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کہانی کاحسن قدرتی اور دائمی وصف لیے ہوئے ہے۔
ایک کہانی کار کے لیے یہ بڑی خوش قسمتی ہے کہ اسے جیتے جاگتے کردار مل جائیں ۔ اس معاملے میں یہاں افسانہ نگار پر تخلیق کی دیوی مہربان دکھائی دیتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کہانی میں کرداروں کی شخصیت واضح کرنے میں کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور تحریر میں آسانی اور کہانی میں روانی برقرار رہتی ہے ۔ دوسری جانب جہاں تک مکالمہ سازی کی بات ہے تو میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ افسانہ نگار نے اس کا خوب اہتمام برتا ہے۔ مکالمہ کے دوران کرداروں کے منہ سے نکلنے والے جملوں کے اسلوب ، ادائیگی، لب و لہجے اور کیفیات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے جوحقیقی لب و لہجہ، زبان و بیان، محاورہ بندی، روزمرہ، مزاج اور اندازِ گفتگو کی عکاس ہے ۔
…………………
( ۴ )
’’رات کی رانی‘‘ کی ایک انفرادیت اس کی کہانیوں میں عورت اور رومانیت پسندی کا عنصر ہے۔ افسانہ نگار نے یہاں اپنے ہونے کے خوب صورت جواز کو خوب نبھایا ہے۔ زیرِ نظر کہانیوں میں عورت کے جذبات، کیفیات ، حسیات اور عمل و ردِ عمل کے اظہاریات کا تسلسل ملتا ہے جو افسانہ نگار میں رومانی جذبے کے تحت پائی جانے والی حریت پسندی، انقلاب پسندی اور بغاوت کے عوامل کی نشاہدہی کرتی ہے۔ دوسری طرف ہمیں خواتین افسانہ نگاروں سے کیے جانے والے اس ادبی گلے کا جواب بھی ملتا ہے جس کا اظہار ڈاکٹر سلیم اختر نے یوں کیا :
’’جب خواتین افسانہ نگاروں کا جائزہ لیں تو ان کی عورتوں کی کم مائیگی کا احساس اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ اکثریت ایسی خواتین کی ہے جو عورت ہوکر بھی عورت کے لطیف جنسی تقاضوں، رنگ بدلتی نفسی کیفیات اور جذباتی تموج کی تصویر میںبالعموم ناکام رہی ہیں۔ عورت کا مطالعہ اور اس کی تفہیم مرد کے لیے بالواسطہ قسم کی چیز ہے اس لیے اس کی ناکامی تو معاف کی جاسکتی ہے لیکن عورت ،عورت کونہ سمجھ پائے، اس کی تو صرف تین ہی وجوہ ہو سکتی ہیں، کوتاہ فہمی سب سے بڑی وجہ اور پھر یاتو وہ اظہار سے خوف زدہ ہے ورنہ وہ اظہار پر قادر نہیں ہے‘‘۔
’’رات کی رانی‘‘ میں افسانہ نگارنے اپنے عورت ہونے کا فائدہ حاصل کیا ہے اور بطریقِ احسن عورت کے لطیف جذبات، نفسی کیفیات اور جذباتی تموج کی تصویر کشی کی ہے۔یہاں ہمیں عورت ، عورت کے روپ میں ملتی ہے جو اپنی ذمہ داریوں سے نہ صرف اگاہ ہے بلکہ ان کو نبھانے کے لیے معاشرتی بندشوں سے بغاوت کرتی ہوئی بھی دکھائی دیتی ہے۔اس لیے یہاں پر نہ تو کوتاہ فہمی کرتی ہے اورنہ ہی وہ اظہار سے خوف زدہ دکھائی دیتی ہے بلکہ وہ اپنی قوتِ اظہار کا استعمال اتنے خوب صورت انداز میں کرتی ہے کہ نہ ہی جنسیت کا شائبہ گزرتا ہے اور نہ ہی تخلیقی اظہار میں کوتاہی کا گماں ہوتا ہے یعنی عورت ، عورت کا اظہار بن کر سامنے آتی ہے۔ یہاں ایسے موقع پر ڈاکٹر وحید احمد کی نظم ’’علاج بالمثل ‘‘ کا یاد آجانا کچھ اچنبھے کی بات نہیں ہے:
’’نشتر ذخم لگاتا ہے، تو نشتر سے کھلواتا ہوں
سِلواتا ہوں
پھنَیر نیل اتارتا ہے، تو منکے میں رِسواتا ہوں
کھنچواتا ہوں
پانی گرمی گھولتا ہے
تو پانی کا ٹھنڈا پیالہ منگواتا ہوں
جب شب زندہ داری میں مے چڑھتی ہے
تو صبح صبوحی کی سیڑھی لگواتا ہوں
عورت چرکا دیتی ہے، تو عورت کو بلواتا ہوں
دکھلاتا ہوں
اک عادت کے گھائو پہ دوسری عادت باندھا کرتا ہوں
میں عورت کے زخم کے اوپر عورت باندھا کرتا ہوں‘‘
’’رات کی رانی ‘‘ میں افسانہ نگار نے ایک مشکل کام کو خوب صورت ، سادگی اور آسانی سے ممکن بنایا ہے کہ قاری پڑھتے ہوئے اس کی سطر سطرسے تخلیقیت کاحز تواٹھاتا ہے لیکن کہیں بھی ذہنی اشتعال کا شکار نہیں ہوتا۔
…………………
( ۵ )
’’رات کی رانی‘‘ میں شامل کہانیوں میں مرکزی موضوع ، عورت اور عورت کی نفسیات ہی ہیں لیکن ان میں غالب گمان جنسی نفسیات و کیفیات کا ہی جاتا ہے اگرچہ کہیں بھی میں عریانیت دکھائی نہیں دیتی ۔ کیوں کہ افسانہ نگار معاشرے کی ایک ذمہ دار فرد ہے لہٰذا اس کی کہانیاں گرد و نواح سے اٹھتے محرومیوں ، ناکامیوں کے دھویں میں عورت کی تصویر لیے گھومتے دکھائی دیتی ہیں۔ کہانیوں میں نظر آنے والا خارجیت کا عنصر افسانہ نگار کی اپنے آپ ، عورت اور سماج ،معاشرے اور معاشرتی رویے ،تہذیب و ثقافت اور روایات سے فطری جڑت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ یہاں ہمیں سماجی رویے اور تشکیلات کہانی کار کے داخلی رویوں کی حدوں سے ٹکراتے ہوئے ملتے ہیں جن کے ٹکرائو سے حالات کا حقیقت کا پردہ چاک ہوتا ہے اور بغاوت کا اعلان سنائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر افسانہ ’’سماج‘‘ میں ملاحظہ کیجئے:
’’ہاں مگر سماج کو یہ قبول ہے کہ میرا شوہر جب چاہے مجھ سے بور ہو جائے اور کسی بھی لڑکی کو کسی بھی عورت کو کسی بھی نظر سے کہیں بھی دل کھول کر دیکھے۔ اس سے میٹھی میٹھی باتیں کرے ۔ اس کی ہر زاویہ سے تعریف و توصیف کرے اور اگر شیطان کا غلبہ ہو جائے تو اس سے جوجو چاہے کرے، سر سے پائوں تک مگر پھر غسل کرکے توبہ کرلے بس! کیوں کہ وہ بے چارہ مرد ہے‘‘۔
عورت کے احساسات و جذبات کی ترجمانی اور معاشرتی رویے پر احتجاج کی ایک صورت افسانہ ’’تلاش ‘‘ میں دیکھئے:
’’میں انسان ہوں ، روبوٹ نہیں…مشین نہیں! پورے گوشت پوست کی انسان…مکمل احساسات و آگہی کی مالک…‘‘۔
شعوری طور پر ان کہانیوں کا موضوع جنسیت نہیں ہوا ہو گا لیکن کہیں لاشعور طور پر یہ ایک غالب موضوع بن کر سامنے آجاتاہے۔ اگرچہ افسانہ نگار نے علامتی تہہ داریوں کا خوب صورت استعمال کرتے ہوئے کہیں بھی عریانیت کا شائبہ نہیں ہونے دیا۔ ویسے بھی عریانیت کی تشریح کے لیے حد بندیوں کی واضح لکیر ڈھونڈ نکالنا کچھ آسان نہیں ہے۔ کہانی کار اس کا ادراک رکھتی ہے جبھی تو بے اختیار کہہ جاتی ہے:
’’جب سب وہی ہے تو برائی کیا ہے، گندگی کہاں ہے ، ہمارے تو اندر باہر وہی ہے تو پھر ہم کہاں ہیں، ہم کون ہیں خامیاں ڈھونڈنے والے، ہاں ہم ہیں تو وہاں ہیں جہاں ہم پانی کو بہنے سے روکتے ہیں ۔ گندگی ہے تو وہاں ہے جہاں ہم فطرت کے رقص کو عریانی سمجھتے ہیں۔ عریانی ہے تو وہاں کہ جہاں بچہ ماں کے پیٹ سے بے لباس پیدا ہوتا ہے۔ برائی ہے تو وہاں کہ جہاں جاندار فطری عمل میں بے خود و مدہوش ہوتے ہیں ۔ یہ سب برائی ہے ، گندگی ہے ، فحاشی ہے تو صرف یہاں ہماری انا اشرف ہونے کی، انا سجدہ سے انکار کے مترادف ہے ورنہ تو کچھ بھی نہیں۔‘‘
یہاں مجھے عطا تراب کی ایک خوب صورت نظم ’’گل حیا کی ڈائری کا ایک ورق ‘‘ بھی یاد آتی ہے:
’’چمن میں ڈیرے ڈالے ہیں یہ کہہ کہ کچھ درندوں نے
کہ ہم تزئینِ گلشن کا فریضہ لے کے آئے ہیں
کلی کا مسکراکے پھول بننا بھی فحاشی ہے
فقط پتوں کے برقعے میں تبسم کی اجازت ہے
کسی کوئل کی کُو کُو بھی غنا کے ذائل میں ہے
اور خوشبو کا کسی جھونکے کی انگلی تھام کر چلنا نہیں جائز
کہ جھونکے غیر محرم ہیں
وگرنہ ہم تمہاری پشت پر درے لگائیں گے
ہوا اٹھکیلیاں مت کر!
کہ شاخیں جھومتی ہیں تو چمن میں رقص کی بنیاد پڑتی ہے
بجائے رقص اب طائووس کو مرغِ مقدس سے
اذانیں سیکھنا ہوں گی
یہاں ہر سر کشیدہ سرو کو اب سر جھکانا ہو گا
ورنہ ہم اسے پھانسی سزا دیں گے
خدایا!
کنکروں والی ابابیلوں کو جلدی بھیج‘‘
افسانہ نگار نے عورت کی زندگی کے تلخ و شیریں تجربات و جذبات کو بڑے احسن طریقے سے اپنے افسانوں میں نبھایا ہے۔ اُس نے غیر منصفانہ معاشرے میں عورت کے شب و روزکی جو تصویر بنائی ہے وہ مرد زدہ معاشرے کی عکاس کہی جا سکتی ہے۔ افسانہ نگار نے محبت کے جذبات کے ساتھ ساتھ اپنے گردو نواع میں بدلتی صورت حال کا نوحہ بھی بیان کیا ہے ۔وہ جہاں محبت کے جذبات میں جنسیت کی حدوں کو چھوتی ہے وہاں عورت کے مسائل،دکھ، تکا لیف اور پریشانیوں کا اظہار خوب صورت پیرائے میں کرتی ہے جو قاری کی کیفیات کو بدل ڈالتی ہیں اور وہ شریک ِغم ہو جاتا ہے۔
عورت کی جذباتی و نفسیاتی کیفیات کا اظہار کرتے ہو ئے افسانہ نگا ر کا انداز فطری اور بر محل ہے ۔ اپنے آپ میں ایک عورت اور حساسیت نے معاشرتی جڑت کے ساتھ تال میل کھا کر ایک جنوں کی کیفیت طاری کر دی ہے جس کا اثرکہانیوں میں بھی دکھائی دے رہا ہے۔افسانہ نگار نے جنس جیسے مشکل موضوع پر سہل اندازی سے تخلیق کے زاویے بنائے ہیںجو تخلیقی عطا کے سوا کچھ نہیں ہے ۔یہی تخلیقی عطا اسے ادراک کی ان بلندیوں پر لے جاتی ہے جہاں وہ تجرباتی سطح پر بہت کچھ بیان کرتی ہے ۔اس بیان میں کہیں بھی تحریر کا ننگاپن دکھائی نہیں دیتا۔کیفیات کے اظہار کے لیے الفاظ کا چنائو اور استعمال کہیں بھی تحریر کو عریانیت کے دائرے میں نہیں دھکیلتااک نادیدہ لباس میں سامنے لاتا ہے جس پر اعتراض کی زباں خاموش ہو جاتی ہے۔مثال کے طور پرافسانہ ’’تشنگی‘‘ میں دیکھئے:
’’مجھے وہ نازک ہاتھ نہیں بھاتے جو بدن کو چھوئیں تو سرد لہریںبکھیر دیں۔ مجھے ان تشنہ انگلیوں کی تلاش ہے جس کی پوریں بدن کو سوئیوں کی طرح چیڑتی چلی جائیں اور اپنے نشان چھوڑ جائیں اور مجھے لگتاہے اس ہاتھ ایسے ہی ہوں گے مجھے خون خون ، زخم زخم کر دینے والے …میرے بدن کو زخموں سے بھر دینے والے جن سے خون سسکیوں کی طرح رِستہ چلا جائے گا۔آ ہوں کی طرح سانس لے گا تو سارا وجود کچھائو محسوس کرتا ہو گا‘‘۔
افسانہ ’’تشنگی‘‘ میں ہی ایک مقام پردیکھئے:
’’آج وہ میرے پھولوں والے کمرے میں گل دائودی بنی بیٹھی ہے۔وہ خاموش ہے۔ اس کی آنکھیں جھکی ہوئی ہیں مگر مسکراتی معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن میرا دل چاہتا ہے …وہ قہقہے لگائے جس کی کھنک چھانک میں ، میں جاندار ہوجائوں، جاگ اٹھوں۔ اس کے ہاتھ، اس کے بازو بہت گداز ہیں اور میرا بدن سانس لینے لگا ہے۔ اس کے لب ورخسار سرخ و گرم ہیں۔ اس کے بدن میں حدت ہے۔ وہ بھر پور زندگی ہے ۔ بھرپور وجود اور پھر اس نے مجھے زندگی دے ہی دی لیکن میں بدلے میں درد دے سکا۔ وہ درد کے جس میں تکمیلِ انسانیت ہے۔ کیا کرتا تکمیلِ انسانیت کے تضاضوں میں دردِ فطرت کا لازمی جزو ہے۔ میں تو اس قدرت کا بہتا پانی ہوں‘‘۔
افسانہ ’’گرہیں‘‘ میں دیکھئے:
’’میری ایک نگاہ نے ہی تمہاری جسمانی ساخت سے تمہارے فطری تغیر کی خبر دے دی تھی۔ وہ تغیر کے جو بہت خوش نصیبنیوں کو میسر آتا ہے۔ تمہاری آنکھوں نے تمہارے دل کی کھڑکی بھی کھول دی تھی۔ تمہاری سانسوں کے گردابوں سے سینے میں ہونے والے تغیر نے تمہارے اندر کے پردے چاک کر دیے تھے۔ مجھے یوں لگا تمہارے سارے جذبے میرے سامنے بے لباس ہو گئے ہیں لیکن نہیں میں نے ان کو اپنی ست رنگی چنری اوڑھا دی۔ مجھے بہتر یہی لگا کیوں کہ آدم دانہ کھا چکا تھا اب لباس لازم تھا، ضروری تھا کیوں کہ ہم میں لباس کا رشتہ نہیں تھا جو بے لباسی کے لیے اخلاقی شرط ہے‘‘۔
افسانہ ’’گرہیں‘‘ میںہی ایک اور مقام پر دیکھئے:
’’تب کسی عروسی خلوت خانے میں تم نے میرا ہاتھ تھام لیا اور روشنیاں گل کر دیں۔ تم نے میرے ہاتھ چومے اور ان کو دھیرے سے اپنے سینے پہ رکھ لیا۔ مجھے کاندھوں سے پکڑ کر اس عروسی بستر پر بٹھایا۔ پھر تم نے اپنی سرخ ٹائی سیدھے ہاتھ کی انگلی سے ڈھیلی کی اور اسے اتار کر میری گود میں دھیرے سے رکھ دیا، اپنی سفید شرٹ کے بٹن کھولے اور اتار کر صوفے پر رکھ دی، سکن فٹ اتاری اور شرٹ کے اوپر رکھ دی اور تمہارے ہاتھ بلٹ تک گئے ہی تھے کہ تمہارے بدن کی مہک نے میرے تن من سے ہوتے ہوئے میرے اندر کی کھڑکیوں تک کا سفر شروع کر دیا اور ندر کسی تیز جھونکے سے میری آنکھوں میں گرد پڑ گئی‘‘۔
افسانہ ’’راج مُہر‘‘ میں دیکھئے:
’’ہاں اس کے ہونٹ بتا رہے تھے کہ وہ خرید سکتا تھا ہر نشیب و فراز والی جس میں وہ اُتر و اُبھر بھی سکتا تھا۔ اس نے آتے ہی اسے قدرتی لباس پہنا دیا اور خود بھی یہی لباس زیب تن کر لیا۔ لباس فطری تھاسو بہت حسین لگ رہا تھا۔ کسی بڑے تخلیق کار کے بڑے ہنر کا عکاس…وہ ببھی اس اعترافِ تخلیق کے بنا نہ رہ سکا اور جلدی ہی تخلیقی کاوشیں شروع کر دیں۔ وہی جو وہ دیکھ کر آرہا تھا۔ وہ جو ہر بیٹا اپنا باپ پیدا کرنے کے لیے کیا کرتا ہے‘‘۔
…………………
( ۶ )
’’رات کی رانی‘‘ کے کئی ایک روپ ہمارے سامنے آتے ہیں جن میں سب سے نمایا ں روپ ایک افسانہ نگار کا ہے جو کتاب پر ہاوی دکھائی دیتا ہے۔ یہاں کتاب میں شامل کہانیوں پر مختصر جائزہ پیش کر دینے سے بحیثیت افسانہ نگار ایک مجموعی تاثر بیان کیا جاسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ جستہ جستہ تحریری تاثیر کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
اول الذکر افسانہ ’’نظریہ ضرورت‘‘ ایک انتہائی خوب صورت کہانی ہے جسے اہتمام کے ساتھ برتا اور نبھایا گیا۔ یہ کیا جائے تو بھی غلط نہیں ہو گا کہ یہاں پر افسانہ نگار نے نظریہ ضرورت کے تحت ایک مشکل موضوع کا سہل اندازی سے نبھایا۔ یہ حقیقت ایک المیے کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے کہ ہماری آنے والی نسلوں کو تاریخ مسخ کر کے بتا ئی جانے کی شعوری و لا شعوری کوشش کی جارہی ہے جسے وقت معاف نہیں کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف پہلوئوں جن میں صحافتی ذمہ داریوں، جمہوری روایات و تقاضے اور سیاسی بساط و بصیرت کی ننھی ننھی کرنوں کی لَو دکھائی دیتی ہے جس سے دیے جلانا قاری کا کام ہے۔
’’تشنگی‘‘ میں عورت کی نفسیات کا خوب صورت امتزاج دکھائی دیتا ہے جب کہ ایک مرد کی دو عورتوںجن میں ایک ما ںاور دوسری بیوی، کے بیچ کی زندگی کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہاں عورت کے دونوں روپ دکھائی دیتے ہیں ایک اثیار و قربانی کی علمبردا ر جب کہ دوسرا حکمرانی کیفیات کا حامل پتھر سمان کھردرہ روپ۔کہانی میں جزئیات نگاری کے ساتھ جمہوری ومعاشرتی ذمہ داریوں کو نبھانے کی لاشعوری کوشش بھی کی گئی ہے خصوصاً ’’کالے بوٹوں والوں‘‘ سے لے کر ’’کالے کوٹوں‘‘ والوں تک کے سفر کو چند سطروں میں بیان کر دینا کچھ آسان نہیں جسے فنکارانہ چابک دستی کے ساتھ نبھایا گیا ہے۔
’’ایک قیامت ذرا سی ‘‘ میں بہت بڑی قیامت کا تذکرہ فنکارانہ چابک دستی سے کیا گیا ہے۔ یہ کہانی جن حالات میں تخلیق ہوئی وہ نہ صرف ہمارے ملک بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک قیامت کا منظر بناتی ہے۔ کہانی کا پس منظر خود کش دھماکوں کا خونی ماحول ہے جس نے گذشتہ کئی سالوں سے ہمارے معصوم لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھاہے۔ کہانی میں وقتِ مقررہ پر ہر کردار اپنی تمام تر مصروفیات کو بالائے تاک رکھ کر اس خونیں منظر نامے کا حصہ ہونے کے لیے پہنچ جاتا ہے۔ دفاتر میں کام بند کر دیا جاتا ہے اور بابو اپنی فائلوں کی گٹھڑی کھولے بغیر ہی مقام متعین کی جانب رواں ہو جاتے ہیں، میاں بیوی رشتے کی گھلاوٹ میں امید کا دامن تھامے الوداع کہتے ہیں، خان صاحب کا دوسروں کو جلدی چلنے کی دعوت، ماں کا بیٹے کا صدقہ اتارنا، فقیر دھندے کی تلاش میں، بہن کا بھائی کو رخصت کرنا، سبزی فروش کا اپنے بیٹے کو اثا ثہِ کُل کا حوالے کرنا، روایت کا علمبردار دادا کا اپنے جدیدیت کے ہامی پوتے کے ساتھ ڈائیلاگ، غبارے والا، میدان میں بھاگتے کھلاڑیوں کی دوڑ، کتنے سارے رشتے ہیں جو اس کہانی کے کردار ہیں ۔ ہر کردار اپنی اپنی گھڑی کو دیکھتاہوا وقتِ مقررہ پر مقامِ متعین پر پہنچ چکا …’’وہ‘‘ بھی جس نے ان کے وقت کا حساب اپنے سینے پر باندھ رکھا تھا۔ اچانک منظر میں خونیں رنگ بکھرتے ہیں ۔ دھماکہ ہوتا ہے اور سب کے سب کردار اپنا اپنا آخری منظر نبھاتے اور دلخراش تاریخ کا حصہ ہو جاتے ہیں۔کہانی نہایت سادہ ، حالات و منظر نامے کا مکمل حصہ اور معاشرت نگاری کا عمدہ نمونہ ہے۔
’’جنت الفردوس‘‘ بھی حالات کا نوحہ ہے جہاں ایک طرف معاشرت نگاری کی گئی ہے وہاں موجودہ دور میں میڈیا کے دو پہلوئوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ کہانی میں دھماکے کے مقام سے میڈیا کا خبر دینا ایک طرف تو دہشت گردی کے حالات کی عکاسی کرتا ہے جب کہ دوسری طرف میڈیا کی دلیری اور بر وقت خبر دینے پر اس کا مثبت کردار سامنے لاتا ہے جب کہ اسی وقت بے حسی اور مادہ پرستی کے پہلو کو بھی اجاگر کرتاہے جہاں ایک بچے سے دلگیر سوالات کی بوچھاڑ اس کے زخموں پر مرہم نہیں دھرتے بلکہ انہیں مزید لہو لہان کر دیتے ہیں۔یہاں کہانی کار کی حساسیت کھل کر سامنے آتی ہے جہاں وہ نہایت معمولی واقعہ سے پوری کہانی کشید کرتی اور خوب صورتی سے بیان کرتی ہے۔
’’تخلیق کار‘‘ قلبی واردات کی بہترین مثال ہے جہاں معروض کا استعمال اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔ کہانی کی بنت کاری اس کے تخلیق کار ہونے کی دلیل پیش کرتی ہے۔ ’’سماج‘‘ ہمارے معاشرے کی ایک کڑوی سچائی اورکیفیات کا بہترین امتزاج دکھائی دیتی ہے جہاں عورت کے جذبات کو نظر انداز کر کے اسے عمر رسیدہ مردوں کے ساتھ بے جوڑ بندھن میں باندھ دیا جات ہے۔ جہاں نقاب کے پیچھے بھیانک چہروں والے افراد کی اچارہ داری ہے ، جہاں نفسیات و کیفیات کی نفی کا احساس غالب دکھائی دیتا ہے۔
’’وصل مہر بر لب‘‘ محبت کے اظہار کی خوب صور ت کہانی ہے جس میں فطرت نگاری اور سراپا نگاری اپنے اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہیں۔ محبت کے جذبات کے اظہار میں جملہ سازی کہانی کار کی نفسیاتی کیفیات کی عکاس ہیں۔ ’’گرہیں‘‘ میں شدتِ جذبات کی عکاسی ہے لیکن اختتام خیر کی علامت ہے جو کہانی کا وصف بن کر سامنے آتا ہے۔ خیر و شر کی لڑائی میں خیر کی فتح کہانی کار کے سامنے موجود روشنی کی کرن کی علامت ہے جو قابلِ تحسین ہے۔’’راج مُہر‘‘ میں علاتی تہہ داری کی خوب صورت لہر چلتی ہے جو کہانی میں بیان کردہ معاشرتی روایات کی عکاسی کے ساتھ ساتھ عورت کی مظلومیت اور مر دکی اجارہ داری کی کہانی بھی بیان کرتی ہے۔کہانی میں شامل علامتی تہہ داری کے حامل یہ پیرا گراف دیکھئے:
’’مگر پھر ایک دن زمین نے انگڑائی لی جسے زلزلہ کا نام دیا گیا تو زمین کے اندر ہی کوئی چشمہ پھوٹا اور ان باقی ماندہ خشک بیجوں کو ساتھ بہا لے گیا۔ باہر کی فضاانہیں اجنبی لگی مگر پھر پھولوں نے کھلنا سیکھ ہی لیا لیکن مسکراتے نہیں تھے۔تب ایک دن ان آنکھوں جن پر شریعت نام کے موٹے بے رنگ پردے جو سر تا پا ڈالے گئے تھے ان کا نور مضطرب ہوا، اس کا دم گھٹنے لگاکیوں کہ نوارانی پن خراج چاہتا تھا۔ وہ ظالم حسن سے جو بنا تھا، جگنو بننا چاہتا تھا، ضوفشانی جو تھی اس میں، سوسو اس نے پانی کی طرح اپنا رستہ بنا لیا۔ اس اندھیر نگری کے چشمے سے نکلا اور ستہ تلاشتے پھول تک پہنچ گیا اور پھول میں آنکھیں بنا ڈالیں۔‘‘
’’چپ کا پہاڑ‘‘ بھی محبت کی شدت کے جذبات کی کہانی اور علامتی نظام کی عکاس کہانی ہے جہاں عورت اپنے جذبات دبائے چپ کا پہاڑ بنی ملتی ہے۔ کہانی میں شامل علامتی نظام کے حامل یہ پیرا گراف دیکھئے:
’’میں یہ کیوں نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ اسے بھی کسی ناتجربہ کار لمس کی خواہش ہو سکتی ہے جو بہت سی نادانیوں کے بعد بدن پر رقص کرنا سیکھتے ہیں اور بہت سی ناکامیوں کے بعد غاروں کے راستے تلاشتے ہیں۔ جب غاروں کا رستہ ملتے ہی اک تیز درد بھری ٹھنڈی آہ سینے کو چھو کر بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔‘‘
’’تیرے خواب‘‘ کی کہانی مر وزن کے بیچ کی سرد لڑائی کا قصہ ہے جہاں عورت کے جذبات پر مرد کے تسلط کا راج دکھائی دیتا ہے۔یہاں کہانی کار کے مذہبی خیالات و رجحانات کی واضح تصویر بھی دکھائی دیتی ہے۔ ’’فال‘‘ غربت اور افلاس کا نوحہ سناتی ہوئی ملتی ہے جہاں ایک کمرے میں پلتے اور پروان چڑھتے خاندانوں کی نمائندگی ملتی ہے۔’’آخری فلائٹ‘‘ میں بیرونِ ملک آباد لوگوں کا دکھڑا ہے جب کہ ’’بلا عنوان‘‘ ایک خوب صور ت کہانی ہے جس میں عورت کا دکھڑا اپنے عروج پر ماتم کناں دکھائی دیتا ہے۔’’وقت کرتا ہے پرورش برسو‘‘ میں ایک لکھاری عورت کی کتھا بیان کی گئی ہے جو ساری عمر دولہے کے انتظار میں شادی بغیر عمر گزار نے مجبو دکھائی دیتی ہے۔’’چاچا قیدو‘‘ میں بند ہو جانے والی سانسوںکی ڈور معاشرتی بے ڈول روایت، مرد کی حکومت اور سادہ لو عورت کی اپنے گھر اور خاندان سے روایتی وفا کی تصویر بیان کرتی ہے۔ ’’دوپٹہ‘‘ میں حالات کا نوحہ بیان کیا گیا ہے جہاں ایک طرف چادر عزت کی علامت تو دوسری طرف فیشن کی روایت بنی ملتی ہے۔
’’تلاش‘‘ بھی عورت اور مرد معاشرے کی عکاس کہانی ہے جہاں عورت پر لگائی جانے والی بے جا پابندیوں میں عورت کی کیفیات ، نفسیات اور جذبات کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے جب کہ مرد ذدہ معاشرے کا بے تاج بادشاہ اپنے لیے ہر کام کو جائز اور عورت کے لیے ناجائز گردانتا ہے حتیٰ کہ دوسری شادی بھی اپنا ہی حق سمجھتا ہے ۔ کہانی کا انجام روایتی علیحدگی کی صورت ہی ہوتا ہے۔’’گلشن‘‘ میں اس نوجوان بیٹے کی کہانی ہے جو بڑا ہو کر گھر بھر کے لیے مثال تو بنتا ہے لیکن ہر ایک پر اپنا حکم باآوازِ بلند سنانا اپنا حق جانتا ہے حتیٰ کہ ماں باپ پر بھی لیکن کہانی کے اختتام پر اس کی مثالی زندگی کا راز افشاں ہو جاتا ہے جب وہ ایک بازای عورت کے پہلو میں رات گزارنے پہنچ جا تاہے۔
’’واہ ری ماں‘‘ میں بے روزگاری سے تنگ لوگوں کا دکھڑا ہے جو چند سکوں کے لیے اپنے عزیز ترین رشتوں تک کو جھوٹ و فریب کی نذر کر دیتے ہیں لیکن چند ایک کا ضمیر مردہ ہو نے سے بچ جاتا ہے اور یہی کہانی کار کی مثبت سوچ کا کمال ہے۔ ’’ثمار‘‘ میں ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جو ایک ایسے مرد کے پہلو میں سہاگ رات میں جا پہنچتی ہے جہاں برف کی سلوں نے ٹھنڈ مچا رکھی ہے ۔ شادی کے بعد اولاد کا نا ہونا عورت کا قصور بن جاتا ہے اور اس نامرد کی شادی دوبارہ ایک اور عورت سے کر دی جاتی ہے لیکن عورت سے پوچھنے والا کوئی نہیں۔ ’’پپی‘‘ میںکہانی کار کے اندر کی شاعرہ اچانک نکل کر سامنے آجاتی ہے جب کہ کہانی میںلفظ پپی کا ذومعنی استعمال بھی اختتام پر اچھا لگتا ہے۔
’’ذرا پاس آجائیے‘‘ میں معاشرے کے ایک تاریک پہلو کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں روشنیوں کے علمبردار تاریکیوں کے راستے بناتے ہوئے ملتے ہیں۔ ’’ادبی خدمات‘‘ کی کہانی بھی کچھ نئی نہیں ۔ اس کی روایت آج بھی ہمارے ادبی ماحول میں دیکھنے کو مل جاتی ہے جہاں گروہ بندی اپنے اثرات دیکھانے میں مصروف ہے۔ ’’طلسمِ حیرت‘‘ کتا ب کی آخری کہانی ہے جس میں نادان محبت کی شروعات اور انجام کی داستان بڑے سلیقے سے بیان کی گئی ہے۔
…………………
( ۷ )
’’رات کی رانی ‘‘ میں ہمارے سامنے کہانی کار کے کئی روپ ابھرتے ہیں ۔ یہاں تک ہم ایک افسانہ نگار سے مل چکے ہیں جب کہ اب اس کا دوسرا روپ بحیثیت ناول نگار ہمارے سامنے موجود ہے۔ اگرچہ کتاب میں رابعہ نے اپنے زیرِ تکمیل ناول ’’آئینہ حیات‘‘ کا ایک مختصر باب بہ عنوان ’’وہ‘‘ پیش کیا ہے جو ایک قابل تحسین کوشش و کاوش کہی جاسکتی ہے۔
’’رات کی رانی‘‘ کا تیسرا روپ ایک شاعرہ کی صورت ہمارے سامنے آتا ہے۔ میں یہاں رابعہ کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہوں گا جس نے بحیثیت شاعرہ نہ صرف اپنا تعارف بیان کیا بلکہ نمونہ کلام بھی پیش کر دیا۔ رابعہ کہتی ہے:
’’میں ایک شاعر ہ ہوں یہ خوش فہمی نہ صرف میں نے پال رکھی ہے بلکہ اس کی مسلسل پرورش و نشو نما کا بھی اہتمام کر تی ہوں اور اس خوش فہمی کو بدگمانی میں بدلنے نہیں دیتی اور ہر شاعر کی طرح میرا بھی یہ خود ساختہ خیال ہے کہ میری شاعری دل سے نکل کر دلوں میں اترتی ہے مگر چونکہ میری شاعری زیادہ گہری ہوتی ہے ۔ اس لیے اترنے کے بعد ابھرتی نہیں ۔ اسی وجہ سے قبولیت اور مقبولیت کے بنگلے کی رجسٹری اس کے نام نہیں ۔ اس رجسٹری کے نام نہ ہونے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ یہ شاعری، جس دل سے نکلتی ہے وہ بھی عورت کا ہے اور جہاں اترتی ہے وہ بھی نساء کا۔ چونکہ اس کے راستے میں معدہ اور پیٹ نہیں آتااس لیے اس کا راستہ سیدھا ہے ۔ اس رستے کے لیے یہ جذبے حقیر، کمین ، فضول اور کمتر ہیں مگر میرے نزدیک یہ میری ذات کی کھلی حقیقت ہے۔ مگر تذکیر ، تانیث کی صرف ایک کھلی حقیقت قبول کرتا ہے باقی حجابی حقیقتوں پر یقین رکھتا ہے‘‘
میں اس کی نظم پر بات نہیں کرنے والا البتہ چند لائنیں ضرور پیش کروں گا کہ وہ اس کہانی کا رسلسل ہیں جو کہانی کار کا موضوع ہے ۔ جس میں عورت ہے …نفسیات ہیں، کیفیات ہیں، عورت سے روا سلوک کی داستان ہے۔ یہاں سرف چند لائنیں دیکھئے:
’’بہت مشکلیں ہو ں گی۔
بہت سی رکاوٹیں ہوں گی
مجھے اپنانے کے رستے میں
بہن کوئی بیاہنی ہوگی
گھر کی روٹی چلانی ہوگی
بہت سے بہانے ہوں گے
جو مجھے سنانے ہوں گے
مگر یقین کرو
تمہیں چاہتا ہوں بہت
میراانتظار کرنا
بہتان سے پیار نہ داغ دار کرنا!
کتنی سچائی ہے ناں! اس میں کہیں کوئی فریب کوئی مکر نہیں ، صرف حقیقت ، صرف مجبوری ، ہاں تو پھر بھی میری شاعری دل میں بہت گہری اترتی ہے کہ ابھرتی نہیں…!‘‘ ہاں اس میں سچائی ہے۔ اس میں کوئی مکر نہیں ، فریب نہیں ۔ ہاں اس میں صرف حقیقت ہے ، مجبوری ہے۔
…………………
( ۸ )
’’رات کی رانی‘ ‘ کے مطالعہ کے دوران ہم جس افسانہ نگار سے متعارف ہوئے اس سے باقاعدہ ملاقات کیے بنا اختتام ممکن ا نہیں اور یہی میرے مضمون کا وہ حصہ بھی ہے کہ جسے’’رات کی رانی‘‘ میں وضع کردہ اوصاف میں ’’رُبع‘‘ یعنی چوتھا حصہ کہا جاسکتاہے۔ جی ہاں! افسانہ نگار ، ناول نگار، شاعرہ اور رابعہ الربا!!۔ رابعہ اپنی تحریر کی طرح خوب صورت ،سادہ طبیعت ،ملن سار اور اپنے افسانوں کی طرح جذبات ،نفسیا ت اور حساسیت سے معمور ایک جرات مند، حریت پسند اور بغاوت پسند افسانہ نگار ہے۔ ا س کی کہانیاں اس کی شخصیت کا آئینہ دار ہیں جن میںایک عورت کے جذبات، کیفیات ، حسیات اور عمل و ردِ عمل کے اظہاریات کا تسلسل ملتا ہے۔
یہی قوی جذبات و کیفیات ہیں جو کہانی کو جنم دیتے ہیں اور کہانی اپنے تخلیقی وجود کے ساتھ اس میں سما جاتی ہے ۔یہاں معلوم پڑتا ہے کہ رابعہ نے بحیثیت کہانی کار لمحہ بہ لمحہ بیتتی ہوئی زندگی کی خوب صورت حقیقتوں کے بیچ محرومیوں ، ناکامیوں اور کوتاہیوں کی گٹھڑیوںپر یاس و نراس کی گانٹھیں باندھی ہوں گی معاشرتی ظلم و جبر کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر عورت کے ساتھ ناروا سلوک کے سامنے بغاوت کا علم بلند کیا ہو گاتب جا کر تخلیق اور تخلیق کار کی کسوٹی پر اس نے اپنا آپ اپنی کہانیوں کی صورت میں دھرا ہو گا۔رابعہ نے ’’رات کی رانی ‘‘ میں تخلیق کار بارے جو کیفیات بیان کیں ہیں وہ اس کی ’’ہڈ بیتی‘‘ معلوم ہوتی ہیں۔
رابعہ کا تخلیقی سفر اگرچہ زیادہ طویل نہ سہی لیکن اس سفر میں طے کیے گئے ’’مائل سٹونز‘‘ اس کی کامیابی کی دلیل لیے کھڑے ہیں جن سے آگے منزل اس کے استقبال کے لیے موجود ہے۔میںرابعہ کو مبارک باد پیش کروں گا جس نے انتہائی خوب صورت کہایناں قاری کے حوالے کیں اور سوچ کے متنوع زاویے متعارف کرائے۔ آخر میں اپنی خود ساختہ روایت کا پالن کرتے ہوئے ’’رات کی رانی‘‘ کی کہانیوں کا اعادہ کرتے ہوئے بس اتنا کہوں گا کہ کہ رابعہ ایک ایسی ’’تخلیق کار‘‘ ہے جو ’’بلاعنوان‘‘ جنم لینے والی ساری کہانیاں یوںکہہ جاتی ہے کہ ’’سماج‘‘کی زبان پر لگی ’’گرہیں‘‘ کھل جاتی ہیں۔ اس کا ادب سے تعلق ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے تحت نہیں تخلیقی ’’تشنگی‘‘ کے زیرِ اثر ہے۔ یہ ایک ایسا گوہر ہے جس کی ’’تلاش‘‘ کے لیے ’’فال‘‘ نکالے جاتے ہیں اور جن کی ’’وقت کرتا ہے پرورش برسو‘‘۔
رابعہ نے تخلیقیت کا خوب صورت ’’دوپٹہ‘‘ اوڑھ رکھا ہے لیکن اس کی ملاقات کئی ایک ’’چاچا قیدو‘‘ سے ہو چکی ہے۔ اس کی زبان پر ’’وصل مہر بر لب‘‘ ہے جو اپنی کہانیوں میں ایک ایسا گلشن آباد کرتی ہے کہ ’’جنت الفردوس‘‘ کا گماں ہونے لگتا ہے۔ اس نے حوادثِ زمانہ کے مقابل ’’چپ کا پہاڑ‘‘ بیٹھا رکھا ہے لیکن تحریر میں ’’ایک قیامت ذرا سی‘‘ اٹھا رکھی ہے۔ اگرچہ ’’رات کی رانی‘‘ کی یہ پہلی اڑان ہے لیکن ’’آخری فلائٹ‘‘ تلک کئی بلندیاں طے کر جائے گی۔رابعہ ، ہماری دعا ہے کہ ’’تیرے خواب‘‘ اور تیری کہانیاں ’’ثمار‘‘، ’’واہ ری ماں‘‘، ’’ذرا پاس آجائیے‘‘ کو ادبی دنیا میں ’’وہ‘‘ مقام ملے کہ ان پر ’’راج مُہر‘‘ کا ٹھپہ لگ جائے اور اک ’’طلسمِ حیرت‘‘ طاری ہو جائے۔ نیک دعائیں ہمیشہ تمہار ے ساتھ رہیں گی ۔(آمین )
(بصیرت فیچرس)
…………………………

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker