Baseerat Online News Portal

صدر ایردوان کی توہین کرنے پر سابق مِس ترکی کو 14 ماہ قید

عدالتی فیصلے کے خلاف یورپی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے،وکیل ترک حسینہ کی گفتگو
انقرہ۔یکم جون(یواین این )ترکی کی عدالت نے صدر رجب طیب ایردوان کی توہین کرنے پر سابق ’مِس ترکی‘ کو 14 ماہ قید کی سزا سنادی۔میڈیارپورٹس کے مطابق سابق ترک حسینا مروے بیوک سارچ نے سوشل میڈیا پر صدر کے خلاف نازیبا پوسٹ شیئر کے تھے، جس پر انہیں سزا سنائی گئی تاہم عدالت نے اس شرط پر ان کی سزا معطل کردی کہ وہ اگلے 5 سال تک کوئی جرم نہیں کریں گی۔27 سالہ مروے بیوک سارچ کو سزا سنائے جانے کے بعد ان تحفظات کو مزید تقویت ملی ہے کہ ترکی میں آمرانہ طرز حکومت کا رواج قائم کیا جارہا ہے۔ترک حسینہ کے وکیل کا کہنا تھاکہ وہ عدالتی فیصلے کے خلاف یورپی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔2006 میں مس ترکی کا اعزاز حاصل کرنے والی مروے بیوک سارچ کو گزشتہ سال بھی سوشل میڈیا پر طنزیہ نظم شیئر کرنے پر مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔پراسیکیوٹرز نے اس نظم کو اس وقت کے ترک وزیر اعظم رجب طیب اردگان کی بے عزتی گردانتے ہوئے مروے بیوک سارچ کو حراست میں لیا، تاہم انہوں نے اس الزام سے انکار کردیا تھا۔رجب طیب ایردوآن کے 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد، صدر کی تضحیک کے قانون کے تحت تقریباً 2 ہزار افراد کو سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔آزادی اظہار کی وکالت کرنے والوں کا کہناتھا کہ ناقدین کے منہ بند کرنے کے لیے اس قانون کو جارحانہ طور پر استعمال کیا جارہا ہے اور اس قانون کے تحت سزا پانے والوں میں اسکول کے بچے اور صحافی بھی شامل ہیں۔

You might also like