ہندوستان

مانجھی، رگھوونش، تسلیم الدین ساتھ آئیں ۔ مولانا ولی رحمانی متبادل محاذکی قیادت کریں

دلتوں اوراقلیتوں کے حقوق کیلئے پپو یادونے بہارمیں نئے محاذکی دعوت دی ،مہاگٹھ بندھن پرووٹ بینک کی سیاست کاالزام
نئی دہلی، ۷؍جون(بی این ایس) نتیش کمار، لالو پرساد سمیت مختلف رہنماؤں پر دلتوں، اقلیتوں کو ووٹ بینک کے طورپراستعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے جن ادھیکارمورچہ کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ پپو یادو نے کہاکہ جتن رام مانجھی، رگھوونش پرساد سنگھ، تسلیم الدین سمیت مختلف رہنما ایک پلیٹ فارم پر ساتھ آئیں اورمعروف قائداورخانقاہ رحمانی مونگیرکے سجادہ نشیں مولانا ولی رحمانی اس کی قیادت کریں۔راجیش رنجن عرف پپو یادو نے کہا کہ آج ملک خاص طورپرسیاست میں جمہوری اقدار میں انتہائی کمی آئی ہے اور یہ میں خاندان اور آمریت کے طور پر تبدیل ہو گیا ہے۔مختلف جماعتوں میں زمینی کارکنوں کو سخت نظر انداز کیاجارہاہے۔اس کی مثال راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو پرساد ہیں۔نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یو میں کارکنوں کا کوئی مقام نہیں ہے اور ایسے کسی شخص کو آگے نہیں بڑھا جاتا ہے جو مضبوط ہو اور ان کے سامنے اپنی بات کو رکھ سکے۔انہوں نے الزام لگایا کہ نتیش کماراورلالوپرساد کی پارٹی میں دلت اور اقلیتی طبقے کے رہنماؤں کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور اونچی ذات طبقے کے لیڈروں کوکانٹا سمجھا جاتا ہے۔اسی کی مثال ہے کہ آر جے ڈی اور جے ڈی یو نے راجیہ سبھا میں کسی اقلیتی شخص کو نہیں بھیجا۔آر جے ڈی سے معطل ممبر پارلیمنٹ نے کہاکہ ایسی حالت میں میرا خیال ہے کہ جتن رام مانجھی، رگھوونش پرساد سنگھ، تسلیم الدین سمیت مختلف رہنما ایک پلیٹ فارم پر ساتھ آئیں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی اس کی قیادت کریں۔انہوں نے کہا کہ ایسا اس لئے ضروری ہے کیونکہ ابھی تک مختلف رہنماؤں نے دلتوں اور اقلیتوں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا۔جن ا دھیکارمورچہ کے صدر نے کہا کہ جتن رام مانجھی، تسلیم الدین، رگھوونش پرساد سنگھ جیسے لوگوں کوساتھ آنا چاہئے۔کب تک بی جے پی کا خوف دکھا کر لالو، نتیش کے پیروکار بنے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی دلتوں اور اقلیتوں کو نظر انداز نہیں کرناچاہئے۔انہوں نے کہا کہ بہار کی ترقی دیکھنا ہیں تب ذات پات کوچھوڑناہوگا اور ایک ایسے مورچہ کی ضرورت ہو گی جو صحیح معنون میں دلتوں، اقلیتوں، کمزور طبقوں سمیت معاشرے کے تمام طبقوں کو ساتھ لے کر چل سکے۔دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال پر نشانہ لگاتے ہوئے پپو یادو نے کہا کہ مفت میں بجلی،پانی،وائی فائی کا وعدہ کرنے والے کیجریوال اقتدار میں آ گئے لیکن عوام پریشان ہیں۔عوام کی ضروریات کو پورا نہیں کیاجارہا ہے اور صرف اخبارات میں بڑے بڑے اشتہار سامنے آ رہے ہیں۔عوام سمجھتی ہے اور اب ان کے جھانسے میں نہیں آئے گی۔ایم سی ڈی ضمنی انتخابات اس کی مثال ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker