مضامین ومقالاتنوائے بصیرت

بہار الیکشن : تو ہوسکتا ہے بی جے پی کے زوال کا آغاز ۔۔۔

*شکیل رشید(فیچرایڈیٹر روزنامہ اردوٹائمز، ممبئی) 
بہار کا اسمبلی الیکشن رنگ دکھانے لگا ہے ۔۔۔
نت نئے انکشافات منظر عام پر آرہے ہیں ۔۔۔ جیسے کہ لالو پرساد یادو کا یہ انکشاف کہ ملائم سنگھ یادو بھلے ہی ’عظیم اتحاد‘ کے خلاف کھڑے ہوں وہ ہیں سیکولر، یا جیسے یہ انکشاف کہ اویسی بھلے ہی کم تعداد میں امیدواروں کو میدان میں اتاریں مگر وہ درپردہ ہیں بھاجپائی ۔۔ اب ان انکشافات میں بھلے ہی دم نہ ہو، مگر انہیں پروپگنڈہ کے طور پر اس طرح سے استعمال کیا جارہا ہے کہ سیکولر اتحاد کو نقصان پہنچانے والے ملائم تو سیکولر نظر آرہے ہیں مگر وہ اویسی غیر سیکولر نظر آرہے ہیں جو ملائم سنگھ کے مقابلے کم تعداد میں امیدوار میدان میں اتار رہے ہیں ۔ ایک انکشاف مزید سامنے آیا ہے : نیتا جی سبھاش چندر بوس کی زندگی سے متعلق انکشاف۔
بہا رکے الیکشن کا یہ کھیل صرف ٹکٹ کے بٹوارے یا مختلف پارٹیوں میں اختلافات اور صف بندیوں تک ہی محدود نہیں رہ گیا ہے بلکہ سیکولر پارٹیوں کو بے اثر یا مکمل طور پر بے وجود کرنے کے لئے طرح طرح کے حربے بھی استعمال کئے جارہے ہیں ۔ ابتداء میں یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس بار بی جے پی اور رام ولاس پاسوان کی جوڑی بازی مار لے گی اور یہ دونوں مل کر وزیراعلیٰ نتیش کمار کو ناکوں چنے چبوادیں گے ۔ لیکن نتیش کمار اور لالو پرساد یادو سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں ، وہ بھلا کیسے آسانی سے چت ہوجاتے ، انہوں نے بھی صف بندی کی اور کانگریس کو ساتھ لے کر ایک مضبوط سیکولر محاذ کا پیغام عوام تک پہنچایا۔ لیکن بھلا ہو بی جے پی اور آر ایس ایس کے ’ تھنک ٹینکروں‘ کا کہ انہوں نے اس عظیم اتحاد کے سامنے ایک نئے سیکولر محاذ کی داغ بیل ڈال دی ۔ اس محاذ کا سہرا ملائم سنگھ یادو اور شردپوار کے سربندھتا ہے ۔ دونوں نے ایک ایسے نئے محاذ کا اعلان کیا ہے جسے ’سیکولر‘ کہا گیا ہے ۔ لالوپرساد یادو ، نتیش کمار اور کانگریس کے محاذ کے سامنے اس طرح بی جے پی نے ایک چیلنج کھڑا کردیا ہے ۔ اس نئے محاذ کے میدان میں اترنے سے جہاں یہ خطرہ کہ ’سیکولر ووٹ بٹ جائیں گے ‘شدید ہوگیا ہے وہیں نتیش کمار کو وزیراعلیٰ کی حیثیت سے بہار کی کرسی پر بٹھانے کے منصوبے کو بھی ’ خطرہ‘ لاحق ہوگیا ہے ۔
