Baseerat Online News Portal

مذہب کے نام پرغنڈہ گردی

عبید اللہ ناصر
مذہب کے نام پر زمیں ہتھیانے کا کھیل ہندوستان میں نیا نہیں ہے کسی بھی زمین پر قبضہ کرنا ہو تو پہلے وہاں ایک چھوٹی سی مورتی رکھ کے پبلسٹی کرادی جاتی ہے کہ ’’بھگوان پر کٹ ‘‘ہوگئے پھر وہ مورتی بڑی ہونے لگتی ہے پھروہاں چھوٹا مندر اور آخر کار شاندار مندر بن کر تیار ہوجاتا ہے۔پورے ملک میں ایسی ناجائز طریقہ سے بنائی گئی عبادت گاہوں کی بھر مار ہے ایک اندازہ کے مطابق آزادی کے بعد ملک میں 95فیصدی مندر ناجائز طریق? سے سرکاری زمینوں پر قبضہ کرکے بنائے گئے 3فیصد مزارات اور 2فیصد مساجد اور دیگر مذہبوں کی عبادت گاہیں ناجائز زمینوں پر بنی ہیں۔سپریم کورٹ نے کئی برس پہلے ایسی ناجائز عبادت گاہوں کو منہدم کرنے کا حکم دیا تھا لیکن جب خود جج صاحبان اعلا پولس اور سول افسران صبح دفتر جانے سے قبل ان عبادت گاہوں پر جاکر سر جھکاتے ہوں تو ان کو منہدم کون کروائے گا یہ ایک بڑا سوال ہے۔کہا جاتا ہے کہ گجرات کے وزیر اعلا رہتے ہوئے نریندر مودی نے ایسی 200ناجائز مندروں کو گروادیا تھا اگر یہ سچ ہے تو یہ وہ صرف اس وجہ سے کر سکے کہ وہ ہندو ویرو سیسمراٹ بن چکے تھے باقی کسی بھی وزیر اعلا کے دم نہیں ہے کہ وہ اتنا بڑا قدم اٹھا سکے۔اسی لکھنو میں کمشنر کے دفتر کے سامنے بیحد چالو سڑک پر بنی ناجائز مند ر گروانے گئی پولس ٹیم کو ہائی کورٹ کے وکیلوں نے ہی مار کر بھگا دیاتھا ایسے واقعات اکثر و بیشتر رونما ہوتے رہتے ہیں۔
گذشتہ دنوں متھرا میں 300ایکڑ سرکاری زمین پر ناجائز قبضہ کرکے ایک بابا اور اس کے بھگتوں نے پولس پر جس طرح حملہ کر کے ایک نائب کپتان ایک داروغہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا اس واقعہ میں 24افراد ہلاک ہوگئے اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
متھراکے علاقیجواہر باغ میں غیر قانونی قبضہ ہٹانیکی کارروائی کے دوران پر تشدد جھڑپوں میں 24افراد ہلاک اور 10اہلکاروں سمیت 40زخمی ہوئے ہیں۔یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب جمعرات کی شام پولس نے باغ پر غیر قانونی طور پر دو سال سے قابض ایک مذہبی گروپ سے علاقہ وا گزار کروانے کی کوشش کی۔ہلاک ہونے والے پولس اہلکاروں میں ایس پی سٹی مکل د ویدی بھی شامل ہیں جو تشدد پر قابو پانے کی کوششوں کے دوران زخمی ہوگئے تھے اور زخموں کی تاب نہ لاکر ہسپتال میں چل بسے۔ریاست کے وزیر اعلا اکھلیش یادو نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔پی ٹی آئی کے مطابق جب پولس پارک خالی کروانے پہنچی تو آزاد بھارت ودھک ویچارک کرانتی ستیا گڑھی نامی تنظیم کے رضاکاروں نے مبینہ طور پر پولس پر پتھرائو کیا اور پھر گولی چلا دی۔اتر پردیش پولس کے ایک اعلا افسر دلجیت چودھری نے بتایا کہ تین ہزار کے قریب افراد باغ خالی کروانے کے لئے جانے والے پولس اہلکار وں کو روکنے کے لیے جمع تھے۔ان کا کہنا ہے کہ پولس پر جب ان افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی تو اہلکاروں نے جواب میں گولی چلائی۔دلجیت چودھری کا یہ بھی کہنا تھا کہ کچھ افرادپولس کی فائرنگ سے مارے گئے جبکہ 11افراد کی ہلاکت کی وجہ گیس سلنڈر وں سے لگنے والی آگ تھی۔انھوں نے بتایا کہ جواہر باغ میں تجاوزات قائم کرنے والے گروپ کے مبینہ رہنما رام ورکش یادو مفرور ہیں جبکہ پولس نے جائے وقوعہ سے 300سے زیادہ افراد کو گرفتار کر کے اسلحہ بر آمد کر لیا ہے۔ریاستی حکومت نے اس تصادم کی تحقیقات کی ذمہ داری آگرہ ڈویڑن کے کمشنر پردیپ بھٹنا گر کو سونپی ہے۔مشرقی اتر پردیش سے آنے والے مظاہرین ایک عرصے سے جواہر باغ میں دھرنے پر بیٹھے تھے۔یہ لوگ خودکو بھارت میں آزادی کے معروف رہنما سبھاش چندر بوس کا پیروکا ر بتاتے ہیں۔ان لوگوں کے مطالبے عجیب وغریب ہیں ،جیسے ایک روپے میں 40لیٹر پٹرول ملے یا پھر ہندوستان کا روپیہ 50ممالک میں چلے۔ان لوگوں کوجواہر باغ سے ہٹانے کا معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ میں تھا جہاں سے انہیں ہٹانے کے لئے ہدایت جاری کی گئی تھی جس پر عمل درآمد کے دوران یہ واقعہ پیش آیا۔
یہ تو ہوامتھرا میں ناجائز طور سے زمین پر قبضہ کئے ہوئے مذہب کے نام پر ٹھگوں کے ایک ہجوم اور پولس سے مڈبھیڑ کا معاملہ لیکن ملک میں اس وقت مذہب کے نام پر فسطائیت کو جو طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے وہ ملک کو خانہ جنگی کی جانب لے جارہا ہے۔گو کشی روکنے کے نام پر پورے ملک میں گنڈہ گردی کابازار گرم ہے گورکشا دل نام کی ایک غیر قانونی مسلح تنظیم جانوروں کی تجارت کرنے والوں کے لئے ایک مصیبت بنی ہوئی ہے یہ لوگ پولس کی مدد کرنے کے نام پرخود قانون اپنے ہاتھ میں لے کر تشدد اور لاقانونیت کا بازار گر م کئے ہیں دادری میں اخلاق نامی شخص کو محض اس لئے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا کہ اس کے گھر میں مبینہ طور سے گائے کا گوشت بر آمد ہوا تھا جھار کھنڈ کے لاتیہارر علاقہ میں دو مسلم نو جوانوں کو مار کر ان کی لاش پیڑ پر لٹکا دی گئی کیو نکہ یہ لوگ جانوروں کی خرید و فرخت کا کاروبارکرتے تھے ابھی چند دن قبل راجستھان میں اسی تنظیم کے گنڈوںنے ایک مسلم کاروباری کو ننگا کرکے مار مار کے ادھ مرا کردیا اور اس کے ننگے جسم پر اپنیپیر رکھ کے فوٹو کھنچوا کے سوشل سائٹ پر ڈال دیا گیا ایسی حرکتیں کرتے ہوئے شاید درندہ بھی شرماجائے مگر ان ظالموں کوشرم و غیرت سے کیا کام۔
پنچاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے گذشتہ مہینہ اس تنظیم کو غیرقانونی قراردیتے ہوئے ریاست کے ڈی جی پی اور چیف سکریٹری کو ان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا لیکن سیا بھئے کو توال تو ڈر کا ہے کا کی مصداق ان عناصر کی ایسی غیر قانونی اور بہمانہ حرکت کے خلاف حکومتیں کارروائی سے گریز کررہی ہیں جس سے ان کے حوصلے بلندہوئیجارہے ہیں۔ملک میںگائے سمیت تمام جانوروں کی خرید و فروخت اور ان کی تجارت پر کوئی پابندی نہیں ہے پھر بھی یہ تنظیم جانوروں کے اس کاروبار کویکسر ختم کرنے کی در پے ہے جس سے نہ صرف جانوروں کے تاجر بلکہ کسان بری طرح متاثر ہورہے ہیں سپریم کورٹ کو از خود نوٹس لیتے ہوئے اس غیر قانونی تنظیم کی غیر قانونی اور بہیمانہ حرکتوں پر پابندی لگانی چاہئے کیو نکہ زندگی اور روزگار کا حق بنیادی حقوق میں شامل ہے جس کا تحفظ سپریم کورٹ کی ہی ذمہ داری ہے۔(یو این این)

You might also like