ہندوستان

کے سی تیاگی کابیان اقتدارکی رعونت اورنام نہادسیکولرپارٹیوں کی استحصالی سیاست کامظہر

سیکولر شبیہ پرسوالیہ نشان مسلمانوں کے اعتمادکوٹھیس پہونچی
معروف خطیب مولاناابوطالب رحمانی نے وزیراعلیٰ سے جلدکارروائی اوروضاحت کامطالبہ کیا
کولکاتہ6جون : (بی این ایس )امیرشریعت مولانا محمد ولی رحمانی کے خلاف کے سی تیاگی کابیان ان کی عدم معلومات اورکامیابی کی رعونت کامظہرہے۔ساتھ ہی جناب وزیراعلیٰ کی خاموشی بھی معنیٰ خیزہے۔ان سب سیاسی سورماؤں کومسلمانوں کی بے وزنی کااندازہ ہے اوروہ جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ کچھ بھی کرو،ایک دعوتِ افطارپربے غیرتی کے ساتھ جٹ کراپنے سارے زخموں کویہ قوم بھول جاتی ہے۔حالانکہ مسلمان ایک پلیٹ افطارکابھوکانہیں بلکہ اپنے جائزحقوق پانے کی آوازاٹھارہاہے۔مسلمانوں کوبے وزن کرنے کی جوسازشیں ملک بھرمیں چل رہی ہیں،مجھے لگتاہے کہ تیاگی صاحب بھی جانے انجانے میں اس کاحصہ بن گئے ہیں۔اب مسلمان بھی بیدارہورہے ہیں،انہیں مزیداس طرح فریب نہیں دیاجاسکتا۔ان خیالات کااظہار مسلمانوں کی حق تلفی پرامیرشریعت مولانامحمدولی رحمانی کے آئینہ دکھانے کے بعدجدیولیڈرکے سی تیاگی کے ذریعہ مسلمانوں کوبے وقعت کرنے والے بیان پرمعروف خطیب مولاناابوطالب رحمانی کلکتہ صدرانڈین علماء کونسل نے کیا۔واضح ہوکہ اس سے قبل راجیہ سبھاالیکشن میں تمام نام نہادسیکولرپارٹیوں نے مسلمانوں کوسخت مایوس کیااورایک بھی سیٹ نہیں دی،امیرشریعت نے اس پرسخت نوٹس لے کرتمام مسلمانوں کے احساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہاتھاکہ کم ازکم بہارمہاگٹھ بندھن سے ایسے فریب کی امیدنہیں تھی جسے مسلمانوں نے نوے فیصدووٹ دے کراقتدارتک پہونچایا،یہی گرفت کے سی تیاگی کوبڑی بری لگی۔حق بات توسخت لگتی ہی ہے۔ مولاناابوطالب رحمانی نے سوال اٹھایاکہ آپ سترسال سے مسلمانوں کوووٹ بینک بناکران کااستحصال کرتے رہیں لیکن جب وہ قوم آپ سے اپنے حقوق مانگے توپھراس قدرناراض ہوجانااس بات کی دلیل ہے کہ یہ سیکولرپارٹیاں مسلمانوں کے تئیں ہرگزمخلص نہیں ہیں۔کے سی تیاگی نے بعدمیں وضاحت توپیش کی لیکن گومگوکے ساتھ،ہمارامطالبہ ہے کہ بلاشرط تیاگی معافی مانگیں اورجدیوصدروزیراعلیٰ نتیش کماراس پرنوٹس لے کرخودوضاحت فرمائیں ورنہ مسلمانوں کے درمیان جدیوکی شبیہ بری طرح متاثرہوئی ہوئی ہے۔اس کااندازہ اب پارٹی کوبھی خودہونے لگاہے اوراس کے لیڈران پریشان ہیں۔مولاناابوطالب رحمانی نے مز یدیہ بھی کہاکہ تیاگی کابیان بہت سوچاسمجھاہے جس سے سازش کی بوآتی ہے اوروہ سازش یہ ہے کہ مسلمانوں کوعدم تحفظ کااحساس دلاکراپنی پارٹی کومسلمانوں کی ملجاوماویٰ ثابت کیاجائے نیزاس سے امارت شرعیہ اورامیرشریعت کے وقارپربھی انگلی اٹھائی گئی ہے یہ بھی واضح رہے کہ امار ت شرعیہ پران جیسے عناصرکی بری نگاہ بہت دنوں سے ہے۔2007میں حکومت کے ایک خاص نمائندے کے ذریعہ امارت کونقصان پہونچانے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔مولانانے یہ بھی کہاکہ کے سی تیاگی جوایک سیکولرپارٹی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ان کاحال یہ ہے کہ وہ امیرشریعت کے منصب اوران کی اپنی شخصیت جوکافی موثرہے ،سے قطعاََناواقف ہیں۔انہیں ان کی شخصیت اوراثرات کااندازہ نہیں ہے ۔اس لئے اب توبہرحال ان سیکولرپارٹیوں کوسرٹیفکیٹ کی ضرورت پڑے گی ہی۔ہمارامطالبہ ہے کہ وزیراعلیٰ جلدازجلدتیاگی کے خلاف سخت کارروائی کریں۔کیونکہ ان کایہ بیان خودان کی پارٹی کے لئے مضرثابت ہورہاہے۔تاکہ مسلمانوں نے جس اعتمادکے ساتھ انہیں اقتدارتک پہونچایاہے ،اسے مزیدٹھیس نہ پہونچے۔اس لئے کہ اب مسلمان بہت بیدارہوچکے ہیں اوراب بہت دنوں تک انہیں یہ جھانسہ نہیں دیاجاسکتاہے۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker