مضامین ومقالاتنوائے بصیرت

اتحاد کی ایک قابل مبارک باد کوشش

شکیل رشید (فیچرایڈیٹر روزنامہ اردوٹائمز، ممبئی)
ممبئی میں ایک تحریک چلائی گئی تھی…!
ایک ایسی تحریک جو مسلمانوں کو اتحاد واتفاق کا پیغام دے رہی تھی۔ ملی اتحاد کا پیغام۔ ہر طرح کے تعصب کو تج کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کا پیغام۔ ایک اللہ، ایک رسولؐ، ایک قرآن اور ایک کلمہ پر ایمان رکھنے والے تمام مسلمانوں کے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے کا اعلان۔یہ پیغام کہ ہر مسلک کے مسلمان، چاہے وہ شیعہ ہوں کہ سنّی عیدالاضحیٰ کی نماز ایک ساتھ پڑھیں۔ ایک ہی صف میں سب کے سب کھڑے ہوجائیں اور ساری دنیا کو یہ بتادیں کہ مسلمان، ایک ہیں۔ مسلکوں میں بٹ کر بھی وہ منتشر نہیں ہیں، متحد ہیں۔
ممبئی کی یہ تحریک بھلے ہی اس طرح کا کامیاب نہ رہی ہو جیسے کہ لکھنو میں ایسی ہی تحریک کا میاب رہی ہے۔ مگر اسے ناکام نہیں کہا جاسکتا۔ لکھنو میں عرصہ سے شیعہ اور سنی اور دوسرے مسلکوں کے مسلمان مل کر عیدالفطر اور عیدالاضحی کی نمازیں ادا کرتے چلے آئے ہیں۔ ایک ساتھ مل کر نمازوں کی ادائیگی کے اچھے اثرات لکھنو کے مسلمانوں پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر بھی ، جب شیعہ اور سنیوں میں ’اشتعال‘ نظر آتا ہے، عیدالفطر اور عیدالاضحی کی ایک ساتھ ادا کی گئی نمازیں انہیں ایک دوسرے کے خلاف تشدد سے باز رکھ دیتی ہیں۔ وہ ،جنہوں نے مل کر ایک ساتھ نمازیں پڑھی ہیں یہ سوچ کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں کہ کیسے ان کے خلاف جائیں، نماز کی صف میں جن کے ساتھ کھڑے اللہ رب العزت کی عبادت کررہے تھے۔
اس تحریک نے ممبئی کے مسلمانوں میں کچھ ہلچل ضرور مچائی ہے۔ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ انہیں نشانہ تو ’مسلمان‘ کی حیثیت سے بنایاجاتا ہے نہ کہ سنّی یا شیعہ ہونے کی حیثیت سے، پھر کیوں نہ ایک مسلمان کی حیثیت سے وہ عبادتوں میں مل جل کر شریک ہوں۔؟ کیوں نہ وہ متحد ہوکر اپنے مسائل حل کریں؟ کیوں نہ سنّیوں کے مسائل کو اپنے مسائل یا شیعوں کے مسائل کو اپنے مسائل سمجھیں؟ اتحاد ہی زندگی ہے۔ یادرکھیں ابھی ابھی میدان عرفات سے یہ پیغام آیا ہے کہ تمام مسلمان متحد ہوجائیں۔ خطبۂ حج میں یہی پیغام تھا کہ دنیا کے تمام مسلمان اپنے اپنے دلوں سے مسلکی تعصب کو نکالیں اور بنام مسلمان ایک پلیٹ فارم پر آجائیں۔ آج ایک دنیا مسلمانوں کی دشمن بنی ہوئی ہے۔ اگر ہم ہندوستان سے باہر دیکھیں تو کون ’دوست‘ ہے سمجھ میں نہیں آتا۔ سب ہی ’باطل‘ کے ساتھی بنے نظر آتے ہیں۔ ساری دنیا میں شام سے لے کر بغداد، یمن تک مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے۔ مسلمان اور اسلام دشمن طاقتیں مسلمانوں کو بنام مسلم مار بھی رہی ہیں اور ایک دوسرے سے لڑوا بھی رہی ہیں۔ ادھر ہندوستان میں ہم پر ’یرقانی خطرہ‘ پوری طرح سے منڈلانے لگا ہے۔ شریعت خطرے میں ہے۔ دین وایمان خطرے میں ہے۔ مسلمانوں پر طرح طرح کی پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔ مدرسوں کے بچوں کو ’طالب علموں‘کے زمرے سے نکال کر ان پر ترقی کے راستے بند کیے جارہے ہیں۔ دہشت گردی کے بہانے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو جیلوں میں ڈالا جارہا ہے۔ بیف پر پابندی لگا کر مسلمانوں کی معیشت کو تباہ کیاجارہا ہے۔ طرح طرح سے مسلمانوں کے دلوں سے اس دولت کو چھیننے کے حربے آزمائے جارہے ہیں جسے ’ایمان‘ کہاجاتا ہے۔ یہ جو باہر اور اندر کے دشمن ہیں ان سے مقابلہ متحد ہوکر ہی ممکن ہے۔ اور متحد ہونے کا سب سے بہتر راستہ یہی ہے کہ تمام مسلمان بنام مسلمان ایک ہوجائیں۔ اپنے اپنے مسلکوں پر قائم رہیں لیکن ساری دنیا کو یہ بتادیں کہ اپنی عبادتوں میں بھی اور اپنے مسائل میں بھی مسلمان ایک ہیں، متحد ہیں اور ایک دوسرے کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں۔
مبارک باد کے مستحق ہیں وہ افراد جنہوں نے عیدالاضحی کی نماز کے ذریعے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی، متحداور مضبوط کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ اللہ اس کوشش کو کامیاب کرے اور صرف ہندوستان میں ہی نہیں ساری دنیا میں مسلمان متحد ہوجائیں۔ باطل سے مقابلہ کرنے کا بس ’اتحاد‘ ہی واحد ذریعہ ہے۔
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker