Baseerat Online News Portal

کیاسیکولرزم کے تحفظ کی ذمہ داری صرف مسلمانوں کی ہے

محمد شارب ضیاء رحمانی
(فیچرایڈیٹر بصیرت میڈیا گروپ )
سیکولرزم اس ملک کی ضرورت ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری صرف مسلمانوں کے ہی سر نہیں ہے ساٹھ برسوں سے مسلمان اس ذمہ داری کابوجھ ڈھوتے ڈھوتے لاغر ہوچکے ہیں سیکولرزم کی حفاظت ضروری ہے تونام نہاد سیکولرپارٹیوں کواپنارویہ بدلناہوگا بہارالیکشن کے تناظر میں اب تک لالویادوکاجورویہ ہے وہ باہرکے سانپ سے مختلف نہیں ہے مجلس کی بہارآمد نے ان کے ہوش ٹھکانے لگادیئے ہیں جب کہ وہ ملائم کے تھرڈ فرنٹ کی طرح پورے بہارمیں الیکشن نہیں لڑرہی ہے پھربھی لالوکی نگاہ میں ملائم سیکولرزم کے علمبردارہیں اوراویسی فرقہ پرست چونکہ اب لالوجی کومسلمانوں کواستعمال کرنے کاموقع ہاتھ سے نکلتاجارہاہے بہتر تویہ ہوتاکہ سیکولرمحاذسیمانچل کی کم ازکم دس سیٹیں مجلس کودے دیتا اورباقی پوری ریاست میں مسلمان اورمجلس ان کاسپورٹ کرتی- اورایساہی سیکولرزم عزیزتھا مصلحت اہم تھی تو سیمانچل کی تیرہ سیٹیں بی جے پی کے پاس کیوں چلی گئیں اس وقت مصلحت پسندی کہاں چلی گئی تھی- مہاراشٹر میں بی جے پی کی کامیابی کی ذمہ دار کانگریس اوراین سی پی ہے جنہوں نے عین الیکشن سے قبل اتحاد توڑدیا جس طرح جھارکھنڈ میں کانگریس اورجھارکھنڈ مکتی مورچہ جموں کشمیر اورہریانہ میں سیکولرزم کو کانگریس کیوں نہیں بچاپائی سیکولرزم کے ٹھیکیداروں کو خوداحتسابی سے زیادہ دوسروں کی فکرہے اوراس سے زیادہ اس کی کہ کہیں روایتی غلام مسلمان اس کے دام فریب کوسمجھ بہ جائے- لالویادوابھی بھی ملائم کوسیکولرزم کاعلمبرداربتارہے ہیں اورکہہاورکہہ رہے ہیں کہ جس طرح ہم بی جے پی کے مقابل ہیں ملائم بھی اسی سے مقابلہ کررہے ہیں لیکن اویسی فرقہ پرست یہ دونظر صرف اسی لیئے تویے کہ ملائم مسلمان نہیں ہیں کیایہ مذہب کی سیاست نہیں ہے- اسی فیصد ہندومتحد ہوگئے ہیں میں بہارمیں ہوں اورمختلف مقامات کاجائزہ لیاہے ہرہندویہی کہتاہے کام تو نتیش نے کرایاہے لالو یانتیش میری کمیونیٹی کے ہیں لیکن ووٹ بی جے پی کودیناہے نالندہ جو نتیش کاگھرہے جدیواچھی پوزیشن میں رہی ہے میرے یہاں سے قریب ہے لیکن یہاں بھی یہی صورتحال ہے اگرآپ کو معلوم نییں تو معلوم کرلءناچاہیئے کہ آرایس ایس کس طرح گائوں اوردیہاتوں میں ہندوئوں کومتحد کرنے کے لیئے سرگرم ہے حقائق سے چشم پوشی کرکے سیدھاانکارخلاف مصلحت بھی ہے پوراناگپور بہارآیایواہے تواب انتظارکیجئے اور فرقہ پرستی کے فروغ کا جب وہ وقت ہی نییں آسکے گا جس مباسب وقت کاآپ خواب دیکھ رہے ہیں- سیمانچل میں مجلس کی تھوڑی کامیابی بھی یوپی میں ملائم کی پالیسی پراثراندازہوگی وہ مسلمانوں کے تئیں موجودہ روش سے بازآئیں گے ممکن ہے کہ انتخابی وعدے بھی پورے کرنے پڑیں کیونکہ پیغام یہ جائے گاکہ یوپی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلمان اویسی کے ساتھ جاسکتے ہیں اس لیئے ملائم اینڈکمپنی کو کچھ سوچنے اور مایاوتی کواتحادپر مجبورہوناپڑے گا-
(بصیرت فیچرس)

You might also like