کل ہند مجلس اتحاد المسلمین بھی میدان میں اترنے کی تیاری میں ہے ۔ ابتداء میں لگ رہا تھا کہ حیدر آباد کی یہ سیاسی پارٹی بڑی تعداد میں مسلم اکثریتی علاقوں میں امیدوار اتارے گی لیکن غالباً بعد میں بہت سوچ سمجھ کر اور بہار کی صورتحال پر غوروخوض کرکے ایم آئی ایم نے اپنے امیدواروں کی تعداد گھٹانے کا فیصلہ کیا۔ خبر ہے کہ وہ صرف 24 امیدوار کھڑے کرے گی۔اس فیصلے کی اہم وجہ شایدیہ ہے کہ تمام بی جے پی مخالف سیاسی پارٹیوں نے یہ ہلّہ مچادیا تھا کہ ایم آئی ایم مسلم ووٹوں کو باٹنے اور سیکولر اتحاد کو نقصان پہنچانے کے لئے میدان میں اتری ہے ۔ اسدالدین اویسی اپنے پتّے بہت سوچ سمجھ کر کھول رہے ہیں ۔ انہیں یہ احساس ہے کہ بہار میں ان کی سیاسی پارٹی کو وہ کامیابی شاید نہیں مل سکے گی جس کا عام طور پر اندازہ کیا جارہا تھا۔ بہار میں ان کے الیکشن لڑنے یا نہ لڑنے پر بحث بھی شروع ہوگئی تھی۔ بہاری مسلمان اس بات پر تو متفق تھے کہ ایم آئی ایم کے مقررین اتنی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اپنی تقریروں سے مسلم معاشرے کو جھنجھوڑکر رکھ دیں ، لیکن اکثر کو یہ لگ رہا تھا اور اب بھی لگ رہا ہے کہ اویسی کو بہا رکے الیکشن میں حصہ نہیں لینا چاہئےتھا۔ بہار کے مسلمان علاقائی مفادات کو مدنظر رکھتے ہیں ۔ وہ علاقائی سیاست کو بیرونی سیاست پر یا باالفاظ دیگر علاقائی سیاست دانوں کو باہر کے سیاست دانوں پر فوقیت دیتے ہیں ۔ شاید یہ وہ عنصر ہے جو اویسی کے حق میں نہ جائے ۔ لیکن اویسی کو اتنی آسانی سے نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ وہ بہرحال سیمانچل کی 24 سیٹوں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اور 24 سیٹوں کے اثرات بہار کی پوری سیاست پر مرتب ہوسکتے ہیں ۔ بی جے پی بھی یہ سمجھتی ہے ۔ اسے یہ اندازہ ہے کہ اگر اویسی کی پارٹی نے کچھ سیٹیں جیتیں تو فائدہ سیکولر محاذ کو ہی پہنچے گا ۔ یہی وہ سوچ ہےجو بی جے پی کو نئے منصوبوں اور نئے راستوں کی تلاش کی طرف لے گئی ۔ بی جے پی کی خواہش ہے کہ وہ بہار کے چناؤ میں اپنا سکّہ ثابت کرکے پورے دیش کو یہ بتادے کہ اس سے ٹکرانے کی کسی بھی سیاسی جماعت میں صلاحیت نہیں ہے ۔ اس حقیقت سے انکا رنہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس وقت آر ایس ایس اور بی جے پی کے پاس سیاسی حکمت عملی تیار کرنے والی جو ٹیم ہے اس کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہ کانگریس ہے نہ کوئی اور سیکولر سیاسی پارٹی ۔ مثال نیتاجی سبھاش چندر بوس کے معاملے کی لے لیں ۔ یہ ایک زبردست سیاسی دھماکہ ہے جو بی جے پی نے گذشتہ کچھ دنوں سے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ بہن ممتابنرجی کا سہارا لے کر کیا ہے ۔ گذشتہ 60 برسوں سے سبھاش چندر بوس کے وہ دستاویزات جو سرکاری دفتروں میں دھول چاٹ رہے تھے انہیں جھاڑ پونچھ کر منظر عام پر لایا گیا ہے ۔ اس موقع پر سبھاش چندر بوس کے دستاویزات کو منظر عام پر لانے کی وجہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوسکتی کہ سیکولر رائے دہندگان تک یہ پیغام پہنچایا جائے کہ کانگریس نے اس ملک کو سخت نقصان پہنچایا ہے اور ملک کی آزادی کے لئے سب سے آگے بڑھ کر قربانیاں دینے والے سبھاش چندر بوس کو پیچھے ڈھکیلنے یا منظر سے غائب کرنے میں کانگریس کا ہی سب سے بڑا ہاتھ ہے ۔ یہ دستاویزات عوام میں یہ پیغام پہنچانے کے لئے کافی ہیںکہ ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کو اس بات کی جلدی تھی کہ انگریز ہر قیمت پر ہندوستان چھوڑ دیں اور اقتدار کی باگ ڈور ان کے ہاتھوں میں آجائے ۔ دوسری جنگ عظیم میں انگلینڈ کی ہزیمت کے بعد یہ واضح ہوچکا تھا کہ اب انگریز ان تمام ملکوںسے علیحدہ ہوجائیں گے جہاں جہاں ان کی حکومتیں قائم ہیں ۔ دوسری جنگ عظیم نے برطانیہ کو ہر اعتبار سے کمزور کردیا تھا ۔ معاشی اور فوجی طور پر بھی انگریز اس قابل نہیں رہ گئے تھے کہ دوسرے ملکوں پر اپنے راج کو برقرار رکھ سکیں ۔ وہ خود ان سارے ملکوں سے اپنا ہاتھ ہٹانے اور اپنے ملک کو خوشحال بنانے کا منصوبہ تیار کرچکے تھے ۔ وہ ہر قیمت پر جنگ عظیم کے نقصانات کی بھرپائی کرنا چاہتے تھے ۔ اس پس منظر میں یہ بات باآسانی سمجھ میں آتی ہے کہ ہندوستان کی قیادت اگر سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتی تو ملک کے دو ٹکڑے نہ ہوپاتے۔ ایک طرف پنڈت جواہر لعل نہرو کو ملک کا انتظام اپنے ہاتھوں میں لینے کی جلد بازی تھی تو دوسری طرف مسلم کارڈ کھیل کر محمد علی جناح بھی اس با ت کے دعویدار تھے کہ اس ملک کا پہلا وزیراعظم انہیں ہی بننا چاہیئے۔ وہ سمجھتے تھے کہ انگریزوں نے چونکہ مسلمانوں سے ہی اقتدار چھینا تھا اس لئے اقتدار مسلمانوں کو ہی واپس ملنا چاہیئے تھا۔
انگریزہر حالت میں اقتدار چھوڑنے پر آمادہ تھے لیکن انہیں اندازہ تھا کہ اگر سبھاش چندر بوس کو گرفت میں نہیں لیا گیا تو وہ انگریزوں کو چین کی سانس نہیں لینے دیں گے ۔ بوس کو وہ ہر قیمت پر پھانسی پر لٹکانے کے خواہش مند تھے ۔ ان پر بغاوت کا مقدمہ تھا۔ بوس کو جاپان کی پوری حمایت حاصل تھی اس لئے اس دور میں وہ ایک مضبوط لیڈر کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے تھے ۔ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی نے جو دستاویزات عوام کے سامنے رکھے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ پنڈت جواہر لعل نہرو اور کانگریس کو سبھاش چندر بوس کی ’ موجودگی‘ کا پورا علم تھا اور ان کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھی جارہی تھی اور اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ نیتاجی ہندوستان کی سرزمین پر قدم رکھ کر سیاسی کھیل نہ بگاڑ دیں۔
سیاسی پنڈتوں کے مطابق بہار الیکشن کے اس موقع پر ان دستاویزات کو بی جے پی کے اشارے پر طشت ازبام کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کانگریس نے ابتدائی دور میں ملک سے وفاداری کا مظاہرہ نہیں کیا اسے بس اقتدار عزیز تھا۔ بہار میں چونکہ انتخابی ضابطہ اخلاق لگایا جاچکا ہے اس لئے بی جے پی کی یہ ہمت نہیں کہ وہ اس موضوع پر خود کوئی بیان دے اور خود سےاِن معاملات کو سامنے لائے ۔ مگر بڑے ہی منصوبہ بند انداز میں اس نے یہ سب باتیں عوام کے سامنے پیش کردی ہیں ۔۔۔ بہار اسمبلی پر ’ یرقانی‘ جھنڈا لہرانے کے لئے بی جے پی اور سنگھ پریوار ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہے ۔ تین ’سیکولر‘ محاذوں کی تشکیل اس بات کا اشارہ کرتی ہے کہ بی جے پی اور رام ولاس پاسوان اکثریتی ووٹوں کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ۔ اقلیتوں بالخصوص مسلم اقلیت کے خلاف ایک طرح سے محاذ بنایا جاچکا ہے ۔ آر ایس ایس نے گھر گھر پہنچ کر اپنی مہم شروع کردی ہے۔ اس کے گرگے اپنی چالوں میں پوری طرح کامیاب بھی نظر آتے ہیں ۔ نتیش کمار ، لالو پرساد اور کانگریس کے ووٹوں پر سیندھ لگتی نظر آرہی ہے ۔ لیکن بی جے پی کے لئے بہاربہرحال تر نوالہ نہیں ہے ۔ نتیش ،لالو، اور کانگریس کے متحدہ محاذ کو چت کرنا اتنا آسان بھی نہیں ہے ۔ بی جے پی میں بھی اور این ڈی اے میں بھی پھوٹ پڑی ہے ۔ شیوسینا بھی بی جے پی کے سامنے میدان میں اترگئی ہے ۔ متحدہ محاذ کوشش کررہا ہے کہ بی جے پی اور اس کی حلیف پارٹیوں کے سامنے ایسے امیدواروں کو کھڑا کیا جائے جو ’ ہندوتوا‘ کے نام پر ووٹ کاٹ سکیں ۔۔۔ لہٰذا فی الحال یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ بہار میں جیت کس کی ہوگی اور وزیرعلیٰ کس پارٹی کا ہوگا ۔ مگر سبھاش چندر بوس کے تعلق سے دستاویزات کا سامنے آنا اور سیکولر محاذ میں پھوٹ پڑجانا ،سیکولرزم کی بقا کے لئے کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔ یہ بی جے پی کی پھر سے کامیابی کا سبب بن سکتی ہے اور ویسے ہی حالات پیش آسکتے ہیں جیسے حالات مدھیہ پردیش میں پنچائتی الیکشنوں کے دوران پیش آئے تھے کہ سیکولر ووٹ بری طرح سے بٹ گئے تھے اور بی جے پی نے آسانی سے بازی مارلی تھی۔ اگر بہار میں ایسا ہوا تو تعجب نہیں ہوگا ۔ کاش سیکولر طاقتیں پیسے کے بل بوتے یا دوسروں کے اشاروں پر کام کرنے کی بجائے دانش مندی کا مظاہرہ کریں ۔ کاش تمام اقلیتیں بالخصوص مسلم اقلیت دانشمندی کا مظاہرہ کرے ۔۔۔ کاش اس بار کے الیکشن میں یہ سب مل کر اپنے اپنے مفادات کی نہیں ملک کے مفادات کی سوچیں، سیکولرزم کی بقا کی سوچیں اور فرقہ پرستی کے فنا کی سوچیں ۔۔۔ اگر ایسا ہوتا ہے اور واقعی تمام ہی غیر بھاجپائی سیاسی جماعتیں متحد ہوجاتی ہیں تو بہار کے اس اسمبلی الیکشن سے ایک نئی تاریخ مرتب ہوسکتی ہے اور بی جے پی کے زوال کاآغاز ہوسکتا ہے۔
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker